خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرملا نصیر الدین
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرڈاکٹر یونس بٹ

ملا نصیر الدین

از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020 0 تبصرے 66 مناظر
67

ملا نصیر الدین

ساری دنیا انہیں پیر سمجھتی ہے مگر وہ خود کو جوان سمجھتے ہیں، دیکھنے میں سیاست دان نہیں لگتے اور بولنے میں پیر نہیں لگتے ، قدر اتنا ہی بڑا جتنے لمبے ہاتھ رکھتے ہیں، چلتے ہوئے پاؤں یوں احتیاط سے زمین پر رکھتے ہیں کہیں بے احتیاطی سے مریدوں کی آنکھیں نیچے نہ آ جائیں،اتنا خود نہیں چلتے جتنا دماغ چلاتے ہیں، دور سے یہی پتہ چلتا ہے کہ چل رہے ہیں، یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا آرہے ہیں جا رہے ہیں، سیاست میں انکا وہی مقام ہے کو اردو میں علامتی افسانے کا، خاندان کے پہلے صبغۃ اللہ اول کے سر پر پگ باندھی گئیmulla nasir u din اور وہ پہلے پاگارہ پیر کہلائے ، یہ بھی اس خاندان کے چشم و چراغ ہیں جس کی چشم بھی چراغ ہے ، بچپن ہی سے پردے کے اس قدر حق میں تھے کہ 1944 میں جب کراچی ریلوے اسٹیشن سے انگلینڈ روانہ ہوئے تو تو پردے کی وجہ سے پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ جا رہے ہیں یا جا رہی ہے ، 1952 میں یوں پاکستان کو واپس آئے ، جیسے پاکستان کو واپس لائے ہوں، کسی نے کہا انگلینڈ وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ دھند ہوتی ہے ، کہا انتی دھند تھی کہ جگہ نظر نہ آئی۔
پہلے کالعدم مسلم لیگ کے صدر بنے ، پھر مسلم لیگ کے کالعدم صدر بنے ، پھر مسلم لیگ بن گئے ، اس لئیے اب دوڑ وہ رہے ہیں ہوتے ہیں اور سانس مسلم لیگ کی پھولنے لگتی ہے ،وہ بڑے پائے کے سیاست دان ہیں، جس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں چھوٹ پائے کے سیاست دان ہوتے ہیں نہیں، حالانکہ چھوٹے پائے مہنگے ہوتے ہیں، وہ پاکستانی سیاست کی اقوام متحدہ ہیں اور اقوام متحدہ وہ جگہ ہے جہاں دو چھوٹے ملکوں کا مسئلہ ہو تو مسئلہ غائب ہو جاتا ہے ، چھوٹی اور بڑی قوم کا مسئلہ ہو تو چھوٹی قوم غائب ہو جاتی ہے اور اگر بڑی قوموں کا مسئلہ ہو تو اقوام متحدہ غائب ہو جاتی ہے ۔
خود کو جی ایچ کیو میں کھڑا کرتے ہیں، جی ایچ کیو سے مراد جی حضوری کرنا لگتا ہے ، مسلم لیگ کے خادم نہیں خاوند ہیں اور مسلم لیگ ان کی بیوہ ہے ، ان کے بیان پڑھ کر لگتا ہے ، جیسے انکا تعلق محکمہ بندی سے ہے ، شاید وہ اس لئیے بار بار منصوبہ بندی زور دیتے ہیں کہ ابھی سات ماہ بھی نہیں ہوتے اور نئی مسلم لیگ کی ولادت ہو جاتی ہے ۔
دوران گفتگو جہاں پتہ چلے کہ دوسرا ان کی بات سمجھ رہا ہے ، فورا بات بدل دیتے ہیں آدھا دن وہ کہتے ہیں جو سننا چاہتے ہیں اور باقی آدھا دن وہ سنتے ہیں جو کہنا چاہتے ہیں، فقرہ یوں ادا کرتے ہیں جیسے بل ادا کرتے ہیں، جس موضوع پر دوسرے ہائے ہائے کر رہے ہوتے ہیں، یہ ہائے کہہ کر گزر جاتے ہیں، کسی کی بات کی پروہ نہیں کرتے ہیں، مگر چاہتے ہیں ان کی بات کی پروا کی جائے ،لوگ ان کو ملنے سے پہلے وضو کرتے ہیں، وضو تو دوسرے سیاست دانوں سے ملنے والوں کو بھی کرنا پڑتا ہے ، مگر ملنے کے بعد،جانوروں کی حرکتوں سے بہت محفوظ ہوتے ہیں، اس لئیے کسی کی حرکت سے محفوظ ہوں تو بندہ پریشان ہو جاتا ہے کہ پتہ نہیں مجھے کیا سمجھ رہے ہیں، ان کے پاس کئی گھوڑے ہیں جو اکثر ریس اور الیکشن جیتتے رہتے ہیں، اپنی تعریف سن کو خوش نہیں ہوتے ، آخر بندہ چوبیس گھنٹے ایک ہی بات سن کر خوش تو نہیں ہو سکتا ہے ۔
مرید اپنی نگاہیں، ان کے پاؤں سے اوپر نہیں لے جاتے ہیں، اس لئیے اگر کوئی مرید کہے کہ میں نے پیر سائیں کو ننگے دیکھا تو مطلب ہو گا، ننگے پاؤں دیکھا پیر صاحب منفرد بات کرتے ہیں، اگر کوئی کہے کہ پیر صاحب آپ نے ایک جو تا اتارا ہوا ہے تو کہیں گے نہیں ہم نے ایک جوتا پہنا ہوا ہے ، ان کی تو چائے میں چینی کم ہو تو کہیں گے ، اس چینی میں چائے زیادہ ہے ، وہ جس کے سر پر ہاتھ رکھ دیں وہ سر پر ہاتھ رکھ لیتا ہے ، جب وہ پیر جو گوٹھ سے لاہور آتے ہیں تو پیر جو گوٹھ بھی لاہور آ جاتا ہے ، ان دنوں لاہور کہا جاتا ہے ؟ اس کا پکا پتہ نہیں، مرید انہیں اپنے ہاتھ سے کام نہیں کرنے دیتے ، اس لئیے پیر صاحب کے ہر کام میں کسی اور کا ہاتھ ہوتا ہے ۔
ان سے حور کا مذکر پوچھو تو شاید حر کہیں، جی ایم سید کے بقول صاحب جھوٹ نہیں بولتے ، گویا وہ پیر صاحب کو سیاست دان نہیں مانتے ، ویسے ہر پیر صاحب کے الیکشن کے نتائج سے ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ ووٹر ان کا انتخاب نہیں کرتے ، یہ ووٹروں کا انتخاب کرتے ہیں، یہ وہ پیر ہیں جو دن میں اتنی بار ماشا اللہ نہیں کہتے جتنی بار مارشل لاء کہتے ہیں، برتھ ڈے ضرور مناتے ہیں، دوسرے سیاست دان شاید اس لئیے نہیں مناتے کہ برتھ ڈے تو ڈے کو پیدا ہونے والے ہی منا سکتے ہیں۔
ان کی باتوں میں اتنا وزن ہوتا ہے کہ سننے والا اپنا سر بھاری محسوس کرنے لگتا ہے ان کا ہر فقرہ کئی کئی کلو کا ہوتا ہے ، فقرے تو دوسرے سیاست دانوں کے بھی کئی کئی کلو کے ہوتے ہیں، جی ہاں کئ کئی کلو میٹر کے ، دوسروں کے تو بیانوں کی بھی اتنے کام سرخی نہیں لگتی جتنے کالمی سرخی ان کی خاموشی کی ہوتی ہے ، ستاروں کے علم پر ایسا عبور ہے کہ فلمی ستاروں کی گردش تک پس و پیش کرتے رہتے ہیں۔
بہت اچھے کرکٹر ہیں، بحیثیت امپائر کئی بار سنچریاں بنائیں، فوٹو گرافی کا شوق ہے کہتے ہیں میں ہمیشہ خوبصورت تصویریں بناتا ہوں، حالانکہ وہ خوبصورت کی تصویریں بناتے ہیں، مخالفین تک پیر صاحب اس قدر احترام کرتے ہیں، کہ ان کے سیاسی حریف پرویز علی شاہ یہ نہیں کہتے میں نہ متعدد بار پیر صاحب کو ہرایا، یہی کہتے ہیں، پیر صاحب نے مجھے ہر بار جتوایا، صحافی بھی ان کے ان سے سوال کر رہے ہوں تو انہیں یوں دیکھتے ہیں جیسے پیر سوالی کو۔
پیر صاحب کو فرشتے بہت پسند تھے ، فرشتوں میں یہی خوبی ہے کہ وہ سوچتے سمجھتے نہیں، بس جو کہ جائے ، کرتے ہیں، پیر صاحب کو زمینی فرشتے الیکشن ہرواتے ہیں، زمین اور آسمانی فرشتوں میں وہی فرق ہے جو زمینی اور آسمانی بجلی میں ہے ، آسمانی بجلی وہ ہوتی ہے جس کا بل نہیں آتا، پیر صاحب اس وقت کے تعلیم یافتہ ہیں جب ایک میٹرک پڑھا لکھا آج کے دس میٹرکوں کے برابر ہوتا ہے ، یہی نہیں اس زمانے کا تو ایک ان پڑھ آج کے دس ان پڑھوں سے زیادہ ان پڑھ ہوتا تھا۔
پیر صاحب کسی سیاست دان کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ، جس ک سنجیدگی سے لیں وہ مذاق بن جاتا ہے ، وہ اتنے شگفتہ مزاج ہیں کہ ان کے کمرے کے گلدان میں پلاسٹک کے پودوں پر بھی پھول کھلنے لگتے ہیں، جب ان کے مرید اور کالعدم وزیر اعظم ممد خان جونیجو ایسے تھے کہ ان کے کمرے میں تو پلاسٹک کے پھول بھی مر جھا جاتے پیر صاحب کی چھٹی حس جانے والے حکمرانوں کا باتاتی ہے ، جب کے باقی پانچ حسین آنے والے کا، وہ کہتے ہیں حکمرانوں کو آئین کی نہیں، آئینے کی ضرورت ہے ، ٹھیک کہتے ہیں، خضاب اور زیڈال بندہ آئین کی مدد سے تو نہیں لگا سکتا، ان کی طبعیت میں اتنی مستقل مزاجی نہیں جتنی مستقل مزاجی ہے ، سنجیدہ بات کو غیر سنجیدہ طریقے سے کہنا مزاح نہیں بلکہ غیر سنجیدہ بات کو سنجیدہ طریقے سے کہنا مزاح ہے ، سوچتا ہوں اگر سیاست میں سنجیدگی آ گئی تو پیر صاحب کیا کریں گے ؟

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • راضی
  • بڑھاپے میں جوانی کی یادیں
  • کرونا بوسٹر
  • حکایتِ عالمِ گمشدہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مسلح افواج کے سربراہ
پچھلی پوسٹ
شکاری

متعلقہ پوسٹس

بیوی بچے پاس رکھ ’’فادر مدر‘‘ کی خیر ہے

جون 3, 2020

نقرئی لومڑی

مارچ 15, 2023

ہتّک

نومبر 15, 2019

نالۂ شب گیر: ایک ضروری مکالمہ عورتوں کے تعلق سے

نومبر 29, 2020

رونا رُلانا

جنوری 25, 2020

چچا چھکن نے تصویر ٹانگی

اگست 9, 2022

مفت سم کارڈز فراڈ

اکتوبر 29, 2025

بدصورتی

جنوری 24, 2020

اللہ نے پھر اک اور شب دی

فروری 14, 2025

روشنی میں بھٹکتا جگنو

مارچ 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالی...

جنوری 24, 2022

قبروں کے بیچوں بیچ

جون 15, 2020

پراسرار تصویر

دسمبر 15, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں