خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےبدصورتی
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

بدصورتی

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 380 مناظر
381

بدصورتی

ساجدہ اورحامدہ دو بہنیں تھیں۔ ساجدہ چھوٹی اور حامدہ بڑی۔ ساجدہ خوش شکل تھی۔ ان کے ماں باپ کو یہ مشکل درپیش تھی کہ ساجدہ کے رشتے آتے مگر حامدہ کے متعلق کوئی بات نہ کرتا۔ ساجدہ خوش شکل تھی مگر اس کے ساتھ اسے بننا سنورنا بھی آتا تھا۔ اس کے مقابلے میں حامدہ بہت سیدھی سادھی تھی۔ اس کے خدوخال بھی پرکشش نہ تھے۔ ساجدہ بڑی چنچل تھی۔ دونوں جب کالج میں پڑھتی تھیں تو ساجدہ ڈراموں میں حصہ لیتی۔ اس کی آواز بھی اچھی تھی، سر میں گا سکتی تھی۔ حامدہ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔ کالج کی تعلیم سے فراغت ہوئی تو ان کے والدین نے ان کی شادی کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ ساجدہ کے لیے کئی رشتے تو آچکے تھے، مگر حامدہ بڑی تھی اس لیے وہ چاہتے تھے کہ پہلے اس کی شادی ہو۔ اسی دوران میں ساجدہ کی ایک خوبصورت لڑکے سے خط و کتابت شروع ہو گئی جو اس پربہت دنوں سے مرتا تھا۔ یہ لڑکا امیر گھرانے کا تھا۔ ایم اے کر چکا تھا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ جانے کی تیاریاں کررہا تھا۔ اس کے ماں باپ چاہتے تھے کہ اس کی شادی ہو جائے تاکہ وہ بیوی کو اپنے ساتھ لے جائے۔ حامدہ کو معلوم تھا کہ اس کی چھوٹی بہن سے وہ لڑکا بے پناہ محبت کرتا ہے۔ ایک دن جب ساجدہ نے اسے اس لڑکے کا عشقیہ جذبات سے لبریز خط دکھایا تووہ دل ہی دل میں بہت کُڑھی، اس لیے کہ اس کا چاہنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ اس نے اس خط کا ہر لفظ بار بار پڑھا اور اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کے دل میں سوئیاں چبھ رہی ہیں، مگر اس نے اس درد و کرب میں بھی ایک عجیب قسم کی لذت محسوس کی، لیکن وہ اپنی چھوٹی بہن پر برس پڑی:

’’تمہیں شرم نہیں آتی کہ غیر مردوں سے خط و کتابت کرتی ہو!‘‘

ساجدہ نے کہا۔

’’باجی۔ اس میں کیا عیب ہے!‘‘

’’عیب!۔ سراسر عیب ہے۔ شریف گھرانوں کی لڑکیاں کبھی ایسی بے ہودہ حرکتیں نہیں کرتیں۔ تم اس لڑکے حامد سے محبت کرتی ہو؟‘‘

’’ہاں‘‘

’’لعنت ہے تم پر‘‘

ساجدہ بھنا گئی۔

’’دیکھو باجی مجھ پر لعنتیں نہ بھیجو۔ محبت کرنا کوئی جرم نہیں۔ ‘‘

حامدہ چلائی۔

’’محبت محبت۔ آخر یہ کیا بکواس ہے۔ ‘‘

ساجدہ نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا۔

’’جو آپ کو نصیب نہیں۔ ‘‘

حامدہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔ چنانچہ کھوکھلے غصے میں آکر اس نے چھوٹی بہن کے منہ پر زور کا تھپڑ مار دیا۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے الجھ گئیں۔ دیر تک ان میں ہاتھا پائی ہوتی رہی۔ حامدہ اس کو یہ کوسنے دیتی رہی کہ وہ ایک نامحرم مرد سے عشق لڑا رہی ہے، اور ساجدہ اس سے یہ کہتی رہی کہ وہ جلتی ہے اس لیے کہ اس کی طرف کوئی مرد آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ حامدہ ڈیل ڈول کے لحاظ سے اپنی چھوٹی بہن کے مقابلے میں کافی تگڑی تھی، اس کے علاوہ اسے خار بھی تھی جس نے اس کے اندر اور بھی قوت پیدا کردی تھی۔ اس نے ساجدہ کو خوب پیٹا۔ اس کے گھنے بالوں کی کئی خوبصورت لٹیں نوچ ڈالیں اور خود ہانپتی ہانپتی اپنے کمرے میں جا کر زار و قطار رونے لگی۔ ساجدہ نے گھر میں اس حادثے کے بارے میں کچھ نہ کہا۔ حامدہ شام تک روتی رہی۔ بے شمار خیالات اس کے دماغ میں آئے۔ وہ نادم تھی کہ اس نے محض اس لیے کہ اس سے کوئی محبت نہیں کرتا اپنی بہن کو، جو بڑی نازک ہے، پیٹ ڈالا۔ وہ ساجدہ کے کمرے میں گئی۔ دروازے پر دستک دی اور کہا۔

’’ساجدہ!‘‘

ساجدہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ حامدہ نے پھر زور سے دستک دی اور رونی آواز میں پکاری۔

’’ساجی! میں معافی مانگنے آئی ہوں۔ خدا کے لیے دروازہ کھولو۔ ‘‘

حامدہ دس پندرہ منٹ تک دہلیز کے پاس آنکھوں میں ڈبڈبائے آنسو لیے کھڑی رہی، اسے یقین نہیں تھا کہ اس کی بہن دروازہ کھولے گی، مگر وہ کُھل گیا۔ ساجدہ باہر نکلی اور اپنی بڑی بہن سے ہم آغوش ہو گئی۔

’’کیوں باجی۔ آپ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘

حامدہ کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

’’مجھے افسوس ہے کہ تم سے آج بیکار لڑائی ہو گئی۔ ‘‘

’’باجی۔ میں بہت نادم ہوں کہ میں نے آپ کے متعلق ایسی بات کہہ دی جو مجھے نہیں کہنی چاہیے تھی۔ ‘‘

’’تم نے اچھا کیا ساجدہ۔ میں جانتی ہوں کہ میری شکل و صورت میں کوئی کشش نہیں۔ خدا کرے تمہارا احسن قائم رہے۔ ‘‘

’’باجی!۔ میں قطعاً حسین نہیں ہوں۔ اگر مجھ میں کوئی خوبصورتی ہے تو میں دعا کرتی ہوں کہ خدا اسے مٹا دے۔ میں آپ کی بہن ہوں۔ اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اپنے چہرے پر تیزاب ڈالنے کے لیے تیار ہوں۔ ‘‘

’’کیسی فضول باتیں کرتی ہو۔ کیا بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ تمہیں حامد قبول کرلے گا؟‘‘

’’مجھے یقین ہے۔ ‘‘

’’کس بات کا؟‘‘

’’وہ مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اگر میں مر جاؤں تو وہ میری لاش سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو گا۔ ‘‘

’’یہ محض بکواس ہے‘‘

’’ہو گی۔ لیکن مجھے اس کا یقین ہے۔ آپ اس کے سارے خط پڑھتی رہی ہیں۔ کیا ان سے آپ کو یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ مجھ سے کیا کیا پیمان کر چکا ہے۔ ‘‘

’’ساجی۔ ‘‘

یہ کہہ کر حامدہ رک گئی۔ تھوڑے وقفے کے بعد اس نے لرزاں آواز میں کہا۔

’’میں عہد و پیمان کے متعلق کچھ نہیں جانتی۔ ‘‘

اور رونا شروع کردیا۔ اس کی چھوٹی بہن نے اسے گلے سے لگایا۔ اس کو پیار کیا اور کہا

’’باجی۔ آپ اگر چاہیں تو میری زندگی سنور سکتی ہے۔ ‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’مجھے حامد سے محبت ہے۔ میں اس سے وعدہ کرچکی ہوں کہ اگر میری کہیں شادی ہو گی تو تمہیں سے ہو گی۔ ‘‘

’’تم مجھ سے کیا چاہتی ہو؟‘‘

’’میں یہ چاہتی ہوں۔ کہ آپ اس معاملے میں میری مدد کریں۔ اگر وہاں سے پیغام آئے تو آپ اس کے حق میں گفتگو کیجیے۔ امی اور ابا آپ کی ہر بات مانتے ہیں۔ ‘‘

’’میں انشاء اللہ تمہیں ناامید نہیں کروں گی۔ ‘‘

ساجدہ کی شادی ہو گئی، حالانکہ اس کے والدین پہلے حامدہ کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ مجبوری تھی، کیا کرتے۔ ساجدہ اپنے گھر میں خوش تھی۔ اس نے اپنی بڑی بہن کو شادی کے دوسرے دن خط لکھا جس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا:

’’میں بہت خوش ہوں۔ حامد مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ باجی۔ محبت عجیب وغریب چیز ہے۔ میں بے حد مسرور ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا صحیح مطلب اب میری سمجھ میں آیا ہے۔ خدا کرے کہ آپ بھی اس مسرت سے محظوظ ہوں۔ ‘‘

اس کے علاوہ اور بہت سی باتیں اس خط میں تھیں جو ایک بہن اپنی بہن کو لکھ سکتی ہے۔ حامدہ نے یہ پہلا خط پڑھا اور بہت روئی۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ اسکا ہرلفظ ایک ہتھوڑا ہے جو اس کے دل پر ضرب لگا رہا ہے اس کے بعد اس کو اور بھی خط آئے جن کو پڑھ پڑھ کے اس کے دل پر چھریاں چلتی رہیں۔ رو رو کر اس نے اپنا براحال کرلیا تھا۔ اس نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ کوئی راہ چلتا جوان لڑکا اس کی طرف متوجہ ہو، مگر ناکام رہی۔ اسے اس عرصے میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد ملا۔ بس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ وہ اس سے مراسم قائم کرنا چاہتاتھا مگر حامدہ نے اسے پسند نہ کیا۔ وہ بہت بد صورت تھا۔ دو برس کے بعد اس کی بہن ساجدہ کا خط آیا کہ وہ اور اس کا خاوند آرہے ہیں۔ وہ آئے۔ حامدہ نے مناسب و موزوں طریق پر ان کا خیر مقدم کیا۔ ساجدہ کے خاوند کو اپنے کاروبار کے سلسلے میں ایک ہفتے تک قیام کرنا تھا۔ ساجدہ سے مل کر اس کی بڑی بہن بہت خوش ہوئی۔ حامد بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا۔ وہ اس سے بھی متاثر ہوئی۔ وہ گھر میں اکیلی تھی، اس لیے کہ اس کے والدین کسی کام سے سرگودھا چلے گئے تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ حامدہ نے نوکروں سے کہا کہ وہ بستروں کا انتظام صحن میں کردے اور بڑا پنکھا لگا دیا جائے۔ یہ سب کچھ ہو گیا۔ لیکن ہوا یہ کہ ساجدہ کسی حاجت کے تحت اوپر کوٹھے پر گئی اور دیر تک وہیں رہی۔ حامد کوئی ارادہ کرچکا تھا۔ آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ اٹھ کر

’’ساجدہ‘‘

کے پاس گیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ غیر سی کیوں لگتی ہے۔ کیوں کہ وہ شروع شروع میں بے اعتنائی برتتی رہی۔ آخر میں وہ ٹھیک ہو گئی۔ ساجدہ کوٹھے سے اتر کر نیچے آئی اور اس نے دیکھا۔ صبح کو دونوں بہنوں میں سخت لڑائی ہوئی۔ حامد بھی اس میں شامل تھا۔ اس نے گرما گرمی میں کہا:

’’تمہاری بہن، میری بہن ہے۔ تم کیوں مجھ پر شک کرتی ہو۔ ‘‘

حامد نے دوسرے روز اپنی بیوی ساجدہ کو طلاق دے دی اور دو تین مہینوں کے بعد حامدہ سے شادی کرلی۔ اس نے اپنے ایک دوست سے جس کو اس پر اعتراض تھا، صرف اتنا کہا۔

’’خوبصورتی میں خلوص ہونا ناممکن ہے۔ بدصورتی ہمیشہ پرخلوص ہوتی ہے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سمندر کی گہرائیوں میں
  • جھوٹی بات پھیلانے کی سزا
  • کشتی مافیا اور ڈوبتی انسانیت کا کرب
  • جُھمکے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بُڈّھا کھوسٹ
پچھلی پوسٹ
راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے

متعلقہ پوسٹس

چلتے ہو تو سوات کو چلئے

مارچ 2, 2021

گل صنوبر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 25, 2025

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

مہنگائی کا طوفان

دسمبر 17, 2021

کوئی فرق نہیں پڑتا

فروری 16, 2019

شہزاد نیرّ اور ”گرہ کھُلنے تک“ 

جنوری 15, 2021

قلندر

جنوری 7, 2020

معصومیت

دسمبر 25, 2024

بے روزگاری کا چیلنج

اکتوبر 3, 2025

خاموشی کا اشتراک

دسمبر 18, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نوجوان نسل اور روشن مستقبل

مارچ 9, 2026

اُردو منقبت کی روایت

جنوری 1, 2023

گلاب ظالم

مئی 21, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں