خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےبُڈّھا کھوسٹ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

بُڈّھا کھوسٹ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 299 مناظر
300

بُڈّھا کھوسٹ

یہ جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعدکی بات ہے جب میرا عزیز ترین دوست لیفٹیننٹ کرنل محمد سلیم شیخ ( اب ) ایران ٗ عراق اور دوسرے محاذوں سے ہوتا ہوا بمبئے پہنچا۔ اُس کو اچھی طرح معلوم تھا، میرا فلیٹ کہاں ہے۔ ہم میں گاہے گاہے خط و کتابت بھی ہوتی رہتی تھی لیکن اس سے کچھ مزا نہیں آتا تھا اس لیے کہ ہر خط سنسر ہوتا ہے۔ ادھر سے جائے یا اُدھر سے آئے عجیب مصیبت تھی۔ مگر اب ان مصیبتوں کا ذکر کیا کرنا۔ اس کی بمبئی کے بی بی اینڈ سی آئی اے کے ٹریسینس پر پوسٹنگ ہوئی۔ اُس وقت وہ صرف لیفٹیننٹ تھا ہم دونوں وسیع و عریض ریلوے اسٹیشن کے بُوفے میں بیٹھ گئے اور دوپہر کے بارہ ایک بجے تک ٹھنڈی ٹھنڈی بیئر پیتے رہے اُس نے اُس دوران میں مجھے کئی کہانیاں سنائیں جن میں سے ایک خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ اُس نے ایران، عراق اور خدا معلوم کن کن ملکوں کے اپنے معاشقے سنائے، میں سنتا رہا پیشہ ور عاشق تو کالج کے زمانے سے تھا اُس کی داستانیں اگر میں سُناؤں تو ایک ضخیم کتاب بن جائے۔ بہر حال آپ کو اتنا بتانا ضروری ہے کہ اسے لڑکیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا گر معلوم تھا۔ گورڈن کالج راولپنڈی میں وہ راجہ اندر تھا۔ اس کے دربار میں وہاں کی تمام پریاں مجرا عرض کرتی تھیں۔ خوبصورت تھا کافی خوبصورت مگر اُس کا حسن مردانہ حسن تھا۔ پتلی نوکیلی ناک جو یقیناً اپنا کام کر جاتی ہو گی چھوٹی چھوٹی گہرے بھوسلے رنگ کی آنکھیں جو اُس کے چہرے پر سج گئی تھیں بڑی ہوتیں تو شاید اس کے چہرے کی ساری کشش ماری جاتی۔ وہ کھلنڈرا تھا جس طرح لارڈ بائرن صرف کچھ عرصے کے لیے کسی سے دلچسپی لیتا تھا اور اُسے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا، جیسے وہ اُس کی زندگی میں کبھی آئی ہی نہیں اسی طرح کا سلوک وہ اپنے جال میں پھنسی ہوئی لڑکیوں سے کرتا، مجھے اُس کا یہ روّیہ پسند نہیں تھا کہ یہ میری نظر میں بہت ظالمانہ ہے مگر وہ بے پروا تھا کہا کرتا اُلو کے پٹھے۔ غالبؔ پڑھو وہ کیا کہتا۔ اسے متن یاد کبھی نہیں رہتا تھا مگر اس کا مفہوم اپنے الفاظ میں ادا کر دیا کرتا۔ وہ کہتا ہے، وہی شاخِ طوبیٰ اور جنت میں وہی ایک حور۔ واللہ زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ شہد کی مکھی بنو ٗ کلی کلی کا رس چوسو۔ مکھی لکھی مصری کی نہ بنو جووہیں چپک کر رہ جائے

’’پھر اُس نے اقبال کے ایک شعر کا حوالہ اپنا بیئر کا گلاس خالی کرتے ہوئے دیا

’’کیا کہا ہے اقبال نے ؂ تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی تھا ثابت ہوا کہ تم نہ صرف ناداں ہو بلکہ درجہ اوّل بناسپتی گھی کی طرح درجہ اوّل چغد بھی ہو۔ اب ہٹاؤ اس بکواس کو۔ ‘‘

میں نے یہ بکواس اس طرح ہٹائی جس طرح بیرے نے میری بیئر کی خالی بوتل پیشتر اس کے کہ میں اصل کہانی کی طرف آؤں۔ میں آپ کو شیخ سلیم سے متعلق ایک بہت دلچسپ واقعہ سناتا ہوں۔ ہم گورڈن کالج میں بی اے فائنل میں پڑھتے تھے کہ کرسمس کی چھٹیوں میں ایک رکمنی کی شادی کی اُڑتی اُڑتی افواہ ہمیں ملی۔ یہ رکمنی ہماری ہی کسی کلاس میں پڑھتی تھی اور کچھ عرصہ پہلے بُری طرح شیخ سلیم پر فریفتہ شکل صورت اُس کی واجبی تھی مگر میرا دوست شہد کی مکھی تھا چنانچہ دو مہینے ان کا معاشقہ چلتا رہا اُس کے بعد وہ اس سے بالکل اجنبی ہو گیا۔ جب اُس کو بتایا گیا کہ رکمنی جو تمہاری محبوبہ تھی اور جس کی خاطر تم نے اتنے جھگڑے اپنی کلاس کے طالب علموں سے کیے

’’وہ اگر دوسری جگہ بیاہی جائے تو ڈوب مرو۔ لیکن تم تیرنا جانتے ہو۔ ڈوبنے کا کام ہم اپنے ذمے لیتے ہیں‘‘

شیخ سلیم کو اس قسم کی باتیں عموماً کھا جاتی تھیں۔ اس نے اپنی مہین مہین مونچھوں کو تاؤ دینے کی کوشش کی اور کہا

’’اچھا، تم دیکھ لینا کیا ہو گا‘‘

اُس کی پارٹی کے ایک قوی ہیکل لڑکے نے پوچھا کیا ہو گا؟‘‘

شیخ سلیم نے اس کو جھاگ کی طرح بٹھا دیا

’’ہو گا تمہاری ماں کا سر۔ جب شادی کا دن آئے گا، دیکھ لینا۔ چلو آؤ میرے ساتھ مجھے تم سے چند باتیں کرنی ہیں۔ ‘‘

شادی کا دن آگیا۔ بارات جب دولہا والوں کے گھر کے پاس پہنچی تو کوئی شخص سر پر سہرے باندھے بڑے اچھے گھوڑے پر سوار اندر داخل ہو گیا دولہا موٹر میں جس پر پھولوں کا جال بنا ہوا تھا۔ گھوڑا سوار سہرے سے لدا پھندا شامیانے کے پاس تھا۔ گھوڑاخود دولہا بنا ہوا تھا۔ دولہن کا باپ اور اس کے رشتہ دار آگے بڑھے۔ گھوڑے کا مالک بھاگا بھاگا آگیا تھا اس سہرے سے لدے ہوئے آدمی کو اس جگہ بٹھا دیا گیا، جہاں دولہن کو بھی ساتھ بیٹھا تھا۔ بیچ میں ہون کنڈ تھا جس میں چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کے ٹکڑے جل رہے تھے۔ انھوں نے ننگے بدن اُٹھ کر دلہن کو اشیروادی اور دولہن سے کہا

’’سردار جی دولہن کو جلد بُلائیے مہورت ہو گیا ہے‘‘

فوراً رکمنی پہنچ گئی اور کچھ عرصے کے لیے دولہا کے ساتھ بٹھا دی گئی۔ پنڈت جی نے کچھ پڑھا جس کا مطلب میری سمجھ میں نہ آیا۔ لیکن ایک دم شادی کے اُس جلسے میں ایک ہڑبونگ سی مچ گئی جب کار سے ایک دولہا نکل کر سامنے آگیا اور بلند آواز میں تمام حاضرین کو مخاطب کیا میرے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ میں دعویٰ دائر کروں گا‘‘

وہ دولہا جو ہاتھ پکڑ کر دُولہن کو اُٹھا رہا تھا بڑی خوفناک آواز میں چلایا

’’ابے، جا بے دعوٰے دائر کرنے کے کچھ لگتے‘‘

یہ کہہ کر اُس نے اپنے پھولوں کا گھونگھٹ اُٹھا دیا اور ان ہزار کے قریب آدمیوں سے جو شامیانے کے نیچے تھے کچھ کہنا چاہا۔ مگر قہقہوں کا ایک سمندر موجیں مارنے لگا۔ دوسری پارٹی کے آدمی بھی ان قہقہوں میں شریک ہوئے کیونکہ جب یہ پھولوں کا پردہ علیحدہ ہوا تو انھوں نے دیکھا کہ شیخ سلیم ہے۔ رکمنی بڑی خفیف ہوئی، مگر شیخ سلیم نے بڑی جرأت سے کام لے کر اُس سے بلند آواز میں پوچھا

’’تم اس چغد کے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار ہو‘‘

رکمنی خاموش رہی۔

’’اچھا جاؤجہنم میں۔ لیکن ایک دن نہیں پورے تین مہینے تم ہمیں پوجتی رہی ہو‘‘

یہ کہہ کر وہ صحیح دولہا کی طرف بڑھا جس کے منہ سے غصے کے مارے جھاگ نکل رہے تھے آگے بڑھ کر اُس نے اپنے سارے ہار اُس کے گلے میں ڈال دیے۔ سب براتی بُت بنے بیٹھے تھے۔ ہنستا، قہقہے لگاتا وہ اپنے گھوڑے پر بڑی صفائی سے سوار ہوا اور ایڑھ لگا کر کوٹھی سے باہر نکل گیا۔ گھوڑے سے اُتر کر (ہم دُور نکل گئے تھے۔ اس لیے کہ میں اس کے پیچھے گھوڑے کی سی تیز رفتاری سے بھاگا تھا ) اُس نے میرا کاندھا بڑے زور سے ہلایا کیوں بیٹے میں نے تم سے کیا کہا تھا اب دیکھ لیا؟‘‘

ہوا تو سب کچھ ٹھیک تھا مگر مجھے ڈر تھا کہیں شیخ سلیم گرفتار نہ ہو جائے میں نے اُس سے کہا

’’جو تم نے کیا وہ اور کوئی نہیں کرسکتا، لیکن بھائی میرے کہیں ہنسی میں پھنسی نہ ہو جائے فرض کرو اگر رکمنی کے باپ نے تمھیں گرفتار کرا دیا؟‘‘

وہ اکڑ کر بولا

’’اس کے باپ کا باپ بھی نہیں کرسکتا۔ کون اپنی بیٹی کو عدالت چڑھائے گا۔ میں تو اسی وقت گرفتار ہونے کے لیے تیار ہوں۔ لے جائے مجھے تھانے۔ اس سالی کے سارے پول کھول دُوں گا۔ میرے پاس اس کے درجنوں خطوط پڑے ہیں‘‘

سارے شہر میں یہی افواہ پھیلی ہوئی تھی کہ رکمنی کا باپ شیخ سلیم کو ضرور اُس کی گستاخی کی سزا دلوائے گا کہ وہ ساری عمر یاد رکھے مگر کچھ نہ ہوا جب کئی دن گزر گئے تو میرے پاس گاتا ہوا آیا۔ تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اُڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے پر وہ تماشا نہ ہوا اب میں اصل کہانی کی طرف پلٹتا ہوں، جو اس واقعے سے بھی کہیں زیادہ دلچسپ اور معنی خیز ہے۔ یہ خود اُس نے مجھے سُنائی جس کی صداقت پر مجھے سو فیصد یقین ہے۔ اس لیے کہ شیخ سلیم جھوٹا کبھی نہیں تھا۔ اس نے مجھے بتایا

’’میں ایران میں تھا۔ وہاں کی لڑکیاں عام یورپین لڑکیوں کی طرح ہوتی ہیں وہی لباس وہی وضع قطع، البتہ ناک نقشے کے لحاظ سے کافی مختلف ہوتی ہیں۔ جتنی خرافات وہاں ہوتی ہے شاید ہی کسی اور ملک میں ہوتی ہے۔ میں نے وہاں کئی شکار کیں۔ وہاں میرے ایک بڑے افسر کرنل عثمانی تھے۔ حالانکہ اُن کا عہدہ جیسا کہ ظاہر ہے مجھ سے بہت بڑا تھا۔ لیکن وہ میرے بڑے مہربان تھے۔ میس میں جب بھی مجھے دیکھتے، زور سے پکارتے۔ ادھر آؤ شیخ، میرے پاس بیٹھو، اور وہ میرے لیے ایک کرسی منگواتے۔ وسکی کا دور چلتا تو اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیتے، کرنل عثمان کو مجھ سے چھیڑ خانی کرنے میں خاص مزا آتا۔ جب وہ کوئی فقرہ مجھ پر چست کرتے تو بہت خوش ہوتے۔ کافی معمر آدمی تھا۔ اس کے علاوہ بڑا افسر، میں خاموش رہتا۔ ان کو ان پولستانی نرسوں سے بڑی دلچسپی تھی جو وہاں ایمبولنس کور میں کام کرتی تھیں۔ یہ پولستانی لڑکیاں بلا کی تنومند ہوتی ہیں۔ یہ موٹی موٹی سفید پنڈلیاں۔ بڑی مضبوط چھاتیاں بڑی بڑی اور صحت مند کوکھے چوڑے اور گوشت سے بھرے ہوئے جن میں سختی ہو۔ لوہے ایسی سخت۔ میری کئی دوست تھیں۔ پر جب میں آئرن سے ملا تو سب کو بھول گیا۔ سارے ایران کو بھول گیا۔ بڑی صفتیں تھیں۔ نقش سب چھوٹے چھوٹے تھے اگر تم اُس کی چھاتیوں اور پنڈلیوں کو پیشِ نظر رکھتے تو یہی سمجھتے کہ اس کے ہاتھ ڈبل روٹی کے مانند ہوں گے۔ اُس کی اُنگلیاں اتنی موٹی ہوں گی جیسے کسی درخت کی ٹہنی۔ مگر نہیں دوست، اس کے ہاتھ بڑے نرم و نازک تھے اور اُس کی اُنگلیاں تم یہ سمجھ لو کہ چغتائی کی بنائی تصویروں کی مخروطی لانبی نہیں، مگر پتلی پتلی تھیں۔ میں تو اُس پر فریفتہ ہو گیا۔ چند روز کی ملاقاتوں ہی میں اُس کے میرے تعلقات بے تکلفی کی حد تک بڑھ گئے۔ یہاں تک پہنچ کر شیخ رُک گیا ایک نیا پیگ گلاس میں ڈالا اور سوڈا ملا کر غٹا غٹ پی گیا

’’نہ یاد کراؤ یہ قصہ‘‘

میں نے اُس سے کہا

’’لیفٹیننٹ صاحب، آپ نے خود ہی تو شروع کیا تھا‘‘

اُس نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر میری طرف دیکھا اور ایک پیگ اپنے گلاس میں تین چار پیگ جو بوتل میں باقی بچ گئے تھے انتقاماً میرے گلاس میں ڈالے اور خود سوکھی جسے انگریزی میں نِیٹ کہتے ہیں پی گیا اور کھانس کھانس کر اپنا بُرا حال کر لیا

’’لعنت ہو تم پر !‘‘

’’یعنی یہ کیا موقعہ تھا مجھ پر لعنت بھیجنے کا‘‘

اُس کی کھانسی اب بند ہو گئی تھی اور وہ رومال سے اپنا منہ پونچھ رہا تھا کہ نہ پوچھو میری جان۔ دوسرے روز رات کو کرنل صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بڑے طنز سے کہا کہو صاحبزادے مجھے بُڈھا سمجھتے ہو۔ وہ تم نے ضرب المثل نہیں سُنی۔ نیا ایک دن پُرانا سو دن۔ میں نے اُن سے عرض کی کرنل صاحب آپ کا میرا کیا مقابلہ۔ مگر میں دل ہی دل میں سوچا کہ یہ کمبخت اس حقیقت سے اب تک غافل ہے کہ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے اور عشق فرما رہا ہے۔

’’میں تو خدا کی قسم جب اس عمر کو پہنچوں گا تو خودکشی کر لوں گا۔ اُس منہ کے ساتھ جس میں آدھے دانت مصنوعی ہیں میری آئرن پر نگاہیں لگائے بیٹھا ہے۔ کرنل ہو گا تو اپنے گھر میں اُس نے کبھی پھر اُس کی بات کی تو ایک ایسا گھونسہ جماؤں گا اس کی سُوکھی گردن پر کہ منکا باہر آ جائے گا۔ دیر تک اس بڈھے کھوسٹ سے آئرن۔ نہایت ہی پیاری آئرن کے متعلق باتیں ہوتی رہیں اور وہ طنز کرنے سے باز نہ آیا۔ وسکی کا چوتھا دور چل رہا تھا میں نے اپنے ہونٹوں پر بڑی فرمانبردار قسم کی مسکراہٹ پیدا کیاور اُس سے کہا کرنل صاحب جو آپ کو بڈھا کہے وہ خود بڈھا ہے آپ تو ماشاء اللہ دھان پان ہیں‘‘

یہ محفل ختم ہوئی تو میں بہت خوش ہوا۔ آئرن نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ دوسرے روز فلاں فلاں ہوٹل میں شام کو سات بجے ملے گی اُس میں فوجیوں کو اجازت تھی اتوار تھا اس لیے میں وردی کے بجائے نہایت اعلیٰ سوٹ پہن کر وہاں پہنچا سات بجنے میں ابھی نو منٹ باقی تھے میں ڈائننگ ہال میں داخل ہوا تو میرے پاؤں وہیں کے وہیں جم گئے۔ کرنل عثمانی صاحب آس پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے غافل آئرن کا بڑا لمبا بوسہ لے رہے تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اُس کرنل سے کہیں زیادہ بڈھا کھوسٹ بن گیا ہوں۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟
  • رضائی
  • سچی حکایات
  • نپولین کی محبوبہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایک زاہدہ، ایک فاحشہ
پچھلی پوسٹ
بدصورتی

متعلقہ پوسٹس

ممّی

جنوری 16, 2020

طوائف اور جگر مرادآبادی

اپریل 24, 2017

امر جلیل یا امر۔۔۔۔۔؟؟

مئی 13, 2021

مجید کا ماضی

جنوری 12, 2020

دنیا کا سب سے انمول رتن

مارچ 13, 2020

برف باری سے پہلے

جنوری 12, 2020

کاغذی روپیہ

جنوری 25, 2020

جمود فکر پر تازیانہ برساتے اختصارئیے

جون 2, 2023

کوئلہ بھئی نہ راکھ

دسمبر 29, 2019

طلع البدر علینا

اکتوبر 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عریاں احتجاج

جنوری 21, 2025

کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

اپریل 9, 2020

اُردُو ادب کی اربابِ غزل

اکتوبر 1, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں