خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرحویلی
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرمشتاق یوسفی

حویلی

مشتاق احمد یوسفی کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019 0 تبصرے 355 مناظر
356

حویلی
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

یادش بخیر!میں نے 1945 میں جب قبلہ کو پہلے پہل دیکھا تو ان کا حلیہ ایسا ہو گیا تھا جیسا اب میرا ہے۔لیکن ذکر ہمارے یار طرح دار بشارت علی فاروقی کے خسر کا ہے،لہٰذا تعارف کچھ انہی کی زبان سے اچھا معلوم ہو گا۔ ہم نے بارہا سنا، آپ بھی سنیے۔

‘‘وہ ہمیشہ سے میرے کچھ نہ کچھ لگتے تھے۔ جس زمانے میں میرے خسر نہیں بنے تھے تو پھوپا ہوا کرتے تھے۔ اور پھوپا بننے سے پہلے میں انہیں چچا حضور کہا کرتا تھا۔اس سے پہلے بھی یقیناً وہ کچھ اور لگتے ہوں گے،مگر اس وقت میں نے بولنا شروع نہیں کیا تھا۔ ہمارے ہاں مرادآباد اور کانپور میں رشتے ناتے ابلی ہوئی سویوں کی طرح الجھے اور پیچ در پیچ گتھے ہوتے ہیں۔ ایسا جلالی،ایسا مغلوب الغضب آدمی زندگی میں نہیں دیکھا۔ بارے ان کا انتقال ہوا تو میری عمر آدھی ادھر، آدھی ادھر، چالیس کے لگ بھگ تو ہو گی۔ لیکن صاحب! جیسی دہشت ان کی آنکھیں دیکھ کر چھٹپن میں ہوتی تھی، ویسی ہی نہ صرف ان کے آخری دم تک رہی، بلکہ میرے آخری دم تک بھی رہےگی۔ بڑی بڑی آنکھیں اپنے ساکٹ سے نکلی پڑتی تھیں۔ لال سرخ۔ ایسی ویسی؟ بالکل خون کبوتر! لگتا تھا بڑی بڑی پتلیوں کے گرد لال ڈوروں سے ابھی خون کے فوارے چھوٹنے لگیں گے اور میرا منھ خونم خون ہو جائے گا۔ ہر وقت غصے میں بھرے رہتے تھے۔ جنے کیوں۔ گالی ان کا تکیۂ کلام تھی۔ اور جو رنگ تقریر کا تھا وہی تحریر کا۔ رکھ ہاتھ نکلتا ہے دھواں مغزقلم سے۔ظاہر ہے کچھ ایسے لوگوں سے بھی پالا پڑتا تھا جنہیں بوجوہ گالی نہیں دے سکتے تھے۔ایسے موقعوں پر زبان سے تو کچھ نہ کہتے، لیکن چہرے پر ایسا ایکسپریشن لاتے کہ قدآدم گالی نظر آتے۔کس کی شامت آئی تھی کہ ان کی کسی بھی رائے سے اختلاف کرتا۔ اختلاف تو در کنار،اگر کوئی شخص محض ڈرکے مارے ان کی رائے سے اتفاق کر لیتا تو فوراً اپنی رائے تبدیل کر کے الٹے اس کے سرہو جاتے۔

ارے صاحب! بات اور گفتگو تو بعد کی بات ہے۔ بعض اوقات محض سلام سے مشتعل ہو جاتے تھے! آپ کچھ بھی کہیں، کیسی ہی سچی اور سامنے کی بات کہیں، وہ اس کی تردید ضرور کریں گے۔ کسی کی رائے سے اتفاق کرنے میں سبکی سمجھتے تھے۔ ان کا ہر جملہ ‘نہیں’ سے شروع ہوتا تھا۔ ایک دن کانپور میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔میرے منھ سے نکل گیا کہ ‘‘آج بڑی سردی ہے’بولے‘‘نہیں۔ کل اس سے زیادہ پڑے گی۔’’

‘‘وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الخدر لیکن مجھے آخر وقت تک نگاہ اٹھا کربات کرنے کی جسارت نہ ہوئی۔ نکاح کے وقت وہ قاضی کے پہلو میں بیٹھے تھے۔قاضی نے مجھ سے پوچھا، قبول ہے؟ ان کے سامنے منہ سے ہاں کہنے کی جراٴت نہ ہوئی۔ بس اپنی ٹھوڑی سے دو مؤدبانا ٹھونگیں مار دیں جنہیں قاضی اور قبلہ نے رشتہ مناکحت کے لئے ناکافی سمجھا۔ قبلہ کڑک کر بولے، لونڈے! بولتا کیوں نہیں؟، ڈانٹ سے میں نروس ہو گیا۔ ابھی قاضی کا سوال بھی نہیں پورا ہوا تھا کہ میں نے جی ہاں! قبول ہے کہہ دیا۔ آواز یک لخت اتنے زور سے نکلی کہ میں خود چونک پڑا۔ قاضی اچھل کر سہرے میں گھس گیا۔ حاضرین کھلکھلا کے ہنسنے لگے۔اب قبلہ اس پر بھنا رہے ہیں کہ اتنے زور کی ’ہاں‘ سے بیٹی والوں کی ہیٹی ہوتی ہے۔ بس تمام عمر ان کا یہی حال رہا۔اور تمام عمر میں کرب قرابت داری و قربت قہری دونوں میں مبتلا رہا۔

‘‘حالانکہ اکلوتی بیٹی، بلکہ اکلوتی اولاد تھی۔ اور بیوی کو شادی کے بڑے ارمان تھے،لیکن قبلہ نے مائیوں کے دن عین اس وقت جب میرا رنگ نکھارنے کے لیے ابٹن ملا جارہا تھا،کہلا بھیجا کہ دولہا میری موجودگی میں اپنا منہ سہرے سے باہر نکالے گا۔ دو سو قدم پہلے سواری سے اتر جائے گا اور پیدل چل کر عقد گاہ تک آئے گا۔ عقد گاہ انہوں نے اس طرح کہا کہ جیسے اپنے فیض صاحب قتل گاہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ قبلہ کی دہشت دل میں ایسی بیٹھ گئی تھی کہ مجھے توعروسی چھپر کھٹ بھی پھانسی گھاٹ لگ رہا تھا۔ انہوں نے یہ شرط بھی لگائی کہ براتی پلاو زردا ٹھوسنے کے بعد یہ ہر گز نہیں کہیں گے کہ گوشت کم ڈالا اور شکر ڈیوڑھی نہیں پڑی۔خوب سمجھ لو، میری حویلی کے سامنے بینڈ باجا ہر گز نہیں بجے گا۔ اور تمہیں رنڈی نچوانی ہے تو Over my dead body اپنے کوٹھے پر نچواؤ۔

‘‘کسی زمانے میں راجپوتوں اورعربوں میں لڑکی کی پیدائش نحوست اور قہر الٰہی کی نشانی تصورکی جاتی تھی۔ ان کی غیرت یہ کیسے گوارا کر سکتی تھی کہ ان کے گھر برات چڑھے۔ داماد کے خوف سے وہ نوزائید لڑکی کو زندہ گاڑ آتے تھے۔ قبلہ اس وحشیانہ رسم کے خلاف تھے۔ وہ داماد کو زندہ گاڑ دینے کے حق میں تھے۔

‘‘چہرے، چال اور تیور سے کوتوال شہر لگتے تھے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ بانس منڈی میں ان کی عمارتی لکڑی کی ایک معمولی سی دوکان ہے۔ نکلتا ہوا قد۔ چلتے تو قد، سینہ اور آنکھیں، تینوں بیک وقت نکال کر چلتے تھے۔ ارے صاحب! کیا پوچھتے ہیں۔ اول تو ان کے چہرے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، اور کبھی جی کڑا کر کے دیکھ بھی لیا تو بس لال بھبوکا آنکھیں ہی آنکھیں نظر آتی تھیں۔ نگہ گرم سے اک آگ ٹپکتی ہے اسد۔ رنگ گندمی، آپ جیسا، جسے آپ اس گندم جیسا بتاتے ہیں جسے کھاتے ہی حضرت آدم، بیک بیوی و دوگوش جنت سے نکال دیئے گئے۔جب دیکھو جھلاتے تنتناتے رہتے۔مزاج، زبان اور ہاتھ کسی پر قابو نہ تھا۔ دائیمی طیش سے لرزہ براندام رہنے کے سبب اینٹ، پتھر، لاٹھی، گولی، گالی کسی کا بھی نشانہ ٹھیک نہیں لگتا تھا۔گچھی گچھی مونچھیں جنہیں گالی دینے سے پہلے اور بعد میں تاؤ دیتے آخری زمانے میں بھؤں کو بھی بل دینے لگے۔ گٹھا ہوا کسرتی بدن ململ کے کرتے سے جھلکتا تھا۔ چنی ہوئی آستین اور اس سے بھی مہین چنی ہوئی دو پلی ٹوپی۔ گرمیوں میں خس کا عطر لگاتے۔ کیکری کی سلائی کا چوڑی دار پاجامہ۔ چوڑیوں کی یہ کسرت کے پاجامہ نظر نہیں آتا تھا۔ دھوبی الگنی پر نہیں سکھاتا تھا۔ علیحدہ بانس پر دستانے کی طرح چڑھا دیتا تھا۔ آپ رات کے دو بجے بھی دروازہ کھٹکھٹا کر بلائیں تو چوڑی دار ہی میں بر آمد ہوں گے۔

‘‘واللہ!میں تو یہ تصور کرنے کی بھی جراٴت نہیں کر سکتا کہ دائی نے انہیں چوڑی دار کے بغیر دیکھا ہو گا۔ بھری بھری پنڈلیوں پر خوب کھبتا تھا۔ہاتھ کے بنے ریشمی ازاربند میں چابیوں کا گچھا چھنچھناتا رہتا۔جو تالے برسوں پہلے بے کار ہو گئے تھے ان کی چابیاں بھی اس گچھے میں محفوظ تھیں۔ حد یہ کہ اس تالے کی بھی چابی تھی جو پانچ سال پہلے چوری ہو گیا تھا۔ محلّے میں اس چور کا برسوں چرچا رہا،اس لیے کہ چور صرف تالا، پہرہ دینے والا کتا اور انکا شجرہ نسب چرا کر لے گیا تھا۔ فرماتے تھے کہ اتنی ذلیل چوری کوئی عزیز رشتے دار ہی کر سکتا ہے۔ آخری زمانے میں یہ ازار بندی گچھا بہت وزنی ہو گیا تھا اور موقع بے موقع فلمی گیت کے بازو بند کی طرح کھل کھل جاتا۔ کبھی جھک کر گرم جوشی سے مصافحہ کرتے تو دوسرے ہاتھ سےازاربند تھامتے.مئی جون میں ٹیمپریچر 110 ہو جاتا اور منہ پر لو کے تھپڑ سے پڑنے لگتے تو پاجامے سے ایئر کنڈشننگ کر لیتے۔ مطلب یہ کہ چوڑیوں کو گھٹنوں گھٹنوں پانی میں بھگو کر، سر پر انگوچھا ڈالے، تربوز کھاتے۔ خس خانہ برفاب کہاں سے لاتے۔ اس کے محتاج بھی نہ تھے۔ کتنی ہی گرمی پڑے، دوکان بند نہیں کرتے تھے۔ کہتے تھے، میاں! یہ تو بزنیس، پیٹ کا دھندھا ہے۔ جب چمڑے کی جھونپڑی(پیٹ) میں آگ لگ رہی ہو تو کیا گرمی کیا سردی۔ لیکن ایسے میں کوئی شامت کا مارا گاہک آ نکلے تو برا بھلا کہہ کے بھگا دیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ کھنچا کھنچا دوبارہ انہی کے پاس آتا تھا۔ اس لئے کہ جیسی عمدہ لکڑی وہ بیچتے تھے، ویسی سارے کانپور میں کہیں نہیں ملتی تھی۔ فرماتے تھے، داغی لکڑی بندے نے آج تک نہیں بیچی۔ لکڑی اور داغ دار؟ داغ تو دوہی چیزو ں پر سجتا ہے دل اور جوانی۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عشق کی اقسام
  • اُردو منقبت کی روایت
  • عدم اعتماد کا بحران اور عمران خان!
  • ڈیجیٹل غلامی : جدید دور کا نیا قید خانہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صبغے اینڈ سنز
پچھلی پوسٹ
چند تصویرِبُتاں

متعلقہ پوسٹس

طلسمِ زر پرستی

مئی 12, 2025

مقصد ِحیات

جون 27, 2022

کراچی کا جلتا ہوا سوال

جنوری 21, 2026

مائی نانکی

جنوری 17, 2020

مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی

جون 6, 2025

کرونا وائرس اور پاکستان

مارچ 15, 2020

جنم ورودھی

ستمبر 24, 2021

سیاسی بونگا

نومبر 19, 2019

گاؤں کی رانی​

دسمبر 12, 2019

جنگلی بلیاں

جنوری 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیکیورٹی ادارے متوجہ ہوں

دسمبر 12, 2025

اقبال کی فکر اور غلطی ہائے...

دسمبر 4, 2019

تانگے والا

جون 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں