خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسیاسی بونگا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

سیاسی بونگا

ایک کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019 0 تبصرے 387 مناظر
388

"سیاسی بونگا”

میں نے وکالت پاس کی اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیویلوپمنٹ میں بھرتی ہو گیا۔ ایک دن ابا جی کی کال آئی، بولے "یار واپس آجا تے وکالت کر” میں نے لگی لگائی تقریباً سرکاری نوکری پر تین حرف بھیجے اور 22جون 2008 کو سیالکوٹ کی راہ لی۔ پرانے سیاسی حلیف و رفیق تقریباً سبھی وکالت کر کے کچہری پہنچ چکے تھے۔ چہار سُو مرے کالج ہی تھا یعنی اپنے یار لوگ اپنا راج پاٹ، کسی کا ڈر نہ خوف۔ زندگی کا پہلا فوجداری وکالت نامہ ایک بدماش وکیل کیخلاف دیا اور آدھے منٹ کی گفتگو ہُورا مُکی پر مُنتج ہوئی۔

ان دنوں تحریکِ انصاف ایک تانگہ پارٹی تھی لیکن بِلا شُبہ اسکا سیالکوٹ چیپٹر ملک کے سب سے فعال اور لائق لوگوں پر مُشتمل تھا۔ عمر فاروق مائر، اصغر عطاری، شانِ حیدر زیدی، سلمان چیچی، جلیل برادران اور چند دیگر دوست کمال ورکر کلاس لوگ تھے۔ نہ بڑھتے نہ کم ہوتے مگر ایک ایک دروازہ کھٹکھٹاتے، جس جس بندے پر شک بھی گُزرتا کہ یہ کارآمد ھے اسکے گھر پہنچتے، اگر وہ انٹرسٹ لیتا تو اسکی خان سے ملاقات کراتے اور بہت بہت محنت کرتے۔ مجھے یہ دوست بڑے اچھے لگتے تھے۔ ایک تو صاحبانِ علم تھے، ملکی تاریخ پر اکثریت کو بہت سارا عبور حاصل تھا، بالخصوص شانِ حیدر زیدی جو در حقیقت میرے چھوٹے بھائی کا دوست تھا مجھے دن میں کئی مرتبہ دعوتِ اسلام دیتا۔ اصغر عطاری، سلمان چیچی سمیت سبھی بہت لاڈلے دوست تھے جو ہمیشہ چاہتے تھے کہ بھائی ہمارے ساتھ چلیں۔ میں انہیں ہمیشہ ایک بات کہتا تھا، کہ "عمران خان ایک سیاسی بونگا ھے، میں کیسے اسے لیڈر مان لوں”۔ وکیلوں کی دراصل کوئی جماعت نہیں ہوتی، جہاں انکے وکیل بھائیوں کی بات آئے جماعتیں غائب ہو جاتی ہیں۔ میں نے کبھی انکو جوائین تو نہ کیا لیکن اپنے وکیل بھائیوں کی تھوڑی بہت اخلاقی سپورٹ جاری رکھی۔ بالخصوص جب 2011 میں پاشائی ہوائیں چلیں تو سیالکوٹ کے بڑے بڑے تیس مار خان مجھ غریب کا فون کروا کر ان بانیان میں باعزت اینٹری کے مستحق ٹھہرے۔

عمران خان دنیا میں شعوری آنکھ کھلتے ہی ھم میں سے اکثر کا ہیرو تھا۔ اگر میں یہ کہوں کہ بطور کرکٹر وہ بھٹو صاحب اور بی بی شہید کا بھی ہیرو تھا تو اس میں قطعی مبالغہ نہیں ہوگا۔ شوکت خانم کی تعمیر شروع ہوئی تو میں ناویں جماعت کا طالبِ علم تھا۔ کیتھیڈرل سکول میں بھی خان کی ٹکٹیں آئیں اور ھم نے بیچیں، خان سیالکوٹ آیا تو میں نے میری جیب میں واحد ایک سو روپے اسے ہدیہ کیئے اور ڈرماں والے چوک میں خطاب کے دوران میرا خالی بٹوہ بھی چوری ہوا لیکن کیونکہ وہ ایک لطیف احساس تھا، اسکے لیئے بھرا ہوا بٹوہ بھی جاتا تو ماتھے پر شکن نہ آتی۔ شوکت خانم بنا تو ہر پاکستانی کیطرح میرے اندر بھی ایک سینس آف اونرشپ نے جنم لیا اور خان پر میرے فخر میں اضافہ ہوا۔ خان نے سیاسی جماعت بنائی تو جہاں یہ یقین تھا کہ اس نے غلط کام کیا ھے وہاں مستنصر حسین تارڑ کی الیکشن ٹرانسمیشن کے دوران جتنی فکر اپنی جماعت کی تھی، میانوالی کا ذکر آنے پر اُتنی شدید خواہش یہ بھی تھی کہ جو بھی ہو خان کو الیکشن جیتنا چاہیئے اور اسکی شرمناک ہار کا بہت افسوس بھی ہوا۔

سیاسی آنکھ کھولتے ہی 1996 میں عمران خان نے بیحودہ الزامات اور بازاری زبان کا جسقدر بیباک استعمال شروع کیا، سسٹم میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی سپورٹ اور اسٹارڈم کا بھوت اس نے اپنے ہاتھوں سے خودی اتار دیا۔ یہاں تک کہ 2008 میں مجھ جیسا نو باڈی جو ایک وقت میں خان کی جھلک کیلئے دیوانہ تھا، منہ مانگے عہدے کے وعدوں پر بھی جھوٹے منہ بھی اسکی ملاقات پر مائل نہ ہو سکا۔ یہ تو بہت بعد میں کھلا کہ اسکی سیاسی و تاریخی تربیت حسن نثار اور ہارون رشید جیسے کرتے رھے مگر بنا اس بات کے معلوم پڑے بھی میں کبھی، ایک لمحے کیلئے بھی خان کو ایک سیاسی بونگے سے زیادہ اہمیت نہ دے سکا۔

پاشائی ہوائیں خان کو لیکر اڑیں تو اقتدار کا ہُما سر پر بِٹھا کے تھمیں، اس دوران جو کچھ عمران خان نے اپنے حقیقی کارکن کیساتھ کیا وہ ہرے بھرے درخت پر لکھ دوں تو میرا ایمان ھے وہ سوکھ کر بدعا بن جائے۔ عمر مائر کی ٹیم خان کی پہلی سوشل میڈیاء ٹیم تھی جس نے خان کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا۔ #ہوپ کے نام سے خان کا ایک بلیک اینڈ وائٹ سکیچ ملک کے کونے کونے میں لگایا گیا، وہ بھی ٹیم مائر کے ایک لڑکے کی کاوش تھی۔ فروری 2013 کے پارٹی الیکشنز میں مائر ضلعی سیٹ بھاری مارجن سے جیتا لیکن میری سفارش پر معتبر ٹھہرنے والا الیکشن کمیشن بِک گیا اور کچہری اسکے دفتر سے ووٹوں سے بھری صندوکڑیاں بندوقوں والے لے گئے۔ یہی نہیں عثمان ڈار کے بڑے بھائی نے ایک نیا الیکشن کمیشن اپوائیٹ کرا کے ایک فیکٹری میں الیکشن رکھوایا مگر کالعدم الیکشن کا پریذائڈنگ افسر مائر گروپ کو ایک دیگر جگہ ووٹ ڈلواتا رہا۔۔ اس پریذائڈنگ افسر سے لیکر حامد خان تک سب لوگوں نے دیہاڑی لگائی اور ہزاروں ووٹوں سے جیتنے والے عمر مائر کو سرمایہ داروں نے تکنیک سے پچھاڑ دیا۔ خان نے وعدہ کیا کہ سیالکوٹ کا الیکشن دوبارہ ہوگا مگر کبھی نہ ہوا۔

حالیہ الیکشن میں بھی خان واحد مائر کے حلقے سے جیتا (حالانکہ مکمل پبلک سپورٹ کے باوجود ڈاروں نے مائر کو ٹکٹ نہیں ملنے دی)۔ باقی سارے ضلعے میں ٹکٹیں نہ ملنے پر ڈار گروپ کے لوگ آزاد کھڑے ہو کر پارٹی کی جڑوں میں بیٹھے۔ آج مائر تحریکِ انصاف کا مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ھے لیکن یہ وہ مائر نہیں ھے جو تنِ تنہاہ پارٹی پرچم سینے سے لگائے صدر بازار میں ایک ایک دوکاندار کو عمران کے ہاتھ مضبوط کرنے کی دعوت دیتا تھا۔۔ ایک سیاسی بونگے نے شاندار مملکت کا خواب دیکھنے والی آنکھوں کو پتھرا کے رکھ دیا ھے۔ اس نے دولت کے لالچ میں انویسٹروں کو نواز نواز کر پارٹی کارکنان کو خون رلایا اور آج حالت یہ ھے کہ اتحادی چھوڑ پارلیمانی پارٹی (اکثریتی لوٹے) کے اجلاس میں سب مرد و خواتین کے موبائل پرس باھر رکھوا کے میٹنگ کرتا ھے۔ آج اگر غدار ابنِ غدار حماد اظہر کی بجائے #مدنی اور خاندانی لوٹے عثمان ڈار کی بجائے #شانِ_حیدر اسکا منسٹر ہوتا تو اسے وفاداروں کی کمی نہ ہوتی۔

اگر آج کسی کو لگے کہ #سیاسی_بونگے کا ڈاون فال فوج کے کلٹی کھانے کیوجہ سے ھے یا اسکا اپوزیشن تحریک سے کوئی تعلق ھے تو میری نظر میں وہ جاہلِ اعظم ھے۔ بونگے نے اپنی سیاسی قبر 2013 کے پارٹی انتخابات میں کھودی تھی جب اس نے پارٹی کو مضبوط کرنے کا لالی پاپ دیکر اپنے مُخلص ورکر کو کھُڈے لائین لگایا اور سرمایہ داروں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا۔ جن لوگوں نے کروڑوں روپے بونگے پر انویسٹ کیئے آج وہ سود سمیت پورا کر رھے ہیں اسی لیئے ملکی معیشت دن بدن ڈوبتی جاتی ھے۔ آج جب اس نے بلاول کی بارش والی بات پر مذاق اڑایا تو گیارہ برس پہلے دیا گیا #سیاسی_بونگے کا لقب عملی صورت میں میرے سامنے آگیا.. میں اپنے لفظوں کو زندہ ہوتے دیکھ کر جہاں بہت ہنسا وہیں مجھے خواب دیکھنے والی آنکھوں (حقیقی تبدیلی کے خواہشمند) سے بڑی شرم آئی۔ انہوں نے اس بے ترتیب جھوٹے کیلئے کیا کیا مغلظات نہیں بکیں، کون کونسی گالیاں ہیں جو خان کی محبت میں انہوں نے برداشت نہیں کیں؟ آج یہ بونگا نقلچی دیکھ کر ان میں سے اکثر تو شرم سے پانی ہو گئے ہوں گے۔

اسکے لیئے بس یہی دو شعر برمحل ہیں۔۔

جب کمینے عروج پاتے ہیں
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
کتنے کم ظرف ہیں یہ غبارے
چند پھونکوں سے پھول جاتے ہیں

علی عبد اللہ ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • قاری ٹائم پیس اور مریم بی ایم ڈبلیو
  • اردو شاعری کا مردِ قلندر
  • پناہ چاہتے ہیں سیلاب سے
  • حفیظ جالندھری کی شاعری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
پچھلی پوسٹ
تُمھیں خبر ھی نہیں کیسے سر بچایا ھے

متعلقہ پوسٹس

جب پہلی بار ان سے مرا سامنا ہوا

نومبر 2, 2021

حیات ایسے گزاری جارہی ہے

اکتوبر 24, 2025

افغان باقی کہسار باقی

نومبر 29, 2025

دل میں یوں بے خودی تمھاری ہے

مارچ 1, 2020

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی

جنوری 3, 2020

مدینہ منورہ کے کبوتر

مئی 25, 2024

پی آئی اے کی نجکاری

دسمبر 25, 2025

سمندر چُپ نہیں رہتے

نومبر 6, 2020

ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں

جنوری 13, 2020

چھپکلی بے دیوار

دسمبر 17, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روشنی والے وسیلے کی لگی رہتی...

نومبر 22, 2022

زبانِ غیر یا غیبت

جنوری 9, 2025

درد جب صبر کے دھاروں سے...

فروری 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں