خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآلنا
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

آلنا

از سائیٹ ایڈمن فروری 5, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 5, 2022 0 تبصرے 64 مناظر
65

شام کے سائے گہرے ہوئے تو خنکی بڑھ گئی اور چہل پہل میں کمی ہو گئی۔قدیم شہر کی تنگ و تاریک گلی کی نکڑ پر بوسیدہ حال مکان کی چھت سے بارش کا پانی ٹِپ ٹِپ برس رہا تھا ۔گلی کے بائیں جانب پتلی سی نالی غلاظت سے بھری پڑی تھی ۔ اکہرے بدن کا پچاس سالہ شخص گندگی سے بچتا بچاتا،چَھپ چَھپ کرتا ہوا سبزی فروش کی ریڑھی کو تقریبا گراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔ سبزی فروشں،ریڑھی کو بارش سے بچانے کی تگ و دو میں موٹی موٹی گالیاں دینا بھول گیا۔۔بجلی کی تاریں کھمبوں سے یوں جُدا تھیں جیسے کوئی خواہش،نارسائی کی چبھن سے تنگ آ کر مسکن چھوڑ دے۔۔ چند گام دور غبارے بیچنے والا لڑکا گھر کی طرف تیز تیز قدم بڑھا رہا تھا۔۔چھریرے بدن والے نے بھاگتے بھاگتے ڈنڈے سے تین غبارے توڑے اور منظر سے غائب ہو گیا۔۔ لڑکے نے منہ بھر کر گالی دی جو بارش کے شور میں وقعت کھو بیٹھی ۔

گلی کی نکڑ پر شکستہ مکان حالتِ زار پر نوحہ کناں تھا ۔۔ بوسیدہ دروازے کی زنگ آلودہ کنڈی ہوا کے زور پر تھرتھراتی تو چوب بُرادہ اکھڑ کر صحن کی اونچی نیچی،جگہ جگہ سے اُکھڑی اینٹوں میں ضم ہو جاتا ۔۔وہی اینٹیں جوسرخ،نارنجی رنگ کی ہوتی ہیں مگر یہاں ان کی تقدیر پر کائی جم گئی تھی ۔۔ایک طرف کُنڈی ہوا کے حکم پر لرز سی جاتی تو دوسری طرف گھر میں موجود عورت کی نگاہیں بے تاب اور دل زور زورسے دھڑکنے لگتا۔۔داخلی دروازے کے ساتھ ہی ایک باتھ روم تھا جس پر ہرے کپڑے کی مدد سے اطراف میں اینٹیں رکھ کر چھت بنا دی گئی تھی۔۔

جاڑے کی یخ بستہ راتوں میں گھر کی جان کھاتی خاموشی سے خائف ہوا پیلو کا درخت صحن کے کونے میں منہ بسورے کھڑا تھا۔۔اس کی ہری بھری شاخیں کب کی بانجھ ہو چکی تھیں۔۔خزاں کو صحن میں اترے اکیس سال ہو گئے تھے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آلنے میں موجود تین بچے عین پیلو کے درخت کی پچھلی دیوار کے سوراخوں میں سے ایک سوراخ میں بیٹھے سارا دن چیں چیں کرتے۔دیوار میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں جگہ جگہ تعویذ اور گانٹھیں باندھی گئی تھیں ۔کالے،پیلے،ہرے،نیلے دھاگے جانے کس منت کو پورا کرنے کے لیے گانٹھ رکھےتھے ؟ بھلا گھروں کی درزوں میں بھی کوئی ایسا کرتا ہے؟

تینوں بچے دانہ دنکا کھانے کی لالچ میں پیٹ کے بل آگے بڑھتے تو چڑی انہیں چونچ مار کرپیچھے ہٹاتی اور باری باری ان کے منہ میں دانہ ڈالتی۔۔آلنا بڑی مہارت سے بنایا گیا تھا جس تک طوفانی بارش کی پہنچ ناممکن تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارش کا زور ٹوٹا تو گھر میں موجود عورت،نم ہوئی لکڑیوں کو جلانے کی کوشش کر نے لگی۔۔

” کتنی تیز بارش تھی اگر بھاگ کر بالن پکڑا دیتی تو اب تک کھانا بن چکا ہوتا،لکن میٹی کھیلنے سے جان چھوٹے تو ماں کا ھاتھ بٹائے”وہ منمناتے ہوئے بیٹی کو ڈانٹنے لگی اور زور زور سے لکڑیوں کو چولہے میں ٹھونستی جاتی۔ اسی اثنا میں ایک شخص تیزی سے گھر میں داخل ہوا،غباروں کو چارپائیوں کے ساتھ باندھا اورچارپائیوں کو گھسیٹ کر ورانڈے کی طرف لے گیا ۔بدن پر ڈالی چادر اتاری،سلوکے کے اندر ھاتھ ڈال کر بھیگے ہوئے دو لال نوٹ نکالے اورسُکھانے کے لیے رکھ دیئے۔۔

سردیوں کی جمی راتوں کے گُھپ اندھیرے میں کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔اندازے ہی سے اس نےگارے سے لُتھڑے پاؤں کُھرے میں لگی ٹونٹی کے نیچے رکھ کر ٹونٹی کھولی،پاؤں دھوئے اور پیڑی لے کر چولہے کے پاس بیٹھ گیا۔۔عورت نے پاس پڑے تھیلے سے چند کوئلے اٹھائے،چولہے میں پھونکے تو شعلے بھڑک اٹھے اور چہرے واضح ہونے لگے۔۔ لپکتے شعلے کبھی ایک،کبھی دوسرے نفس پر روشنی ڈالتے تو روشنی بھی انکے ملول چہرے دیکھ کر سہم جاتی اور ناگن کی طرح لہراتی ہوئی دوسری جانب مڑ جاتی۔

عورت نے روٹی پر اچار رکھ کر شوہر کو دیا۔جب وہ لکڑی کی مدد سے جلتے ہوئے کوئلوں کو ادھر ادھر کرتی تو چھوٹے چھوٹے ذرات اس کے چہرے سے مس ہوتے ہوئے برآمدے کی ٹین گارڈر سے بنی چھت پر جا ٹکراتے..

۔

بارش تھم چکی تھی مگر ٹھٹرتی رات ظلم ڈھانے لگی ۔۔شوہر نے کھانا کھایا،دیوار سے اوپلے اتار کر تسلے میں ڈالے،آگ جلائی اور چارپائی پر بیٹھ کر ھاتھ سینکنے لگا۔۔وہ ایک نظر چارپائیوں پر ڈالتا اور پھر چولہے کے پاس بیٹھی عورت کو دیکھ کر منہ نیچےکر لیتا۔۔چولہے کی آگ دھیمی ہونے لگی مگر عورت کا وجود تپنے لگا۔۔گالوں پر آنسو بہے،ایک قطرہ آگ میں گرا اور”سی سی سی”کی آواز کے ساتھ دم توڑ گیا۔۔ شوہر نے”سی”کی آواز سن لی تھی مگر جان کر بھی انجان بن گیا۔

“ماں!میرے دل میں ایک خیال آیا ہے اگر میں باہر کے ملک چلا جاؤں تو ہمارے حالات بدل سکتے ہیں؟”

اسے بڑے بیٹے کی بات یاد آئی”ہاں بدل سکتے ہیں مگر تو یہ سوچنا بھی مت۔

ماں نے بڑے سادہ جملے بولے تھے مگر سادہ جملے بے وقعت ٹھہرے، جنہوں نےجانا ہوتا ہے وہ چلے جاتے ہیں۔۔وہ چلا گیا اورماں کو یکسر بھلا بیٹھا۔

“کتنا ظالم ہے، تجھے بالکل خیال نہ آیا کہ تیرے جانے کے بعد ماں باپ اور بہن بھائی کا کیا بنے گا؟”

وہ بڑبڑائی اور پھونکنی کی مدد سے کوئلوں کو ہوا دینے لگی۔۔ٹھنڈ نے اس کے ھاتھوں کو آگ جیسا سرخ کر دیا تھا۔۔خاوند کھانا کھا چکا تو عورت نے چائے کے پانی کو جوش دیتے ہوئے چارپائیوں کو دیکھا اور چولہے کے اوپربنی لکڑی کی چھیج سے چائے کی پیالیاں اتار کر نیچے رکھ لیں۔۔وہ پیالیوں کے کناروں پر پیار سے ھاتھ پھیرتے ہوئے بچوں کے ہونٹوں کی چُسکیاں محسوس کرنےلگی تو ٹوٹی ہوئی پیالی کا کنارا شہادت کی انگلی کو لہولہان کر گیا ۔چھینٹے آگ پر گرے مگر کوئی چنگاری پیدا نہ ہوئی۔

خاوند نے آنکھیں چراتے ہوئے بیوی کو دیکھا اور پائینتی کی طرف پڑے،پیوندلگے کمبل اور کھیس ٹھیک کرنے لگا۔۔بچوں کو سردی تو نہیں لگ رہی یہ سوچ کر اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔تسلا اٹھا کر چارپائیوں کے پاس دھرا اور ایک ٹوٹا پھوٹا میز لا کر اس کے ساتھ رکھ دیا ۔۔اسٹیل کا ایک گلاس اور پانی سے بھرا جگ میز پر رکھا اور سر سے صافہ اتار کر چوتھی چارپائی پر لیٹ گیا۔

بارش کسی نئے مسکن کی تلاش میں کب کی آگے بڑھ گئی تھی۔۔رات گہری ہوئی اور چاند تارے آسمانِ دنیا پرجلوہ گر ہونے لگے۔۔چھوٹے سے گھر میں اس کی چارپائی ورانڈے سے باہر نکل کر کھلے صحن کی طرف چلی جاتی تھی۔۔چاند کے برہنہ سینے پر دہکتے داغ دیکھے تو دل پر لگے اولاد کے زخم ستانے لگے۔۔

ایک دن شام ڈھلے گھر لوٹ رہا تھا تو منہ چھپاتے سورج اور آسمان پر چڑھتے چاند کو دیکھا تو بپھر گیا ۔ھاتھ کی ہتھیلی کو پورا کھولا اور “لخ دی لعنت” کہہ کرمٹھی بھینچ لی” کُل عالم کو روشن کرنے والے ماہتاب و آفتاب میرے کس کام کے؟میرا آنگن تو گور کی طرح خاموش اور کالا سیاہ ہے یہ کہہ کر اس نے ھاتھ میں پکڑا بیلچہ آسمان کی طرف اچھال دیا ۔لوگ اسے پاگل کہہ کر پیچھے بھاگے۔لوگوں کو کیا معلوم کہ اس کے حصے کے چاند تاروں پر تو اماوس نے پہرے بٹھا رکھے ہیں ۔

بتی بند تھی۔۔ چارپائیوں سے ہلکی ہلکی غوں غوں کی آوازیں آتیں تو وہ سوچتا “اگر بتی بند بھی رہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔کون سا کسی کو ٹھوکر لگنی ہے”

گھر پر عجب وحشت طاری تھی،سنسان راتوں کی وہ وحشت جس میں ہواؤں کی سرسراہٹ بھی طوفان جیسی معلوم ہو ۔

بلب جل اٹھا تو احساس ہوا کہ بتی آگئی ہے۔عورت نے ایک نظر بلب پر ڈالتے ہوئے سوئچ بند کر دیا اور چائے کی پیالی شوہر کے آگے رکھ دی۔

” بچے شایدسو گئے ہیں۔۔آنکھ کھلے گی تو چائے پی لیں گے ۔۔یہ دونوں رات کے آخری پہر نظر چرا کر ہانڈی سے کچھ نہ کچھ کھانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔۔کتنا سمجھاتی ہوں کہ جو کھانا ہو پہلے کھا لیا کرو مگر میری سنتا ہی کون ہے؟”

عورت قدرے اونچی آواز میں بڑبڑائی تو تھکے ماندے شوہر نے بے بسی کے عالم میں آنکھیں موند لیں۔۔آگ کی ہلکی ہلکی روشنی سُونے آنگن میں دیے کی لو جیسی تھی ۔

غبارے،گھٹن زدہ ماحول سے گھبرا کر آسمان کی طرف پرواز کر گئے۔۔عورت، ٹھوڑی گھٹنوں پر رکھے،چمٹے کی مدد سے دہکتے کوئلوں کو ادھر ادھر کرنے لگی۔۔اسے خیال آیا کہ عید پروہ نسرین کو گوٹے والا سوٹ سلوا کر دے گی بالکل ویسا جیسا بچپن میں وہ اپنی گڈی کو پہنایا کرتی تھی۔۔سرخ دوپٹہ، چوڑی دار پائجامہ اور ہری قمیض۔۔اسے یاد آیا کہ پچھلی عید پر نسرین کو ماسی کریماں کی پوتی جیسا سوٹ چاہیئے تھا تو کتنی لڑائی کی تھی؟بار بار گردن اٹھا کر ان کے گھر میں جھانکتی اور زمین پرپیر مار کر کہتی کہ ماں مجھے ہوبہو ویسا جوڑا چاہیئے ۔۔

تب اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔اتنی دیر میں نسرین اٹھی اور آنکھیں ملتی ہوئی چولہے کے پاس آن بیٹھی۔۔

“دیکھ اماں،میری اچھی اماں اس بارعید پر مجھے لال جوڑا لے دے گی ناں؟یہ لمبا ااااااااادوپٹہ پیروں تک اور ساتھ پازیب چھن چھن چھنا چھن”یہ کہتے ہوئے اٹھ کر وہ ناچنے لگی”اور ہاں سرخ،ہری چوڑیاں بھی”وہ چولہے کے اوپر گرنے والی تھی کہ ماں نے زور سے بازو پر چمٹا مارتے ہوئے پیچھے ہٹایا۔

” اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے اور ابھی تک تیری حرکتیں بچوں والی ہیں۔۔کون شادی کرے گا تجھ سے؟ “ہائے اماں کر ہی لے گاکوئی۔۔ ایک شہزادہ گھوڑی پر آئے گا اور مجھے لے جائے گا “عورت کی آنکھوں میں بجلی کوند گئی اور وہ بیٹی کو دلہن کے روپ میں دیکھنے لگی۔۔ماں نے گلے میں حمائل بیٹی کے بازو چوم لیے۔۔

باپ نے یہ منظر دیکھا تو دھیمی سی مسکان لیے سانس اندر کی طرف کھینچ لی۔

“جا۔ بھائی کو بھی اٹھا لے۔ساری ساری رات جاگوں،دو گھڑی سکون نہیں لینے دیتے “

وہ بولتی جارہی تھی۔۔چھوٹے بیٹے نے اس کے ھاتھوں کو اپنے ھاتھ میں لیا ۔۔

وہ ناراض سا منہ بنائے ہانڈی میں سے سالن نکالنے لگی۔جب ماں کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی تو دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔ماں کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے۔۔

” کیا تجھے بھائی یاد آرہا ہے؟”بیٹے نے ماں کی گردن میں بازو ڈالے پوچھا تو عورت کا من چاہا کہ زمین و آسمان میں کوئی نیا رستہ بن جائے یا پھر رحمت کا فرشتہ ، جن، پری،دروازہ کھول کر اسے ایسی دنیا میں بھیج دے جو سراب نہ ہو۔۔

رات سرک رہی تھی۔۔بچے اپنے اپنے بستر میں جا گھسے۔۔اس نے پھونکنی دوبارہ اٹھائی اور بچوں کو سردی نہ لگے اس لیے آگ تیز کرنے لگی۔

“آجا!دو گھڑی سو جا کملیے”

شوہر نے گہری سوچ میں گم بیوی کو جگانا چاہا مگر وہ بے سُدھ،ھاتھ سینکتی لمحوں کی قید میں جکڑی بیٹھی تھی۔۔وہی لمحے جو اس کے دماغ کی شریانوں میں گھس کر جانےکون سا منتر پھونک رہے تھے کہ جیسے تخت بلقیس اسے بازار مصر لے جائے گا جہاں اس کا کھویا ہوا بیٹا مل جائے گا یا چارپائی پر لیٹے،غربت میں پسے ناتواں وجود موسی کے کہنے پر من و سلوی سے نواز دیے جائیں گے اور ۔۔۔اور عیسی،دست مبارک کی کرامت دکھا کرمسیحا بن جائے گا۔۔کیا ایسا ہو پائے گا؟”

اسی سوچ میں غلطاں تھی کہ اسے یاد آیا بڑے بیٹے کو کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا ۔وہ گلی کے لڑکوں سے روز لڑتا اور گھر آکر چھوٹے بہن بھائیوں کو خوب مارتا۔۔

“بھاگو ۔۔ بھاگ جاؤ مردودو ۔۔میرے آؤٹ ہونے پر تالیاں کیوں بجائیں؟”وہ چھوٹے بہن بھائی کے کان پر ایک دو تین تھپڑ لگاتا چلا جاتا۔

ماں اس کا ھاتھ پکڑ لیتی۔۔جیسے وہ اس کا ھاتھ پکڑتی تھی اس نے دہکتا کوئلہ اٹھا لیا تھا۔”سی سی”کی آواز پر شوہر نے گردن موڑتے ہوئے دوبارہ دیکھا ۔وہ بھی بے بس تھا،قسمت کے پھیر کو روک سکتا تھا نہ ہی ماں کے دل کو بدلنے کی التجا کرسکتا تھا ۔کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر کروٹ لے کر سو گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چیں چیں کرتی آوازوں میں نمایاں کمی آگئی اور چڑی کی بھاگ دوڑ میں تیزی۔۔وہ روز محنت کرتی مگر آلنے میں پڑے گم صم بچے سوائے چھوٹا سا منہ کھولنے کے کوئی حرکت نہ کرتے۔۔ چڑی کی پھڑپڑاہٹ میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔تینوں بچے ہلکی ہلکی سانسیں لے رہے تھے۔۔بچوں کی سانسیں تھمنے سے پہلے ماں کا دم نکل گیا۔۔بچے بدنصیب تھے جو اڑان بھر کر آخری بار ماں کا منہ بھی نہ چوم سکے کہ قدرت نے انہیں اس صلاحیت سے محروم رکھا تھا۔۔وہ پیلو کے درخت سے گری اور اس کے نیچے بنے مٹی کے گول دائرے میں ہمیشہ کے لیے سو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات گھٹ کر چاند کی پہلی تاریخ جتنی رہ گئی۔۔سردی سے عورت پر کپکپاہٹ طاری ہوئی ۔پژمردہ آنکھیں کبھی بند ہوتیں کبھی کھلتیں۔ شعلوں نے ہار مان لی۔۔تاریکی اور خاموشی دونوں خوف کھا گئے۔

“ماں۔۔۔ماں مجھے چوڑیاں چاہیئں۔۔۔دیکھ ماں میری مہندی مت بھولنا۔۔اماں بازار جائے تو میرا بلا لے آنا اور کرکٹ کا سوٹ بھی۔۔۔تیسرے کی فرمائش پر وہ کانوں پر ھاتھ رکھ کر انہیں کوسنے لگتی۔۔دیکھ اماں تو ان دونوں کا خیال رکھتی ہے، میں کب سے کہہ رہا ہوں مجھے سائیکل لے دے۔۔۔۔ابا سے سفارش کر دے ناں”

الفاظ خلط ملط ہونے لگے..اکیس سالہ صبر دھمال ڈالنے لگا تو سینے میں جکڑن محسوس ہوئی..عورت نے ایک نظر آلنے پر ڈالی،دوسری چارپائیوں پر اور پیڑی گھسیٹ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی۔۔تڑکا ہونے کو تھا۔۔شوہر اٹھا تو بیوی کو اسی حالت میں پا کر اس کے پاس آن بیٹھا۔ڈھارس دینے کے لیے کندھے پر ھاتھ رکھا تو کندھا لڑھک گیا۔۔

ماں کے عالمِ تمثال سے بے خبر تین ذہنی،جسمانی مفلوج وجود چارپائیوں پر بے سُدھ پڑے تھے مگر پیلو کے درخت پر آئی خزاں اور سیلن زدہ دیواریں چیخ اٹھیں تھیں

اسماء حسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موتیوں کا دیس قطر
  • میری شادی کرادو
  • یہاں پہ کوئی نہیں ہے مرے
  • بدن کی قید میں رہ کر تمام تر کاٹو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مسخرہ
پچھلی پوسٹ
پیتل کا گھنٹہ

متعلقہ پوسٹس

تنہا ہی چلنا ہے زندگی تجھے زندگی بھر

مئی 3, 2026

سبز سینڈل

فروری 4, 2020

ہم گاتے رہیں صبحِ وطن کا

مئی 6, 2025

جمالیاتی اظہار کی روح

دسمبر 7, 2024

کھردری گرد کی کھال

جنوری 23, 2020

تیری ہی جُستجُو ہے ، تِرا ہی خیال ہے

دسمبر 12, 2021

آنٹی کا تجزیہ

اپریل 1, 2023

لفظ کی حرمت کے انکاری

نومبر 27, 2021

خامہ بگوش کے قلم سے

دسمبر 15, 2019

خوبصورت انعام

اگست 14, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نہ ڈھولکی سے نہ ہی تالیوں...

ستمبر 24, 2025

ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ

جون 2, 2020

کبڑا داؤد

نومبر 23, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں