102
نہ ڈھولکی سے نہ ہی تالیوں سے جاتا ہے
اداسیوں کا اثر قہقہوں سے جاتا ہے
جلا رہے ہو مرا دل مگر یہ دھیان رہے
جلے ہوئے کا نشاں مشکلوں سے جاتا ہے
بجا ہے مشورہ لیکن بتاؤ کیسے ہنسوں؟
یہ دل کا درد ہے، جو آنسوؤں سے جاتا ہے
بھرے جہان میں اب دل کہیں نہیں لگتا
ترا خیال کہاں دھڑکنوں سے جاتا ہے۔
ہے انتظار کا عالم جہاں منزہ سحر
ہر ایک پل کو گنا، آہٹوں سے جاتا ہے۔
منزہ سحر
