101
منقسم خیالوں میں
بے سبب گمانوں میں
جب الجھ کے رہ جائیں
نظم کیسے ہوتی ہے
شعرکب اترتا ہے
بے یقیں خلاؤں میں
روز و شب گزرتے ہوں
فرش پر خلاؤں کے
خوف اوڑھے چلتے ہوں
روز و شب خیالوں میں
وسوسوں، صداؤں کے
خواب سے اترتے ہوں
وقت کی بلاؤں سے
جان و دل لرزتے ہوں
شور و شر کی ہر جانب
آندھیاں سی چلتی ہوں
نظم کیسے ہوتی ہے
شعر کب اترتا ہے
آسماں زمیں جب بھی
چاکِ فن پہ آجائیں
دل میں رکھی سب شکلیں
چاند سی نکھر جائیں
آتشِ جنوں سے جب
سوچ کچھ پگھل جائے
جب لگے کہ ہاتھوں کو
اک ذرا بڑھا کے میں
عرش تک کو چھو لوں گا
جب لگے کہ دستک سے
سارے بند دروازے
خود پہ آج کھولوں گا
جب لگے کہ پاؤں بھی
اس گھڑی سے آگے ہیں
جس میں جی رہا ہوں میں
شعر پھر اترتا ہے
اور نظم ہوتی ہے
سلیم فگار
