381
نظروں پہ ستم دل پہ جفا ہو کر رہے گی
ہے جرم محبت تو سزا ہو کر رہے گی
اس درجہ ہو دل ان کی عنایت پہ نہ مسرور
اک دن یہی دو دن کی ہوا ہو کر رہے گی
اے رہروِ مے خانہ تو جنت کا غم نہ کر
جنت ترے قدموں پے فدا ہو کر رہے گی
اب تو غمِ جاناں بھی سکوں بخش نہیں ہے
کیا یہ خلش دل سے جدا ہو کے رہے گی
کیوں خوش نہ ہو دل بزم تصور کی بنا پر
دنیا تو نہیں ہے کہ فنا ہو کر رہے گی
احساس میں شامل ہے اگر حسنِ صداقت
آوازِ دل آوازِ خدا ہو کے رہے گی
اے حُسنِ پشیماں مری آنکھوں سے نہ گھبرا
ہر آہ ترے حق میں دُعا ہو کے رہے گی
برہم جو شکیل ان کی نظر ہو تو بلا سے
دیکھوں وہ کہاں مجھ سے خفا ہو کے رہے گی
شکیلؔ بدایونی
