100
یہ جو منظر میں تابانی ہے بھائی
کسی کی آنکھ مستانی ہے بھائی
خدا سے یاد اللہ تھی ضروری
ہمارا کھیت بارانی ہے بھائی
بگولہ خیر مقدم کر رہا ہے
یہی صحرا کی مہمانی ہے بھائی
میں اس ویرانے سے پہلے بھی گزرا
وہی پہلی سی ویرانی ہے بھائی
یہ سورج مرکزے سے ہٹ رہا ہے
طبیعت اس کی سیلانی ہے بھائی
کہاں سے سیکھا ہے آئینہ بننا
تری آنکھوں میں حیرانی ہے بھائی
یہ میرے قتل کا باعث بنے گی
یہی جو بوئے سلطانی ہے بھائی
عدنان سرمد
