5
اسی لیے تو کھڑے ہم بتوں کی صف میں ہیں
خدا پرست بھی جب کافروں کی صف میں ہیں
حرم کے پاس بنائے گئے ہیں میخانے
ہم ایسے رند بھی اب حاجیوں کی صف میں ہیں
ہے کیسا وقت خدایا سخن پہ آیا ہوا
لطیفہ گو بھی کئی شاعروں کی صف میں ہیں
کمان داروں سے کہہ دو ابھی نہ وار کریں
ہمارے دوست ابھی دشمنوں کی صف میں ہیں
ہمارے زخم پرانے ادھیڑنے والے
سنا ہے آپ تو بخیہ گروں کی صف میں ہیں
یہ کن دنوں میں ہیں نیلام ہونے والے ہم
کھڑے غلام بھی سوداگروں کی صف میں ہیں
ہمارے نام پہ کرتے ہیں قتل آج بھی لوگ
شہید ہو کے بھی ہم قاتلوں کی صف میں ہیں
شاہ دل شمس
