101
وہ جسے خام خیالی کا ہنر جچتا ہے
اپنی آنکھوں کو وہی تنگ نظر جچتا ہے
اتنا مشکل ہے تعلق کو نبھانا اس سے
ساتھ اپنے تو وہی شخص مگر جچتا ہے
ریشمی لمس دے، سایہ دے، سُکوں دے مجھ کو
سچ کہوں، تجھ پہ یہی کارِ شجر جچتا ہے
میں وہ تتلی ہوں کہ جو رقص کناں ہے تجھ پر
تُو وہی پھول کہ جس سے یہ نگر جچتا ہے
ورنہ لگتا ہے کہ مدفن ہے کئ زندوں کا
ماں نظر آتی ہے جس گھر میں، وہ گھر جچتا ہے
ساتھ محبوب ہو، ٹیڑھے ہوں پہاڑی رستے
تو بھی کچھ غم ہی نہیں، سارا سفر جچتا ہے
مجھ پہ نتھلی کو بہت خوب بتانے والے
سولہ سنگھار کروں تجھ کو اگر جچتا ہے
گھر کے کاموں میں وہ جو خود کو بھلا بیٹھی ہے
وہ سنور جاۓ گی، تم کہہ دو، سنور، جچتا ہے
شہزین فراز
