20
گوشے گوشے پہ کوئی نقشِ قدم بنتا ہے
بنتے بنتے کسی رستے کا بھرم بنتا ہے
کہیں اشکوں کے ذخیرے سے اُبھر آتی ہے آنکھ
کوئی مجموعہِ الفاظ قلم بنتا ہے
جس طرح رکھا گیا تھا مرا دل سینے میں
اب محلات میں شاہوں کا حرم بنتا ہے
بیج گملوں میں کبھی پیڑ نہیں بن پاتا
دکھ ترے ہجر میں آتا ہے تو غم بنتا ہے
میرے نیندوں میں جگہ ڈھونڈنے والے مرےدوست!
نم کسی آنکھ میں ہوتا نہیں، نم بنتا ہے
تیری خوشبو سے ترے شہر کا نقشہ سمجھا
اس حوالے سے مرا فاصلہ کم بنتا ہے
حارث بلال
