خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابافراوانی سے قلت کا سفر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

فراوانی سے قلت کا سفر!

از شیخ خالد زاہد اکتوبر 14, 2023
از شیخ خالد زاہد اکتوبر 14, 2023 0 تبصرے 70 مناظر
71

گو کہ بات کرنا مشکل ہے لیکن کیا کیجئے کہ رب کائنات نے اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز بھی کر رکھا ہے اور پھر اپنے مذاہب میں سے پسندیدہ ترین مذہب کا ماننے والا بھی بنادیا اور ساتھ ہی محسوسات کی حس بھی بیدار رکھی ہے ۔ یوں تو محسوس کرنے کیلئے کسی مذہب یا نسل یا زبان کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ، یہ تو ایک ایسا قدرتی جذبہ ہے جو انسان کے پیدا ہوتے ہی متحرک ہوجاتا ہے ۔ ہم انہیں نایاب کہہ سکتے ہیں جو قدرت کی عطاء کردہ حسیات میں سے کسی ایک یا اس سے زیادہ سے محروم رکھے گئے ہوں ،عام تاثر ہے کہ ایسا کیا ہوتا تو ویسا نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ جبکہ قدرت کو کسی اصلاح یا تصحیح کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ۔ دھیان دینے والوں ، دھیان کرنے والوں اور توکل کرنے والوں پر قدرت اپنی عنایات کرتی ہے اور ان پر اپنے رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ کس عمل کے پیچھے کون سے محرکات ہیں ۔ یوں تو وقت انفرادی طور پر ہ میں بہت تیزی سے سفر کرتے ہوئے وہاں لے کر جارہا ہے جہاں ہ میں پہنچنا ہے ۔ بازار میں چلتے ہوئے بچے کسی چیز کو دیکھ کر رکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم اکثر اس طرف دھیان دئے بغیر بچے کا ہاتھ پکڑے چلتے چلے جاتے ہیں (بچے کی ضد کو نظر انداز کرتے ہوئے) وقت بھی ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی کرتا محسوس ہوتا ہے ،آپ تھک بھی جائیں مگر رکنے نہیں دیتا اور خود تو رکتا ہی نہیں ، گوکہ وقت سے ہاتھ چھڑایا نہیں جاسکتا لیکن پھر بھی اگر اس میں کہیں مختصر سی کامیابی ہو بھی جاتی ہے تو وقت سے ہاتھ چھڑانے کا خوب خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے،اگر ضد بحث کر کے رک بھی جائیں توجسمانی یا روحانی طور پر معذور کردیتا ہے کسی ایسے معاملے میں الجھا دیتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہو اور کسی بھی طرح سے ہ میں مجبور کرتا ہے کہ اس کا ہاتھ تھا میں ۔

شائد انسان نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوگا کہ دنیا کی آبادی کو گنتی کے ہندسوں میں لکھا جاسکے گا، لیکن جدت کی بلندیوں پر پہنچ جانے والی دنیا نے اسے بہت ہی آسان بنا دیا ہے اور تھوڑی سی تگ و دو سے یہ واضح ہوا کہ حضرت آدم ;174; سے شروع ہونے والی انسانیت ایک سے شروع ہونے والی دنیا اب آٹھ ارب کے عداد کو چھونے کے قریب ہے ، موجودہ دنیا کی آبادی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد شمار کی جارہی ہے جس میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے (شرح پیدائش شرح اموات سے کہیں زیادہ ہے) ۔ یہاں یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انتظام سو افراد کا تھا اور دو سو افراد آگئے، کیونکہ قدرت کا انتظام ہے جو خود واقف ہے کہ کتنے آئیں گے ۔ انسانی وجود کی دنیا میں ابتداء سے دیکھیں تو دنیا کتنی بڑی ہوگی نا راستوں کی پیمائش اور ناہی چاند ، سورج اور ستاروں سے راستے جاننے کا علم اور آج دنیا سمٹ کر ایک کلک پر آگئی ہے صبح کہیں ہیں تو دوپہر میں کہیں ۔ جب قدرت نے جسم رکھنے والی مخلوق (انسان و جانور وغیرہ) زمین کر رونق بخشنے کیلئے بھیجے تو زمین کو بھی حکم دیا کہ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کر کے رکھے اور ایسا ہی ہوا کن اور فیکون ۔

آج جہاں دنیا قدرتی معدنیات اور وسائل کے کم ہونے کے خوف سے آنے والے کل میں پائداری اور استحکام کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے اورچھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے دستیاب عوامل پر غور و خوض کر رہی ہے، وسائل کی بچت پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے، اس حوالے سے ساری دنیا میں آگہی کی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہیں ۔ سب سے پہلے پانی کی مثال لے لیتے ہیں ، خشک سالی ایک بین الاقوامی مسلۃ بن کر سامنے آرہا ہے ۔ دنیا آبی ذخائر کے لئے راغب کر رہی ہے دوسری طرف یہی پانی دنیا میں تباہی اور بربادی کا سبب بن رہا ہے کیونکہ انسان نے اپنی سمجھ سے ذخائر بنا رکھے ہیں لیکن حتمی فیصلہ تو قدرت کا ہوتا ہے کب کہاں کیا ہوگا اس بات کا علم عمومی طور پر تو لگایا جاسکتا ہے لیکن حتمی عمل قدرت کے مرہون ِ منت ہوتا ہے ۔ جسطرح ہونے والی بارشوں کا ایک اندازے کے مطابق بتا دیا جاتا ہے کہ اتنے ملی میٹر بارش متوقع ہے لیکن کبھی اس سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہیں اور کبھی ہوتی ہی نہیں ، اسلئے ہم پاکستانی یا تیسری دنیا کے تقریباً ممالک اس طرح کی پیشنگوئیوں کو زیادہ سرپر سوار نہیں کرتے اس کے برعکس ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک اپنی کی گئی ترقی کو سنبھالنے کیلئے متوقع قدرتی آفات سے نمٹنے کا ہرممکن سامان کرتے ہیں اور باقاعدہ معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ توانائی کے شعبے میں بہت کام کیا جارہا ہے مختلف تحقیقات پر غور کیا جارہا ہے کس طرح سے قدرت کی دی گئی نعمتوں کو بہترین اور منظم طریقے سے بروئے کار لایا جائے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب معاملات پر غور کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے، کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ دنیا کا سارا انتظام وہی چلا رہا ہے یا پھر دنیا کی محبت میں مگن ہوکر خالق کائنات کے قادر مطلق ہونے سے منحرف ہوگیا ہے، ایسے خدشات تو دیکھائی دے رہے ہیں ۔ حقائق واضح کر رہے ہیں کہ واقعی دنیا میں موجود وسائل تیزی سے کم ہورہے ہیں ۔ ایسا کیسے مان لیا جائے کہ قدرت کا خزانہ ایک طے شدہ مدت کیلئے رکھا گیاتھا اوراب جبکہ وہ طے شدہ وقت قریب آرہا ہے جس کی وجہ سے جہاں دیدہ اور فہم و فراست رکھنے والے (دھیان رکھنے والے)اس وقت کے آنے سے قبل جب قدرتی وسائل ناپید ہونا شروع ہوجائیں گے کچھ نعملبدل کا انتظام کر نے کیلئے کوشاں ہوں ۔ اس بات کو بھی خاطر میں رکھنا ضروری ہے کہ جو کائنات کا خالق و مالک ہے جس انسان کیلئے بیش بہا نعمتیں پیدا کیں جب وہ انسان ہی نہیں رہے گا تو پھر یہ نعملبدل کس کام کیلئے رہ جائے گا ۔ جب تعمتوں کا استعمال صحیح طریقے سے نہیں کیا جاتا یا ان کا دھیان نہیں رکھا جاتا تو قدرت ان نعمتوں کو آہستہ آہستہ انسانوں سے دور کردیتی ہے ۔ قدرت نے تو زندگی کے ہر معاملے کو اعتدال سے گزارنے کا حکم دیا ہے اور جب رب کائنات کے حکم عدولی ہو تو توازن تو بگڑنا ہی ہے نا ۔

جب آدم ;174; کو پر زمین پر اتارا گیاتو ہر شے کی خوب فراوانی ہوگی لیکن طلب کا اپنا ایک حساب تھا ، یہ بھی لکھنا درست نہیں کہ قدرت نے توازن کو کھلی چھٹی دے دی جسکی وجہ سے زمین پر اشیاء کیلئے توازن بگڑ رہا ہے ۔ توازن کا اپنا میعار ہے زمین پر بسنے والے ہمیشہ سے ہی متوازن تقسیم سے محروم رہے ہیں ۔ کون کس کا حصہ کھا گیا اس کا معلوم کرنا بہت مشکل ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی بساط جب سمیٹی جائے گی تو اس کا ایک عندیہ یا علامت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قدرت کی مہیہ کرتا سہولیات واپس لے لی جائیں گی ۔ حالات ، واقعات اور ماحول میں اتنی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ کہیں استحکام آتا دیکھائی نہیں دے رہا (دراصل انسان یکسوئی کھوبیٹھا ہے یا پھر اس سے چھین لی گئی ہے ) ابھی آپ ایک چیز کو پکڑنے کی یا سمجھنے کی کوشش کر ہی رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایک اور چیز آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا شروع کردیتی ہے ۔ قدرت اپنی منظم حکمت عملی پر کارفرما ہے جیسے کے وقت قدرت کا ایک اہم ترین الہ کار ہے اوروہ ہوا کی رتھ پر سوار ہے ۔

فراوانی سے قلت کا سفر شروع ہوچکا ہے جو اس بات کو سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ دنیا کی بساط سمیٹی جارہی ہے اور وہ دن جس کا اللہ رب العزت نے وعدہ کر رکھا ہے بہت ہی قریب آنے کو ہے ۔ تو جس کے پاس بہت زیادہ ہے یا جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ اسے اس دن کیلئے تقسیم کردے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہے وہ اس دن کیلئے صبر کرلے ، اس دن دائمی انصاف ہوگا اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا ، اخروی فیصلہ قریب پہنچ رہا ہے ۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حالی اور اردو
  • جتنا بھی ہو گہرا پیار سہیلی سے
  • میں اپنے آپ کو روکوں کہاں تک
  • شمع کے ساتھ ستارے بھی بُجھا جاتا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
خام ہونے کے انتظار میں ہوں
پچھلی پوسٹ
بیٹی، ماں اور نانی

متعلقہ پوسٹس

آواز لگانے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے

نومبر 8, 2025

رنگ برنگے لوگ

دسمبر 28, 2019

خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے

مئی 23, 2020

بس ایک میں تھی کوئی

دسمبر 26, 2024

سفر سفر میں چلیں گے ،ترا خیال اور میں

نومبر 30, 2019

شرمیلی خاموشی

مارچ 6, 2023

مغرور تھا بہت ، اسے مجبور کر دیا

جنوری 28, 2020

بس اور کچھ نہیں

دسمبر 10, 2019

جان لیوا وبائیں اور مسلمان سائنسدان!

اپریل 11, 2021

تلافی

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تخیّل

مارچ 23, 2025

انوکھا ہے انداز میری فُغاں کا

جولائی 28, 2020

جب شیطان ناکام ہوتا ہے

نومبر 20, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں