خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابافراوانی سے قلت کا سفر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

فراوانی سے قلت کا سفر!

از شیخ خالد زاہد اکتوبر 14, 2023
از شیخ خالد زاہد اکتوبر 14, 2023 0 تبصرے 51 مناظر
52

گو کہ بات کرنا مشکل ہے لیکن کیا کیجئے کہ رب کائنات نے اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز بھی کر رکھا ہے اور پھر اپنے مذاہب میں سے پسندیدہ ترین مذہب کا ماننے والا بھی بنادیا اور ساتھ ہی محسوسات کی حس بھی بیدار رکھی ہے ۔ یوں تو محسوس کرنے کیلئے کسی مذہب یا نسل یا زبان کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ، یہ تو ایک ایسا قدرتی جذبہ ہے جو انسان کے پیدا ہوتے ہی متحرک ہوجاتا ہے ۔ ہم انہیں نایاب کہہ سکتے ہیں جو قدرت کی عطاء کردہ حسیات میں سے کسی ایک یا اس سے زیادہ سے محروم رکھے گئے ہوں ،عام تاثر ہے کہ ایسا کیا ہوتا تو ویسا نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ جبکہ قدرت کو کسی اصلاح یا تصحیح کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ۔ دھیان دینے والوں ، دھیان کرنے والوں اور توکل کرنے والوں پر قدرت اپنی عنایات کرتی ہے اور ان پر اپنے رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ کس عمل کے پیچھے کون سے محرکات ہیں ۔ یوں تو وقت انفرادی طور پر ہ میں بہت تیزی سے سفر کرتے ہوئے وہاں لے کر جارہا ہے جہاں ہ میں پہنچنا ہے ۔ بازار میں چلتے ہوئے بچے کسی چیز کو دیکھ کر رکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم اکثر اس طرف دھیان دئے بغیر بچے کا ہاتھ پکڑے چلتے چلے جاتے ہیں (بچے کی ضد کو نظر انداز کرتے ہوئے) وقت بھی ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی کرتا محسوس ہوتا ہے ،آپ تھک بھی جائیں مگر رکنے نہیں دیتا اور خود تو رکتا ہی نہیں ، گوکہ وقت سے ہاتھ چھڑایا نہیں جاسکتا لیکن پھر بھی اگر اس میں کہیں مختصر سی کامیابی ہو بھی جاتی ہے تو وقت سے ہاتھ چھڑانے کا خوب خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے،اگر ضد بحث کر کے رک بھی جائیں توجسمانی یا روحانی طور پر معذور کردیتا ہے کسی ایسے معاملے میں الجھا دیتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہو اور کسی بھی طرح سے ہ میں مجبور کرتا ہے کہ اس کا ہاتھ تھا میں ۔

شائد انسان نے کبھی سوچا ہی نہیں ہوگا کہ دنیا کی آبادی کو گنتی کے ہندسوں میں لکھا جاسکے گا، لیکن جدت کی بلندیوں پر پہنچ جانے والی دنیا نے اسے بہت ہی آسان بنا دیا ہے اور تھوڑی سی تگ و دو سے یہ واضح ہوا کہ حضرت آدم ;174; سے شروع ہونے والی انسانیت ایک سے شروع ہونے والی دنیا اب آٹھ ارب کے عداد کو چھونے کے قریب ہے ، موجودہ دنیا کی آبادی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد شمار کی جارہی ہے جس میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے (شرح پیدائش شرح اموات سے کہیں زیادہ ہے) ۔ یہاں یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انتظام سو افراد کا تھا اور دو سو افراد آگئے، کیونکہ قدرت کا انتظام ہے جو خود واقف ہے کہ کتنے آئیں گے ۔ انسانی وجود کی دنیا میں ابتداء سے دیکھیں تو دنیا کتنی بڑی ہوگی نا راستوں کی پیمائش اور ناہی چاند ، سورج اور ستاروں سے راستے جاننے کا علم اور آج دنیا سمٹ کر ایک کلک پر آگئی ہے صبح کہیں ہیں تو دوپہر میں کہیں ۔ جب قدرت نے جسم رکھنے والی مخلوق (انسان و جانور وغیرہ) زمین کر رونق بخشنے کیلئے بھیجے تو زمین کو بھی حکم دیا کہ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کر کے رکھے اور ایسا ہی ہوا کن اور فیکون ۔

آج جہاں دنیا قدرتی معدنیات اور وسائل کے کم ہونے کے خوف سے آنے والے کل میں پائداری اور استحکام کیلئے سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے اورچھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے دستیاب عوامل پر غور و خوض کر رہی ہے، وسائل کی بچت پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے، اس حوالے سے ساری دنیا میں آگہی کی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہیں ۔ سب سے پہلے پانی کی مثال لے لیتے ہیں ، خشک سالی ایک بین الاقوامی مسلۃ بن کر سامنے آرہا ہے ۔ دنیا آبی ذخائر کے لئے راغب کر رہی ہے دوسری طرف یہی پانی دنیا میں تباہی اور بربادی کا سبب بن رہا ہے کیونکہ انسان نے اپنی سمجھ سے ذخائر بنا رکھے ہیں لیکن حتمی فیصلہ تو قدرت کا ہوتا ہے کب کہاں کیا ہوگا اس بات کا علم عمومی طور پر تو لگایا جاسکتا ہے لیکن حتمی عمل قدرت کے مرہون ِ منت ہوتا ہے ۔ جسطرح ہونے والی بارشوں کا ایک اندازے کے مطابق بتا دیا جاتا ہے کہ اتنے ملی میٹر بارش متوقع ہے لیکن کبھی اس سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہیں اور کبھی ہوتی ہی نہیں ، اسلئے ہم پاکستانی یا تیسری دنیا کے تقریباً ممالک اس طرح کی پیشنگوئیوں کو زیادہ سرپر سوار نہیں کرتے اس کے برعکس ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک اپنی کی گئی ترقی کو سنبھالنے کیلئے متوقع قدرتی آفات سے نمٹنے کا ہرممکن سامان کرتے ہیں اور باقاعدہ معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ توانائی کے شعبے میں بہت کام کیا جارہا ہے مختلف تحقیقات پر غور کیا جارہا ہے کس طرح سے قدرت کی دی گئی نعمتوں کو بہترین اور منظم طریقے سے بروئے کار لایا جائے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب معاملات پر غور کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے، کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ دنیا کا سارا انتظام وہی چلا رہا ہے یا پھر دنیا کی محبت میں مگن ہوکر خالق کائنات کے قادر مطلق ہونے سے منحرف ہوگیا ہے، ایسے خدشات تو دیکھائی دے رہے ہیں ۔ حقائق واضح کر رہے ہیں کہ واقعی دنیا میں موجود وسائل تیزی سے کم ہورہے ہیں ۔ ایسا کیسے مان لیا جائے کہ قدرت کا خزانہ ایک طے شدہ مدت کیلئے رکھا گیاتھا اوراب جبکہ وہ طے شدہ وقت قریب آرہا ہے جس کی وجہ سے جہاں دیدہ اور فہم و فراست رکھنے والے (دھیان رکھنے والے)اس وقت کے آنے سے قبل جب قدرتی وسائل ناپید ہونا شروع ہوجائیں گے کچھ نعملبدل کا انتظام کر نے کیلئے کوشاں ہوں ۔ اس بات کو بھی خاطر میں رکھنا ضروری ہے کہ جو کائنات کا خالق و مالک ہے جس انسان کیلئے بیش بہا نعمتیں پیدا کیں جب وہ انسان ہی نہیں رہے گا تو پھر یہ نعملبدل کس کام کیلئے رہ جائے گا ۔ جب تعمتوں کا استعمال صحیح طریقے سے نہیں کیا جاتا یا ان کا دھیان نہیں رکھا جاتا تو قدرت ان نعمتوں کو آہستہ آہستہ انسانوں سے دور کردیتی ہے ۔ قدرت نے تو زندگی کے ہر معاملے کو اعتدال سے گزارنے کا حکم دیا ہے اور جب رب کائنات کے حکم عدولی ہو تو توازن تو بگڑنا ہی ہے نا ۔

جب آدم ;174; کو پر زمین پر اتارا گیاتو ہر شے کی خوب فراوانی ہوگی لیکن طلب کا اپنا ایک حساب تھا ، یہ بھی لکھنا درست نہیں کہ قدرت نے توازن کو کھلی چھٹی دے دی جسکی وجہ سے زمین پر اشیاء کیلئے توازن بگڑ رہا ہے ۔ توازن کا اپنا میعار ہے زمین پر بسنے والے ہمیشہ سے ہی متوازن تقسیم سے محروم رہے ہیں ۔ کون کس کا حصہ کھا گیا اس کا معلوم کرنا بہت مشکل ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی بساط جب سمیٹی جائے گی تو اس کا ایک عندیہ یا علامت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قدرت کی مہیہ کرتا سہولیات واپس لے لی جائیں گی ۔ حالات ، واقعات اور ماحول میں اتنی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ کہیں استحکام آتا دیکھائی نہیں دے رہا (دراصل انسان یکسوئی کھوبیٹھا ہے یا پھر اس سے چھین لی گئی ہے ) ابھی آپ ایک چیز کو پکڑنے کی یا سمجھنے کی کوشش کر ہی رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایک اور چیز آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا شروع کردیتی ہے ۔ قدرت اپنی منظم حکمت عملی پر کارفرما ہے جیسے کے وقت قدرت کا ایک اہم ترین الہ کار ہے اوروہ ہوا کی رتھ پر سوار ہے ۔

فراوانی سے قلت کا سفر شروع ہوچکا ہے جو اس بات کو سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ دنیا کی بساط سمیٹی جارہی ہے اور وہ دن جس کا اللہ رب العزت نے وعدہ کر رکھا ہے بہت ہی قریب آنے کو ہے ۔ تو جس کے پاس بہت زیادہ ہے یا جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ اسے اس دن کیلئے تقسیم کردے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہے وہ اس دن کیلئے صبر کرلے ، اس دن دائمی انصاف ہوگا اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا ، اخروی فیصلہ قریب پہنچ رہا ہے ۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کہانی کا کوئی منظر
  • تیری تصویر اگر بناتے ہم
  • مختصر سیرتِ رسولﷺ
  • نہ زمیں پر نہ آسمان میں ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
خام ہونے کے انتظار میں ہوں
پچھلی پوسٹ
بیٹی، ماں اور نانی

متعلقہ پوسٹس

غزہ اور گمشدہ اُمتِ مسلمہ!

اکتوبر 20, 2023

طےشُدہ عشق سرِ دار نبھانا ہو گا

مئی 9, 2020

غزل کے اشعار

اگست 29, 2025

گرم سوٹ

جون 18, 2017

مکتوب چترالی بنام اقبال

نومبر 9, 2025

خوش تھا وہ مجھ کو دربدر کر کے

مارچ 26, 2020

سوچوں تو خیال اور بھی ہیں

دسمبر 7, 2021

ایسی پستی ایسی بلندی کا تنقیدی جائزہ

اگست 20, 2023

رخ سے نقابِ سبز

مارچ 4, 2025

از روۓ زمیں اور نہ افلاک سے نکلے

اکتوبر 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل پیا ہوکے بھردا اے

اکتوبر 12, 2025

حجاب

مئی 27, 2025

جج کرنا مناسب نہیں

مئی 14, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں