خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباعدم اعتماد کا بحران اور عمران خان!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

عدم اعتماد کا بحران اور عمران خان!

از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2022
از سائیٹ ایڈمن مارچ 11, 2022 0 تبصرے 70 مناظر
71

قارئین سے دلی معذرت کیساتھ ، پاکستان کا مطلب پاک سرزمین سے تبدیل کرتے ہوئے بحرانوں کی سرزمین رکھ دیا جائے تو پاکستان کی زیادہ صحیح ترجمانی ہوگی ۔ چینی کا بحران، آٹے کا بحران، پیٹرول کا بحران، ٹماٹر آلو کا بحران، جان بچانے والی ادویات کا بحران، پانی کا بحران ، بجلی کا بحران، گیس کا بحران ، لاقانونیت کا بحران،مہاجرین کے انخلاء کا بحران، یہ وہ چند بحران ہیں جن کا سامنا پاکستانیوں کو گزشتہ کچھ عرصے میں کرنا پڑا ہے ۔ جب کے ہمارا سب سے بڑابحران تعلیم کا ہے اگر ہم اس پر کسی بھی طرح سے قابو پالیں اور لوگوں میں شعور کی شمعیں روشن کردیں تو پھر کبھی کوئی بحران پاکستان کا رخ نہیں کرسکے گا ۔

ہ میں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ پاکستانی سیاست کرنے والوں کا پاکستان اور پاکستانیوں کی خیر خواہی سے کہیں دور کا بھی کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ پاکستانی سیاستدان کسی کاروباری پیشے کی طرح سیاست سے منسلک ہوتے ہیں اور زیادہ تر دیکھا جائے تو خاندانی یا موروثی کاروبار کے طور پر ہی سیاست میں کار ہائے نمایاں دیکھا تے چلے جاتے ہیں ۔ عوام اور خواص کی تا حال نا ختم ہونے والی تقسیم کی بھی سب سے بڑی یہی طریقہ کار رکاوٹ ہے ۔ پاکستان پر یہ بات واضح ہونے میں ایک طویل عرصہ لگا کہ یہاں کے نظم و نسق پر فائز لوگوں کے دلوں میں ملک و قوم کی قدرومنزلت کا کوئی باب ہی نہیں ہے یہ لوگ تو ذاتی انا کی تسکین کیلئے اختیارات کے بے دریغ استعمال کیلئے اور کرسیوں کو ملنے والی مراعات کیلئے یہاں تک پہنچتے ہیں ۔ ان کا جینا اور مرنا اقتدار اور اختیار کیلئے ہوتا ہے (یا پھر دوسرے ملکوں میں )دوسری طرف ملک و قوم کی ہر ممکن خدمت پر معمور وطن عزیز کی سرحدوں کے محافظ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہی چلے جارہے ہیں ۔ پاکستان کو بحرانوں میں دھکیلنے والے کون لوگ ہیں آج یہ بات ہر خاص و عام کو سمجھ آچکی ہے ۔ مہنگائی کا رونا گانا کرنے والے بھی اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ یہ مہنگائی کوئی ایک دن کا کام نہیں ہے یہ ماضی میں ارباب اقتدار کی عیاشیوں کی مرہون منت ممکن ہوا ہے اور تو اور ان عیاشیوں کی داستانیں بین الاقوامی سطح تک پھیلی ہوئی ہیں ۔

یہ پاکستان کا وہ حاکم طبقہ ہے جس نے کبھی زندگی کو اقتدار اور اختیار سے ہٹ کر سوچا ہی نہیں (جسکی زندہ مثال فضل الرحمان صاحب ہیں ، ایوان میں نا پہنچ پانے کا اتنا شدید غم ہے کہ ان کا بس نہیں چل رہا کہ انتخابات کی مدت پانچ سال سے کم کرکے ایک سال کر دیں ) ۔ دنیا میں سیاستدان اپنے اہل خانہ کی کفالت کا واحد ذریعہ اقتدار نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگ اپنی اپنی ملازمتوں سے وابسطہ ہوتے ہیں انتخابات میں حصہ لیتے ہیں جیت جاتے ہیں تو ایوان میں اور ہار جاتے ہیں تو اپنے اپنے روزگار پر ہوتے ہیں ۔ یعنی خاص و عام کی کوئی تفریق نہیں ہوتی ۔ یہ ایسے ممالک کا تذکرہ ہے جہاں انصاف کو یقینی بنایا جاتا ہے جہاں بنیادی ضروریات کی دستیابی کو یقینی بنایا جاتا ہے جہاں عام آدمی کو بھی ویسی ہی طبی سہولیات میسر ہوتی ہیں جیسی کہ کسی خاص آدمی کو یا یوں کہیں کے صاحب اقتدار کو ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو سیاست کو خدمت کے جذبے سے سرانجام دیتے ہیں ۔ یہ اپنے ملک کو اپنا گھر سمجھتے ہیں یہ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ دنیا میں اپنے گھر سے اپنے ملک سے اچھی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوسکتی اسلئے یہ لوگ ملک کو بہتر سے بہترین بنانے کیلئے دنیا میں اعلی مقام دلانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہم نے دیکھا ہے کہ انفرادی و شخصی اہمیت کو اجاگر کرنے کی چاہ میں اقتدار میں آتے ہی قومی خزانے کے منہ اس خاص مقصد کیلئے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ یہاں تک سنا گیا ہے کہ ایک صاحب اقتدار نے کسی غریب سے ہاتھ ملانا تھا تو اس غریب کو خصوصی طور پر نہلا دھلا کر آگے کھڑا کیا گیا باقی آپ لوگ تقریبا سب کچھ ہی جانتے ہیں ۔

تین سال قبل ہونے والے عام انتخابات میں ملی جلی کامیابی سے اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعت ، جس نے بائیس سال پاکستانی سیاست کو بدلنے کی کوشش کی اور پاکستان کی عوام کواس سیاسی نظام کی تبدیلی کے لئے بڑی تگ و دو کے بعد تیار کیا ۔ یہ بھی ایک تکلیف دہ امر ہے کہ پاکستان کی عوام بہت جلدہی یکسانیت کا شکا رہوجاتی ہے اور اس حققیت کو جدی پشتی سیاستدان تو بخوبی جانتے ہیں لیکن تبدیلی کیلئے کوشاں اس حقیقت کو بدلنے میں تاحال ناکام دیکھائی دئیے ہیں ، جسکی وجہ سے شائد عوام کی قلیل تعداد نا چاہتے ہوئے بھی تبدیلی کو تبدیل کرنے لئے پرانے سیاست دانوں کا ساتھ دینے نکل کھڑی ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب کو ہٹانے کے جب بیرونی ہربے ناکام ہوچکے تو مخالف جماعتوں کے سربراہان نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے ۔ عوام سے صرف اس بات کی گزارش ہے کہ وہ یہ ضرور دیکھیں کے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والوں کی اپنی کیا حیثیت ہے ۔ کیا وہ اس بات کی ضمانت دینگے کہ اقتدار میں آکر جو کچھ پہلے کئی دفعہ کرچکے ہیں اس سے کچھ مختلف کرینگے ۔ اپنے آپ کو ملک کا خیر خواہ کہنے والے پاکستان کی اہمیت اور سربلندی کی جنگ لڑنے والے عمران خان کو اس عمل کی سزا دینا چاہتے ہیں ، یہ عمران خان صاحب کو آمریکہ کو سپر پاور کی مسند سے ہٹانے کیلئے روس کا ساتھ دینے کی وجہ سے ہٹانا چاہتے ہیں ، یہ عمران خان کو کشمیر کیلئے آواز نا اٹھانے والوں کو اس بات کی تنبیہ کرنے کی وجہ سے ہٹانا چاہتے ہیں کہ وہ جب کشمیر کے خلاف بھارتی مظالم پر نہیں بول سکتے تو ہ میں نا بتائیں کے یوکرین کے معاملے پر بولنا ہے یا نہیں ۔ یہ باتیں اس بات کی گواہی ہیں کہ ملک ِ خداداد پاکستان کا خیر خواہ حقیقی معنوں میں کون ہیں ۔ فیصلے کا وقت یہ لوگ خود لے آئیں ہیں اب وہ فیصلہ آئے گا کے تاریخ ٰیاد رکھے گی ۔ ان شاء اللہ

تحریک انصاف کے رہنماءوں کو اس بات کاخیال ضرور آنا چاہئے کہ انہوں نے پچیس سال جس شخص کا ساتھ دیا ہے ، جس نظریے کا ساتھ دیا ہے ، جن لوگوں سے اور انکے ناپاک عزائم سے پاکستان کو نجات دینے کا عہد کیا تھا ، کیا اسے اپنی ذاتی مفاد کی خاطر نظر انداز کردیا جائے گا ۔ تحریک انصاف اور اسکے نظریاتی کارکنوں کی آزمائش کا وقت ہے کہ وہ اپنے منتخب شدہ نمائندوں کو یہ باور کرائیں کہ اپنی جماعت کے داخلی معاملات مل بیٹھ کر حل کرلینگے لیکن حکومت کو گرنے نہیں دینگے بلکہ اس مخصوص ٹولے کو جو برس ہا برس سے ملک و قوم کو لوٹتے آئے ہیں منہ کے بل گرائیں گے ۔ یوں تو پاکستان کبھی بھی بحرانوں سے باہر نہیں نکل سکا ہے لیکن اب کوئی ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے کوششیں کر رہا ہے تو اب اسے ہی بحران کی نظر کرنے کی اندرونی اور بیرونی قوتیں ایک ہوچکی ہے لیکن ہ میں بہت اچھی طرح پتہ ہے کہ ایک ایسی طاقت ہے جو سب طاقتوں پر بھاری ہے اگر اسکی حمایت ہے تو پھر کوئی بھی وزیر اعظم عمران خان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ہے ، اور یہ بھی دکھائے گا کہ اعتماد میں اتنے ووٹ پڑ جائینگے جتنے کے وزیراعظم بننے کے وقت بھی نہیں پڑے گے ۔ اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں جو دلوں کے حال خوب جانتا ہے کہ ملک کو اب ایسے کسی بحران کی نظر نہیں کیجئے گا کہ جس کا ملک محتمل نہیں ہوسکتا بیشک آپ بہترین اسباب پیدا کرنے والے ہیں ۔ دنیا میں آج پاکستان کی جتنی گردان ہے شائد ہی پاکستان کی تاریخ میں کبھی ہوئی ہو اور اسکی وجہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان ہیں جن کا خواب ہے کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست یعنی مدینہ کی طرز کی ریاست بنایا جائے اور اسکے لئے بہت ضروری ہے کہ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا جائے اور وقت کو وقت دیا جائے کہ وہ اس حقیقت کو ثابت کرے ، عمران خان ہی رہنما ہے جو پاکستان کی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ بحال کراسکتے ہیں ۔ یہاں ایسا بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ قدرت حالات و واقعات کو کسی دوسرے نظام کی طرف تو نہیں دھکیل رہی کہ کل صبح جب ہم اللہ کے حکم سے اٹھیں تو پتہ چلے کے پارلیمانی نظام کا بستر گول کردیا گیاہے اور ملک میں صدارتی نظام قائم کیا جاچکا ہے یا پھر اس سے پیشتر کسی قسم کی عارضی ہنگامی صورتحال نافذ ہے ۔ ملک اس وقت تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے اورآنے والا ہر دن پاکستان کیلئے اہم ترین دن ثابت ہونے والا ہے ۔

آج گھبرانے والوں کی ایک مختصر سی فہرست ہے جن پر عمران خان صاحب پر عدم اعتماد کیلئے ووٹ دینے کا بوجھ ڈالا جارہا ہے ، لگتا تو ایسا ہے کہ گنتی کے ووٹ عدم اعتماد میں ڈالیں جائینگے اور وہ گنتی کے ووٹ انگلیوں پر گنے جائینگے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پُورا خوابوں کا فٙسانہ نہیں ہوتا مُجھ سے
  • کس سَمت چل پڑی ہے خدائی میرے خدا
  • حجاب
  • اداروں کا احترام اور استحکام پاکستان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نظام مملکت اور موکلین
پچھلی پوسٹ
شیطان سے فرضی یا خیالی ملاقات!

متعلقہ پوسٹس

غمِ زندگی کا بھرم دیکھتے ہیں

نومبر 2, 2021

اُداسی دل میں بساۓ

اکتوبر 14, 2025

شعر شور انگیز

جولائی 7, 2026

شاعری کا ابتدائی سبق

مئی 21, 2024

صعوبتیں ہیں جو مجھ پر رواسمجھتی ہوں

ستمبر 19, 2020

پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی راہیں

دسمبر 11, 2025

سنبھالے گا ہمیں کیا غم ہمارا

جون 12, 2020

اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان

اپریل 17, 2026

وہ اضطراب کا منظر عجیب لگتا ہے

اکتوبر 24, 2025

تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا

جولائی 20, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

باباجی!

اکتوبر 14, 2020

اور بنسری بجتی رہی

جون 14, 2020

غموں کی دھوپ میں اِک سائبان...

اپریل 26, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں