خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےایک زاہدہ، ایک فاحشہ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 285 مناظر
286

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

جاوید مسعود سے میرا اتنا گہرا دوستانہ تھا کہ میں ایک قدم بھی اُس کی مرضی کے خلاف اُٹھا نہیں سکتا تھا۔ وہ مجھ پر نثار تھا میں اُس پر ہم ہر روز قریب قریب دس بارہ گھنٹے ساتھ ساتھ رہتے۔ وہ اپنے رشتے داروں سے خوش نہیں تھا اس لیے جب بھی وہ بات کرتا تو کبھی اپنے بڑے بھائی کی بُرائی کرتا اور کہتا سگ باش برادر خورد باش۔ اور کبھی کبھی گھنٹوں خاموش رہتا، جیسے خلاء میں دیکھ رہا ہے میں اُس کے اِن لمحات سے تنگ آ کر جب زور سے پکارتا

’’جاوید یہ کیا بے ہودگی ہے۔ ‘‘

وہ ایک دم چونکتااور معذرت کرتا اوہ۔ سعادت بھائی معاف کرنا۔ اچھا تو پھر کیا ہوا‘‘

وہ اُس وقت بالکل خالی الذہن ہوتا۔ میں کہتا

’’بھئی جاوید دیکھو۔ مجھے تمہارا یہ وقتاً فوقتاً معلوم نہیں کن گہرائیوں میں کھو جانا بالکل پسندنہیں۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے۔ ایک دن تم پاگل ہو جاؤ گے۔ یہ سُن کر جاوید بہت ہنسا

’’پاگل ہونا بہت مشکل ہے سعادت‘‘

لیکن آہستہ آہستہ اُس کا خلائیں دیکھنا بڑھتا گیا اور اُس کی خاموشی طویل سکوت میں تبدیل ہو گئی اور وہ پیاری سی مسکراہٹ جو اُس کے ہونٹوں پر ہر وقت کھیلتی رہتی تھی بالکل پھیکی پڑ گئی۔ میں نے ایک دن اُس سے پوچھا آخر بات کیا ہے تم ٹھہرے پانی بن گئے ہو۔ ہوا کیا ہے تمھیں؟۔ میں تمہارا دوست ہوں۔ خدا کے لیے مجھ سے تو اپنا راز نہ چھپاؤ۔ ‘‘

جاوید خاموش رہا۔ جب میں نے اُس کو بہت لعن طعن کی تو اُس نے اپنی زُبان کھولی۔

’’میں کالج سے فارغ ہو کر ڈیڑھ بجے کے قریب آؤں گا۔ اُس وقت تمھیں جو پوچھنا ہو گا بتا دوں گا۔ وعدے کے مطابق وہ ٹھیک ڈیڑھ بجے میرے یہاں آیا۔ وہ مجھ سے چار سال چھوٹا تھا۔ بے حد خوبصورت۔ اُس میں نسوانیت کی جھلک تھی۔ پڑھائی سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس لیے میں آوارہ گرد تھا لیکن وہ باقاعدگی کے ساتھ تعلیم حاصل کررہا تھا۔ میں اس کو اپنے کمرے میں لے گیا جب میں نے اُس کو سگریٹ پیش کیا تو اس نے مجھ سے کہا

’’تم میرے روگ کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں روگ ہے یا سوگ، بہر حال تم نارمل حالت میں نہیں ہو۔ تمھیں کوئی نہ کوئی تکلیف ضرور ہے‘‘

وہ مسکرایا،

’’ہے۔ اس لیے کہ مجھے ایک لڑکی سے محبت ہو گئی ہے‘‘

محبت!۔ میں بوکھلا گیا۔ جاوید کی عمر بمشکل اٹھار برس کی ہو گی۔ خود ایک خوبرو لڑکی کے مانند اُس کو کس لڑکی سے محبت ہوسکتی ہے، یا ہو گئی ہے، وہ تو کنواری لڑکیوں سے کہیں زیادہ شرمیلا اور لچکیلا تھا۔ وہ مجھے سے باتیں کرتا، تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ وہ ایک دہقانی دوشیزہ ہے جس نے پہلی دفعہ کوئی عشقیہ فلم دیکھا ہے۔ آج وہی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ مجھے ایک لڑکی سے محبت ہو گئی ہے۔ میں نے پہلے سمجھا شاید مذاق کر رہا ہے مگر اس کا چہرہ بہت سنجیدہ تھا۔ ایسا لگتا تھا کر فکر کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ آخر میں نے پوچھا، کس لڑکی سے محبت ہو گئی ہے تمھیں؟‘‘

اُس نے کوئی جھینپ محسوس نہ کی

’’ایک لڑکی ہے زاہدہ۔ ہمارے پڑوس میں رہتی ہے، بس اُس سے محبت ہو گئی ہے عمر سولہ برس کے قریب ہے بہت خوبصورت ہے اور بھولی بھالی۔ چوری چھپے اُس سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اُس نے میری محبت قبول کر لی ہے‘‘

میں نے اُس سے پوچھا

’’تو پھر اس اُداسی کا مطلب کیا ہے جو تم پر ہر وقت چھائی رہتی ہے‘‘

اُس نے مسکرا کر کہا

’’سعادت تم نے کبھی محبت کی ہو تو جانو۔ محبت اُداسی کا دوسرا نام ہے۔ ہر وقت آدمی کھویا کھویا سا رہتا ہے اُس لیے کہ اس کے دل و دماغ میں صرف خیالِ یار ہوتا ہے۔ میں نے زاہدہ سے تمہارا ذکر کیا اور اُس سے کہا کہ تمہارے بعد اگر کوئی ہستی مجھے عزیز ہے تو وہ میرا دوست سعادت ہے‘‘

’’یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

’’بس، میں نے کہہ دیا۔ اور زاہدہ نے بڑا اشتیاق ظاہر کیا کہ میں تمھیں اُس سے ملاؤں۔ اُسے میری وہ چیز پسند ہے جسے میں پسند کرتا ہوں۔ بولو، چلو گے اپنی بھابی کو دیکھنے‘‘

میری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ اس سے کیا کہوں اُس کے پتلے پتلے نازک ہونٹوں پر لفظ بھابی سجتا نہیں تھا۔

’’میری بات کا جواب دو‘‘

میں نے سرسری طور پر کہہ دیا چلیں گے۔ ضرور چلیں گے۔ پر کہاں؟‘‘

’’اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ کل وہ شام کو پانچ بجے کسی بہانے سے لارنس گارڈن آئے گی۔ آپ اپنے پیارے دوست کو ضرور ساتھ لائیے گا۔ اب تم کل تیار رہنا۔ بلکہ خود ہی پانچ بجے سے پہلے پہلے وہاں پہنچ جانا۔ ہم جم خانہ کلب کے اُس طرف لان میں تمہار اانتظار کرتے ہوں گے۔ ‘‘

میں انکار کیسے کرتا، اس لیے کہ مجھے جاوید سے بے حد پیار تھا میں نے وعدہ کر لیا لیکن مجھے اس پر کچھ ترس آرہا تھا میں نے اُس سے اچانک پوچھا

’’لڑکی شریف اور پاکباز ہے نا‘‘

جاوید کا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا۔ میں زاہدہ کے بارے میں ایسی باتیں سوچ سکتا ہوں نہ سُن سکتا ہوں۔ تمھیں اگر اُس سے ملنا ہے تو کل شام کو ٹھیک پانچ بجے لارنس گارڈن پہنچ جانا۔ خدا حافظ‘‘

جب وہ ایک دم اُٹھ کر چلا گیا تو میں نے سوچنا شروع کیا۔ مجھے بڑی ندامت محسوس ہوئی کہ میں نے کیوں اُس سے ایسا سوال کیا جس سے اُس کے جذبات مجروح ہوئے۔ آخر وہ اُس سے محبت کرتا تھا۔ اگر کوئی لڑکی کسی سے محبت کرے تو ضروری نہیں وہ بد کردار ہو۔ جاوید مجھے اپنا مخلص ترین دوست یقین کرتا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ ناراضی کے باوجود مجھ سے برہم نہ ہوا اور مجھ کو جاتے ہوئے کہہ گیا کہ وہ شام کو لارنس گارڈن آئے۔ میں سوچتا تھا کہ زاہدہ سے مل کر میں اُس سے کس قسم کی باتیں کروں گا بے شمار باتیں میرے ذہن میں آئیں لیکن وہ اس قابل نہیں تھیں کہ کسی دوست کی محبوبہ سے کی جائیں میرے متعلق خدا معلوم وہ اس سے کیا کچھ کہہ چکا تھا۔ یقیناًاُس نے مجھ سے اپنی محبت کا اظہار بڑے والہانہ طور پر کیا ہو گا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زاہدہ کے دل میں میری طرف سے حسد پیدا ہو گیا ہو کیونکہ عورتیں اپنے عاشقوں کی محبت بٹتے نہیں دیکھ سکتیں۔ شاید میرا مذاق اڑنے کے لیے اس نے جاوید سے کہا ہو کہ تم مجھے اپنے پیارے دوست سے ضرور ملاؤ۔ بہر حال مجھے اپنے عزیز ترین دوست کی محبوبہ سے ملنا تھا۔ اُس تقریب پر میں نے سوچا، کوئی تحفہ تو لے جانا چاہیے۔ رات بھر غور کرتا رہا آخر ایک تحفہ سمجھ میں آیا کہ سونے کے ٹاپس ٹھیک رہیں گے انارکلی میں گیا تو سب دکانیں بند، معلوم ہوا کہ اتوار کی تعطیل ہے۔ لیکن ایک جوہری کی دکان کھلی تھی۔ اُس سے ٹاپس خریدے اور واپس گھر آیا۔ چار بجے تک شش و پنج میں مبتلا رہا کہ جاؤں یا نہ جاؤں۔ مجھے کچھ حجاب سا محسوس ہو رہا تھا۔ لڑکیوں سے بے تکلف باتیں کرنے کا میں عادی نہیں تھا، اس لیے مجھ پر گھبراہٹ کا عالم طاری تھا۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میں نے کچھ دیر سونا چاہا مگر کروٹیں بدلتا رہا ٹاپس میرے تکیے کے نیچے پڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ دو دہکتے ہوئے انگارے ہیں۔ اُٹھا۔ غسل کیا۔ اس کے بعد شیو۔ پھر نہایا اور کپڑے بدل کر بڑے کمرے میں کلاک کی ٹک ٹکٹ سننے لگا۔ تین بج چکے تھے۔ اخبار اُٹھایا۔ مگر اُس کی ایک خبر بھی نہ پڑھ سکا۔ عجب مصیبت تھی۔ عشق میرا دوست جاوید کر رہا تھا اور میں ایک قسم کا مجنوں بن گیا تھا۔ میرا بہترین سُوٹ رینکن کا سِلا ہوا میرے بدن پر تھا۔ رومال نیا۔ شو بھی نئے۔ میں نے یہ سنگھار اس لیے کیا تھا کہ جاوید نے جو تعریف کے پل زاہدہ کے سامنے باندھے ہیں کہیں ٹوٹ نہ جائیں۔ ساڑھے چار بجے میں اُٹھا اپنی ریلے کی سبز سائیکل لی اور آہستہ آہستہ لارنس گارڈن روانہ ہو گیا جم خانہ کلب کے اس طرف لان میں مجھے جاوید دکھائی دیا وہ اکیلا تھا اُس نے زور کا نعرہ بلند کیا میں جب سائیکل پر سے اُترا تو وہ میرے ساتھ چمٹ گیا، کہنے لگا

’’تم پہلے ہی پہنچ گئے بہت اچھا کیا۔ زاہدہ اب آتی ہی ہو گی۔ میں نے اُس سے کہا تھا کہ میں اپنی کار بھیج دُوں گا مگر وہ رضا مند نہ ہوئی۔ تانگے میں آئے گی۔ جاوید کے باپ کی ایک کار تھی۔ بے بی آسٹن، خدا معلوم کس صدی کا موڈل تھا زیادہ تر یہ جاوید ہی کے استعمال میں آتی تھی۔ لارنس گارڈن میں داخل ہوتے وقت یہ عجوبہ ءِ روزگار موٹر دیکھ لی تھی۔ میں نے اُس سے کہا

’’آؤ بیٹھ جائیں‘‘

لیکن وہ رضا مند نہ ہوا مجھ سے کہنے لگا

’’تم ایسا کرو۔ باہر گیٹ پر جاؤ۔ ایک تانگہ آئے گا جس میں ایک دبلی پتلی لڑکی سیاہ برقع پہنے ہو گی تم تانگے والے کو ٹھہرا لینا اور اُس سے کہنا جاوید کا دوست سعادت ہوں۔ اُس نے مجھے تمہارے استقبال کے لیے بھیجا ہے۔ ‘‘

نہیں جاوید۔ مجھ میں اتنی جرأت نہیں‘‘

’’لاحول ولا۔ جب تم نام بتا دو گے تو اُسے چوں کرنے کی بھی جرأت نہیں ہو گی۔ تمہاری جرأت کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ یار، زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جسے بعد میں یاد کر کے آدمی محظوظ ہوسکے۔ جب زاہدہ سے میری شادی ہو جائے گی تو ہم آج کے اس واقعے کو یاد کر کے خوب ہنسا کریں گے۔ جاؤ میرے بھائی۔ وہ بس اب آتی ہی ہو گی‘‘

میں جاوید کا کہنا کیسے موڑ سکتا تھا۔ بادل نخواستہ چلا گیا اور گیٹ سے کچھ دُور کھڑا رہ کر اُس تانگے کا انتظار کرنے لگا جس میں زاہدہ اکیلی کالے برقعے میں ہو۔ آدھے گھنٹے کے بعد ایک تانگہ اندر داخل ہوا جس میں ایک لڑکی کالے ریشمی برقعے میں ملبوس پچھلی نشست پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ میں جھینپتا، سمٹتا ڈرتا آگے بڑھا اور تانگے والے کو روکا اُس نے فوراً اپنا تانگہ روک لیا میں نے اُس سے کہا یہ سواری کہاں سے آئی ہے‘‘

تانگے والے نے ذرا سختی سے جواب دیا

’’تمھیں اس سے کیا مطلب۔ جاؤ اپنا کام کرو‘‘

برقع پوش لڑکی نے مہین سے آواز میں تانگے والے کو ڈانٹا

’’تم شریف آدمیوں سے بات کرنا بھی نہیں جانتے‘‘

پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئی آپ نے تانگہ کیوں روکا تھا جناب‘‘

میں ہلکا کے جواب دیا

’’جاوید۔ جاوید۔ میں جاوید کا دوست سعادت ہوں۔ آپ کا نام زاہدہ ہے نا۔ ‘‘

اُس نے بڑی نرمی سے جواب دیا جی ہاں!۔ میں آپ کے متعلق ان سے بہت سی باتیں سن چکی ہوں اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آپ سے اسی طرح ملوں اور دیکھوں کہ آپ مجھ سے کس طرح پیش آتی ہیں۔ وہ اُدھر جم خانہ کلب کے پاس گھاس کے تختے پر بیٹھا آپ کا انتظار کر رہا ہے‘‘

اُس نے اپنی نقاب اُٹھائی اچھی خاصی شکل صورت تھی مسکرا کر مجھ سے کہا

’’آپ اگلی نشست پر بیٹھ جائیے مجھے ایک ضروری کام ہے ابھی چند منٹوں میں لوٹ آئیں گے آپ کے دوست کو زیادہ دیر تک گھاس پر نہیں بیٹھنا پڑے گا۔ میں انکار نہیں کرسکتا تھا۔ اگلی نشست پر کوچوان کے ساتھ بیٹھ گیا تانگہ اسمبلی ہال کے پاس سے گزرا تو میں نے تانگے والے سے کہا

’’بھائی صاحب یہاں کوئی سگرٹ والے کی دُکان ہو تو ذرا دیر کے لیے ٹھہر جانا میرے سگریٹ ختم ہو گئے ہیں۔ ذرا آگے بڑھے تو سڑک پر ایک سگریٹ پان والا بیٹھا تھا۔ تانگے والے نے اپنا تانگہ روکا۔ میں اُترا۔ تو زاہدہ نے کہا آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں۔ یہ تانگے والا لے آئے گا۔ ‘‘

میں نے کہا

’’اس میں تکلیف کی کیا بات ہے

’’اور اُس پان سگریٹ والے کے پاس پہنچ گیا ایک ڈبیہ گولڈ فلیک کی لی ایک ماچس اور دو پان جب پانچ کے نوٹ سے باقی پیسے لے کر مڑا تو کوچوان میرے پیچھے کھڑا تھا اُس نے دبی زبان میں مجھ سے کہا حضور اس عورت سے بچ کے رہیے گا۔ ‘‘

میں بڑا حیران ہوا

’’کیوں؟‘‘

کوچوان نے بڑے وثوق سے کہا

’’فاحشہ ہے۔ اس کا کام ہی یہی ہے کہ شریف اور نوجوان لڑکوں کو پھانستی رہے۔ میرے تانگے میں اکثر بیٹھتی ہے۔ ‘‘

یہ سُن کر میرے اوسان خطا ہو گئے میں نے تانگے والے سے کہا

’’خدا کے لیے تم اسے وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے لائے ہو کہہ دینا کہ میں اس کے ساتھ جانا نہیں چاہتا اس لیے کہ میرا دوست وہاں لارنس گارڈن میں انتظار کررہا ہے‘‘

تانگے والا چلا گیا۔ معلوم نہیں اُس نے زاہدہ سے کیا کہا میں نے ایک دوسرا تانگہ لیا اور سیدھا لارنس گارڈن پہنچا، دیکھا جاوید ایک خوبصورت لڑکی سے محو گفتگو ہے۔ بڑی شرمیلی اور لجیلی تھی میں جب پاس آیا تو اُس نے فوراً اپنے دوپٹہ سے منہ چھپا لیا۔ جاوید نے بڑی خفگی آمیز لہجے میں مجھ سے کہا تم کہاں غارت ہو گئے تھے۔ تمہاری بھابی کب کی آئی بیٹھی ہیں۔ ‘‘

سمجھ میں نہ آیا کیا کہوں سخت بوکھلا گیا۔ اس بوکھلاہٹ میں یہ کہہ گیا

’’تو وہ کون تھیں جو مجھے تانگے میں ملیں؟‘‘

جاوید ہنسا مذاق نہ کرو مجھ سے۔ بیٹھ جاؤ اور اپنی بھابی سے باتیں کرو یہ تم سے ملنے کی بہت مشتاق تھیں۔ ‘‘

میں بیٹھ گیا اور کوئی سلیقے کی بات نہ کرسکا اس لیے کہ میرے دل و دماغ پر وہ لڑکی یا عورت مسلط ہو گئی تھی جس کے متعلق تانگے والے نے مجھے بڑے خلوص سے بتا دیا تھا کہ فاحشہ ہے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نقرئی لومڑی
  • مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں
  • رشتہ ایسا ہونا چاہیے
  • ایک پھول کم پڑ جائے گا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
پچھلی پوسٹ
بُڈّھا کھوسٹ

متعلقہ پوسٹس

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

نومبر 23, 2019

بسم اللہ ۔۔۔اللہ اکبر

دسمبر 16, 2019

شوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے؟

اگست 28, 2022

پنجاب اُجڑ گیا

اگست 31, 2025

عمران خان کا فاشسٹ رویہ

ستمبر 11, 2022

دودھ کی قیمت

اگست 10, 2018

صرف ایک آواز

مئی 10, 2019

اردو غزل کی روایت اور اقبال

مئی 27, 2024

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 2, 2012

پریشے کا مقدر

اگست 7, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اردو افسانہ ” دشا  "مصنف نظیر...

فروری 11, 2022

نوجوان نسل اور روشن مستقبل

مارچ 9, 2026

مچھر

دسمبر 15, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں