خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریربےنظیر
اردو تحاریراردو کالمززاہدہ حنا

بےنظیر

ایک اردو کالم از زاہدہ حنا

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019 0 تبصرے 351 مناظر
352

بےنظیر

یہ سطریں 27 دسمبر کو لکھی جا رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹوکو ہم سے رخصت ہوئے بارہ برس گزرگئے۔ یقین نہیں آتا کہ وہ مسحورکن اورکرشماتی شخصیت ہمارے درمیان نہیں۔ آج ان کا چہیتا بیٹا بلاول اس باغ میں گیا، جہاں ظالموں نے اس کی ماں کو قتل کر دیا تھا۔

وہ 2 مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم رہ چکی تھیں لیکن اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران وہ ان امیدوں کو پورا نہیں کرسکیں، اس لیے بہت سے لوگ ان سے ناراض بھی تھے۔ اس کے باوجود ان کی شہادت کا غم لوگوں نے بھرپور انداز میں منایا۔ آج شہادت کے بارہ برس بعد بھی ان کی نا وقت رخصت کا غم بہت سے دلوں میں زندہ ہے۔

ایسی ہی ایک خاتون یشار سیمان ہیں۔ ترک نژاد یشار ترکی میں جمہوریت اور عورتوں کے حقوق کے لیے لڑنے والوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ اپنے والد کے وسیلے سے بے نظیر بھٹوکی شخصیت سے متعارف ہوئیں، اس کے بعد سے وہ ان کے بارے میں کتابیں پڑھتی رہیں، ان کی تقریریں سنتی رہیںbenazir bhutto اور ان کے انٹرویو بہت دلچسپی سے دیکھتی رہیں، پھر جب بے نظیر بھٹو ایک سورما کی طرح اس دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو یشار تہیہ کرتی ہیں کہ وہ بے نظیرکی زندگی پر ایک ناول لکھیں گی۔

یشار اپنی بات سترہویں صدی میں سندھ کے ایک گاؤں مائی کلاچی سے شروع کرتی ہیں اورپھر بے نظیر کے ذکر تک آتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں :

” آپ پر اورآپ کی تحریروں پر، آپ کے پاکستانی باپ اور ایرانی کرد ماں کی چھاپ دیکھنا آسان ہے۔ آپ کی تحریروں سے مغربی ثقافت کا علم بھی عیاں ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کی تحریر میں ایک غم زدہ اور اداس زندگی کے بوجھ کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ پہلے آپ نے اپنے والد کو کھویا، پھر اپنے بھائیوں کی موت کا غم برداشت کیا۔ ایک یتیم اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نوجوان لڑکی، آپ نے یکسوئی اور پرعزم طریقے سے، یقین کامل کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

صحافی لورنس گورے نے اپنی کتاب میں آپ کی شخصیت کے ان پہلوؤں پر بات کی ہے۔ پہلے جلوس میں آپ کی تقریر سن کر اس کی تعریف کی۔ اس نے آپ کے محتاط برتاؤ، آپ کے دفترکے نقلی پھولوں اور لوگوں کے آپ کا گرویدہ ہوجانے کے بارے میں بھی لکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ایک مغربی عورت ہونے کے ناتے لورنس گورے آپ سے پرامید تھی کہ آپ پاکستانی عورتوں کا طرز زندگی اور ان کی حالت بدل دیں گی۔ لورنس گورے نے آپ کی خوبصورتی اور ملبوسات کی طرف زیادہ دھیان دیا جب وہ پہلی بار آپ کا انٹرویو لینے پہنچی تو اس نے بھی پاکستانی عورتوں جیسا لباس، شلوار قمیص پہننے کا فیصلہ کیا۔

یشار ذوالفقارعلی بھٹوکے اس خط کا ذکرکرتی ہیں جو انھوں نے بے نظیرکو لکھا تھا کہ ” میں یہ سوچ کر ایک عجیب سی خوشی محسوس کررہا ہوں کہ تم آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان ہی جگہوں پر چل پھر رہی ہوگی جہاں میں آج سے بائیس برس پہلے گھوما پھرا کرتا تھا۔ مجھے تمہارے ریڈ کلف میں قیام کی بھی بہت خوشی تھی۔ لیکن چونکہ میں نے ہاورڈ میں تعلیم حاصل نہیں کی، اس لیے میں وہاں کی منظر کشی نہیں کرسکتا، لیکن یہاں پر میں تمہاری موجودگی کو ایسے محسوس کرسکتا ہوں جیسے میں خود وہاں موجود ہوں۔

وہاں ہر راہداری میں، پتھریلی سیڑھیوں پر اور آکسفورڈ کی گلیوں میں جہاں بھی تم جاتی ہوگی، میں تمہیں دیکھ سکتاہوں۔ آکسفورڈ میں تمہارے داخلے سے جیسے میرا ایک خواب پورا ہوگیا۔ میری دعا ہے اور میری خواہش ہے کہ یہ خواب حقیقت کا روپ دھار لے اور تمہارے لیے ایک درخشندہ اور تابناک مستقبل کا موجب بنے تاکہ تم اپنی عوام کی خدمت کرسکو۔”

بے نظیر کو اس بات کا اندازہ تھا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ناخواندہ لوگوں کی اکثریت ہے اور ان کا دل جیتنے کے لیے فن خطابت میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے بے نظیر نے فنِ خطابت میں مہارت حاصل کی تاکہ وہ کسی اخبار یا کتاب کے نہیں، براہِ راست اپنے کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کے دل تک پہنچ سکیں۔ یشارکو بے نظیر بھٹو کا حسن بہت متاثرکرتا تھا۔

وہ ترقی پذیر ملکوں کے بارے میں لکھتی ہیں۔

"تمام ممالک جہاں فوجی جرنیل حکومت سنبھالتے ہیں، وہاں سب سے پہلے جن چیزوں کا اعلان کیا جاتاہے وہ اصلاحات اور ایسی تبدیلیاں ہوتی ہیں جن کا عوام اور ملک کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔ یہ بیانات طویل مدتی نہیں ہوتے، ان کی اہمیت جلد ختم ہو جاتی ہے، انتقام کے بادل جلد منڈلاتے ہیں، نفرت محبت کو ڈبو دیتی ہے اور گلیوں میں خون بکھرا نظر آتا ہے۔ اس اثنا میں اس فوجی بغاوت کی حمایت اور سپورٹ کی تیاری کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے عوامی رہنماؤں کو پھانسی دی جاتی ہے۔

اس دوران سیکڑوں شہری ریاستی تشدد کا شکار ہوتے ہیں اور ہلاک کر دیے جاتے ہیں یا مستقل طور پر اپاہج ہوجاتے ہیں۔ صرف جسمانی تکالیف ہی نہیں دی جاتیں بلکہ انھیں گرفتاریوں، نظر بندیوں، قید اور جلاوطنی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیلیں قلیل مدت میں ہی بھر جاتی ہیں، یہاں تک کہ نعرے بازی کے جرم میں گونگے اور بہرے بھی دھرلیے جاتے ہیں۔ آوازیں مرتی ہیں، زندگیاں خاموش کر دی جاتی ہیں اور دوسرے ممالک اپنی زبانیں بند کرلیتے ہیں صرف جنرل بولتے ہیں یا پھر پیسہ۔”

یشار کو بے نظیر بھٹوکے بارے میں لکھتے ہوئے Gone with the Wind کی ہیروئن اسکارلٹ اوہارا اور اس کا آبائی گھر Tara یاد آتا ہے۔ یشار نے لکھا کہ بے نظیرکے لیے سب سے پرمسرت وقت وہ تھا جب وہ "المرتضیٰ” میں گلابوں اور دوسرے پودوں کی چھاؤں میں وقت گزارتیں۔

"زیادہ فوارے، زیادہ پانی۔ میں آنگن سے پتوں کو جھاڑ دیتی اور لان کی صفائی کرتی، یہاں تک کہ میرے بازو دکھنے لگتے، میری ہتھلیاں مٹی سے اٹ جاتیں اورچھالے پڑجاتے۔” تم اپنے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو؟” میں دوپہر تک بالکل تھک جاتی تو میری والدہ مجھ سے پوچھتیں۔ کرنے کو یہی کچھ ہے۔ میں انکو بتاتی ہوں لیکن اور بھی کچھ ہے۔ اگر میں اتنا کام کروں کہ میرے جسم کی ہر عضو تھک جائے تو مجھ میں کچھ سوچنے کی سکت نہیں رہتی اور میں مارشل لاء میں ضایع ہوتی اپنی زندگیوں کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی۔

میں نے ایک نئی کیاری کھو دی اور گلاب کی قلمیں لگائیں لیکن وہ بچ نہ پائیں۔ میری والدہ، توری، پودینہ اور مرچیں اگانے میں زیادہ کامیاب ہیں۔ شام کو میں سدھائے ہوئے سارس کے جوڑے کو سیٹی مارتی ہوں اورجب وہ اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے روٹی کا کوئی ٹکڑا لینے کے لیے میری طرف لپکتے ہیں۔ کسی جانور کو بلانا اور اس کا لپک کر آنا اور کسی چیزکی کاشت کرنا اوران کا اگنا ناگزیر بن جاتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں زندہ ہوں۔”

وہ بے نظیر بھٹو کے چہرے کی پلاسٹک سرجری کا بھی ذکرکرتی ہیں اور ان کی آصف زرداری سے شادی کو تفصیل سے بیان کرتی ہیں۔

یشار انھیں خواب میں دیکھتی ہیں اور ان سے وہ سوالات کرتی ہیں جو پاکستانی خواتین کے حقوق سے متعلق ہیں لیکن جب وہ لمحہ آتا ہے کہ بینظیر ان سوالوں کا جواب دیں، یشار کی آنکھ کھل جاتی ہے اور جواب کی تشنگی یشار کو مضطرب رکھتی ہے۔ کردوں سے تعلق رکھنے والی نصرت بھٹو کو بھی بہت محبت سے یادکیا ہے اور جب وہ الزائمر میں گرفتار ہوئیں، اس کا بھی یشار نے دکھ اور درد کے ساتھ ذکرکیا ہے۔

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ یشار اپنے ناول ” بے نظیر” میں کئی جگہ پروین شاکرکی نظموں کا حوالہ دیتی ہیں ان میں سے ایک "بشیرے کی ماں ” ہے اور دوسری جابر حاکم کے بارے میں ہے۔

"جابر حاکم کے دل جیسا / تنگ سیاہ پہاڑ /مظلوموں کی آنکھیں جیسا / ہر پتھر کا سینہ / ہوا چلی اور جاگ اٹھا /کوئی زخم پرانا / ٹھیس لگی اور پھوٹ بہا /گرم، روپہلا چشمہ”

یشار کی تحریریں ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ بے نظیر پر فریفتہ تھیں اور ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستانی عورتوں اور دنیا کے دوسرے مسلم ملکوں کی عورتوں کی تقدیر بدل سکتی ہیں لیکن جب بے نظیر کو قتل کردیا گیا تو انھوں نے ایک ترک شاعر بیرسل کی نظم کے ٹکڑے سے اپنی بات آغاز کی۔

” سر چشمہ حیات آب، کیا ایذا رساں ہوگیا؟/ اے اداس، غم زدہ پاکستان!/خزاں سے پہلے تمہاری زندگیاں خزاں رسیدہ ہوئیں / تمہاری امیدیں غرق ہوگئیں، پاکستان!”

میں بہ چشم نم پاکستان سے رخصت ہوئی، میرے قلب میں وہ دن نقش ہوگیا۔ جب اس عظیم خاتون کو شہید کردیا گیا جو برسوں سے میری مرکز نگاہ تھیں۔ میں ان کی موت پر بے حد غم زدہ تھی اور میں نے اپنے مضمون میں لکھا، ” ایک جلاوطنی کے بعد وہ وزیر اعظم بنیں اور دوسری جلا وطنی کے بعد وہ قتل کر دی گئیں۔ خواتین کی مشرق پر حکومت کرنے کی امیدیں کب بار آور ہوں گی؟”

اس مرگ کے بعد میرا پاکستان سے دل اٹھ گیا کیوں کہ اس ملک کے نام کے ساتھ بے نظیر کی یاد جڑی تھی اور میرا دل مزید اس وقت ٹوٹاجب یہاں ہر طرف بموں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے اس ملک کو اپنے ذہن کے کسی گوشے میں دھکیل دیا۔

دوسری طرف، ترک شہروں میں جب بھی قتل عام اورکرب انگیز واقعات ہوئے، میں نے ہمیشہ ان کا دفاع ہی کیا اورکبھی الزام نہیں دیا۔ لیکن اب میں پورے ملک سے دلبرداشتہ تھی۔

یہ ناول ترکی زبان میں لکھا گیا۔ سلین بوجاک نے اسے انگریزی میں ترجمہ کیا اور حمنہ ملک نے اسے اردو میں منتقل کیا۔ یوں تین مختلف زبانوں کے پل پر چلتے ہوئے یہ ہم تک پہنچا۔ ہم فرخ سہیل گویندی اور ان کی جمہوری پبلیکشنزکے ممنون ہیں جس کی وجہ سے ” بے نظیر ” کے بارے میں ایک سوانحی اور تخلیقی ناول ہم تک پہنچا۔

زاہدہ حنا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خدمتِ خلق
  • قدیم ترین عشقیہ گیت
  • ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی تصویر
  • میرا نام رادھا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟
پچھلی پوسٹ
سلیپنگ ود اینیمی

متعلقہ پوسٹس

ستاروں سے آگے

دسمبر 29, 2019

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

دسمبر 3, 2020

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 2, 2012

زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ

نومبر 23, 2019

سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے روشن راستہ

اگست 30, 2025

ماں جی

اکتوبر 30, 2019

میجر سبطین حیدر

اکتوبر 11, 2025

آہ! اب تو خون کی آتی ہے بُو کشمیر میں

فروری 4, 2020

جب شیطان ناکام ہوتا ہے

نومبر 20, 2024

خسارے کی اجازت

اکتوبر 24, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019

کھلا خط

دسمبر 31, 2025

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں...

جنوری 29, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں