خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریربےنظیر
اردو تحاریراردو کالمززاہدہ حنا

بےنظیر

ایک اردو کالم از زاہدہ حنا

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2019 0 تبصرے 306 مناظر
307

بےنظیر

یہ سطریں 27 دسمبر کو لکھی جا رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹوکو ہم سے رخصت ہوئے بارہ برس گزرگئے۔ یقین نہیں آتا کہ وہ مسحورکن اورکرشماتی شخصیت ہمارے درمیان نہیں۔ آج ان کا چہیتا بیٹا بلاول اس باغ میں گیا، جہاں ظالموں نے اس کی ماں کو قتل کر دیا تھا۔

وہ 2 مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم رہ چکی تھیں لیکن اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران وہ ان امیدوں کو پورا نہیں کرسکیں، اس لیے بہت سے لوگ ان سے ناراض بھی تھے۔ اس کے باوجود ان کی شہادت کا غم لوگوں نے بھرپور انداز میں منایا۔ آج شہادت کے بارہ برس بعد بھی ان کی نا وقت رخصت کا غم بہت سے دلوں میں زندہ ہے۔

ایسی ہی ایک خاتون یشار سیمان ہیں۔ ترک نژاد یشار ترکی میں جمہوریت اور عورتوں کے حقوق کے لیے لڑنے والوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔ وہ اپنے والد کے وسیلے سے بے نظیر بھٹوکی شخصیت سے متعارف ہوئیں، اس کے بعد سے وہ ان کے بارے میں کتابیں پڑھتی رہیں، ان کی تقریریں سنتی رہیںbenazir bhutto اور ان کے انٹرویو بہت دلچسپی سے دیکھتی رہیں، پھر جب بے نظیر بھٹو ایک سورما کی طرح اس دنیا سے رخصت ہوتی ہیں تو یشار تہیہ کرتی ہیں کہ وہ بے نظیرکی زندگی پر ایک ناول لکھیں گی۔

یشار اپنی بات سترہویں صدی میں سندھ کے ایک گاؤں مائی کلاچی سے شروع کرتی ہیں اورپھر بے نظیر کے ذکر تک آتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں :

” آپ پر اورآپ کی تحریروں پر، آپ کے پاکستانی باپ اور ایرانی کرد ماں کی چھاپ دیکھنا آسان ہے۔ آپ کی تحریروں سے مغربی ثقافت کا علم بھی عیاں ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کی تحریر میں ایک غم زدہ اور اداس زندگی کے بوجھ کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ پہلے آپ نے اپنے والد کو کھویا، پھر اپنے بھائیوں کی موت کا غم برداشت کیا۔ ایک یتیم اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار نوجوان لڑکی، آپ نے یکسوئی اور پرعزم طریقے سے، یقین کامل کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

صحافی لورنس گورے نے اپنی کتاب میں آپ کی شخصیت کے ان پہلوؤں پر بات کی ہے۔ پہلے جلوس میں آپ کی تقریر سن کر اس کی تعریف کی۔ اس نے آپ کے محتاط برتاؤ، آپ کے دفترکے نقلی پھولوں اور لوگوں کے آپ کا گرویدہ ہوجانے کے بارے میں بھی لکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ایک مغربی عورت ہونے کے ناتے لورنس گورے آپ سے پرامید تھی کہ آپ پاکستانی عورتوں کا طرز زندگی اور ان کی حالت بدل دیں گی۔ لورنس گورے نے آپ کی خوبصورتی اور ملبوسات کی طرف زیادہ دھیان دیا جب وہ پہلی بار آپ کا انٹرویو لینے پہنچی تو اس نے بھی پاکستانی عورتوں جیسا لباس، شلوار قمیص پہننے کا فیصلہ کیا۔

یشار ذوالفقارعلی بھٹوکے اس خط کا ذکرکرتی ہیں جو انھوں نے بے نظیرکو لکھا تھا کہ ” میں یہ سوچ کر ایک عجیب سی خوشی محسوس کررہا ہوں کہ تم آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان ہی جگہوں پر چل پھر رہی ہوگی جہاں میں آج سے بائیس برس پہلے گھوما پھرا کرتا تھا۔ مجھے تمہارے ریڈ کلف میں قیام کی بھی بہت خوشی تھی۔ لیکن چونکہ میں نے ہاورڈ میں تعلیم حاصل نہیں کی، اس لیے میں وہاں کی منظر کشی نہیں کرسکتا، لیکن یہاں پر میں تمہاری موجودگی کو ایسے محسوس کرسکتا ہوں جیسے میں خود وہاں موجود ہوں۔

وہاں ہر راہداری میں، پتھریلی سیڑھیوں پر اور آکسفورڈ کی گلیوں میں جہاں بھی تم جاتی ہوگی، میں تمہیں دیکھ سکتاہوں۔ آکسفورڈ میں تمہارے داخلے سے جیسے میرا ایک خواب پورا ہوگیا۔ میری دعا ہے اور میری خواہش ہے کہ یہ خواب حقیقت کا روپ دھار لے اور تمہارے لیے ایک درخشندہ اور تابناک مستقبل کا موجب بنے تاکہ تم اپنی عوام کی خدمت کرسکو۔”

بے نظیر کو اس بات کا اندازہ تھا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ناخواندہ لوگوں کی اکثریت ہے اور ان کا دل جیتنے کے لیے فن خطابت میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے بے نظیر نے فنِ خطابت میں مہارت حاصل کی تاکہ وہ کسی اخبار یا کتاب کے نہیں، براہِ راست اپنے کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کے دل تک پہنچ سکیں۔ یشارکو بے نظیر بھٹو کا حسن بہت متاثرکرتا تھا۔

وہ ترقی پذیر ملکوں کے بارے میں لکھتی ہیں۔

"تمام ممالک جہاں فوجی جرنیل حکومت سنبھالتے ہیں، وہاں سب سے پہلے جن چیزوں کا اعلان کیا جاتاہے وہ اصلاحات اور ایسی تبدیلیاں ہوتی ہیں جن کا عوام اور ملک کو براہ راست فائدہ پہنچ سکے۔ یہ بیانات طویل مدتی نہیں ہوتے، ان کی اہمیت جلد ختم ہو جاتی ہے، انتقام کے بادل جلد منڈلاتے ہیں، نفرت محبت کو ڈبو دیتی ہے اور گلیوں میں خون بکھرا نظر آتا ہے۔ اس اثنا میں اس فوجی بغاوت کی حمایت اور سپورٹ کی تیاری کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے عوامی رہنماؤں کو پھانسی دی جاتی ہے۔

اس دوران سیکڑوں شہری ریاستی تشدد کا شکار ہوتے ہیں اور ہلاک کر دیے جاتے ہیں یا مستقل طور پر اپاہج ہوجاتے ہیں۔ صرف جسمانی تکالیف ہی نہیں دی جاتیں بلکہ انھیں گرفتاریوں، نظر بندیوں، قید اور جلاوطنی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیلیں قلیل مدت میں ہی بھر جاتی ہیں، یہاں تک کہ نعرے بازی کے جرم میں گونگے اور بہرے بھی دھرلیے جاتے ہیں۔ آوازیں مرتی ہیں، زندگیاں خاموش کر دی جاتی ہیں اور دوسرے ممالک اپنی زبانیں بند کرلیتے ہیں صرف جنرل بولتے ہیں یا پھر پیسہ۔”

یشار کو بے نظیر بھٹوکے بارے میں لکھتے ہوئے Gone with the Wind کی ہیروئن اسکارلٹ اوہارا اور اس کا آبائی گھر Tara یاد آتا ہے۔ یشار نے لکھا کہ بے نظیرکے لیے سب سے پرمسرت وقت وہ تھا جب وہ "المرتضیٰ” میں گلابوں اور دوسرے پودوں کی چھاؤں میں وقت گزارتیں۔

"زیادہ فوارے، زیادہ پانی۔ میں آنگن سے پتوں کو جھاڑ دیتی اور لان کی صفائی کرتی، یہاں تک کہ میرے بازو دکھنے لگتے، میری ہتھلیاں مٹی سے اٹ جاتیں اورچھالے پڑجاتے۔” تم اپنے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو؟” میں دوپہر تک بالکل تھک جاتی تو میری والدہ مجھ سے پوچھتیں۔ کرنے کو یہی کچھ ہے۔ میں انکو بتاتی ہوں لیکن اور بھی کچھ ہے۔ اگر میں اتنا کام کروں کہ میرے جسم کی ہر عضو تھک جائے تو مجھ میں کچھ سوچنے کی سکت نہیں رہتی اور میں مارشل لاء میں ضایع ہوتی اپنی زندگیوں کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی۔

میں نے ایک نئی کیاری کھو دی اور گلاب کی قلمیں لگائیں لیکن وہ بچ نہ پائیں۔ میری والدہ، توری، پودینہ اور مرچیں اگانے میں زیادہ کامیاب ہیں۔ شام کو میں سدھائے ہوئے سارس کے جوڑے کو سیٹی مارتی ہوں اورجب وہ اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہوئے روٹی کا کوئی ٹکڑا لینے کے لیے میری طرف لپکتے ہیں۔ کسی جانور کو بلانا اور اس کا لپک کر آنا اور کسی چیزکی کاشت کرنا اوران کا اگنا ناگزیر بن جاتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں زندہ ہوں۔”

وہ بے نظیر بھٹو کے چہرے کی پلاسٹک سرجری کا بھی ذکرکرتی ہیں اور ان کی آصف زرداری سے شادی کو تفصیل سے بیان کرتی ہیں۔

یشار انھیں خواب میں دیکھتی ہیں اور ان سے وہ سوالات کرتی ہیں جو پاکستانی خواتین کے حقوق سے متعلق ہیں لیکن جب وہ لمحہ آتا ہے کہ بینظیر ان سوالوں کا جواب دیں، یشار کی آنکھ کھل جاتی ہے اور جواب کی تشنگی یشار کو مضطرب رکھتی ہے۔ کردوں سے تعلق رکھنے والی نصرت بھٹو کو بھی بہت محبت سے یادکیا ہے اور جب وہ الزائمر میں گرفتار ہوئیں، اس کا بھی یشار نے دکھ اور درد کے ساتھ ذکرکیا ہے۔

یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ یشار اپنے ناول ” بے نظیر” میں کئی جگہ پروین شاکرکی نظموں کا حوالہ دیتی ہیں ان میں سے ایک "بشیرے کی ماں ” ہے اور دوسری جابر حاکم کے بارے میں ہے۔

"جابر حاکم کے دل جیسا / تنگ سیاہ پہاڑ /مظلوموں کی آنکھیں جیسا / ہر پتھر کا سینہ / ہوا چلی اور جاگ اٹھا /کوئی زخم پرانا / ٹھیس لگی اور پھوٹ بہا /گرم، روپہلا چشمہ”

یشار کی تحریریں ہمیں بتاتی ہیں کہ وہ بے نظیر پر فریفتہ تھیں اور ان کا خیال تھا کہ وہ پاکستانی عورتوں اور دنیا کے دوسرے مسلم ملکوں کی عورتوں کی تقدیر بدل سکتی ہیں لیکن جب بے نظیر کو قتل کردیا گیا تو انھوں نے ایک ترک شاعر بیرسل کی نظم کے ٹکڑے سے اپنی بات آغاز کی۔

” سر چشمہ حیات آب، کیا ایذا رساں ہوگیا؟/ اے اداس، غم زدہ پاکستان!/خزاں سے پہلے تمہاری زندگیاں خزاں رسیدہ ہوئیں / تمہاری امیدیں غرق ہوگئیں، پاکستان!”

میں بہ چشم نم پاکستان سے رخصت ہوئی، میرے قلب میں وہ دن نقش ہوگیا۔ جب اس عظیم خاتون کو شہید کردیا گیا جو برسوں سے میری مرکز نگاہ تھیں۔ میں ان کی موت پر بے حد غم زدہ تھی اور میں نے اپنے مضمون میں لکھا، ” ایک جلاوطنی کے بعد وہ وزیر اعظم بنیں اور دوسری جلا وطنی کے بعد وہ قتل کر دی گئیں۔ خواتین کی مشرق پر حکومت کرنے کی امیدیں کب بار آور ہوں گی؟”

اس مرگ کے بعد میرا پاکستان سے دل اٹھ گیا کیوں کہ اس ملک کے نام کے ساتھ بے نظیر کی یاد جڑی تھی اور میرا دل مزید اس وقت ٹوٹاجب یہاں ہر طرف بموں اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے اس ملک کو اپنے ذہن کے کسی گوشے میں دھکیل دیا۔

دوسری طرف، ترک شہروں میں جب بھی قتل عام اورکرب انگیز واقعات ہوئے، میں نے ہمیشہ ان کا دفاع ہی کیا اورکبھی الزام نہیں دیا۔ لیکن اب میں پورے ملک سے دلبرداشتہ تھی۔

یہ ناول ترکی زبان میں لکھا گیا۔ سلین بوجاک نے اسے انگریزی میں ترجمہ کیا اور حمنہ ملک نے اسے اردو میں منتقل کیا۔ یوں تین مختلف زبانوں کے پل پر چلتے ہوئے یہ ہم تک پہنچا۔ ہم فرخ سہیل گویندی اور ان کی جمہوری پبلیکشنزکے ممنون ہیں جس کی وجہ سے ” بے نظیر ” کے بارے میں ایک سوانحی اور تخلیقی ناول ہم تک پہنچا۔

زاہدہ حنا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دیساں دا راجا، میرے بابل دا پیارا
  • انسان کے اندر مثبت و منفی قوتیں
  • احساس محرومی
  • دیدۂ یعقوب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے؟
پچھلی پوسٹ
سلیپنگ ود اینیمی

متعلقہ پوسٹس

تین موٹی عورتیں

دسمبر 7, 2019

فطرت کے دامن میں خاموش جذبات

نومبر 24, 2024

قسط وار ناول بہرام: دوسری قسط

اگست 7, 2022

سینما کا عشق

دسمبر 12, 2019

نیکی و امانت

اگست 12, 2025

کے۔ٹو کتنا ضدی ہے؟؟

دسمبر 25, 2024

سلام کرنے کی فضیلت

اکتوبر 6, 2024

بڑھتی ہوئی ویڈیو گرافی

نومبر 19, 2025

دنیا کا سب سے انمول رتن

مارچ 13, 2020

شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

اپریل 24, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بے اختیار، بے بس،مجبور

مئی 4, 2020

میر واہ کی راتیں 

فروری 17, 2020

آہ بیکس

مارچ 10, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں