خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراب اور تب
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرپطرس بخاری

اب اور تب

پطرس بخاری کی ایک اردو مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2020 0 تبصرے 425 مناظر
426

اب اور تب

جب مرض بہت پرانا ہو جائے اور صحت یابی کی کوئی امید باقی نہ رہے تو زندگی کی تمام مسرتیں محدود ہو کر بس یہیں تک رہ جاتی ہیں کہ چارپائی کے سرہانے میز پر جو انگور کا خوشا رکھا ہے اس کے چند دانے کھا لئے ، مہینے دو مہینے کے بعد کوٹھے پر غسل کر لیا یا گاہے گاہے ناخن ترشوا لئے۔ مجھے کالج کا مرض لاحق ہوئے اب کئی برس ہو چکے ہیں۔ شباب کا رنگین زمانہ امتحانوں میں جوابات لکھتے لکھتے گزر گیا۔ اور اب زندگی کے جو دو چار دن باقی ہیں وہ سوالات مرتب کرتے کرتے گزر جائیں گے۔ ایم اے کا امتحان گویا مرض کا بحران تھا۔ یقین تھا کہ اس کے بعد یا مرض نہ رہے گا یا ہم نہ رہیں گے۔

سو مرض تو بدستور باقی ہے اور ہم… ہر چند کہیں کہ ہیں …نہیں ہیں۔ طالب علمی کا زمانہ بے فکری کا زمانہ تھا۔ نرم نرم گدیلوں پر گزرا ،گویا بستر عیش پر دراز تھا۔ اب تو صاحبِ فراش ہوں۔ اب عیش صرف اس قدر نصیب ہے کہ انگور کھا لیا۔ غسل کر لیا۔ ناخن ترشوا لئے۔ تمام تگ و دو لائبریری کے ایک کمرے اور اسٹاف کے ایک ڈربے تک محدود ہے اور دونوں کے عین درمیان کا ہر موڑ ایک کمین گاہ معلوم ہوتا ہے۔ کبھی راوی سے بہت دلچسپی تھی۔ روزانہ علی الصباح اس کی تلاوت کیا کرتا تھا اب اس کے ایڈیٹر صاحب سے ملتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ کہیں نہ کہیں سلام روستائی کھینچ ماریں گے۔ ہال میں سے گزرنا قیامت ہے۔ وہم کا یہ حال ہے کہ ہر ستون کے پیچھے ایک ایڈیٹر چھپا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کالج کے جلسوں میں اپنی دریدہ دہنی سے بہت ہنگامہ آرائیاں کیں۔ صدر جلسہ بننے سے ہمیشہ گھبرایا کرتا ہوں کہ یہ ’’دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ‘‘ والا معاملہ ہے۔ اب جب کبھی جلسہ کا سن پاتا ہوں ایک خنک سا ضعف بدن پر طاری ہو جاتا ہے۔ جانتا ہوں کہ کرسیِ صدارت کی سولی پر چڑھنا ہو گا اور سولی بھی ایسی کہ انا الحق کا نعرہ نہیں لگا سکتا۔ قاضی صاحب قبلہ نے اگلے دن کالج میں ایک مشاعرہ کیا۔ مجھ سے بدگمانی اتنی کہ مجھے اپنے عین مقابل ایک نمایاں اور بلند مقام پر بٹھا دیا اور میری ہر حرکت پر نگاہ رکھی۔ میرے اردگرد محفل گرم تھی اور میں اس میں کنچن چنگا کر طرح اپنی بلندی پر جما بیٹھا تھا۔ جس دن کالج میں تعطیل ہوا کرتی مجھ پر اداسی سی چھا جاتی۔ جانتا کہ آج کے دن تہمد پوش، تولیہ بردار، صابن نواز ہستیاں دن کے بارہ ایک بجے تک نظر آتی رہیں گی۔ دن بھر لوگ گنے چوس چوس کر جا بجا پھوگ کے ڈھیر لگا دیں گے۔ جو رفتہ رفتہ آثار صنادید کا سا مٹیالا رنگ اختیار کر لیں گے۔ جہاں کسی کو ایک کرسی اور اسٹول میسر آگیا وہیں کھانا منگوا لے گا اور کھانا کھا چکنے پر کوؤں اور چیلوں کی ایک بستی آباد کرتا جائے گا تاکہ دنیا میں نام برقرار رہے۔ اب یہ حال ہے کہ مہینوں سے چھٹی کی تاک میں رہتا ہوں۔

جانتا ہوں کہ اگر اس چھٹی کے دن بال نہ کٹوائے تو پھر بات گرمی تعطیلات پر جا پڑے گی۔ مرزا صاحب سے اپنی کتاب واپس نہ لایا تو وہ بلا تکلف ہضم کر جائیں گے۔ مچھلی کے شکار کو نہ گیا تو پھر عمر بھر زندہ مچھلی دیکھنی نصیب نہ ہو گی۔ اب تو دلچسپی کے لئے صرف یہ باتیں رہ گئی ہیں کہ فورتھ ائیر کی حاضری لگانے لگتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس دروازے کے پاس جو نوجوان سیاہ ٹوپی پہنے بیٹھے ہیں اور اس دروازے کے پاس جو نوجوان سفید پگڑی پہنے بیٹھے ہیں۔ حاضری ختم ہونے تک یہ دونوں جادو کی کرامات سے غائب ہو جائیں گے اور پھر ان میں سے ایک صاحب تو ہال میں نمودار ہوں گے اور دوسرے بھگت کی دکان میں دودھ پیتے دکھائی دیں گے۔ آج کل کے زمانے میں ایسی نظر بندی کا کھیل کم دیکھنے میں آتا ہے۔ یا صاحبِ کمال کے کرتب کا تماشا کرتا ہوں جو عین لیکچر کے دوران میں کھانستا کھانستا یک لخت اُٹھ کھڑا ہوتا ہے اور بیماروں کی طرح دروازے تک چل کر وہاں سے پھر ایسا بھاگتا ہے کہ پھر ہفتوں سراغ نہیں ملتا۔ یا ان اہل فن کی داد دیتا ہوں جو روزانہ دیر سے آتے ہیں اور یہ کہہ کر اپنی حاضری لگوا لیتے ہیں کہ صاحب غریب خانہ بہت دور ہے۔ جانتا ہوں کہ دولت خانہ ہاسٹل کی پہلی منزل پر ہے لیکن منہ سے کچھ نہیں کہتا۔ میری بات پر یقین انہیں بھلا کیسے آئے گا اور کبھی ایک دو منٹ کو فرصت نصیب ہو تو دل بہلانے کے لئے یہ سوال کافی ہے کہ ہال کی گھڑی مینار کی گھڑی سے تین منٹ پیچھے ہے۔ دفتر کی گھڑی ہال کی گھڑی سے سات منٹ آگے ہے۔ چپڑاسی نے صبح دوسری گھنٹی مینار کے گھڑیال سے پانچ منٹ پہلے بجائی اور تیسری گھنٹی ہال کی گھڑی سے نو منٹ پہلے تو مرکب سود کے قاعدے سے حساب لگا کر بتاؤ کہ کس کا سر پھوڑا جائے۔ وہی میں نے کہا نا کہ انگور کھا لیا، غسل کر لیا، ناخن ترشوا لئے۔
دل نے دنیا نئی بنا ڈالی اور۔ ۔ ہمیں آج تک خبر نہ ہوئی

پطرس نے اس جگہ یہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ راوی ۱۹۲۹ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جسوندر سنگھ بھلا کی یاد میں
  • موسموں کی بہار – انشا پردازی پر اثر
  • رزم آرائی کی غزل
  • پاکستان میں اسلام قبول کرنے پرپابندی کا بل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بچے
پچھلی پوسٹ
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں

متعلقہ پوسٹس

قرآن اور انسانی نفسیات

نومبر 5, 2025

نوجوان نسل اور روشن مستقبل

مارچ 9, 2026

راجندر بیدی کے اسلوب

دسمبر 18, 2019

امامِ زمانہؑ کی مقام و منزلت !

فروری 6, 2026

مولانا وحید الدین خان اور اُردو ادب

ستمبر 20, 2025

چنبیلی

دسمبر 23, 2021

سندھ دریا کا پانی

مارچ 18, 2025

تاریخ کے وارث – تیسری قسط

جنوری 17, 2025

باؤلاپن اور تعویذ گنڈہ

جون 1, 2021

ماڈل ٹاؤن

فروری 13, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یادیں

فروری 2, 2020

خاموش چیخیں اور بکھری ہوئی راہیں

مارچ 13, 2025

گلشن امید کی بہار

جنوری 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں