خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےپھاہا
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

پھاہا

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 454 مناظر
455

پھاہا

گوپال کی ران پر جب یہ بڑا پھوڑا نکلا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ آم خُوب ہُوئے تھے۔ بازاروں میں، گلیوں میں، دکانداروں کے پاس، پھیری والوں کے پاس، جدھر دیکھو، آم ہی آم نظر آتے۔ لال، پیلے، سبز، رنگا رنگ کے۔۔۔۔۔۔۔ سبزی منڈی میں کھول کے حساب سے ہر قسم کے آم آتے تھے۔ اور نہایت سستے داموں فروخت ہو رہے تھے۔ یوں سمجھیے کہ پچھلے برس کی کسر پوری ہو رہی تھی۔ اسکول کے باہر چھوٹو رام پھل فروش سے گوپال نے ایک روز خوب جی بھر کے آم کھائے۔ اور جیب میں سے ایک مہینے کے بچائے ہوئے جتنے پیسے جمع تھے سب کے سب ان آموں پر خرچ کر دیے۔ جن کے گودے اور رس میں شہد گھلا ہوا تھا۔ اس روز چھٹی کے وقت آم کھانے کے بعد انگلیاں چاٹتے ہوئے گوپال کو اسکول کے حلوائی سے دودھ کی لسّی پینے کا خیال آیا تھا۔ اور اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر اس نے گنڈا رام حلوائی سے پاؤ بھر دودھ کی لسّی بنانے کو کہا بھی تھا۔ مگر حلوائی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا۔

’’بابو گوپال، پہلا حساب چُکا دو تو اور اُدھار دوں گا، ورنہ نہیں۔ ‘‘

گوپال نے اگر آم نہ کھائے ہوتے، یا اگر اس کی جیب میں تھوڑے بہت پیسے ہوتے۔ تو وہ وہیں کھڑے کھڑے گنڈا رام کا حساب چکا دیتا۔ اور کچھ نہیں تو نقد دام دے کر لسّی کا وہ گلاس لے لیتا جس میں برف کا ٹکڑا اڈبکیاں لگا رہا تھا۔ اور جسے حلوائی نے بُرا سا منہ بنا کر اپنے پیچھے لوہے کے تھال پر رکھ دیا تھا۔ مگر گوپال کچھ بھی نہ کر سکا۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چوتھے روز اس کی ران پر یہ بڑا پھوڑا نکل آیا۔ اور تین چار روز تک اُبھرتا رہا۔ گوپال کے اوسان خطا ہو گئے۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا۔ کہ کیا کرے۔ وہ پھوڑے سے اتنا پریشان نہیں تھا۔ جتنا اس کے درد سے۔۔۔۔۔۔۔ اور سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ پھوڑا دن بدن لال ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اور اس کے منہ پر بدن کی جھلی پھٹنا شروع ہو گئی تھی۔ بعض اوقات گوپال کو یہ معلوم ہوتا کہ پھوڑے کے اندر کوئی ہنڈیا اُبل رہی ہے۔ اور اس کے اندر سب کچھ ایک ہی اُبال میں نکلنا چاہتا ہے۔ یہ چیز اسے بہت پریشان کر رہی تھی۔ اور پھوڑے کی جسامت دیکھ کر ایک مرتبہ تو اسے ایسا معلوم ہوا تھا کہ اس کی جیب میں سے کانچ کی گولی نکل کر اس کی ران میں گھس گئی ہے۔ گوپال نے گھر میں پھوڑے کی بابت کسی سے ذکر نہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر پتا جی کو اس کا پتہ چل گیا۔ تو وہ اپنے تھانے کی مکھیوں کا سارا غصہ اسی پر نکالیں گے۔ اور بہت ممکن ہے کہ وہ اُسے اس چھڑی سے پیٹنا شروع کر دیں۔ جو تھوڑے روز ہوئے گردھاری وکیل کے منشی نے وزیر آباد سے انھیں تحفے کے طور پر لا کر دی تھی۔ ماں کا مزاج بھی کم گرم نہ تھا۔ وہ اگر اسے آم کھانے کے جُرم کی سزا نہ دیتی تو اس غلطی پر اس کے کان کھینچ کھینچ کر ضرور لال کر دیتی کہ اس نے گھر کے باہر اکیلے اکیلے آم کیوں اڑائے۔ اس کی ماں کا اصول تھا۔ کہ

’’گوپال اگر تجھے زہر بھی کھانا ہو تو گھر میں کھانا‘‘

گوپال اچھی طرح جانتا تھا کہ اس اصول کے پیچھے اس کی ماں کی صرف یہ خواہش تھی کہ گوپال کے منہ کے ساتھ اس کا منہ بھی چلتا رہے۔ کچھ بھی ہو گوپال کی ران پر پھوڑا نکلنا تھا، نکل آیا۔ اس کا باعث جہاں تک گوپال سمجھ سکا تھا، وہی آم تھے۔ اس نے پھوڑے کی بابت گھر میں کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔ اس کو اپنے پتا جی کی وہ ڈانٹ اچھی طرح یاد تھی جو غسل خانے کے اندر بتائی گئی تھی۔ اس کے پتا جی لالہ پرشو تم داس تھانے دار لنگوٹ باندھے نل کی دھار کے نیچے اپنی گنجی چندیا رکھے اور بڑی توند بڑھائے مونچھوں میں سے آم کا رس چوس رہے تھے۔ سامنے بالٹی میں ایک درجن کے قریب آم پڑے تھے جو انھوں نے صبح سویرے ایک ٹھیلے والے سے اس کا چالان کاٹ کر حاصل کیے تھے۔ گوپال باپ کی پیٹھ مل رہا تھا اور میل کی مروڑیاں بنا رہا تھا۔ جب اس نے ہاتھ صاف کرنے کے لیے بالٹی میں ڈالے تھے۔ اور چپکے سے ایک آم اڑانا چاہا تھا۔ تو لالہ جی نے بڑے زور سے اس کا ہاتھ جھٹک کر چھوٹے سے آم کو مونچھوں سمیت منہ میں ڈالتے ہوئے کہا تھا۔

’’بے شرم۔۔۔۔۔۔ تجھے بڑوں کا لحاظ کرنا، جانے کب آئے گا؟‘‘

اور جب گوپال نے رونی صورت بنا کر کہا تھا۔ ‘‘

پتا جی۔۔۔۔۔ آم کھانے کو میرا بھی تو جی چاہتا ہے۔ ‘‘

تو تھانیدار صاحب نے آم کی گٹھلی چُوس کر موری میں پھینکتے ہوئے کہا تھا۔ ‘‘

گوپو، تیرے لیے یہ آم بہت گرم تھا۔ پھوڑے پھنسیاں چاہتا ہے تو بیشک کھا لے۔۔۔۔۔۔۔۔ دو تین بارشیں اور ہو لینے دے، پھر خوب ٹھاٹ سے کھائیو تیری ماں سے کہوں گا وہ لسّی بنا دے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ چل اب پیٹھ مل اور گوپال نے یہ رکاوٹ کی بات سُن کر خاموشی سے اپنے پتا کی پیٹھ ملنا شروع کر دی تھی اور آم کی مٹھاس نے جو پانی اس کے منہ میں بھر دیا تھا۔ اسے دیر تک نگلتا رہا تھا۔ اس کے دوسرے روز اس نے آم کھائے اور چوتھے روز اس کی ران پر پھوڑا نکل آیا۔ اس کے پتا کی بات سچی ثابت ہُوئی۔ اب اگر گوپال گھر میں کسی سے اس پھوڑے کی بات کرتا تو ظاہر ہے کہ خوب پٹتا، یہی وجہ ہے کہ خاموش رہا۔ اور پھوڑے کا بڑھاؤ بند کرنے کی تدبیریں سوچتا رہا۔ ایک روز اس کے پتا جی تھانے سے واپسی پر جب گھر آئے۔ تو ان کے ہاتھ میں ایک لمبی سی بتّی تھی۔ گوپال کی ماں کو آواز دے کر انھوں نے یہ بتّی اس کے ہاتھ میں میں دے کر کہا۔ ‘‘

لے آج بڑے کام کی چیز لایا ہوں۔ بمبئی کا مرہم ہے سو دوائیوں کی ایک دوا ہے۔۔۔۔ پھوڑے پھنسی کی بہار ہے۔ ذرا سا پھاہا پھوڑے پر لگا دو گی۔ یوں آرام آ جائے گا۔۔۔۔۔۔ یوں۔۔۔۔۔۔۔۔ بمبئی کا خالص مرہم ہے۔ سنبھال کے رکھ۔ ‘‘

گوپال اپنی بہن نرملا کے ساتھ صحن میں گیند بلا کھیل رہا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب تھانیدار جی مرہم دے کر اپنی پتنی کو کچھ سمجھا رہے تھے۔ تو نرملا نے زور سے گیند پھینکی۔ گوپال کا دھیان باپ کی طرف تھا۔ گیند پھوڑے پر زور سے لگی۔ گوپال بلبلا اٹھا۔ لیکن درد کو اندر ہی اندر پی گیا۔ وہ اسکول میں ماسٹر ہری رام کے مشہور بید کی مار کھا کر درد سہنے کا عادی ہو چکا تھا۔ ادھر گوپال کے پھوڑے پر گیند لگی۔ ادھر اس کے باپ کی آواز بلند ہوئی۔

’’ذرا سا پھاہے پر لیپ کرکے لگا دو گی۔۔۔۔۔۔ یوں آرام آ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں‘‘

اور یوں کے ساتھ اس کے باپ کی چٹکی نے گویا گوپال کے سوئے ہوئے دماغ کی چٹکی بھر لی۔ اس کو اپنے درد کا علاج معلوم ہو گیا۔ اس کی ماں نے مرہم کی بتّی سامنے دالان میں سلائی کی پٹاری میں رکھ دی۔ گوپال کو اچھی طرح معلوم تھا۔ کہ اس کی ماں عام طور پر سلائی کی پٹاری ہی میں سب سنبھالنے والی چیزیں رکھا کرتی ہے۔ سب سے زیادہ سنبھالنے والی چیز وہ موچنا تھا۔ جس سے اس کی ماں ہر دسویں پندرھویں روز اپنے تنگ ماتھے کے بال صاف کیا کرتی تھی۔ یہ بلاشک و شبہ سلائی کی پٹاری میں اس پڑیا سمیت موجود تھا جس میں کوئلوں کی سفید راکھ جمع رہتی تھی۔ جو اس کی ماں بال نوچ کر ماتھے پر لگایا کرتی تھی۔ تاہم گوپال نے اپنا اطمیان کرنے کے لیے گیند دالان میں پھینک دی اور اس کو پلنگ کے نیچے سے نکالتے ہوئے اپنی ماں کو سلائی کی پٹاری میں مرہم رکھتے دیکھ لیا۔ دوپہر کو اس نے اپنی بہن نرملا کو ساتھ مِلا کر چھوٹی قینچی جس سے اُس کا باپ انگلیوں کے ناخن کاٹتا تھا، مرہم کی بتّی اور اپنے باپ کے پاجامے سے بچا ہوا لٹھے کا وہ ٹکڑا حاصل کر لیا جس سے اس کی ماں ایک اور ٹکڑے کو ساتھ ملا کر شلوار کی میانی بنانا چاہتی تھی۔ دونوں یہ چیزیں لے کر اوپر کوٹھے پر چلے گئے۔ اور برساتی کے نیچے کوئلوں کی بوریوں کے پاس بیٹھ گئے۔ نرملا نے اپنی جیب سے لٹھے کا ٹکڑا نکال کر اپنی ران پر شلوار کے پھسلتے ہوئے ریشمی کپڑے پر پھیلا کر جب گوپال کی طرف اپنی ناچتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا۔ تو اس وقت ایسا معلوم ہوا کہ گیارہ برس کی یہ کمسن لڑکی جو دریائی سرکنڈے کی طرح نازک اور لچکیلی تھی۔ ایک بہت بڑے کام کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہی ہے۔ اس کا ننھا سا دل جو اس وقت تک صرف ماں باپ کی جھڑکیوں اور اپنی گڑیوں کے میلے ہوتے ہوئے چہروں کی فکر سے دھڑکا کرتا تھا۔ اب اپنے بھائی کی ران پر پھوڑا دیکھنے کے خیال سے دھڑک رہا تھا۔ اس کے کان کی لویں لال اور گرم ہو گئی تھیں۔ گوپال نے گھر میں اپنے پھوڑے کی بابت کسی سے ذکر نہ کیا تھا۔ لیکن اب اُسے نرملا کو ساری بات سُنانا پڑی۔ کہ کس طرح اس نے چوری چوری آم کھائے اور لسّی پینا بھول گیا۔ اور اس کی ران پر پیسے کے برابر پھوڑا نکل آیا۔ جب اس نے اپنی رام کہانی سنا کر نرملا سے راز دارانہ لہجے میں کہا تھا۔

’’دیکھ نرملا! گھر میں یہ بات کسی سے نہ کہیو۔ ‘‘

تو نرملا نے بڑی متین صورت بنا کر جواب دیا تھا کہ میں پاگل تھوڑی ہوں‘‘

گوپال کو یقین تھا کہ نرملا یہ بات اپنے تک ہی رکھے گی۔ چنانچہ اس نے پاجامے کو اوپر اڑس لیا، نرملا کا دل دھک دھک کرنے لگا، جب گوپال نے بیٹھ کر اپنا پھوڑا دکھایا۔ اور نرملا نے دور ہی سے اپنی انگلی سے اسے چُھوا تو ان کے بدن پر ایک جھرجھری سی طاری ہو گئی۔ سی سی کرتے ہوئے اس نے اُبھرے لال پھوڑے کی طرف دیکھا اور کہا۔ کتنا لال ہے۔ ‘‘

’’ابھی تو اور ہو گا۔ ‘‘

گوپال نے اپنے مردانہ حوصلے کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔ نرملا نے حیرت سے کہا۔ ‘‘

سچ؟‘‘

’’ابھی تو کچھ لال نہیں ہے، جو پھوڑا میں نے چرنجی کے منہ پر دیکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بڑا اور لال تھا‘‘

گوپال نے پھوڑے پر دو انگلیاں پھیریں۔

’’تو ابھی اور بڑھے گا؟‘‘

نرملا آگے سرک آئی۔

’’کیا پتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تو اور بڑھتا چلا جا رہا ہے‘‘

گوپال نے جیب میں سے مرہم کی بتّی نکال کر کہا، نرملا سہم سی گئی۔ ‘‘

اس مرہم سے تو آرام آ جائے گا نا؟‘‘

گوپال نے بتّی کے ایک سرے پر سے کاغذ کی تہ جدا کی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔

’’اس کا پھاہا لگانے ہی سے پھٹ جائے گا۔ ‘‘

’’پھٹ جائے گا۔ ‘‘

نرملا کو ایسا معلوم ہوا کہ اس کے کان کے پاس ربڑ کا غبارہ پھٹ گیا ہے۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔

’’اور اس کے اندر جو کچھ ہے پُھوٹ بہے گا! گوپال نے مرہم کو انگلی پر اُٹھاتے ہوئے کہا۔ نرملا کا گلابی رنگ اب بمبئی کی مرہم کی طرح پیلا پڑ گیا تھا، اس نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا۔ مگر یہ پھوڑے کیوں نکلتے ہیں بھیّا؟‘‘

’’گرم چیزیں کھانے سے !‘‘

گوپال نے ایک ماہر طبیب کے سے انداز میں جواب دیا۔ نرملا کو وہ دو انڈے یاد آ گئے۔ جو اس نے دو ماہ پہلے کھائے تھے۔ وہ کچھ سوچنے لگی۔ گوپال اور نرملا کے درمیان چند باتیں اور ہوئیں۔ اس کے بعد وہ اصلی کام کی طرف متوجہ ہوئے، نرملا نے لٹھے کا ایک گول پھاہا کاٹا، بڑی نفاست سے، یہ روپے کے برابر تھا۔ اور اس کی گولائی میں مجال ہے ذرا سا نقص بھی ہو، اسی طرح گول تھا جس طرح نرملا کی ماں کے ہاتھ کی بنی ہوئی روٹی گول ہوتی تھی۔ گوپال نے اس پھاہے پر تھوڑا سا مرہم لگا دیا۔ اور اسے اچھی طرح پھیلانے کے بعد پھوڑے کی طرف غور سے دیکھا۔ نرملا گوپال کے اوپر جھکی ہوئی تھی۔ اور گوپال کی ہر حرکت کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔ گوپال نے جب پھاہا اپنے پھوڑے کے اُوپر جما دیا۔ تو وہ کانپ گئی جیسے اس کے بدن پر کسی نے برف کا ٹکڑا رکھ دیا ہے۔

’’اب آرام آ جائے گا نا؟‘‘

نرملا نے نیم سوالیہ انداز میں کہا۔ گوپال جواب دینے بھی نہ پایا تھا کہ برساتی کے برابر والی سیڑھیوں پر کسی کے چڑھنے کی آواز سنائی دی۔ یہ ان کی ماں تھی۔ جو غالباً کوئلے لینے کے لیے آ رہی تھی۔ گوپال اور نرملا نے بیک وقت ایک دوسرے کے چہرے کی طرف دیکھا اورکچھ کہے سُنے بغیر سب چیزیں اکٹھی کرکے اس پرانے صندوق کے پیچھے چھپا دیں جہاں ان کی بلی سندری بچے دیا کرتی تھی۔ اور چپکے سے بھاگ گئے۔ یہاں سے بھاگ کر گوپال نیچے گیا۔ تو اس کے باپ نے اُسے باہر فالودہ لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب واپس آیا تو اسے گلی میں نرملا ملی، فالودے کا گلاس اس کے حوالے کرکے وہ چرنجی کے گھر چلا گیا۔ اور اس طرح ان چیزوں کو اپنی جگہ پر رکھنا بھول گیا۔ جو ماں کے اچانک آ جانے سے اس نے اور نرملا نے صندوق کے پیچھے چھپا دی تھیں۔ چرنجی کے یہاں وہ دیر تک تاش کھیلتا رہا۔ کھیل سے فارغ ہو کر جب وہ چرنجی کی بغل میں ہاتھ ڈالے کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔ تو کسی بات پر اس کا دوست ہنسا اور اس کے داہنے گال پر پھوڑے کا نشان لمبی سی لکیر بن گیا۔ اُس کو دیکھ کر فوراً ہی اپنے پھوڑے کا گوپال کو خیال آیا اور اس خیال کے ساتھ ہی اُسے وہ چیزیں یاد آگئیں جو صندوق کے پیچھے پڑی تھیں۔ چرنجی کی بغل سے ہاتھ نکال کر وہ بھاگا۔ گھر پہنچ کر اُس نے وہاں کی فضا دیکھی، اس کی ماں صحن میں بیٹھی اس کے باپ سے

’’ملاپ‘‘

اخبار کی خبریں سُن رہی تھی۔ دونوں کسی بات پر ہنس رہے تھے۔ گوپال ان کے پاس سے گزرا۔ دونوں نے اس کی طرف دیکھا، مگر اس سے کوئی بات نہ کی، گوپال کو اطمینان ہو گیا کہ ابھی تک اس کی ماں نے اپنی سلائی کی پٹاری نہیں دیکھی۔ چنانچہ وہ چپکے سے کوٹھے پر چلا گیا۔ بڑے کوٹھے کو طے کرکے دروازے کے اندر داخل ہونے والا ہی تھا۔ کہ اس کے قدم رُک گئے۔ صندوق کے پاس بیٹھی نرملا کچھ کر رہی تھی۔ گوپال پیچھے ہٹ گیا۔ اور چھُپ کر دیکھنے لگا۔ نرملا بڑے انہماک سے پھاہا تراش رہی تھی۔ اس کی پتلی پتلی انگلیاں قینچی سے بڑا نفیس کام لے رہی تھیں۔ پھاہا کاٹنے کے بعد اس نے تھوڑا سا مرہم نکال کر اس پر پھیلایا اور گردن جھکا کر اپنے کُرتے کے بٹن کھولے، سینے کے داہنی طرف چھوٹا سا ابھار تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ نلکی پر صابن کا چھوٹا سا نامکمل بُلبلہ اٹکا ہوا ہے۔ نرملا نے پھاہے پر پھونک ماری اور اسے اس ننھے سے اُبھار پر جما دیا۔

سعادت حسن منٹو

[/sociallocker]

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عطر کافور
  • کفر اور کافر کا مسئلہ
  • مذاق کرنا یا مذاق اڑانا
  • سانجھ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حرفِ تسلی
پچھلی پوسٹ
پیرن

متعلقہ پوسٹس

بادشاہ چیل

جنوری 24, 2026

ڈرپوک

جنوری 15, 2020

طلع البدر علینا

اکتوبر 21, 2020

چھوٹا منہ بڑی بات

اکتوبر 3, 2021

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 14, 2024

سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ

نومبر 29, 2020

مخفی دوربین

نومبر 20, 2025

نہ جسم تیرا ۔ نہ مرضی تیری

مارچ 9, 2020

خوابوں کا آبشار

دسمبر 11, 2024

بھٹو کا جیالا اور آصف زرداری

نومبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حقیقی ہیرو

نومبر 24, 2020

بے روزگاری کا چیلنج

اکتوبر 3, 2025

تیاری کیا ھے؟

دسمبر 15, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں