خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممیں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟
آپ کا سلاماردو تحاریرطاہرہ فاطمہ

میں نے کیا غلط کیا تھا، اماں؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 28, 2026 0 تبصرے 23 مناظر
24

سنو۔
یہ کہانی کومل کی ہے۔ لیکن کومل کا نام تم نے نہیں سنا ہوگا۔ کومل کی کہانی اخبار کے ایک کونے میں آئی تھی، اور تم نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے صفحہ پلٹ دیا تھا۔ یاد کرنے کی کوشش کرو۔
اب یہ کہانی پھر سنو۔ اس بار چائے نہیں۔ اس بار ہاتھ خالی رکھو۔ اور دل کو تیار کرو۔ کیونکہ جو میں اب کہنے جا رہی ہوں، وہ تم سے پوچھے گا ایک سوال۔ اور اس سوال کا جواب تمہیں اپنی قبر میں بھی ڈھونڈنا پڑے گا۔ (سخت لہجے کی گستاخی معاف)
دوپہر کا وقت تھا۔ سنسان گلی۔ گرمی سے پتھر تپ رہے تھے۔ کومل گھر سے نکلی۔ گلابی فراک پہنی تھی۔ ماں نے بالوں میں کلپ لگایا تھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ گڑیا کو گود میں لیے باہر آئی۔ اسے نہیں پتا تھا کہ دنیا میں "درندے” بھی ہوتے ہیں۔ اسے تو بس گڑیا کو سُلانا تھا۔ گلی خالی تھی۔ یا شاید خالی نہیں تھی۔
تم نے کبھی سوچا ہے کہ شیطان گلیوں میں کب آتا ہے؟ جب تم سو رہے ہوتے ہو؟ جب تم موبائل دیکھ رہے ہوتے ہو؟ جب تم نے سوچا: "ابھی تو وہ ابھی نکلی ہے، آ جائے گی”؟ ہاں، تبھی آتا ہے۔
اس دن گلی میں ایک بھیڑیا تھا۔ انسان کی شکل میں۔ اسے پتا تھا کہ کون سی گلی سنسان ہوتی ہے۔ اسے پتا تھا کہ کون سی ماں غافل ہوتی ہے۔ اسے پتا تھا کہ کومل اکیلے آئے گی۔
کیونکہ اس بھیڑیے نے یہ سب پہلے بھی کیا تھا اور پہلے بھی کوئی نہیں بولا تھا۔
کومل نے دیکھا کہ ایک بڑا آدمی اس کے پاس آیا۔ مسکرایا۔ شاید ٹافی دکھائی۔ شاید کہا: "چلو، تمہاری امی نے بلایا ہے۔”
کومل کو کیسے پتا چلتا کہ یہ جھوٹ ہے؟ اس نے تو ابھی ابھی سچ بولنا سیکھا تھا۔ اس کی دنیا میں جھوٹ تھا ہی نہیں۔
بھیڑیے نے ہاتھ پکڑا۔ کومل نے "امی” کہا۔ منہ دبایا گیا۔ "ابو” کہا۔ زور سے دبایا گیا۔ پھر اس نے کسی فرشتے کو پکارا لیکن فرشتے اس گلی میں نہیں آتے تھے۔
اور پھر۔۔۔۔ پھر وہ ہوا، جسے بیان کرنے کے الفاظ نہیں۔ جسے سننے کے لیے کان نہیں، کلیجہ چاہیے۔ جسے سمجھنے کے لیے ماں ہونا پڑتا ہے۔
پانچ سال کی بچی۔ پانچ منٹ کا ظلم۔ پوری زندگی کی ویرانی۔
جب وہ گھر پہنچی دروازہ کھلا۔ کومل اندر آئی۔ فراک پھٹی ہوئی۔ بال بکھرے ہوئے۔ چہرے پر آنسو سوکھ چکے تھے۔ وہ چل نہیں رہی تھی، لڑکھڑا رہی تھی۔
ماں نے دیکھا۔ پہلے اس کی چیخ نکلی لیکن وہ چیخ کومل کے لیے نہیں تھی۔ وہ چیخ ماں کے اپنے لیے تھی۔ اپنی غفلت کے لیے۔ اپنی بے بسی کے لیے۔
پھر اس نے کومل کو غسل خانے میں لے جا کر نہلایا۔ پانی ڈالا۔ صابن لگایا۔ کپڑے بدلے۔ وہ دھو رہی تھی۔ دھو رہی تھی۔ دھو رہی تھی۔
لیکن جو دھل نہیں سکتا تھا، وہ اندر رہ گیا۔
اور پھر ماں نے وہ جملہ بولا جس نے کومل کو اس ظالم سے بھی زیادہ زخمی کیا: "کسی کو بتانا مت۔ کبھی کسی کو نہیں بتانا۔”
سنو! جب ایک ماں اپنی پانچ سال کی معصوم بیٹی سے کہتی ہے "کسی کو بتانا مت”، تو وہ کہہ رہی ہوتی ہے: "یہ شرم کی بات ہے۔ یہ چھپانے کی چیز ہے۔ تجھ پر داغ لگ گیا ہے۔”
اور کومل نے یہی سمجھا۔ اس رات سے، کومل نے بولنا چھوڑ دیا۔ جو بچی کبھی گلی میں ہنسی بکھیرتی تھی، اب اس کی زبان پر تالا لگ گیا۔ جو بچی گڑیا سے باتیں کرتی تھی، اب گڑیا سے بھی ڈرنے لگی۔ جو پانچ سال کی پری تھی، وہ پانچ منٹ میں بڑھیا ہو گئی۔
شام کو ابا گھر لوٹے۔ صورت غصے سے کالی۔ انہوں نے دروازہ بند کیا۔ کومل کی طرف دیکھا۔ اور پھر نظریں پھیر لیں۔
پلٹی ہوئی نظر۔۔۔ تم جانتے ہو، جب باپ نظریں پھیر لے تو بچی کے دل میں کیا ٹوٹتا ہے؟ وہ رشتہ ٹوٹتا ہے جس کا کوئی نام نہیں۔ وہ محبت ٹوٹتی ہے جسے الفاظ نہیں چاہیے ہوتے۔ وہ تحفظ ٹوٹتا ہے جو باپ کی موجودگی سے ملتا ہے۔
ابا نے ماں کو ڈانٹا: "میں نے کہا تھا باہر مت جانے دو!”
سوال یہ ہے، ابا: تم نے کبھی کومل کو سکھایا تھا کہ اگر کوئی اسے چھوئے تو وہ کیا کرے؟ تم نے کبھی اسے بتایا تھا کہ "اگر کچھ ہو تو سب سے پہلے مجھے بتانا”؟ تم نے کبھی اسے گلے لگا کر کہا تھا کہ "میں تیری ڈھال ہوں”؟
نہیں۔
تم نے تو اسے صرف یہ سکھایا تھا کہ "لڑکیاں باہر کم نکلیں۔”
تم نے اسے خطرے سے بچانا چاہا تھا لیکن ڈرایا زیادہ تھا۔ اور اب جب وہ ڈر گئی، تو تم نے اسے سینے سے لگانے کے بجائے، اس پر نظریں پھیر لیں۔
کیا تم جانتے ہو، ابا، کہ اس وقت کومل نے کیا سوچا؟
اس نے سوچا: "ابا کو مجھ سے شرم آتی ہے۔”
"ابا کو لگتا ہے میں نے کچھ غلط کیا۔”
"ابا مجھے پیار نہیں کرتے۔”
یہ وہ زخم ہے جو اس ظالم نے نہیں دیا تھا یہ زخم تم نے دیا، ابا۔
اور اب میں تمہاری طرف دیکھ رہی ہوں۔ ہاں، تمہاری طرف۔
جب کومل کی خبر آئی تھی، تم نے کیا کیا تھا؟
چائے کا کپ تھا نا ہاتھ میں؟ اخبار کا صفحہ تھا نا؟ تم نے "الہیٰ خیر، توبہ استغفار، قرب قیامت ہے” کہا، اور پھر صفحہ پلٹ کر دوسری خبر دیکھ لی۔ کرکٹ کا سکور۔ ڈالر کا ریٹ۔ وزیراعظم کا بیان۔ کومل وہیں رہ گئی، صفحے کے اس کونے میں، جسے تم نے پڑھا اور بھول گئے۔
لیکن میں تم سے پوچھتی ہوں: کیا تم نے اس رات اپنی بیٹی کو پاس بلا کر پوچھا: "کیا تمہارے ساتھ کبھی ایسا کچھ ہوا ہے جو تم نے چھپایا؟”
کیا تم نے اسے بتایا: "اگر کوئی تجھے چھوئے، تو قصور اس کا ہے، تیرا نہیں”؟
کیا تم نے اسے سکھایا کہ "شرم اس ظالم کو آنی چاہیے، تمہیں نہیں”؟
نہیں۔ تم نے کچھ نہیں کیا۔ تم نے بھی وہی کیا جو ہر کوئی کرتا ہے "گزر گئے”۔
اور تمہارا یہ "گزر جانا” اس بھیڑیے کے لیے اجازت نامہ ہے۔ وہ آج بھی کسی گلی میں کھڑا ہے۔ آج بھی کسی بچی کا انتظار کر رہا ہے۔ اسے پورا یقین ہے کہ اس بار بھی کوئی نہیں بولے گا۔ اس بار بھی ماں کپڑے بدل دے گی۔ اس بار بھی باپ نظریں پھیر لے گا۔ اس بار بھی تم چائے کی چسکی لے کر صفحہ پلٹ دو گے۔ وہ یہ سب جانتا ہے۔ اسی لیے پھر کرے گا۔
کومل اب بھی کبھی کبھی دروازے پر کھڑی ہوتی ہے۔ اسے باہر نکلنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اب جب وہ دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، تو ایک ایک کر کے وہ سہیلیاں، جن کے ساتھ اس نے رسی کودی تھی، چھپن چھپائی کھیلی تھی، گڑیا کی شادیاں رچائی تھیں۔۔۔ وہ سب اسے دیکھ کر اندر بھاگ جاتی ہیں۔
کومل سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ پکارتی ہے: "آؤ نا، کھیلیں!” لیکن کوئی نہیں آتا۔
تم نے کبھی سوچا ہے کہ اس گلی کی مائیں شام کو اپنی بچیوں سے کیا کہتی ہیں؟
"کومل کے ساتھ مت کھیلنا۔”
"اس سے دور رہنا۔”
"وہ۔۔۔ تم جانتی ہو نا۔۔۔”
کیا جانتی ہو؟ کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری اس سرگوشی کا مطلب کومل کی زبان میں کیا نکلتا ہے؟
یہ نکلتا ہے:
"میں اچھوت ہوں۔”
"میں گندی ہوں۔”
"میرے پاس آؤ گی تو تم بھی گندی ہو جاؤ گی۔”
کیا تم نے کبھی سوچا کہ پانچ سال کی بچی، جسے لفظ "گندی” کے معنی بھی نہیں معلوم، اچانک اپنے آپ کو اس لفظ میں لپٹا پاتی ہے اور اسے سمجھ بھی نہیں آتا کہ "میں گندی کب ہوئی؟ کیسے ہوئی؟ کیا مطلب ہے اس کا؟”
"گندی۔ خراب۔ بے آبرو۔” کیا کومل ان الفاظ کے معنی جانتی ہے؟ نہیں۔ وہ تو بس یہ جانتی ہے کہ جب یہ الفاظ اس کے لیے بولے جاتے ہیں، تو لوگوں کی آنکھیں بدل جاتی ہیں۔ چاچی کی نظر میں کچھ آتا ہے۔ پھپھو کے لہجے میں کچھ بدلتا ہے۔ پڑوسن سرگوشی کرتی ہے، اور سرگوشی کومل کے نام پر ختم ہوتی ہے۔
وہ جان گئی ہے کہ اس کے نام کے ساتھ کچھ اور بھی چپک گیا ہے، کچھ چپچپا، کچھ بدبودار، کچھ جو وہ دھونا چاہتی ہے مگر دھل نہیں سکتا۔ یہی وہ صدمہ ہے جس کی کوئی میعاد نہیں۔ وہ ظالم تو شاید سزا پائے یا نہ پائے مگر کومل کو جو سزا ملی، وہ تاحیات ہے۔
اور اب وہ سوال جو میں نے شروع میں کہا تھا۔ وہ سوال جو کومل آج بھی پوچھتی ہے، رات کے اندھیرے میں، جاگتے ہوئے، اپنے تکیے کو آنسوؤں سے بھگو کر: "امی، میں نے کیا غلط کیا تھا؟”
اور اب اس سوال کے ساتھ مزید سوال جڑ گئے ہیں:
"امی، ثنا اب میرے ساتھ کیوں نہیں کھیلتی؟”
"امی، پھپھو نے مجھے گندی کیوں کہا؟”
"امی، کیا میں واقعی خراب ہو گئی ہوں؟”
"امی، ‘خراب’ کا کیا مطلب ہے؟”
جواب کیا ہے؟
جواب یہ ہے کہ کومل نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ غلط تم نے کیا، اماں، جب اسے چپ رہنے کو کہا۔ غلط تم نے کیا، ابا، جب اسے شرم کی نظر سے دیکھا۔ غلط تم نے کیا، پڑوس کی ماؤں، جب اپنی بچیوں کو کومل سے دور کر دیا۔ غلط تم نے کیا، رشتہ دارو، جب سرگوشیوں میں "گندی” اور "خراب” جیسے لفظ اس کی پہچان بنا دیے۔ غلط ہم نے کیا، جب اس کی خبر کو صفحے کے کونے میں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ غلط اس معاشرے نے کیا، جس نے ظالم کو تو ڈھونڈا نہیں، مگر مظلوم کو عمر بھر کے لیے مجرم بنا دیا۔ کومل نے کچھ غلط نہیں کیا۔ کومل تو پھول تھی۔ مسلنے والے ہم تھے۔ سب کے سب۔
خیر آج پھر چائے ٹھنڈی ہو گی، اخبار کا صفحہ پلٹے گا، پڑوس میں سرگوشیاں چلیں گی، کومل کا دروازہ بند رہے گا، اور اس کے سوال اسی گلی میں گونجتے رہیں گے۔۔۔ بے جواب، بے کس، بے آواز: "میں نے کیا غلط کیا تھا؟ کیا میں اب بھی تمہاری پیاری بیٹی ہوں؟”

طاہرہ فاطمہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بے بسی اور خفت کا عالم
  • موت کا راز
  • رنگ برنگی عینکیں !
  • عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دل کے مسائل اور بلڈ پریشر ایورویدک میں
پچھلی پوسٹ
دوستوں کی بزم سے

متعلقہ پوسٹس

ایک قبر کی فریاد

جنوری 20, 2020

پریم چند : اردو افسانہ کے امام

جون 1, 2025

معاون اور میں

اپریل 8, 2020

ساغر صدیقی کا کرب اور آج کا معاشرہ

مارچ 14, 2026

نظام مملکت اور موکلین

مارچ 11, 2022

سرنڈر

جون 21, 2026

مراۃ العروس : ڈپٹی نذیر احمد

اپریل 12, 2025

بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

جنوری 28, 2026

بے نام

جنوری 24, 2020

اشفاق احمد اور اُردو ادب

اکتوبر 15, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ماہِ صفر کے متعلق ایک بڑی...

ستمبر 25, 2020

امید کا چھوٹا چھاتا

دسمبر 15, 2024

چراغ تلے خاموشی

دسمبر 22, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں