خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسعادت حسن منٹو
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدڈاکٹر الیاس عاجز

سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 9, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 9, 2026 0 تبصرے 55 مناظر
56

سعادت حسن منٹو: حقیقت کا آئینہ اور ادبی جرات

سعادت حسن منٹو بلا شبہ اردو ادب کے سب سے حقیقت پسند اور جرات مند ادیبوں میں سے ایک ہیں۔​منٹو کا شمار اردو ادب کے ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنہوں نے حقیقت نگاری کو محض ایک اسلوب نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ بنا دیا۔ ان کی عظمت صرف مغربی رجحانات کو متعارف کرانے میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ انہوں نے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی وہ جرات دکھائی جو ان کے ہم عصروں میں کم ہی نظر آتی تھی۔ منٹو کا قلم ایک ایسا آئینہ تھا جس نے معاشرے کے خوبصورت چہرے کے پیچھے چھپی منافقت، کراہت اور انسانیت کی گراوٹ کو بے نقاب کیا۔

منافقت پر کاری ضرب: منٹو جسمانیت اور جنسی جذبات کا اعتراف

​کلاسیکی اردو ادب کی شاید یہ مجبوری تھی کہ ادبیبوں کا ایک بڑا گروہ محبوب کے تصور کو دیوتا بنا کر پیش کرتا رہا جہاں جسمانی کشش کو روحانی محبت کے پردے میں چھپا دیا جاتا تھا۔منٹو نے اس منافقت کو چیلنج کیا اور انسان کے بنیادی جنسی اور جذباتی میلانات کو ان کی اصل شکل میں پیش کیا۔ذیل میں دیا گیا ایک​اقتباس دیکھیے:

​”وہ عورت تھی، عورت صرف عورت نہیں، بل کہ ایک مکمل عورت تھی۔ اس کے سینے کا اُبھار، اس کے کولھوں کی گولائی، اس کی ہر ادا میں مرد کو اپنی طرف کھینچنے کی وہ کشش تھی جس کے لیے کوئی لغت میں لفظ نہیں ملتا۔”

​منٹو کے کردار، چاہے وہ ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’ کا بشن سنگھ ہو یا ‘کھول دو’ کی سکینہ، یا بازار میں بکنے والی طوائفیں، وہ سب جیتے جاگتے، سانس لیتے اور جسمانی تقاضے رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے جسمانی حقیقت کو چھپانے کے بجائے اسے ادب کا لازمی جزو بنایا۔

​منٹو کی سب سے بڑی خدمت ان کے وہ افسانے ہیں جو 1947 کی تقسیم ہند کے خوفناک واقعات پر لکھے گئے۔ جہاں اکثر ادیبوں نے حب الوطنی یا مذہبی جذبات کو اجاگر کیا، وہیں منٹو نے خون، ہوس اور جنون سے لت پت انسانیت کا ایسا نقشہ کھینچا جو آج بھی دل دہلا دیتا ہے۔”سیاہ حاشیے” سےایک ​اقتباس دیکھیے:

​”لاٹھی پر خون تھا، لکڑی کے تختے پر خون تھا، یہاں تک کہ ہوا میں بھی خون تھا۔ وہ سب انسان نہیں تھے، حیوان بن چکے تھے۔ تقسیم سے پہلے کی نفرت، غصے میں بدل گئی تھی۔”

​’کھول دو’ میں جب باپ اپنی گمشدہ بیٹی کو تلاش کرتا ہے اور اسے پتا چلتا ہے کہ درندوں نے اسے کس حال تک پہنچا دیا، تو یہ صرف ایک کہانی نہیں رہتی بلکہ عصمت ریزی کے بعد خاموش ہوجانے والے معاشرے پر ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

​’ٹوبہ ٹیک سنگھ’ میں بشن سنگھ کا سرحدوں کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر چیخنا دراصل اس احمقانہ تقسیم پر منٹو کا احتجاج ہے جس نے انسانوں کے دماغوں کو بھی تقسیم کر دیا۔

حاشیے کے کرداروں کو مرکز میں لانا بھی ​منٹو کا ایک اور اہم کارنامہ ہے جو انہوں نے ان کرداروں کو اردو ادب میں مرکزی حیثیت دی جنہیں معاشرہ گھناؤنا سمجھ کر نظر انداز کر دیتا تھا۔ان کے ہیرو اور ہیروئنیں طوائفیں، دلال، جیب کترے، اور جسم فروش ہوتی تھیں۔ان کرداروں کے ذریعے منٹو نے یہ پیغام دیا کہ گناہوں کے پیچھے اکثر غربت، مجبوری اور حالات کی ستم ظریفی کار فرما ہوتی ہے۔ایک افسانے کا ​اقتباس دیکھیے:

​”اس کو اپنے کام سے گھن نہیں آتی تھی… کیوں کہ وہ سمجھتی تھی کہ یہ کام اس کے اپنے اندرونی سچ کا اظہار ہے۔ اگر باہر سچ بولنے کی اجازت نہیں تو جسم کے ذریعے ہی سہی۔”

​منٹو نے یہ دکھایا کہ ایک طوائف کے دل میں بھی ممتا، محبت اور انسانی احساسات اتنی ہی شدت سے موجود ہوتے ہیں جتنے کسی شریف زادی میں۔ وہ منافقت کے پردے چاک کرکے غلاظت میں لپٹی ہوئی سچائی کو باہر لے آئے۔

​ منٹو کے نزدیک ادب کا مقصد خوشنما پردے نہیں بلکہ آئینہ سازی ہے جس میں معاشرے کو اس کا چہرہ دکھایا جا سکے۔​

بقول ڈاکٹر الیاس عاجزؔ:

کب تلک کام لبادے سے چلے گا اپنا

ایک دن پالا حقیقت سے پڑے گا اپنا

منٹو کا ادبی فلسفہ بہت واضح تھا۔ادب کو معاشرتی اصلاح کا پرچارک یا اخلاقی درس دینے والا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا کام ہے ‘جو کچھ ہو رہا ہے’ اسے دکھانا اور ​ان کا یہ بیانیہ انہیں اردو ادب کے تمام رجعت پسندوں اور ‘اچھے ادب’ کی دہائی دینے والوں سے ممتاز کرتا ہے۔منٹو کو اپنی زندگی میں فحاشی کے الزامات پر کئی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان مقدمات نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا کہ وہ اس سچ کو پیش کرتے رہیں گے جو ہمارے معاشرے کی تہہ میں چھپا ہوا ہے۔

​منٹو کی تحریریں دراصل ہمارے اجتماعی ضمیر کا احتساب ہیں۔ وہ ایک ایسے ادیب تھے جنہوں نے ادب کو بزدلانہ خوبصورتی سے نکال کر سچائی کی کرختگی سے روشناس کرایا۔ ان کا بیانیہ آج بھی اردو ادب کی حقیقت نگاری کا سب سے بڑا ستون ہے۔

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روپا
  • نظارہ درمیان ہے
  • دوسری شادی، معاشرہ اور منافقت
  • عمیق مشعل کی حفاظت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حقیقی حفاظت
پچھلی پوسٹ
ایہہ ہمسائے، ایہہ ماں جائے

متعلقہ پوسٹس

نیا سال، نیا عزم – نئے ارادے!

جنوری 1, 2026

دانتے کی دوزخ میں

جون 6, 2025

سچ کی جیت

اکتوبر 12, 2025

پرمیشر سنگھ

نومبر 15, 2019

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

کرونا وائرس اور پاکستان

مارچ 15, 2020

تماشا

جنوری 16, 2020

امریکی ثقافت اور روڈیو

دسمبر 6, 2024

خواب ہے خواب ہی ہو

دسمبر 18, 2025

تاج ہاؤس

جنوری 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھارت میں مدارس اسلامیہ کا مستقبل

جنوری 8, 2022

سوچتی ہوئی بے باک شاعری

جولائی 5, 2024

مسٹر معین الدین

جنوری 17, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں