خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےتماشا
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

تماشا

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 16, 2020 0 تبصرے 441 مناظر
442

تماشا

دو تین روز سے طیارے سیاہ عقابوں کی طرح پر پھیلائے خاموش فضا میں منڈلا رہے تھے جیسے وہ کسی شکار کی جستجو میں ہوں۔ سرخ آندھیاں وقتاً فوقتاً کسی آنیوالے خونی حادثہ کا پیغام لا رہی تھیں۔ سنسان بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت ایک عجیب ہولناک سماں پیش کر رہی تھی۔ وہ بازار جو صبح سے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کے ہجوم سے پر ہوا کرتے تھے اب کسی نہ معلوم خوف کی وجہ سے سُونے پڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔شہر کی فضا پر ایک پر اسرار خاموشی مسلط تھی۔ بھیانک خوف راج کر رہا تھا۔

خالد گھر کی خاموش و پر سکون فضا سے سہما ہوا اپنے والد کے قریب بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔

"ابا، آپ مجھے سکول کیوں نہیں جانے دیتے؟”

"بیٹا، آج سکول میں چھٹی ہے۔”

"ماسٹر صاحب نے تو ہمیں بتایا ہی نہیں۔ وہ تو کل کہہ رہے تھے کہ جو لڑکا آج سکول کا کام ختم کر کے اپنی کاپی نہ دکھائے گا، اسے سخت سزا دی جائیگی۔”

"وہ اطلاع دینی بھول گئے ہونگے۔”

"آپ کے دفتر میں بھی چھٹی ہے۔”

"ہاں ہمارا دفتر بھی آج بند ہے۔”

"چلو اچھا ہوا۔۔۔۔۔۔۔آج میں آپ سے کوئی اچھی سی کہانی سنوں گا۔”

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ تین چار طیارے چیختے ہوئے انکے سر پر سے گزر گئے۔ خالد انکو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوا، وہ تین چار روز سے ان طیاروں کی پرواز کو بغور دیکھ رہا تھا مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا تھا۔ وہ حیران تھا کہ یہ جہاز سارا دن دھوپ میں کیوں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ وہ انکی روزانہ نقل و حرکت سے تنگ آ کر بولا۔

"ابا، مجھے ان جہازوں سے سخت خوف معلوم ہو رہا ہے۔ آپ انکے چلانے والوں سے کہدیں کہ وہ ہمارے گھر پر سے نہ گزرا کریں۔”

"خوف۔۔۔۔۔کہیں پاگل تو نہیں ہو گئے خالد۔”

"ابا، یہ جہاز بہت خوفناک ہیں۔ آپ نہیں جانتے یہ کسی نہ کسی روز ہمارے گھر پر گولہ پھینک دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔کل صبح ماما امی جان سے کہہ رہی تھی کہ ان جہاز والوں کے پاس بہت سے گولے ہیں۔ اگر انہوں نے اس قسم کی کوئی شرارت کی تو یاد رکھیں میرے پاس بھی ایک بندوق ہے۔۔۔۔۔۔۔وہی جو آپ نے پچھلی عید پر مجھے دی تھی۔”

خالد کا باپ اپنے لڑکے کی غیر معمولی جسارت پر ہنسا۔ "ماما تو پاگل ہے، میں اس سے دریافت کرونگا کہ وہ گھر میں ایسی باتیں کیوں کیا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اطمینان رکھو، وہ ایسی بات ہر گز نہیں کرینگے۔”

اپنے والد سے رخصت ہو کر خالد اپنے کمرے میں چلا گیا اور ہوائی بندوق نکال کر نشانہ لگانے کی مشق کرنے لگا تا کہ اس روز جب ہوائی جہاز والے گولے پھینکیں تو اسکا نشانہ خطا نہ جائے اور وہ پوری طرح انتقام لے سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاش انتقام کا یہی ننھا جذبہ ہر شخص میں تقسیم ہو جائے۔

اسی عرصہ میں جبکہ ایک ننھا سا بچہ اپنے انتقام لینے کی فکر میں ڈوبا ہوا طرح طرح کے منصوبے باندھ رہا تھا، گھر کے دوسرے حصے میں خالد کا باپ اپنی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا ماما کو ہدایت کر رہا تھا کہ وہ آئندہ گھر میں اس قسم کی کوئی بات نہ کرے جس سے خالد کو دہشت ہو۔

ماما اور بیوی کو اسی قسم کی مزید ہدایات دیکر وہ ابھی بڑے دروازے سے باہر جا رہا تھا کہ خادم ایک دہشتناک خبر لایا کہ شہر کے لوگ بادشاہ کے منع کرنے پر بھی شام کے قریب ایک عام جلسہ کرنے والے ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ کوئی نہ کوئی واقع ضرور پیش آ کر رہے گا۔

خالد کا باپ یہ خبر سن کر بہت خوفزدہ ہوا، اب اسے یقین ہو گیا کہ فضا کا غیر معمولی سکون، طیاروں کی پرواز، بازاروں میں مسلح پولیس کی گشت، لوگوں کے چہروں پر اداسی کا عالم اور خوفناک آندھیوں کی آمد کسی خوفناک حادثہ کی پیش خیمہ تھے۔

وہ حادثہ کس نوعیت کا ہو گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔یہ خالد کے باپ کی طرح کسی کو بھی معلوم نہ تھا مگر پھر بھی سارا شہر کسی نامعلوم خوف میں لپٹا ہوا تھا۔

باہر جانے کے خیال کو ملتوی کر کے خالد کا باپ ابھی کپڑے تبدیل کرنے بھی نہ پایا تھا کہ طیاروں کا شور بلند ہوا وہ سہم گیا۔ اسے ایسا معلوم ہوا جیسے سینکڑوں انسان ہم آہنگ آواز میں درد کی شدت سے کراہ رہے ہیں۔

خالد طیاروں کا شور و غل سن کر اپنی ہوائی بندوق سنبھالتا ہوا کمرے سے باہر دوڑا آیا اور انہیں غور سے دیکھنے لگا تا کہ وہ جس وقت گولہ پھینکنے لگیں تو وہ اپنی بندوق کی مدد سے انہیں نیچے گرا دے۔ اس وقت چھ سال کے بچے کے چہرے پر آہنی ارادہ و استقلال کے آثار نمایاں تھے جو کم حقیقت بندوق کا کھلونا ہاتھ میں تھامے ایک جری سپاہی کو شرمندہ کر رہا تھا۔ معلوم ہوتا تھ کہ وہ آج اس چیز کو جو اسے عرصے سے خوفزدہ کر رہی تھی، مٹانے پر تلا ہوا ہے۔

خالد کے دیکھتے دیکھتے ایک جہاز سے کچھ چیز گری جو کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے مشابہ تھی۔ گرتے ہی یہ ٹکڑے ہوا میں پتنگوں کی طرح اڑنے لگے، ان میں سے چند خالد کے مکان کی بالائی چھت پر بھی گرے۔

خالد بھاگا ہوا اوپر گیا اور وہ کاغذ اٹھا لایا۔

"ابا جی، ماما سچ مچ جھوٹ بک رہی تھی۔ جہاز والوں نے تو گولوں کی بجائے یہ کاغذ پھینکے ہیں۔”

خالد کے باپ نے وہ کاغذ لیکر پڑھنا شروع کیا تو رنگ زرد ہو گیا، ہونیوالے حادثے کی تصویر اب اسے عیاں طور پر نظر آنے لگی۔ اس اشتہار میں صاف لکھا تھا کہ بادشاہ کسی جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر اسکی مرضی کے خلاف کوئی جلسہ کیا گیا تو نتائج کی ذمہ دار خود رعایا ہو گی۔

اپنے والد کو اشتہار پڑھنے کے بعد اس قدر حیران و پریشان دیکھ کر خالد نے گھبراتے ہوئے کہا۔ "اس کاغذ میں یہ تو نہیں لکھا کہ وہ ہمارے گھر پر گولے پھینکیں گے؟”

"خالد اس وقت تم جاؤ، جاؤ اپنی بندوق کے ساتھ کھیلو۔”

"مگر اس پر لکھا کیا ہے۔”

"لکھا ہے کہ آج شام کو ایک تماشا ہو گا۔” خالد کے باپ نے گفتگو کو مزید طول دینے کے خوف سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔

"تماشا ہو گا، پھر تو ہم بھی چلیں گے نا۔”

"کیا کہا۔”

"کیا اس تماشے میں آپ مجھے نہ لے چلیں گے؟”

"لے چلیں گے، اب جاؤ جا کر کھیلو۔”

"کہاں کھیلوں؟ بازار میں آپ جانے نہیں دیتے، ماما مجھ سے کھیلتی نہیں، میرا ہم جماعت طفیل بھی تو آج کل یہاں نہیں آتا، اب میں کھیلوں تو کس سے کھیلوں؟۔۔۔۔۔۔۔شام کے وقت تماشا دیکھنے تو ضرور چلیں گے نا؟”

کسی جواب کا انتظار کئے بغیر خالد کمرے سے باہر چلا گیا اور مختلف کمروں میں آوارہ پھرتا ہوا اپنے والد کی نشست گاہ میں پہنچا، جس کی کھڑکیاں بازار کی طرف کھلتی تھیں۔ کھڑکی کے قریب بیٹھ کر وہ بازار کی طرف جھانکنے لگا۔

کیا دیکھتا ہے کہ بازار میں دکانیں تو بند ہیں مگر آمد و رفت جاری ہے۔ لوگ جلسے میں شریک ہونے کے لئے جا رہے تھے۔ وہ سخت حیران تھا کہ دو تین روز سے دکانیں کیوں بند رہتی ہیں، اس مسئلہ کے حل کے لئے اس نے اپنے ننھے دماغ پر بہتیرا زور دیا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

بہت غور و فکر کرنے کے بعد اس نے یہ سوچا کہ لوگوں نے اس تماشا دیکھنے کی خاطر، جس کے اشتہار جہاز بانٹ رہے تھے، دکانیں بند کر رکھی ہیں۔ اب اس نے خیال کیا کہ وہ کوئی نہایت ہی دلچسپ تماشا ہو گا جس کے لیئے تمام بازار بند ہیں۔ اس خیال نے خالد کو سخت بے چین کر دیا اور وہ اس وقت کا نہایت بیقراری سے انتظار کرنے لگا جب اس کا ابا اسے تماشا دکھلانے کو لے چلے۔

وقت گزرتا گیا، وہ خونی گھڑی قریب تر آتی گئی۔

سہ پہر کا وقت تھا، خالد اسکا باپ اور والدہ صحن میں خاموش بیٹھے ایک دوسرے کی طرف خاموش نگاہوں سے تک رہے تھے، ہوا سسکیاں بھرتی ہوئی چل رہی تھی۔

تڑ۔ تڑ۔ تڑ۔ تڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ آواز سنتے ہی خالد کے باپ کے چہرے کا رنگ کاغذ کی طرح سفید ہو گیا، زبان سے بمشکل اس قدر کہہ سکا۔ "۔۔۔۔۔۔گولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

خالد کی ماں فرطِ خوف سے ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکی، گولی کا نام سنتے ہی اسے ایسا معلوم ہوا جیسے خود اسکی چھاتی سے گولی اتر رہی ہے۔

خالد اس آواز کو سنتے ہی اپنے والد کی انگلی پکڑ کر کہنے لگا۔ "ابا جی چلیں، تماشا تو شروع ہو گیا ہے۔”

"کونسا تماشا؟” خالد کے باپ نے اپنے خوف کو چھپاتے ہوئے کہا۔

"وہی تماشا جس کے اشتہار آج صبح بانٹ رہے تھے، کھیل شروع ہو گیا ہے، تبھی تو اتنے پٹاخوں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔”

"ابھی بہت وقت باقی ہے، تم شور مت کرو، خدا کے لیئے اب جاؤ، ماما کے پاس جا کر کھیلو۔”

خالد یہ سنتے ہی باورچی خانے کی طرف گیا مگر وہاں ماما کو نہ پا کر اپنے والد کی نشست گاہ میں چلا گیا اور کھڑکی سے بازار کی طرف دیکھنے لگا۔

بازار آمد و رفت بند ہو جانے کی وجہ سے سائیں سائیں کر رہا تھا، دور فاصلے سے کتوں کی دردناک چیخیں سنائی دے رہی تھیں، چند لمحات کے بعد ان چیخوں میں انسان کی دردناک آواز بھی شامل ہو گئی۔

خالد کسی کو کراہتے سن کر بہت حیران ہوا، ابھی وہ اس آواز کی جستجو کے لیئے کوشش ہی کر رہا تھا کہ چوک میں اسے ایک لڑکا دکھائی دیا، جو چیختا چلاتا بھاگتا چلا آ رہا تھا۔

خالد کے گھر کے عین مقابل وہ لڑکا لڑکھڑا کر گرا اور گرتے ہی بیہوش ہو گیا، اسکی پنڈلی پر ایک گہرا زخم تھا جس سے فواروں خون نکل رہا تھا۔

یہ سماں دیکھ کر خالد بہت خوفزدہ ہوا، بھاگ کر اپنے والد کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ "ابا، ابا، بازار میں ایک لڑکا گر پڑا ہے، اسکی ٹانگ سے بہت خون نکل رہا ہے۔”

یہ سنتے ہی خالد کا باپ کھڑکی کی طرف گیا اور دیکھا کہ واقعی ایک نوجوان لڑکا بازار میں اوندھے منہ پڑا ہے۔

بادشاہ کے خوف سے اسے جرأت نہ ہوئی کہ وہ اس لڑکے کو سڑک پر سے اٹھا کر سامنے والی دکان کے پٹڑے پر لٹا دے۔ بے ساز و برگ افراد کو اٹھانے کے لیئے حکومت کے اربابِ حل و عقد نے آہنی گاڑیاں مہیا کر رکھی ہیں۔ مگر اس معصوم بچے کی نعش جو انہی کے تیغِ ستم کا شکار تھی، وہ ننھا پودا جو انہی کے ہاتھوں مسلا گیا تھا، وہ کونپل جو کھلنے سے پہلے انہی کی عطا کردہ بادِ سموم سے جھلس گئی تھی، کسی کے دل کی راحت جو انہی کے جور و استبداد نے چھین لی تھی، اب انہی کی تیار کردہ سڑک پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ۔ موت بھیانک ہے مگر ظلم اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور بھیانک ہے۔

"ابا اس لڑکے کو کسی نے پیٹا ہے؟”

خالد کا باپ اثبات میں سر ہلاتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔

جب خالد اکیلا کمرے میں رہ گیا تو سوچنے لگا کہ اس لڑکے کو اتنے بڑے زخم سے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی جبکہ ایک دفعہ اسے قلم تراش کی نوک چبھنے سے تمام رات نیند نہ آئی تھی اور اسکا باپ اور ماں تمام رات اسکے سرہانے بیٹھے رہے تھے۔ اس خیال کے آتے ہی اسے ایسا معلوم ہونے لگا کہ وہ زخم خود اسکی پنڈلی میں ہے اور اس میں شدت کا درد ہے۔۔۔۔۔۔یکلخت وہ رونے لگا۔

اسکے رونے کی آواز سن کر اسکی والدہ دوڑی دوڑی آئی اور اسے گود میں لے کر پوچھنے لگی۔ "میرے بچے رو کیوں رہے ہو؟”

"امی اس لڑکے کو کسی نے مارا ہے؟”

"شرارت کی ہو گی اس نے۔”

خالد کی والدہ اپنے خاوند کی زبانی زخمی لڑکے کی داستان سن چکی تھی۔

"مگر سکول میں تو شرارت کرنے پر چھڑی سے سزا دیتے ہیں، لہو تو نہیں نکالتے۔” خالد نے روتے ہوئے اپنی والدہ سے کہا۔

"چھڑی زور سے لگ گئی ہو گی۔”

"تو پھر کیا اس لڑکے کا والد سکول میں جا کر اس استاد پر خفا نہ ہو گا جس نے اسکے لڑکے کو اس قدر مارا ہے۔ ایک روز ماسٹر صاحب نے میرے کان کھینچ کر سرخ کر دیئے تھے تو ابا جی نے ہیڈ ماسٹر کے پاس جا کر شکایت کی تھی نا۔”

"اس لڑکے کا ماسٹر بہت بڑا آدمی ہے۔”

"اللہ میاں سے بھی بڑا؟”

"نہیں ان سے چھوٹا ہے۔”

"تو پھر وہ اللہ میاں کے پاس شکایت کرے گا۔”

"خالد اب دیر ہو گئی ہے، چلو سوئیں۔”

"اللہ میاں میں دعا کرتا ہوں کہ تو اس ماسٹر کو جس نے اس لڑکے کو پیٹا ہے اچھی طرح سزا دے اور اس چھڑی کو چھین لے جسکے استعمال سے خون نکل آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے پہاڑے یاد نہیں کئے، اس لئے مجھے بھی ڈر ہے کہ کہیں وہی چھڑی میرے استاد کے ہاتھ نہ آ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم نے میری باتیں نہ مانیں تو پھر میں بھی تم سے نہ بولوں گا۔”

سوتے وقت خالد دل میں دعا مانگ رہا تھا۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نئے سال کی دستک
  • زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!
  • سرحدی کارروائیوں کی روشن مثال
  • منظور
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
روز ِ مولود سے، ساتھ اپنے ہوا، غم پیدا
پچھلی پوسٹ
ملاوٹ

متعلقہ پوسٹس

کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار

جنوری 18, 2026

پرانے خدا

اکتوبر 24, 2019

چھ بادشاہوں کی گوناگوں داستان!

مئی 30, 2021

مشہور شخصیات

مئی 24, 2024

مودی ناکام بیانیہ؛ بھارت کرپٹ ترین ملک قرار!

دسمبر 16, 2020

تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن

جنوری 15, 2026

گلاب ظالم

مئی 21, 2020

ایک خطرناک بیماری

جنوری 16, 2022

پھسلن

مئی 23, 2026

وہ جنت جو ظلم کے سائے میں دب گئی

اکتوبر 31, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مہتاب خاں

جنوری 15, 2020

’’بچوں کے اقبال‘‘ از پروفیسر خیال...

اکتوبر 25, 2025

27ویں ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت

نومبر 11, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں