خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانئے سال کی دستک
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

نئے سال کی دستک

از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2022
از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2022 0 تبصرے 70 مناظر
71

نئے سال کی دستک!

انسان کے نا شکرے ہونے سے کسی انسان کو انکار نہیں ہوسکتا ، تھوڑی سی ذہنی مشقت اس کائناتی سچائی پر قائل کرنے کیلئے کافی ثابت ہوگی ۔ ہم اگر کھوئی ہوئی چیزوں کا دکھ لے کر بیٹھ جائیں تو شائد اپنے کھوجانے تک اس دکھ میں ہی مبتلاء رہینگے ۔ اب تو دیوار پر لگے مہینوں کے بدلنے کا رواج بھی تقریباً دم توڑتا جا رہا ہے ۔ یہ وقت کی کمی کی ایک علامت سمجھی جاسکتی ہے کہ دیوار پر لٹکتا کلینڈر صفحے کی تبدیلی کا محتاج سارا سال انتظار میں ہی گھلتا رہتا ہے ۔ وقت کی رتھ ہمیشہ سے ہوا ہے لیکن اب اسکا ہم رکاب ہونا انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ ترقی کی اس دوڑ میں ان لوگوں نے بروقت سبقت لی جنہیں اس وقت کی تیزائی کا اندازہ قبل از وقت ہوگیا تھا، وہ اقوام جنکا نظم و ضبط اور اعلی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہونا انکی نسلوں کیلئے خیر کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ان قوموں کی خوش قسمتی رہی کے انکی ڈوریں ایسے رہنماءوں کے ہاتھوں میں رہیں جو ملک کیلئے اپنی سرزمین کے مخلص تھے جنہوں نے انسانیت کے منشور پر عمل پیرا ہوکر حکمت عملیا ں ترتیب دیں اور انہوں نے ہر قدم اپنی ملک کو مضبوط ومنظم کرنے کیلئے اٹھایا اور قوم نے انکا بھر پور ساتھ دیا ۔ یہ وہ قو میں ہیں جنہوں نے اپنے بہترین کل کیلئے اپنا آج قربان کیا، اپنی آسائشوں پر سمجھوتا کیا تاکہ انکی نسلیں بہترین آسائشوں سے لطف اندوز ہوسکیں ، جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اس کے برعکس ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔
وقت تقاضا کر رہا ہے کہ آج ہر پاکستانی خود کو یہ بتائے کے وہ جس کسی بھی پاکستانی سیاست دان کی مانتا ہے یا حمایت کرتا ہے اس کا بنیادی منشور کیا ہے ، سب سے پہلے تو یہ کہ، کیا وہ اس سیاسی قدآور شخصیت کے منشور سے آگاہ ہے اور دوسرا اہم ترین نقطہ یہ کہ کیا اس کا سیاسی قائد اپنی جماعت کے دئے گئے منشور پر عمل پیرا ہے(اس بات سے الغرض کے وہ منشور قومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے یا پھر ذاتی انا کی تسکین کی عکاسی پر مبنی ہے) کیا اس کی سیاسی جماعت کے عملی اقدامات اس منشور کے نفاذ کیلئے تگ و دو کرتی دیکھائی دی ۔ حقیقت میں ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی نا ہونے کی وجہ سے بے تحاشہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں شخصیات کی بنیاد پر وجود میں آچکی ہیں ۔ جو اس بات کی گواہی ہے کہ ملک کی بقاء و سلامتی پر افراد کی ذاتی ترویج کو فوقیت حاصل رہی ہے ، جو لوگوں کی بھوک و افلاس کا خوب فائدہ اٹھاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ چند سکوں اور ایک پلیٹ کھانے پر ووٹ جیسی قیمتی شے فروخت کر دی جاتی ہے ۔
ایک قمری سال کے ختم ہونے پر دوسرے قمری سال میں داخل ہونے پر اپنے تمام ہم وطنوں کواور جہاں کہیں بھی دنیا میں پاکستانی بستے ہیں یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں یا یہ فکر اجاگر کرنا چاہتا ہوں کے اپنی اپنی سیاسی عینکیں اتاریں اور تحریک پاکستان کے لئے اپنی جان ، مال ، عزت آبرو داءو پر لگانے والوں کا باقاعدہ سوچیں ، سوچئے اور نئی نسل کیساتھ تذکرہ کیجئے کہ کس طرح سے اس خطہ زمین کیلئے پاکستان کیلئے اپنی تمام تر عیش و عشرت چھوڑ کر آنے والے کیا اس ملک کو چور ، ڈاکوں اور لٹیروں کی آماجگاہ بنانا چاہتے تھے کیا ان کی قربانیاں اس لئے تھیں کے ہم عوام ہمیشہ نعرے لگاتے رہیں اور ڈنڈے کھاتے رہیں جبکہ جنکے لئے یہ سب کیا جائے وہ اپنی زندگیاں عیش عشرت سے بسر کرتے رہیں ۔ نہیں اہل وطن انکی قربانیاں مساوات کیلئے تھیں انکی قربانیاں اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کیلئے تھیں ۔ کیا ہم سب نے نہیں پڑھا کے جب محمد علی جناح ;231; سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں کونسا نظام ِ حکومت تشکیل دیا جائے گا تو انہوں نے واشگاف الفاظ میں اس بات کی تردید کردی تھی کے ہمارا نظام ۰۰۴۱ سال پہلے واضح کردیا گیا ہے یعنی اسلامی نظام ۔ ہ میں ہمیشہ اس نظام سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور یہی سیاسی لوگ جن کی نسلوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دشمن کے آلہ کار بن کر عوام کو پاکستانی کی الوالعزم عوام کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے رکھا جائے تاکہ یہ اپنے بنیادی مفاد کی جانب دھیان ہی نا دے سکیں ۔
ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کیوں یہ قوم ناموس رسالت ﷺ پر ایک آواز میں بولتی ہے کیوں یہ قوم اسلام کے خلاف دنیا میں کہیں بھی کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو غم و غصے میں مبتلاء ہوجاتی ہے ، یہ قوم کیوں بھول جاتی ہے کہ اس کی زبان ساتھ کھڑے مسلمان سے مختلف ہے ، یہ کیوں علاقائی تقسیم کو نظرانداز کردیتی ہے ، یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ خمیر میں تو کچھ اور شامل ہے بس موسموں کی رنگینیوں سے مرعوب ہوگئے ہیں مغرب کی تہذیب میں گم ہوگئے ہیں لیکن ابھی جسم کا خمیر جو روح کا اسیر ہے اورتند و تیز ہواءوں کی زد میں جھک گیا ہے لیکن حقیت یہ ہے کہ بدلا نہیں ہے ۔ وقت بہت تیز ی سے گزر رہا ہے اور ہم اتنی ہی تیزی سے اپنے اپنے آخری وقت کی طرف دوڑ رہے ہیں ۔ اس تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کا تقاضا ہے کہ صحیح فیصلے بروقت کئے جائیں ۔ گزرتے ہوئے سال کیساتھ ایک یقین سا خیال امید کی امنگوں کو مزید تقویت دے رہا ہے کہ ہم پاکستانیوں کیلئے بہت جلد ایک اور عظیم معجزہ رونما ہونے والا ہے جو ہمار ے ملک کو درپیش مشکلات کو ایسے غائب کردیگا جیسے یہ کبھی تھیں ہی نہیں ، اس معجزے کے رونما ہونے کہ یقین کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کے مزاج کی مستقل مزاجی ہے ،مسائل کے ممکنہ حل کیلئے مسلسل جدوجہد ہے ، ریاست مدینہ کو عملی نمونہ سمجھنا اور ان سب سے بڑھ کر اللہ رب العزت پر کامل یقین ہے ، جسے وہ پہلے دن سے عوام میں اجاگر کرنے کی کوششوں میں برسر پیکار ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی بلدیاتی انتخابات میں شکست ، درحقیقت ایک ایسے نظام کی فتح ہے جس نے حکومت میں ہونے والی جماعت کو شکست تسلیم کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے اور اس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی اعلی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا ہے ۔ یہ اسی تبدیلی کی ابتداء ہے جس کے نعرے ہم پاکستانی پچھلی ایک دہائی سے سنتے آرہے ہیں ۔
آپ پاکستان تحریک انصاف کے حماءتی نا ہوں لیکن اپنے آپ سے صدق دل سے یہ سوال کیجئے کہ کیا آپ پاکستان کے بھی حماءتی نہیں ہیں ۔ ایک پاکستانی کا پاکستان کیلئے دل میں تکلیف کا محسوس نا کرنا اسکے پاکستانی نا ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے ۔ اگر پاکستانی ہیں تو پاکستان کی بقاء کیلئے اور ہماری آنے والی نسلوں کیلئے پاکستان کے ساتھ خیر خواہی کرنے والوں کی نشاندہی آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اب معاملہ ایک ووٹ سے کہیں آگے نکل چکا ہے اب وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ کے زاویوں کو تبدیل کریں ، انفرادیت سے باہر آئیں اور اجتماعیت کو فروغ دیں جو کہ پاکستان کی فلاح و بہبود کیلئے ہمیشہ سے ہی بہت ضروری تھا، لیکن اب بدلاءو کا وقت شروع ہوچکا ہے ۔ ہر دن کا نیا سورج نئی امیدوں کو یقین میں بدلنے کیلئے طلوع ہوتا ہے ۔ ہ میں یقین ہے کہ نئے سال کا سورج بھی ہم پاکستانیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے کامیابیوں اور کامرانیوں کا سال ثابت ہوگا اللہ ہ میں اب کسی ایسی آٖت میں مبتلاء نہیں ہونے دینگے جس کو دعوت نامہ ہم پہلے سے ہی بھیج چکے ہیں ۔ اللہ کرے نئے سال کی دستک کو ہم بدلاءو کیلئے محسوس کریں اور ایک اچھے سچے مسلمان بننے کا عہد کریں اور نبی پاک ﷺ کی کسی ایک سنت کو عملی طور پر اپنائیں ، یہاں اشفاق صاحب ;231;کی دعا پر مضمون کا اور ۱۲۰۲ کا اختتام کرونگا کہ اللہ تعالی ہ میں آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گزرے دن رات بھول جاتے ہیں
  • سوراج کے لیے
  • سہ ماہی رسالہ گلوبل وادیٕ سخن
  • پریوں کی باتیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قصہ ہست و بود سے آگے نکل گیا
پچھلی پوسٹ
گند منٹو اور میرے ذہن کا

متعلقہ پوسٹس

اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے

اکتوبر 27, 2020

مقصد حیات

جون 20, 2024

امن

اکتوبر 12, 2025

کم سے کم ساتھ چل رہا ہے وہ

نومبر 22, 2022

پس منظر کی اوٹ سے

نومبر 19, 2021

رکھیں گے دل کے قریں تم کو

نومبر 16, 2025

دل کے جذبات کو تُو رونقِ صحرا نہ بنا

اکتوبر 12, 2025

میں اور تم

ستمبر 24, 2021

مذہب کا مسئلہ

جنوری 4, 2022

عالمی دیگ

مارچ 1, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام...

اپریل 18, 2026

بچھڑ کہ تجھ سے کہاں تک

اپریل 24, 2022

سوچتے رہنے کی ازیت سے بھی...

مئی 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں