خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانئے سال کی دستک
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

نئے سال کی دستک

از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2022
از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2022 0 تبصرے 54 مناظر
55

نئے سال کی دستک!

انسان کے نا شکرے ہونے سے کسی انسان کو انکار نہیں ہوسکتا ، تھوڑی سی ذہنی مشقت اس کائناتی سچائی پر قائل کرنے کیلئے کافی ثابت ہوگی ۔ ہم اگر کھوئی ہوئی چیزوں کا دکھ لے کر بیٹھ جائیں تو شائد اپنے کھوجانے تک اس دکھ میں ہی مبتلاء رہینگے ۔ اب تو دیوار پر لگے مہینوں کے بدلنے کا رواج بھی تقریباً دم توڑتا جا رہا ہے ۔ یہ وقت کی کمی کی ایک علامت سمجھی جاسکتی ہے کہ دیوار پر لٹکتا کلینڈر صفحے کی تبدیلی کا محتاج سارا سال انتظار میں ہی گھلتا رہتا ہے ۔ وقت کی رتھ ہمیشہ سے ہوا ہے لیکن اب اسکا ہم رکاب ہونا انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ ترقی کی اس دوڑ میں ان لوگوں نے بروقت سبقت لی جنہیں اس وقت کی تیزائی کا اندازہ قبل از وقت ہوگیا تھا، وہ اقوام جنکا نظم و ضبط اور اعلی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہونا انکی نسلوں کیلئے خیر کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ان قوموں کی خوش قسمتی رہی کے انکی ڈوریں ایسے رہنماءوں کے ہاتھوں میں رہیں جو ملک کیلئے اپنی سرزمین کے مخلص تھے جنہوں نے انسانیت کے منشور پر عمل پیرا ہوکر حکمت عملیا ں ترتیب دیں اور انہوں نے ہر قدم اپنی ملک کو مضبوط ومنظم کرنے کیلئے اٹھایا اور قوم نے انکا بھر پور ساتھ دیا ۔ یہ وہ قو میں ہیں جنہوں نے اپنے بہترین کل کیلئے اپنا آج قربان کیا، اپنی آسائشوں پر سمجھوتا کیا تاکہ انکی نسلیں بہترین آسائشوں سے لطف اندوز ہوسکیں ، جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اس کے برعکس ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔
وقت تقاضا کر رہا ہے کہ آج ہر پاکستانی خود کو یہ بتائے کے وہ جس کسی بھی پاکستانی سیاست دان کی مانتا ہے یا حمایت کرتا ہے اس کا بنیادی منشور کیا ہے ، سب سے پہلے تو یہ کہ، کیا وہ اس سیاسی قدآور شخصیت کے منشور سے آگاہ ہے اور دوسرا اہم ترین نقطہ یہ کہ کیا اس کا سیاسی قائد اپنی جماعت کے دئے گئے منشور پر عمل پیرا ہے(اس بات سے الغرض کے وہ منشور قومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے یا پھر ذاتی انا کی تسکین کی عکاسی پر مبنی ہے) کیا اس کی سیاسی جماعت کے عملی اقدامات اس منشور کے نفاذ کیلئے تگ و دو کرتی دیکھائی دی ۔ حقیقت میں ہمارے ملک میں قانون کی بالادستی نا ہونے کی وجہ سے بے تحاشہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں شخصیات کی بنیاد پر وجود میں آچکی ہیں ۔ جو اس بات کی گواہی ہے کہ ملک کی بقاء و سلامتی پر افراد کی ذاتی ترویج کو فوقیت حاصل رہی ہے ، جو لوگوں کی بھوک و افلاس کا خوب فائدہ اٹھاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ چند سکوں اور ایک پلیٹ کھانے پر ووٹ جیسی قیمتی شے فروخت کر دی جاتی ہے ۔
ایک قمری سال کے ختم ہونے پر دوسرے قمری سال میں داخل ہونے پر اپنے تمام ہم وطنوں کواور جہاں کہیں بھی دنیا میں پاکستانی بستے ہیں یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں یا یہ فکر اجاگر کرنا چاہتا ہوں کے اپنی اپنی سیاسی عینکیں اتاریں اور تحریک پاکستان کے لئے اپنی جان ، مال ، عزت آبرو داءو پر لگانے والوں کا باقاعدہ سوچیں ، سوچئے اور نئی نسل کیساتھ تذکرہ کیجئے کہ کس طرح سے اس خطہ زمین کیلئے پاکستان کیلئے اپنی تمام تر عیش و عشرت چھوڑ کر آنے والے کیا اس ملک کو چور ، ڈاکوں اور لٹیروں کی آماجگاہ بنانا چاہتے تھے کیا ان کی قربانیاں اس لئے تھیں کے ہم عوام ہمیشہ نعرے لگاتے رہیں اور ڈنڈے کھاتے رہیں جبکہ جنکے لئے یہ سب کیا جائے وہ اپنی زندگیاں عیش عشرت سے بسر کرتے رہیں ۔ نہیں اہل وطن انکی قربانیاں مساوات کیلئے تھیں انکی قربانیاں اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کیلئے تھیں ۔ کیا ہم سب نے نہیں پڑھا کے جب محمد علی جناح ;231; سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں کونسا نظام ِ حکومت تشکیل دیا جائے گا تو انہوں نے واشگاف الفاظ میں اس بات کی تردید کردی تھی کے ہمارا نظام ۰۰۴۱ سال پہلے واضح کردیا گیا ہے یعنی اسلامی نظام ۔ ہ میں ہمیشہ اس نظام سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور یہی سیاسی لوگ جن کی نسلوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دشمن کے آلہ کار بن کر عوام کو پاکستانی کی الوالعزم عوام کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے رکھا جائے تاکہ یہ اپنے بنیادی مفاد کی جانب دھیان ہی نا دے سکیں ۔
ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کیوں یہ قوم ناموس رسالت ﷺ پر ایک آواز میں بولتی ہے کیوں یہ قوم اسلام کے خلاف دنیا میں کہیں بھی کوئی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو غم و غصے میں مبتلاء ہوجاتی ہے ، یہ قوم کیوں بھول جاتی ہے کہ اس کی زبان ساتھ کھڑے مسلمان سے مختلف ہے ، یہ کیوں علاقائی تقسیم کو نظرانداز کردیتی ہے ، یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ خمیر میں تو کچھ اور شامل ہے بس موسموں کی رنگینیوں سے مرعوب ہوگئے ہیں مغرب کی تہذیب میں گم ہوگئے ہیں لیکن ابھی جسم کا خمیر جو روح کا اسیر ہے اورتند و تیز ہواءوں کی زد میں جھک گیا ہے لیکن حقیت یہ ہے کہ بدلا نہیں ہے ۔ وقت بہت تیز ی سے گزر رہا ہے اور ہم اتنی ہی تیزی سے اپنے اپنے آخری وقت کی طرف دوڑ رہے ہیں ۔ اس تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کا تقاضا ہے کہ صحیح فیصلے بروقت کئے جائیں ۔ گزرتے ہوئے سال کیساتھ ایک یقین سا خیال امید کی امنگوں کو مزید تقویت دے رہا ہے کہ ہم پاکستانیوں کیلئے بہت جلد ایک اور عظیم معجزہ رونما ہونے والا ہے جو ہمار ے ملک کو درپیش مشکلات کو ایسے غائب کردیگا جیسے یہ کبھی تھیں ہی نہیں ، اس معجزے کے رونما ہونے کہ یقین کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کے مزاج کی مستقل مزاجی ہے ،مسائل کے ممکنہ حل کیلئے مسلسل جدوجہد ہے ، ریاست مدینہ کو عملی نمونہ سمجھنا اور ان سب سے بڑھ کر اللہ رب العزت پر کامل یقین ہے ، جسے وہ پہلے دن سے عوام میں اجاگر کرنے کی کوششوں میں برسر پیکار ہیں ۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی بلدیاتی انتخابات میں شکست ، درحقیقت ایک ایسے نظام کی فتح ہے جس نے حکومت میں ہونے والی جماعت کو شکست تسلیم کرنے پر آمادہ کر رکھا ہے اور اس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی اعلی قیادت کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کردیا ہے ۔ یہ اسی تبدیلی کی ابتداء ہے جس کے نعرے ہم پاکستانی پچھلی ایک دہائی سے سنتے آرہے ہیں ۔
آپ پاکستان تحریک انصاف کے حماءتی نا ہوں لیکن اپنے آپ سے صدق دل سے یہ سوال کیجئے کہ کیا آپ پاکستان کے بھی حماءتی نہیں ہیں ۔ ایک پاکستانی کا پاکستان کیلئے دل میں تکلیف کا محسوس نا کرنا اسکے پاکستانی نا ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے ۔ اگر پاکستانی ہیں تو پاکستان کی بقاء کیلئے اور ہماری آنے والی نسلوں کیلئے پاکستان کے ساتھ خیر خواہی کرنے والوں کی نشاندہی آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اب معاملہ ایک ووٹ سے کہیں آگے نکل چکا ہے اب وقت ہے کہ ہم اپنی سوچ کے زاویوں کو تبدیل کریں ، انفرادیت سے باہر آئیں اور اجتماعیت کو فروغ دیں جو کہ پاکستان کی فلاح و بہبود کیلئے ہمیشہ سے ہی بہت ضروری تھا، لیکن اب بدلاءو کا وقت شروع ہوچکا ہے ۔ ہر دن کا نیا سورج نئی امیدوں کو یقین میں بدلنے کیلئے طلوع ہوتا ہے ۔ ہ میں یقین ہے کہ نئے سال کا سورج بھی ہم پاکستانیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے کامیابیوں اور کامرانیوں کا سال ثابت ہوگا اللہ ہ میں اب کسی ایسی آٖت میں مبتلاء نہیں ہونے دینگے جس کو دعوت نامہ ہم پہلے سے ہی بھیج چکے ہیں ۔ اللہ کرے نئے سال کی دستک کو ہم بدلاءو کیلئے محسوس کریں اور ایک اچھے سچے مسلمان بننے کا عہد کریں اور نبی پاک ﷺ کی کسی ایک سنت کو عملی طور پر اپنائیں ، یہاں اشفاق صاحب ;231;کی دعا پر مضمون کا اور ۱۲۰۲ کا اختتام کرونگا کہ اللہ تعالی ہ میں آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز
  • دل میں ہے احترام رسولِ کریمؐ کا
  • شعلۂ عشق کے اسرار
  • کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قصہ ہست و بود سے آگے نکل گیا
پچھلی پوسٹ
گند منٹو اور میرے ذہن کا

متعلقہ پوسٹس

کوئی آواز

جنوری 30, 2023

جو رہ گئے ہیں وہ سارے نقاب اُتریں گے

مارچ 5, 2023

اب اور تب

جنوری 25, 2020

مت دکھانا کسی کو کوٸی قبالہ صاحب

جولائی 28, 2020

سعادت حسن منٹو

اکتوبر 9, 2022

کیا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ؟

اپریل 19, 2026

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 13, 2024

عداوت کی نشانی چل رہی ہے

مئی 21, 2020

ہائے یہ خُود ساختہ معیارات

اپریل 27, 2020

انتظار ایسے کسی شخص کا کر جاؤں گا

نومبر 4, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مختار مسعود کی تحریریں

ستمبر 22, 2025

شاہد ذکی کی شاعری

جنوری 23, 2020

مسلمان بننا نہیں، مسلمان دکھنا چاہتے...

مارچ 23, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں