خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباگند منٹو اور میرے ذہن کا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

گند منٹو اور میرے ذہن کا

از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2022
از سائیٹ ایڈمن جنوری 1, 2022 0 تبصرے 65 مناظر
66

میرے ایک بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے ،سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا ۔روز کا ساتھ تھا اورروح کا تعلق تھا ،اس لئے آج بھی وہ ہر وقت میرے دماغ میں رہتے ہیں ۔ ان کے لئے دعائے مغفرت کرتی ہوں، اور ان کی روح سے کھبی کھبار دل کی باتیں کر لیتی ہوں ۔ آج جب میڈیا میں چاہے پاکستانی ہو یا کینڈا کا ، ہر طرف جنسی سیکنڈل اور جنسی زیادتیوں کی خبریں پڑھ رہی ہوں تو دل کر رہا ہے اپنے اس دوست سے پو چھوں بتاؤ جو تم کہتے تھے کہ گندا معاشرہ نہیں بلکہ گند منٹو کے ذہن میں تھا اور تم منٹو پڑھ پڑھ کر اتنا ہی گندا سوچتی ہو ۔
کاش ! گند صرف منٹو اور میرے ذہنوں میں ہو تا تو آج زینب پارکوں میں تتلیوں کے پیچھے زندہ سلامت بھاگ رہی ہوتی ، اس کے قہقے فضاؤں کا حصہ ہو تے ۔ اور وہ کچرا کنڈی جس سے سبز آنکھوں والی پری کی زیادتی کے بعد لاش ملی ہے ، اس کا کہیں وجود نہ ہوتا بلکہ وہاں ایک پینگ ہوتی ، جس پر بیٹھ کر زینب ،کثافت سے پاک ہواؤں میں اڑتی،اور اسے جھولا دینے والے ہاتھ ، کسی بھی رشتے دار یا محلے دار انکل کے ہوتے۔
کاش! گند صرف میرے اور منٹو کے ذہنوں میں ہوتا تو آج قصور کے ۳۰۰ بچوں کی گندی ویڈیوز دنیا کی ڈارک ویب سائٹ کا حصہ نہ ہو تیں ۔ بلکہ ان بچوں کی ضرورتیں پوری کر نے کے لئے یہ صاف ستھری دنیا ،اکٹھی ہو کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتی اور کہتی ۔۔آؤ بچو!سنو کہانی ایک تھا راجہ ایک تھی رانی۔۔۔۔ اور ان بچوں کو ان کے خوابوں کی قیمت جو ایک چھوٹی سی ٹافی سے لے کرایک بڑا آدمی بننے تک ہو تی ہے، اپنے لہولہان جسم سے ادا نہ کر نی پڑتی ۔
میں ایف ایس کی طالبہ تھی ، جب پہلی دفعہ منٹو کی وہ کہانی پڑھی جس میں سگا باپ ، ماں کے مرنے کے بعد اپنی ہی بیٹی کے ساتھ جنسی تعلق رکھتا ہے ، تو پڑھ کر لگا جیسے کسی نے جسم سے روح کھینچ لی ہو ، یہ بوجھ اکیلی نہ اٹھا سکی ، ۲۵ لڑکیوں کی کلاس میں ،بائیولوجی کی کلاس شروع ہو نے سے پہلے ،ڈائس پر کھڑے ہو کر یہ کہانی سب کو سنا ڈالی ، بغیر یہ سوچے کہ کون کیا سوچے گی ۔۔ٹیچر نے داخل ہو تے ہو تے شائد ، کچھ حصہ یا میرا بے لاگ تبصرہ سن لیا ، بظاہر خاموش رہی ، لیکن کلاس شروع ہو تے ہی ، مجھ پر ایسی نگاہ ڈالی جیسے میں نے کو ئی بہت شرمناک حرکت کی ہو ،اور میں بھی سولہ سال کی بچی ہی تو تھی ، اندر تک سہم گئی ۔ اسی الزام دیتی نظر کے ساتھ ٹیچر نے مجھ سے کوئی سوال کیا ، میں گھبرا گئی ، جواب آتا بھی تھا ، مگر دے نہ سکی ، نتیجتاً کلاس سے نکال دی گئی اور بعد میں میری بیسٹ فرینڈ جو کہ گرلزہائی سکول کی پرنسپل کی بیٹی تھی ، اسے بلا کر کہا کہ اس لڑکی سے فورا دوستی چھوڑ دو ۔۔ اُس دوپٹے میں لپٹی بائیو جیسا مضمون پڑھاتی ٹیچر کو بھی ، میرے مرحوم دوست کی طرح لگا کہ فحش منٹو کو پڑھنے اور اس کی جنسی آلودگی میں ڈوبی کہانی کو ، کلاس میں سنا کر ، اور اپنی حیرت اور پریشانی اپنی ہم عمروں سے شئیر کر نے والی لڑکی سب کا ذہن گندا کر دے گی ۔میں یہ توہین ، سالوں تک نہ بھول سکی ، اور میرے کچے ذہن نے یہ اثر قبول کیا کہ ، ایسی باتیں پڑھنا ، سوچنا یا ان کی آگاہی دوسروں کو دینا ایک ایسی بری حرکت ہے جس کی سزا سنگساری بھی ہو سکتی ہے ۔
عمران نامی درندہ ، جس نے اس پھول کو نوچا ، وہ ایسے ہی denialمیں ڈوبے معاشرے کا فائدہ اٹھانے والے اُن psychopathsجیساہے ، جو اپنے چہرے پر درویشی اور معصومیت کا ماسک لگائے نہ جانے کتنے معصوم جسموں اور روحوں کو لہولہان کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پیارے پیغمبر ؐ کی نعتیں پڑھتا ،یہ نعت خواں کھبی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکتا اگر حالتِ انکار میں رہنے والا ہمارا معاشرہ ،ایسے لوگوں کو بے نقاب کر نے اور ان کا بائیکاٹ کر نے کے قابل ہو تا ، مگر افسوس صد افسوس ، ہم سب جانتے ہو ئے بھی ، آنکھیں بند کئے ، حقیقت سے نظریں چراتے اپنے کسی بھی ذاتی مطلب یا خوف کے ہاتھوں مجبور ہو کر خاموش رہتے ہیں ۔ اسی منافقت کا نتیجہ ہے کہ مغرب کی مخالفت کر نے والے مولویوں کی اولادیں مغرب کے ہی تعلیم یافتہ ہیں ۔فوجیوں کی اولادیں امریکہ یا انڈیا کی ایجنٹ ہیں ۔ کھبی نہ بکنے والے صحافیوں کی اولادیں مہنگے داموں بکتی ہیں ۔مصلحت کے نام پر دھوکہ معمول بن چکا ہے اور سیاست دان ہی نہیں سب کے سب بے شرمی سے ہر قسم کی اخلاقی گراوٹ کا شکا ر ہیں ۔ کیوں کے دامن کون پکڑے ۔۔ ؟ سب کے سب داغ دار دامن والی قمیضیں پہنے فخر سے گھومتے ہیں ؟ کون بچا ہے جس کے دامن پر داغ نہ ہو ؟ زینب کے لٹنے کی ،مرنے کی کہانی ، دھڑا دھڑ بک رہی ہے ایک کالمنسٹ نے اس پر لکھا ۔۔اس ہو شربا کہانی کا اگلا حصہ اگلے کالم میں پڑھیں۔
کاش گند صرف منٹو اور میرے ذہن میں ہو تا تو ، آج امریکہ کا اولمپکس ڈاکٹر LARRY NASSARٹین ایج بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی یا انہیں ہراساں کرنے کی ۱۷۵ سال کی سزا نہ پا تا ۔ امریکہ جیسا ملک، ڈاکٹر جیسا عہدہ,اگر وہاں یہ سب ہو سکتا ہے تو کہاں نہیں ہو سکتا ۔۲۰۰۰ اولمپکس برونز میڈلسٹDantzscher جو کہ اب 35سال کی ہے نے عدالت میں جو کچھ کہا وہ دھیان سے سننے اور یاد رکھنے کے قابل ہے ۔ جس سے ہم اپنی معصوم بچیوں ، ٹین ایجرز لڑکیوں اور جاب کرتی خواتین کو ،عمران جیسے گھناؤنے کرداروں سے بچا سکتے ہیں ۔
“اسے یہ لگا کہ ڈاکٹر اس کا guardian angel.ہے۔ اپنے بیان میں اس نے مذید کہا :کہ ڈاکٹربہت مہربان،ہمدرد اور ہر وقت مدد کے لئے تیا ر نظر آتا تھا ، اور اولمپکس کے abusiveاور سخت ماحول میں ، وہ ایک ایسا فرشتہ نظر آتا تھا ، جس پر میں نے بغیر کسی دقت کے اعتبار کیا ۔ کیونکہ وہ دوست کی طرح تھا ، ایک bright lightجب کہ اس وقت میں خوفزدہ رہتی تھی ، کھبی اپنے زخمی ہو نے سے کھبی ہار جانے سے کھبی لوگوں کے رویوں سے ۔۔ وہ مجھے ہنساتا تھا ، اور مجھے لڑکپن میں لگتا تھا ، کہ وہی ایک واحد انسان ہے جس پر میں اعتبار کر سکتی ہوں اور جو میرے خواب پو رے کرنے میں مدد کر ے گا ۔ اور جو مجھے سمجھتا ہے اور ہر مشکل میں میرے ساتھ کھڑا ہو گا ۔ وہ مجھے کہتا تھا All are horribles۔میں اس پر اتنا اعتبار کرتی تھی کہ وہ گلوز کے بغیر میرے پرائیویٹ پارٹس کو چھوتا تھا ، تو میں اس کی نیت پر تب بھی شک نہیں کرتی تھی ۔ اور اسے میڈیکل طریقہ کار کا حصہ سمجھتی تھی ۔۔ یہ تو بہت سال بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ جو کچھ میرے ساتھ چیک اپ کے نام پر کرتا رہا تھا ، وہ سب غلط تھا ۔
اور میں نے ان دو درجن خواتین جو ، اس درندے کے خلاف آگے آئی ہیں ، ان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ، جب میں نے تصور کی آنکھ سے اپنی بھانجیوں کو ، ایسے ہی مہربان اور ہمدرد کا روپ بھرے بہروپئے کے ہاتھوں molestہوتے دیکھا ۔ میرے آگے آنے اورحقیقت بتانے کی صرف یہی وجہ ہے کہ میں معصوم اتھیلیٹ لڑکیوں کو ایسے شکاریوں سے بچانا چاہتی ہوں ، جو آنکھوں میں خواب لئے آتی ہیں اور خاموشی سے یہ سمجھ بیٹھتی ہیں کہ اس سب عذاب سے گذرے بغیر ایتھلیٹ بننے کا خواب پورا نہیں ہو گا ۔ ”
Dantzscherکا LARRY NASSAR کے خلاف یہ عدالتی بیان ، اوزینب کے مجرم کا میڈیا میں پیش ہو نے والا کردار ، ان میں مشابہت ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ، وہ صاف ظاہر ہے ۔
جذبات ہوں یا خواب یا چاکلیٹ ، ان کا لالچ دے کر لوٹنے والے ،sympatheticنہیں manipulativeہوتے ہیں ۔ ہمدرد کے روپ میں ہی ، لٹیرے اپنا کام باآسانی کر سکتے ہیں ۔ اعتماد کی فصل بو کر ہی اپنی مرضی کا پھل اگاتے ہیں ۔ میرے مرحوم دوست کی طرح
DENIALمیں مت رہیں ۔ اور آنکھیں بند کر کے یہ کہہ کر خود کو مطئمن نہ کر لیں کہ” گند منٹو کے اور تمھارے ذہن میں ہے ، تم کس دنیا میں رہتی ہو، میری دنیا میں تو یہ نہیں ہوتا ۔ ”
یہ بات وہی لوگ کہہ سکتے ہیں جو حالتِ انکار میں ہیں یاشائد خود بھی اسی کا ایک حصہ ہیں

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خواتین کی محفل
  • کتنے پل صراط
  • محبت کے بادل
  • یوں ہم سے نگاہیں نہ چرایا کرو جاناں !
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
نئے سال کی دستک
پچھلی پوسٹ
محروم چئیو کھبی نہیں مرتی

متعلقہ پوسٹس

آس پر مر مٹے تھے سارے خواب

نومبر 30, 2021

سنبھالے گا ہمیں کیا غم ہمارا

جون 12, 2020

ہوا آئی نہ ایندھن آ رہا ہے

جون 6, 2020

گاجر کا رس

جنوری 7, 2020

آنکھوں کے راز اور خول

مارچ 24, 2026

اختیار

مئی 19, 2020

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

اکتوبر 24, 2021

سکون کی آغوش

دسمبر 15, 2024

مشہور شخصیات

مئی 24, 2024

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دھان کی بذریعہ بیج براہِ راست...

مئی 21, 2024

پھوجا حرام دا

جنوری 25, 2020

عشق لگتا ہے مجھکو گوہر سا

اکتوبر 15, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں