خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآنکھوں کے راز اور خول
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسبین علی

آنکھوں کے راز اور خول

از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026 0 تبصرے 68 مناظر
69

دو سیاہ آنکھوں نے مجھ پر ایک کہانی لکھنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ میں ٹیب ہاتھ میں لیے لکھنے بیٹھی ہوں اور ان کالی سیاہ آنکھوں کی تحریر کے پیچھے خیالات کا ایک سیل رواں ہے کہ بند توڑ کر بہتا چلا آ رہا ہے۔ کئی بار کہانی خود کو لکھواتی ہے جیسے بارش خود بخود برسنے لگ جاتی ہے مگر کئی بار کہانی لکھنے سے قبل یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا لکھیں؟ ہمارے ارد گرد ہر انسان ایک ماسٹر پیس کہانی ہے اور ہر چہرہ ایک شاہکار پینٹینگ۔ ہاں مگر چہرے صرف مصوری کے نمونے ہی نہیں بلکہ سبھی چہرے ایک راز ہیں اور آنکھیں وہ روزن جن سے کئی بار اندر کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔ ہر انسان اپنے اوپر کئی خول چڑھائے پھرتا یے۔ کیا ضروری ہے کہ ان خولوں کو منافقت یا الگ الگ چہروں کے خول سمجھا جائے۔ بس کچھ ایسا ہر ذی روح کے اندر موجود ہے جو وہ پبلک نہیں کرنا چاہتا بلکہ شاید کسی کو بھی وہ سب دکھانا نہیں چاہتا۔
مصنف بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ادھر ادھر کی باتیں لکھیں گے، نظریات کے خول میں چھپیں گے۔ علامتوں استعاروں میں ملفوف ہونے کی کوشش کریں گے۔ مگر کئی بار شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے اندرون کی ایک ہلکی سی درز کھول کر محض چند کرنوں کو باہر کی راہ دکھا دیتے ہیں۔

پھر بہت واہ واہ ہوتی ہے۔ جی ہاں یہ آپ سب کے ساتھ ہوا ہوگا کہ آپ کی توقع کے برعکس کسی سادہ سی اور عام سی تحریر کو بڑی پزیرائی مل جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم اپنے خول کے اندر جو سنبھالے بیٹھے ہیں کیا دیگر سب لوگوں کے اندر بھی کچھ ویسا ہی ہے؟ لوگ اس تحریر کو پسند کرتے ہیں وہ وہ خود لکھنا چاہتے تھے مگر بوجوہ لکھ نہیں پاتے۔ جب کوئی اور وہی سب لکھ دیتا ہے تو کیسی طمانیت ملتی ہے۔ شاید وہ طمانیت اپنے اندر کا خول برقرار رہ جانے کی بھی ہوتی ہے۔

سننے اور پڑھنے والا کس طرح دل سے نکلی آواز اور تحریر کو پہچان جاتا ہے؟ پھر وہی سوال کیا کہ اتنے تنوع میں جہاں انگلیوں کی پوریں تک نہیں ملتی آنکھوں کے نمونے نہیں ملتے پھر بھی ہم سب کے اندر اگر کچھ مشترک سا ہے تو وہ کیا ہے؟
وہ بہت دلیر اور بڑے ادیب ہوتے ہیں یا بہت عام سے لوگ بھی جو اس اپنے اس فطری خول میں سے ایک کھڑکی کھول سکتے ہیں اور اس کھڑکی سے نکل کر ہزاروں لوگوں کے دلوں میں نہاں خانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان عام سے لوگوں کی خاص سی آنکھیں وہ روزن ہیں جو من کے اندر چھپے راز آشکار کرتی ہیں اور محسوسات کی ترسیل بھی۔

میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹوران میں کھانے کا آڈر دینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ اپنے قریب کھڑی ایک لڑکی جس کی عمر پندرہ سولہ سال ہوگی کے چہرے نے مجھے کسی مقناطیس کی مانند اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
اتنا سیاہ چہرہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے تقریبا ہر افریقی نسل کے لوگ دیکھے ہیں۔ میانہ قد چپٹی ناک والوں سے لے کر طویل قامت اور حی الجثہ سیاہ فام جن کی رنگت کے شیڈ براٶن کافی، کاکاٶ سے لے کر سیاہی مائل تک ہوتے ہیں۔ مگر اتنی چمکیلی سیاہ رنگت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ شاید اس کی جلد میں میلانن کے سب سے زیادہ پگمنٹ ہوں گے۔ مجھے کالے چہروں سے بے زاری نہیں ہوتی مگر مجھے یہ تسلیم کر لینے دیجیے کہ ایسا ہمیشہ سے نہ تھا۔ امی جی نے مجھے ایک بار کہا تھا کہ کسی بھی چہرے پر حقارت کی نگاہ نہیں کرتے، کسی کے چہرے کا تصور کر کے کبھی تھوکتے نہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بچوں کو ابتدائی آداب سکھائے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا امی جی کیوں بھلا؟

امی نے جواب دیا کہ اس لیے کہ ہر انسان کے چہرے پر رب کا ہاتھ پھرا ہوتا ہے۔
آخر دنیا میں اتنے زیادہ انسان ہیں ہر انسان کے چہرے پر اللہ تعالی اپنا ہاتھ کس طرح پھیر سکتا ہے؟

’’ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاءجوابا امی یہ کہتیں۔ ہاں مجھے کبھی بھی انہوں نے اس آیت کی اردو نہیں بتائی تھی نہ میں نے پوچھی یہاں تک کہ خود ترجمہ پڑھا اور اس آیت کا مفہوم نظر سے گزرا۔‘‘
اس کے باوجود مجھے چہروں میں چھپے اسرار کی پوری سمجھ کبھی نہیں آئی۔ ایک بار کسی چھوٹی سی افریقی بچی نے مجھ سے پوچھا تھا ’’کیا مجھ سے ہاتھ ملاٶ گی؟‘‘ ہاں کیوں نہیں میں نے اس کا ننھا سا ہاتھ تھام لیا تھا اور شاید تب اس کے ہاتھ میں کالے چہروں کی محرومی کے ہزاروں بھید بھی تھے جو وہ چپکے سے میری ہتھیلی کے ساتھ چِپکے چھوڑ گئی تھی۔

ریسٹورانٹ میں ملی اس پندرہ سولہ سال کی لڑکی جس کی جلد چمکدار میلانن پر مشتمل تھی موٹے بھرے بھرے ہونٹ اداس آنکھیں جھکی پلکیں، اس عمر میں ہر لڑکی بہت حسین ہوتی ہے پس وہ بھی تھی مگر اس کی گہری اداس آنکھوں میں کوئی پیغام تھا۔ کوئی کوڈ ورڈ جسے ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت تھی۔ مجھے وہ نک سک سی سجی ایک عورت کی خادمہ لگ رہی تھی جس کی بھنوٶں کو اکھاڑ کر نئی شیپ سے ہمکنار کرنے کی کوشش تیز رنگ کی آئی برو پینسل سے کی گئی تھی۔ گہرے آئی میک اپ کے باوجود وہ مادام کوئی بڑا تاثر نہیں چھوڑ رہی تھی۔ مگر اس کم سن لڑکی کی سیاہ آنکھیں کوئی ایسا مقناطیس تھیں جو اپنی طرف کھینچتا تو تھا لیکن ان میں کوئی نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔
کچھ آنکھیں اور کچھ کہانیاں دنیا کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل ہی رہ جاتی ہیں۔

افغان مہاجر کیمپ میں شربت گل کی آنکھوں کے شرارے اگر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ نہ کر لیے ہوتے تو عسرت خودی اور درد میں چھپے راز کیا دنیا تک پہنچچ پاتے جو آج بھی راز ہی ہیں۔
درد اور دھتکارے جانے کا کرب کیسے کیسے شاہ پارے ترتیب دے جاتا ہے۔ اگر شربت گل مہاجر کیمپ میں سرخ رنگ کی پھٹی چادر کی بجائے کسی حکمران کے محل میں مراعات پا رہی ہوتی تو کیا اس کی آنکھوں میں وہ شرارے ہوتے؟

شربت گل کی طرح اس کالی سیاہ لڑکی کا چہرہ بھی ایک راز تھا۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے چاہے جانے کی ایک نظر محبت کی فریاد نظر آئی تھی کہ مجھے دیکھو! میرے چہرے پر بھی تو رب کا ہاتھ پھرا ہوا ہے۔
کسی احساس تلے اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں تو میں نرمی اور محبت سے مسکرا دی۔ وہ حیران ہوئی پھر نظریں چرا گئی اس کی جلد کے کالے کاغذ پر تشکر کی ایک اجلی تحریر ابھری مگر جب دوبارہ اس نے نظریں قصدا میری طرف کیں شاید وہ جوابا مسکرانا چاہتی تھی تو اس بار ان آنکھوں میں ایک پریشانی سی تھی کہ کہیں اس کے اندر کا خول میرے سامنے ٹوٹ نہ گیا ہو۔

اس کے خول کا بھرم رکھتے ہوئے میں نے نظریں ہٹائیں اور آگے بڑھ کر کھانے کا آڈر دینے لگی۔

سبین علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل
  • غزل الغزلات: عہد نامہ قدیم کا محبت بھرا نغمہ
  • پاکستان اور افغانستان کے تعلقات
  • گورمکھ سنگھ کی وصیت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کباڑی غنچے
پچھلی پوسٹ
گاڈ سیو دا کنگ

متعلقہ پوسٹس

سمندر کے نام ایک غنائیہ

مارچ 25, 2026

نمک حرام

اپریل 1, 2023

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

فاختہ کی چونچ میں دانہ

جون 15, 2020

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک

جون 30, 2026

خوابوں کے شہسوار

دسمبر 25, 2024

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا امتحان

اپریل 8, 2026

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

روشنی

دسمبر 10, 2019

آبروئے غزل

فروری 21, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

علامہ حسن رضابریلوی کی نعتیہ شاعری​

دسمبر 4, 2019

ٹانگوں میں سوجن،پٹھوں کی کمزوری سستی

اپریل 28, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں