خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآنکھوں کے راز اور خول
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسبین علی

آنکھوں کے راز اور خول

از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 24, 2026 0 تبصرے 44 مناظر
45

دو سیاہ آنکھوں نے مجھ پر ایک کہانی لکھنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ میں ٹیب ہاتھ میں لیے لکھنے بیٹھی ہوں اور ان کالی سیاہ آنکھوں کی تحریر کے پیچھے خیالات کا ایک سیل رواں ہے کہ بند توڑ کر بہتا چلا آ رہا ہے۔ کئی بار کہانی خود کو لکھواتی ہے جیسے بارش خود بخود برسنے لگ جاتی ہے مگر کئی بار کہانی لکھنے سے قبل یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا لکھیں؟ ہمارے ارد گرد ہر انسان ایک ماسٹر پیس کہانی ہے اور ہر چہرہ ایک شاہکار پینٹینگ۔ ہاں مگر چہرے صرف مصوری کے نمونے ہی نہیں بلکہ سبھی چہرے ایک راز ہیں اور آنکھیں وہ روزن جن سے کئی بار اندر کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔ ہر انسان اپنے اوپر کئی خول چڑھائے پھرتا یے۔ کیا ضروری ہے کہ ان خولوں کو منافقت یا الگ الگ چہروں کے خول سمجھا جائے۔ بس کچھ ایسا ہر ذی روح کے اندر موجود ہے جو وہ پبلک نہیں کرنا چاہتا بلکہ شاید کسی کو بھی وہ سب دکھانا نہیں چاہتا۔
مصنف بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ادھر ادھر کی باتیں لکھیں گے، نظریات کے خول میں چھپیں گے۔ علامتوں استعاروں میں ملفوف ہونے کی کوشش کریں گے۔ مگر کئی بار شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے اندرون کی ایک ہلکی سی درز کھول کر محض چند کرنوں کو باہر کی راہ دکھا دیتے ہیں۔

پھر بہت واہ واہ ہوتی ہے۔ جی ہاں یہ آپ سب کے ساتھ ہوا ہوگا کہ آپ کی توقع کے برعکس کسی سادہ سی اور عام سی تحریر کو بڑی پزیرائی مل جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم اپنے خول کے اندر جو سنبھالے بیٹھے ہیں کیا دیگر سب لوگوں کے اندر بھی کچھ ویسا ہی ہے؟ لوگ اس تحریر کو پسند کرتے ہیں وہ وہ خود لکھنا چاہتے تھے مگر بوجوہ لکھ نہیں پاتے۔ جب کوئی اور وہی سب لکھ دیتا ہے تو کیسی طمانیت ملتی ہے۔ شاید وہ طمانیت اپنے اندر کا خول برقرار رہ جانے کی بھی ہوتی ہے۔

سننے اور پڑھنے والا کس طرح دل سے نکلی آواز اور تحریر کو پہچان جاتا ہے؟ پھر وہی سوال کیا کہ اتنے تنوع میں جہاں انگلیوں کی پوریں تک نہیں ملتی آنکھوں کے نمونے نہیں ملتے پھر بھی ہم سب کے اندر اگر کچھ مشترک سا ہے تو وہ کیا ہے؟
وہ بہت دلیر اور بڑے ادیب ہوتے ہیں یا بہت عام سے لوگ بھی جو اس اپنے اس فطری خول میں سے ایک کھڑکی کھول سکتے ہیں اور اس کھڑکی سے نکل کر ہزاروں لوگوں کے دلوں میں نہاں خانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان عام سے لوگوں کی خاص سی آنکھیں وہ روزن ہیں جو من کے اندر چھپے راز آشکار کرتی ہیں اور محسوسات کی ترسیل بھی۔

میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹوران میں کھانے کا آڈر دینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ اپنے قریب کھڑی ایک لڑکی جس کی عمر پندرہ سولہ سال ہوگی کے چہرے نے مجھے کسی مقناطیس کی مانند اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
اتنا سیاہ چہرہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے تقریبا ہر افریقی نسل کے لوگ دیکھے ہیں۔ میانہ قد چپٹی ناک والوں سے لے کر طویل قامت اور حی الجثہ سیاہ فام جن کی رنگت کے شیڈ براٶن کافی، کاکاٶ سے لے کر سیاہی مائل تک ہوتے ہیں۔ مگر اتنی چمکیلی سیاہ رنگت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ شاید اس کی جلد میں میلانن کے سب سے زیادہ پگمنٹ ہوں گے۔ مجھے کالے چہروں سے بے زاری نہیں ہوتی مگر مجھے یہ تسلیم کر لینے دیجیے کہ ایسا ہمیشہ سے نہ تھا۔ امی جی نے مجھے ایک بار کہا تھا کہ کسی بھی چہرے پر حقارت کی نگاہ نہیں کرتے، کسی کے چہرے کا تصور کر کے کبھی تھوکتے نہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بچوں کو ابتدائی آداب سکھائے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا امی جی کیوں بھلا؟

امی نے جواب دیا کہ اس لیے کہ ہر انسان کے چہرے پر رب کا ہاتھ پھرا ہوتا ہے۔
آخر دنیا میں اتنے زیادہ انسان ہیں ہر انسان کے چہرے پر اللہ تعالی اپنا ہاتھ کس طرح پھیر سکتا ہے؟

’’ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاءجوابا امی یہ کہتیں۔ ہاں مجھے کبھی بھی انہوں نے اس آیت کی اردو نہیں بتائی تھی نہ میں نے پوچھی یہاں تک کہ خود ترجمہ پڑھا اور اس آیت کا مفہوم نظر سے گزرا۔‘‘
اس کے باوجود مجھے چہروں میں چھپے اسرار کی پوری سمجھ کبھی نہیں آئی۔ ایک بار کسی چھوٹی سی افریقی بچی نے مجھ سے پوچھا تھا ’’کیا مجھ سے ہاتھ ملاٶ گی؟‘‘ ہاں کیوں نہیں میں نے اس کا ننھا سا ہاتھ تھام لیا تھا اور شاید تب اس کے ہاتھ میں کالے چہروں کی محرومی کے ہزاروں بھید بھی تھے جو وہ چپکے سے میری ہتھیلی کے ساتھ چِپکے چھوڑ گئی تھی۔

ریسٹورانٹ میں ملی اس پندرہ سولہ سال کی لڑکی جس کی جلد چمکدار میلانن پر مشتمل تھی موٹے بھرے بھرے ہونٹ اداس آنکھیں جھکی پلکیں، اس عمر میں ہر لڑکی بہت حسین ہوتی ہے پس وہ بھی تھی مگر اس کی گہری اداس آنکھوں میں کوئی پیغام تھا۔ کوئی کوڈ ورڈ جسے ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت تھی۔ مجھے وہ نک سک سی سجی ایک عورت کی خادمہ لگ رہی تھی جس کی بھنوٶں کو اکھاڑ کر نئی شیپ سے ہمکنار کرنے کی کوشش تیز رنگ کی آئی برو پینسل سے کی گئی تھی۔ گہرے آئی میک اپ کے باوجود وہ مادام کوئی بڑا تاثر نہیں چھوڑ رہی تھی۔ مگر اس کم سن لڑکی کی سیاہ آنکھیں کوئی ایسا مقناطیس تھیں جو اپنی طرف کھینچتا تو تھا لیکن ان میں کوئی نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔
کچھ آنکھیں اور کچھ کہانیاں دنیا کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل ہی رہ جاتی ہیں۔

افغان مہاجر کیمپ میں شربت گل کی آنکھوں کے شرارے اگر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ نہ کر لیے ہوتے تو عسرت خودی اور درد میں چھپے راز کیا دنیا تک پہنچچ پاتے جو آج بھی راز ہی ہیں۔
درد اور دھتکارے جانے کا کرب کیسے کیسے شاہ پارے ترتیب دے جاتا ہے۔ اگر شربت گل مہاجر کیمپ میں سرخ رنگ کی پھٹی چادر کی بجائے کسی حکمران کے محل میں مراعات پا رہی ہوتی تو کیا اس کی آنکھوں میں وہ شرارے ہوتے؟

شربت گل کی طرح اس کالی سیاہ لڑکی کا چہرہ بھی ایک راز تھا۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے چاہے جانے کی ایک نظر محبت کی فریاد نظر آئی تھی کہ مجھے دیکھو! میرے چہرے پر بھی تو رب کا ہاتھ پھرا ہوا ہے۔
کسی احساس تلے اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں تو میں نرمی اور محبت سے مسکرا دی۔ وہ حیران ہوئی پھر نظریں چرا گئی اس کی جلد کے کالے کاغذ پر تشکر کی ایک اجلی تحریر ابھری مگر جب دوبارہ اس نے نظریں قصدا میری طرف کیں شاید وہ جوابا مسکرانا چاہتی تھی تو اس بار ان آنکھوں میں ایک پریشانی سی تھی کہ کہیں اس کے اندر کا خول میرے سامنے ٹوٹ نہ گیا ہو۔

اس کے خول کا بھرم رکھتے ہوئے میں نے نظریں ہٹائیں اور آگے بڑھ کر کھانے کا آڈر دینے لگی۔

سبین علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مایوسی کی داستان
  • "فالسہ” موسم گرما کا معالج
  • کس طرح کی دل لگی
  • تربوز سے تپتی دھوپ میں ٹھنڈک کا احساس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کباڑی غنچے
پچھلی پوسٹ
گاڈ سیو دا کنگ

متعلقہ پوسٹس

”انا“اورقربانی

جولائی 2, 2021

غیر منظم منصوبہ بندیاں!

جنوری 29, 2021

ایک قبر کی فریاد

جنوری 20, 2020

جو لکھنے کو قلم رکھنا

اپریل 17, 2026

کتنی دور سے چلتے چلتے

جنوری 12, 2026

”ترا خیال اور میں“ ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

جنوری 15, 2021

سرائے کے باہر

مئی 23, 2023

پڑیئے گر بیمار

دسمبر 15, 2019

میرا رونا بھی عبث ہے میرا ہنسنا ہے عبث

مئی 23, 2026

وہ عام بھی ہوں تو لگتا ہے خاص ہوتے ہیں

مارچ 8, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈائرکٹر کرپلانی

جنوری 15, 2020

مری حیرت نہیں تھی میرے بس...

دسمبر 14, 2025

موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی...

جون 5, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں