خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسیّد نذیر نیازی – بیاضِ یادداشت اور علامہ اقبالؒ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

سیّد نذیر نیازی – بیاضِ یادداشت اور علامہ اقبالؒ!

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 29, 2021 0 تبصرے 60 مناظر
61

علامہ اقبالؒ کی شاعری میں ہمیشہ امت کا درد‘ آزادی‘ اتحاد‘یگانگت‘شعور بیداری کے پیغام کے ساتھ ہی امت کے زوال کا درد بھی ہے‘اُنہوں نے درسِ حریت سے مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔ اُنہوں نے مرض کی صحیح تشخیص کر کے نہ صرف غلامی کے خلاف علم بلند کیا۔ بلکہ تہذیبی‘ تمدنی‘ معاشرتی اور ذہنی غلامی کا طلسم بھی پاش پاش کیا۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے استعماری دور میں مسلمان ممالک غلامی میں پوری طرح جکڑے ہوئے تھے۔ ان پر سیاسی‘معاشی‘ معاشرتی‘ تہذیبی و تمدنی غلامی مسلط تھی۔ ان حالات میں مسلمان آزادی کے لیے جدو جہد کرتے رہے۔ علامہ اقبال کا شمار آزادی کے ان قائدین میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے اپنی ولولہ انگیز شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی کی ایک نئی تڑپ پیدا کی۔ ورنہ مسلمان غلامی کے خوگر ہو چکے تھے۔ جب آزادی کی امنگ اور تڑپ ہی باقی نہ رہے تو پھر غلامی کے مہیب سائے حقیقت میں بدل جاتے ہیں‘اقبالؒ نے حیرت انگیز پیش بینی کے ساتھ اپنے اِسی ترانے میں ہمیں سامراجی حکمتِ عملی سے بھی خبردار کیا تھا:فریاد ز افرنگ و دِل آویزی افرنگ‘فریاد ز شیرینی و پرویزی افرنگ‘عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزی افرنگ‘معمارِ حرم! باز بہ تعمیرِ جہاں خیز‘از خوابِ گراں‘خوابِ گراں خوابِ گراں خیز!

دُنیائے اسلام کے زوال اور محکومی پر اقبال کی دل سوزی اور دردمندی کے متعدد واقعات ہیں۔ سیّد نذیر نیازی نے اپنی بیاضِ یادداشت میں لکھا ہے کہ وفات سے فقط چند ہفتے پیشتر‘ ایک دوپہر علامہ اقبالؒ نے خاموش لیٹے لیٹے اچانک ”حُقّے کا کش لگایا اور کہنے لگے: وسطِ ایشیا ء میں چار کروڑ ترک آباد ہیں۔ ان کا اتحاد کیوں ممکن نہیں؟ میں نے عرض کیا: ”یہ تحریک تو پرانی ہے‘ لیکن اس و قت روس کی وہ کیفیت نہیں جو کبھی تھی‘یعنی اشتراکی انقلاب سے پہلے۔ روس اب تک بہت بڑی طاقت ہے۔ روس کی موجودگی میں یہ اتحاد کیسے ممکن ہے؟ اس کے لیے بڑی طاقت اور بڑے تدبر کی ضرورت ہے۔ یوں بھی وسطِ ایشیاء میں شاید اب اس قسم کی کسی تحریک کا وجود نہیں۔ تھا بھی تو 1922ء میں ختم ہو گیا۔ عثمانی ترک اپنی الگ تھلگ قومیت کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان کا اور تیموری ترکوں کا رابطہ مدت ہوئی ٹوٹ چکا ہے۔ یوں بھی روس کی گرفت نے مدت ہوئی اس کا خاتمہ کر دیا۔ حضرت علامہ نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا‘ البتہ ایک بار پھر کروٹ بدلتے ہوئے فرمایا: ”وسطِ ایشیاء میں چار کروڑ ترک آباد ہیں۔ ترک کیوں متحد نہیں ہوتے؟کوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں ورنہ‘نہ تھے ترکان عثمانی سے کم ترکان تیوری۔
ترکی میں پاکستان کے پہلے سفیر میاں بشیر احمد نے لکھا ہے کہ ”ایک دفعہ اقبالؒ کی شاعری‘ پیغام اور اسرارِ خودی‘ رموزِ بے خودی‘ پیامِ مشرق وغیرہ کا ذکر آ گیا تو انگریزی میں کہا:”There is a Crust at the heart of Central Asia. I want to break through it.”

وسطِ ایشیا ء کے مسلمانوں کی بیداری‘ آزادی اوراتحاد کی یہ آرزو اقبالؒ کی عزیز ترین تمنّاؤں میں سے ایک ہے۔ ہرچند وہ اِس بات پر خوش تھے کہ عثمانی تُرکوں نے اپنا مقدّر اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔یہ امر اُن کے لیے ہمیشہ سوہانِ روح بنا رہاکہ تیموری تُرک رُوسی اشتراکی آمریت کے پنجہ استبداد میں پڑے تڑپ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ لوہے کی دیوار (Iron Curtain)کے اُس پار اپنا پیغام خودی و خود مختاری پہنچانے میں مصروف رہتے تھے۔اپنی نظم ”تاتاری کا خواب“میں اگر ایک طرف وہ وسطِ ایشیا ء کو کرب و بلاکی انگشتری کا نگینہ قرار دیتے ہیں تو دوسری جانب وہ وسطِ ایشیاء کے باشندوں کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنی اجتماعی خودی کے سوز و ساز سے دُنیا کو ایک بار پھرایک نئے انقلاب کی نوید دیں:اگر محصور ہیں مردانِ تاتار‘نہیں اللہ کی تقدیر محصور‘تقاضا زندگی کا کیا یہی ہے‘کہ تورانی ہو تورانی سے مہجور؟

اقبالؒ بابر کے مقدّر پر رشک کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی سرزمین میں آسودہ خاک ہے جو طلسمِ فرنگ سے آزاد ہے۔ آج اِس حقیقت کے ثبوت موجود ہیں کہ سوویت یونین کی سفّاک آمریت کے پنجہ استبداد میں تڑپتے ہوئے مسلمانوں تک اقبالؒ کا انقلابی پیغام برابر پہنچتا رہا ہے۔اسلام کا چراغ تہِ داماں ہی سہی روشن رہا ہے اور یُوں وسطِ ایشیا ء کے مسلمان‘در پردہ ہی سہی‘ اپنے اپنے مسلک پرقائم رہے۔ وسطِ ایشیا ء میں صدیوں سے مروّج صوفی مسالک کے فیضانِ مسلسل پر روشنی ڈالتے ہوئے احمد رشید نے درست لکھا ہے کہ:
The massive Islamic revival that took place during Gorbachev’s glasnot could not have emerged from a vacuum. Sufism was the mystical trend of Islam that originated in Persia and Central Asia soon after the arrival of the Arabs.”
برصغیر میں تصوّف و حکمت اور شعر و ادب کی روایت پر وسطِ ایشیاء کی صوفیانہ و حکیمانہ اور شعری و فکری تحریکوں کے گہرے اور اَن مِٹ اثرات ہیں۔ اقبال کو شاہ ہمدان کے زیر اثر کشمیر میں سیّد علی ہمدانی سے لے کر نور الدین ولی تک فروغ پانے والی ادبی روایت ورثہ میں ملی تھی۔ اقبالؒ کے گھر کا ماحول صوفیانہ تھا۔ اقبال کو وسطِ ایشیاء کی صوفیانہ اور شاعرانہ ہر دو روایات گویا گُٹھی میں ملی تھیں۔ خود اُنہوں نے اِس حقیقت کا اعتراف درج ذیل شعر میں کیا ہے:اگرچہ زادہ ہندم فروغِ چشمِ من است‘زِ خاکِ پاکِ بخارا و کابل و تبریز‘اقبال مسلمانوں کے ماضی کا خیال کرتے ہیں تو اُنہیں وسطِ ایشیاء کا شاندار ماضی یاد آتا ہے۔ اقبال اُسی کے عکس پر وسطِ ایشیا ء کا مستقبل تعمیر کرنے کے تمنّائی ہیں۔اقبال عہدِ حاضر کے ایک یگانہروزگار شاعر، فلسفی اور دانشور تھے۔ اُن کے فنّی اور فکری کمالات کو تین دائرہ ہائے عمل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی ذات بیک وقت برصغیر‘ دُنیائے اسلام اور دُنیائے انسانیت کو مادی اور روحانی ترقی و تکمیل کی جانب گامزن دیکھنے کی تمنّائی رہی۔

اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے اقبال وسطِ ایشیاء کی محکومی اور میں روسی استبداد کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ وہ وسطِ ایشیا ء کو پھر سے بیدار ہونے اور تعمیرِ جہاں میں اپنا کردار ادا کرنے کا فریضہ یاد دلاتے رہتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہے جب فارسی زبان دنیائے عجم کی تہذیبی و فکری وحدت اور مسلمانوں کے عروج و ارتقا کی مقبولِ عام ترجمان تھی۔پھر وہ وقت آ پہنچاجب برطانوی استعمار بلادِ اسلامیہ ہند میں اپنی جنسِ تجارت اُتارتا ہے۔ کم و بیش اسی زمانے میں زارِ روس وسطِ ایشیاء میں انتشار کے بیج بونا شروع کرتا ہے۔ چنانچہ اسلامی ہند رفتہ رفتہ برطانوی ہند بن جاتا ہے اور وسطِ ایشیاء‘ سوویت وسطِ ایشیاء کے نام سے موسوم ہو جاتا ہے۔ یوں دُنیائے اسلام میں شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کا ایک کارنامہ خاص یہ ہے کہ وہ اپنے وقت میں اس وحدت کی بازیافت کی خاطر فارسی شاعری کا آغاز کرتے ہیں اور منجمد خون کی اُس پپڑی کو ریزہ ریزہ کر دینے میں مصروف ہو جاتے ہیں جس نے ساری کی ساری دُنیائے عجم کے رگ و ریشے میں زندہ خون کی گردش کو بند کر رکھا ہے۔ہرچند آج وسطِ ایشیا کے دل پر جمی ہوئی پپڑی (Crust) ٹوٹ پھوٹ چکی ہے تاہم اقبالؒ کے چہرے پر آج بھی تشویش کی وہ لہر موجود ہے جو بابر کے مزار پر کھڑے اقبالؒ کے چہرے سے عیاں تھی۔ اقبالؒ آج بھی متفکر ہیں کہ کب ہم عالمی استعمار کے اس طلسم کو توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
دورِ حاضر الحاد‘ مادہ پرستی‘ خود پرستی‘ظاہر پرستی اور نا شکیبائی کا ہے۔بے یقینی‘ بے اطمینانی اور تشکیک کا دور ہے۔ امتِ مسلمہ بھی ان امراضِ میں مبتلا ہے۔ غلامی اسی غلامانہ ذہنیت کے باعث مسلط ہوتی جارہی ہے۔ اسلام نے دُنیا کو تمام غلامیوں سے نجات دلائی۔ مسلمان خود غلامی کے شکنجے میں کشاں کشاں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ ان حالات میں فکرِ اقبالؒ امت کی رہنمائی کر سکتی ہے۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • التجا بے اثر نہ جائے کہیں
  • اللہ والے
  • نیا سال، نیا عزم – نئے ارادے!
  • گل بانو اور فائزہ کی دوستی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
انوکھی محبت
پچھلی پوسٹ
مردہ کبوتر

متعلقہ پوسٹس

میرا جسم میری مرضی

مارچ 10, 2020

پہنا ہے اس نے شوق سے جو پیرہن سفید

مئی 9, 2020

ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

مارچ 11, 2026

تم کبھی آؤ شام سے پہلے

جون 24, 2025

اللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک...

نومبر 9, 2020

بابرکت مہینہ رمضان المبارک

مارچ 29, 2024

نیشنل کونسل فار طب کا اقدام

ستمبر 8, 2025

پھلوں سے جلد کی حفاظت اور حُسن

نومبر 14, 2021

پسینہ

جنوری 24, 2020

الف لیلہ کی ایک رات

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی

مئی 8, 2022

انسانوں پرخدامت بنو

مئی 22, 2021

ہجوم۔ عاشقاں اب تک لب۔ دریا...

مئی 18, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں