خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےپسینہ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

پسینہ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 368 مناظر
369

پسینہ
’’میرے اللہ!۔ آپ تو پسینے میں شرابور ہورہے ہیں۔ ‘‘

’’نہیں۔ کوئی اتنا زیادہ تو پسینہ نہیں آیا۔ ‘‘

’’ٹھہریے میں تولیہ لے کر آؤں۔ ‘‘

’’تو لیے تو سارے دھوبی کے ہاں گئے ہوئے ہیں۔ ‘‘

’’تو میں اپنے دوپٹے ہی سے آپ کا پسینہ پونچھ دیتی ہوں۔ ‘‘

’’تمہارا دوپٹہ ریشمیں ہے۔ پسینہ جذب نہیں کرسکے گا۔ ‘‘

’’پسینے کے یہ قطرے مجھ سے نہیں دیکھے جاتے۔ آپ کا یہ کہنا ٹھیک ہے کہ ریشمیں کپڑا پانی جذب نہیں کرسکتا۔ لیکن میں آپ کا تولیہ ہوں۔ کیا میں آپ کا پسینہ خشک نہیں کرسکتی۔ ‘‘

’’آج گرمی زیادہ تھی۔ سائیکل پر یہاں آتے آتے میں قریب قریب بیہوش ہو گیا تھا۔ ‘‘

’’ہائے اللہ‘‘

’’نہیں۔ بس میں چند منٹوں میں ٹھیک ہو گیا۔ ایک دوست تھا، اس نے مجھے آموں کا شربت پلا دیا۔ ‘‘

’’آموں کا شربت بھی ہوتا ہے؟‘‘

’’ہرشے کا شربت بنایا جاسکتا ہے۔ ‘‘

’’میرا بھی؟‘‘

’’تمہارا شربت تو میں ہر روز پیتا ہوں۔ لیکن اس کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا۔ ‘‘

’’شریر کہیں کے۔ ‘‘

’’شرارت تو تمہاری ہوتی ہے کہ تم مٹھاس میں کھٹائی ڈال دیتی ہو۔ ‘‘

’’کھٹائی تو آپ ڈ التے ہیں۔ میں تو مصری کی ڈلی ہوں۔ ‘‘

’’مانتا ہوں۔ لیکن کبھی کبھی۔ ‘‘

’’آپ مجھ سے وہ زیادہ نہ کیجیے۔ اِدھر آئیے، میں آپ کی ٹائی اُتاروں۔ ‘‘

’’آج اتنا تکلف کیوں کیا جارہا ہے؟‘‘

’’آپ محبت کو تکلف کہتے ہیں؟‘‘

’’اس کے متعلق میں تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا۔ ویسے میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اتنی محبت کا اظہار تم نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ ‘‘

’’آپ محبت کو کیا جانیں۔ ‘‘

’’انسان اگر محبت ہی کو جان پہچان نہیں سکتا تو میں سمجھتا ہوں وہ حیوان بھی نہیں۔ کوئی بے حِس چیز ہے۔ پتھر ہے۔ سڑک پر گِرا ہوا روڑا ہے۔ ‘‘

’’اِدھر آئیے، میں آپ کی ٹائی اتاروں۔ ‘‘

’’اس تکلف کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ تکلف کی بات کیوں کرتے ہیں۔ میں نے کبھی آپ سے تکلف برتا ہے؟‘‘

’’آج پہلی مرتبہ۔ ‘‘

’’آپ اتنے ذہین ہیں۔ بتائیے اس تکلف کی وجہ کیا ہے؟‘‘

’’میں اتنا ذہین نہیں ہوں۔ ‘‘

’’آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں۔ ‘‘

’’جناب میں کسر نفسی سے کام نہیں لے رہا۔ ایک حقیقت تھی جو میں نے بیان کردی؟‘‘

’’میرے پاس تو آئیے، میں آپ کا پسینہ پونچھ دوں۔ گرمی میں بے حال ہوکے آرہے ہیں۔ ‘‘

’’کوئی اتنی زیادہ بے حالی نہیں۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ آج درجہ حرارت بہت بڑھا ہوا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ آج دس آدمی اس حدت کے باعث مر گئے ہیں۔ ‘‘

’’میں کہتی ہوں، آپ اتنے روپے خرچ کرتے ہیں۔ کیوں نہیں گھر میں ایک

’’کولر‘‘

لے آتے۔ ‘‘

’’کولر کی کیا ضرورت ہے؟ تم خود بہت بڑی کولر ہو۔ اتنی گرمی میں گھر آیا ہوں۔ تمہاری باتوں ہی نے مجھے ایسی ٹھنڈک پہنچا دی ہے جو سب سے بڑا کولر بھی نہیں پہنچا سکتا۔ ‘‘

’’آپ نے اب میرا مذاق اُڑانا شروع کردیا۔ ‘‘

’’تمہاری قسم۔ میں ایسی گستاخی کبھی نہیں کرسکتا۔ ‘‘

’’میری قسم آپ نے کیوں کھائی ہے؟‘‘

’’اس لیے کہ بڑی لذیذ ہے۔ ‘‘

’’یعنی آدمی کو وہی قسمیں کھانی چاہئیں جو مزیدار ہوں۔ ‘‘

’’یقینا‘‘

’’آپ سے میں کبھی جیت نہیں سکتی۔ ‘‘

’’میں تو ہمیشہ ہارتا رہا ہوں۔ ‘‘

’’آپ کب ہارے ہیں۔ ہار تو ہمیشہ میری ہی ہوتی رہی ہے۔ ‘‘

’’اچھا، اب ذرا میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔ میری شلوار قمیص نکال دو‘‘

’’الماری میں صرف ایک پائجامہ موجود ہے‘‘

’’بنیان ہو گی‘‘

’’جی نہیں۔ تین میلی پڑی ہیں جو نوکر نے ابھی تک نہیں دھوئیں‘‘

’’ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں تو تمہیں خود دھولینا چاہئیں‘‘

’’آپ کو کیا معلوم کہ صابن کتنا واہیات ہوتا ہے؟۔ چھالے پڑ جاتے ہیں ہاتھوں میں۔ ‘‘

’’نوکروں کے ہاتھوں میں بھی یقیناً چھالے پڑتے ہوں گے۔ ‘‘

’’آپ ہمیشہ نوکروں کی طرف د اری کرتے ہیں۔ ‘‘

’’کیا وہ انسان نہیں؟‘‘

’’خیر چھوڑیئے اس قصّے کو۔ اِدھر آئیے۔ میں آپ کی ٹائی اُتار دوں۔ ‘‘

’’یہ کون سی اتنی بڑی مہم ہے، جو آپ سر کرنا چاہتی ہیں۔ ‘‘

’’میں آپ سے بحث کرنا نہیں چاہتی۔ یہ بتائیے کہ آپ کو چلنے میں تکلیف کیوں محسوس ہورہی ہے؟‘‘

’’جوتا ذرا تنگ ہے؟‘‘

’’یہ وہی ہے نا جو آپ نے پچھلے مہینے لیا تھا۔ ‘‘

’’ہاں، وہی ہے۔ آج پہلی مرتبہ پہنا ہے۔ ‘‘

’’دیکھ کے نہیں لیا تھا۔ ‘‘

’’دیکھ کر ہی لیا تھا۔ پہنا بھی تھا۔ پر۔ ‘‘

’’چھوٹا کیسے ہو گیا۔ ‘‘

’’جو چیز استعمال نہ کی جائے، سکڑ جاتی ہے۔ ‘‘

’’یہ عجیب منطق ہے۔ ‘‘

’’عورتوں کو اپنے خاوندوں کی ہربات عجیب منطق معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘

’’میں نے کہا: اِدھر آئیے، آپ کی ٹائی اُتار دوں۔ ‘‘

’’پہلے تو میں یہ تکلیف دہ جوتے اُتارنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’بیٹھ جائیے۔ میں اُتار دیتی ہوں۔ ‘‘

’’آج تم اتنی مہربان کیوں ہو؟۔ پہلے تو۔ ‘‘

’’اب نخرے نہ بگھاریے۔ بیٹھیے کرسی پر۔ ‘‘

’’یہاں سب کرسیاں اس قابل کہاں ہیں کہ اُن پر آدمی بیٹھے۔ ‘‘

’’میں نے آپ سے کہا تھا کہ جب ان کا بید بالکل ناکارہ ہو جائے گا تو میں سب کی سب ٹھیک کرادوں گی۔ ‘‘

’’یہ تمہاری عجیب منطق تھی جس کے متعلق میں نے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا تھا کہ مبادا تم ناراض ہو جاؤ۔ ‘‘

’’بات دراصل یہ ہے کہ میں چاہتی تھی کہ جب تک یہ کرسیاں کام دیتی ہیں، ان کی مرمت نہ کرائی جائے۔ کیونکہ انہیں مقررہ وقت پر پھر مرمت طلب ہونا ہے۔ جتنے دن نکل جائیں ٹھیک ہے۔ ‘‘

’’میرا خیال ہے، تم بھی مرمت طلب ہو۔ ‘‘

’’دیکھیے۔ میں ایسی باتیں پسند نہیں کرتی۔ آپ بڑے بے لگام ہوتے جارہے ہیں۔ ‘‘

’’چلیے۔ میں خاموش ہو جاتا ہوں۔ ‘‘

’’آپ خاموش ہی اچھے لگتے ہیں۔ ‘‘

’’آپ خاموش کیوں ہو گئے؟‘‘

’’تم ہی نے تو مجھ سے کہا تھا کہ آپ خاموش ہی اچھے لگتے ہیں۔ ‘‘

’’میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ آپ منہ میں گھنگھنیاں ڈال کے بیٹھ رہیں۔ ‘‘

’’تم مجھے کچھ کھانے کے لیے دو‘‘

’’میں کیا دُوں۔ آپ باہر سے کھا کر آرہے ہیں۔ ‘‘

’’تم نے کیسے جانا؟‘‘

’’آپ کی پتلون بتا رہی ہے۔ سالن کے داغ لگے ہیں۔ ضرور آپ نے کسی ہوٹل میں اپنے دوست کے ساتھ عیاشی کی ہو گی۔ ‘‘

’’عیاشی تو خیر نہیں کی، لیکن مجبوراً اپنے افسر کے ساتھ ایک دعوت میں شریک ہونا پڑا۔ اور تم جانتی ہو۔ اچھی طرح جانتی ہو کہ میں صرف اپنے گھر کا پکا ہوا کھانا پسند کرتا ہوں۔ وہاں میں نے صرف چند لقمے منہ میں ڈالے اور ہاتھ اٹھا لیا۔ اس لیے کہ کھانا بڑا واہیات تھا۔ اس میں تمہارے ہاتھوں کا نمک نہیں تھا۔ ‘‘

’’لیکن یہ پتلون پر دھبے کیسے پڑے؟‘‘

’’اس لیے کہ سالن واہیات تھا۔ مجھ سے دو مرتبہ چاول نیچے گرگئے۔ ‘‘

’’چاول تو آپ سے ہمیشہ نیچے گرتے رہتے ہیں۔ ‘‘

’’اس کو چھوڑو۔ مجھے یہ بتاؤ کہ فرش پر شربت کِس نے گرایا تھا۔ اور۔ اور۔ یہ گلاس۔ جگ۔ کوئی مہمان آیا تھا؟‘‘

’’ہاں۔ میری ایک سہیلی آئی تھی۔ ‘‘

’’کون؟‘‘

’’آپ اسے نہیں جانتے۔ کوئٹے کی تھی، جو میرے ساتھ پڑھتی تھی۔ اس کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔ مجھ سے ملنے آئی تھی۔ ؒ‘‘

’’اس سے کیا باتیں ہوئیں؟‘‘

’’میں آپ کو کیوں بتاؤں۔ ویسے وہ اپنے خاوند سے بہت خوش تھی۔ ‘‘

’’ہر عورت کو اپنے خاوند سے خوش ہونا چاہیے۔ اس میں اس کی کیا برتری ہے؟‘‘

’’نہیں۔ وہ۔ ‘‘

’’کیا؟‘‘

’’ایسی ایسی باتیں سُنائیں جو۔ جو مجھے معلوم ہی نہیں تھیں۔ شاید آپ کو بھی معلوم نہ ہوں۔ ‘‘

’’اس گفتگو کو چھوڑیے۔ آئیے میں آپ کے جوتے اتار دوں۔ ‘‘

’’یہ کام میں خود بھی کرسکتا ہوں۔ ‘‘

’’نہیں میں آج خود کروں گی۔ پہلے ٹائی اتارنے دیجیے۔ ‘‘

’’اتار لیجیے۔ ‘‘

’’آپ آج کتنے اچھے لگتے ہیں۔ ‘‘

’’اس کی وجہ کیا ہے؟۔ پہلے تو میں تمہیں کبھی اچھا نہیں لگا تھا۔ آج یک بیک یہ انقلاب کیسے پیدا ہو گیا؟‘‘

’’انقلاب کیسا؟۔ میں شروع ہی سے آپ سے محبت کرتی ہوں۔ میرا سارا دوپٹہ گیلا ہو گیا ہے۔ توبہ، آپ کو اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے؟‘‘

’’چلیے اندر‘‘

’’چلو‘‘

’’یہاں باہر کی بہ نسبت گرمی کس قدر کم ہے؟‘‘

’’ہاں۔ !‘‘

’’اس شُو نے تو آپ کے پاؤں کی انگلیوں پر چنڈیاں ڈال دی ہیں۔ ‘‘

’’ہر تنگ چیز راحت کا باعث ہوتی ہے۔ ‘‘

’’میں بھی آج سے تنگ ہو گئی ہوں۔ ‘‘

’’مجھ سے‘‘

’’نہیں۔ میری سہیلی نے مجھے بتایا تھا کہ اس کا خاوند۔ خیر آپ اس قصے کو چھوڑیے۔ اس نے بڑی تنگ اور چُست چولی پہنی ہوئی تھی۔ ‘‘

’’میں نے اب دیکھا ہے کہ تم بھی اسی قسم کا بلاؤز پہنے ہو۔ کہاں سے لیا تم نے؟‘‘

’’آج ہی اس کے درزی سے سلوایا ہے۔ ‘‘

’’اور میں جو ساڑھی لایا ہوں۔ ‘‘

’’وہ اس سے میچ نہیں کرتی۔ خیر میں آپ کے ساتھ چلوں گی اور اس د کان میں کوئی اور ساڑھی پسند کرلوں گی۔ ‘‘

’’اُس سہیلی سے تم نے کیا باتیں کیں؟‘‘

’’آپ لیٹ جائیے، ۔ پھر آپ کو پسینہ آرہا ہے۔ میں آپ کو اس کی تمام باتیں سنا دوں گی۔ ‘‘

’’تم اپنی سہیلی سے ایسی باتیں ہر روز سنا کرو۔ تاکہ ہماری زندگی خوشگوار رہے۔ اور تم میرے پسینے کو اپنے دوپٹے سے اسی طرح پونچھتی رہو۔ ‘‘

’’آپ کا پسینہ تو اب میرا لہو بن گیا ہے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اقبالیاتی اسلوب کی کھوار شاعری
  • مسکراہٹ کے رنگ
  • گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ
  • نفسیاتی جنگ اور بنی گالا کے کتے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شروعات
پچھلی پوسٹ
سب سے بڑا گناہ

متعلقہ پوسٹس

شادی کی دعوت

نومبر 19, 2019

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کا طرز خلافت

جولائی 20, 2023

سرائے کے باہر

مئی 23, 2023

محبت، روح اور بنکاک کا سفر

دسمبر 31, 2024

نیلی ساڑھی

جنوری 22, 2020

بسم اللہ کی تاریخی حیثیت

نومبر 20, 2025

محبت بدلتی رہتی ہے

اپریل 15, 2019

ابدی موت

جنوری 2, 2022

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

روشنی کے اندر زندگی

نومبر 24, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رازِحیات

دسمبر 30, 2021

نیا سال، نیا عزم – نئے...

جنوری 1, 2026

جنت کی تلاش

مارچ 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں