خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااردو غزل کا سورج – سورج نرائن
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

اردو غزل کا سورج – سورج نرائن

عرفان خٹک کا اردو مضمون

از سائیٹ ایڈمن اپریل 24, 2011
از سائیٹ ایڈمن اپریل 24, 2011 0 تبصرے 430 مناظر
431

اردو غزل کا سورج – سورج نرائن

لوگ کہتے ہیں کہ مضمونِ غزل میں سورج
ایک رنگین سا اندازِ بیاں رکھتا ہے

سورج نرائن نے شاعری کا آغاز 60ءکی دہائی میں کوہاٹ سے کیا یہ وہ دور تھا جب اردو شاعری میں تخلیقی مزاج ، شعری جمالیات اور طرز احساس کے حوالے سے متنوع تجربات ہو رہے تھے یہی وہ وقت ہے جب ترقی پسند ی اور جدیدیت کی ہم آہنگی سے ایسے تجربات ہوئے کہ اردو شاعری دنیا کی بڑی زبانوں کی شاعری کے ہمرکاب آگئی یہ نظم کا دور تھا اور ظفر اقبال جیسے باغی شعراءنے مسلسل غزل لکھ کر نئے دور کا آغاز کیا ۔ مقامی زبانوں کے الفاظ حقیر غزل بنے اور متروک تراکیب کا دوبارہ احیاءہوا۔ تب جب فیض ، ساحر لدھیانوی، ناصر کاظمی ، منیر نیازی ، شہزاد احمد جیسے شعراءاپنے اپنے موسموں کی گونج پیدا کررہے تھے ۔ سورج کی پہلی کتاب ”پیاسا چاند “ منظر عام پر آئی اورغزل کی دنیا میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ بعض لوگوں نے ان کا کلام کو سن کر ناک بھون چڑھائی لیکن یہ تو تب بھی ہوا تھا جب فراز جیسی شخصیت جلوہ گر ہوئی تھی۔

تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا

تاحال سورج نرائن کے18مجموعے زیور طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ سورج نرائن مسلسل محنت اور پیہم تخلیق عمل کی روشن علامت ہے جس طرح سورج اپنی بیکراں توانائی سے نہ صرف خود روشن ہے بلکہ ہزاروں لاکھوں سالوں سے نہ جانے کہاں کہاں تک اپنی ضیاءبکھیر رہا ہے بالکل اسی طرح سورج نے بھی ایک طویل عرصے سے اپنی تخلیق حرارت اور روشنائی سے شعر و اب کی محفلوں اور چہرہ قرطاس کو روشن رکھا ہے آج اُس کی یہ حرارت کوہاٹ سے کراچی ، پاکستان سے بھارت او ر متحدہ عرب امارات سے یورپ و امریکہ تک پہنچ رہی ہے۔

غزل کے روپ میں لایا ہوں آج محفل میں
وہ دردِ عشق کہ اِس قلبِ داغدار میں تھا

سورج نرائن کی شاعری ، سخنوری کی تمام تر رایات کی پاسداری ، تازہ احساس کی پیشکش ، نئے لہجہ کی دریافت ، رواں سبک الفاظ کے ذریعے گہری معنویت پیش کرتی ہے یہاں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ سورج نرائن کی غزل محض ایک موضوع یا واقعات کے کسی ایک سلسلہ تک محددود نہیں رکھا بلکہ اس کے ہاں بیک وقت سوچ کے کئی سلسلے کارفرما نظرآتے ہیں۔ وہ شاعرانہ بصیرت سے زندگی اور زندگی کی مختلف النوع حقیقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ روایات کی پاسداری سے انحراف اگرچہ اُس وقت کا مشن تھا لیکن آپ روایت کے امین بن کرسامنے آئے ۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:

نہ میرے بال بکھرے ہیں نہ میرے ہاتھ میں پتھر
زمانے کو دکھاؤں گا میں اندازِ جنوں کیسے

شمع کی سانسیں ڈوب گئیں ہیں رو رو کر
کون خبر پہنچائے گا پروانے تک

سورج ایک ذہین فنکار ہے اُن کی فنی ہنر مندی اُن کی غزل کے ایک ایک لفظ سے واضح ہے اُن کا شمار اُن ایک مفید شعراءمیں کیا جاسکتا ہے جو غزل سے اپنی بات کہلوا سکتے ہیں ورنہ ننانوے فیصد شاعر تو بس غزل کی ہاں میں ہاں ملانے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔

دائرہ آپ کی بانہوں کا بھنور لگتا ہے
اب تو بے ساختہ چاہت سے بھی ڈر لگتا ہے

ان کی شاعری میں رومانوی رنگ جابجا جھلکتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ آپ کی انگریزی ادب سے واقفیت ہے آپ نے مغربی رومانوی شعراءولیم بلیک ، کولرج ، ورڈزورتھ ، بائرن اور کیٹس وغیرہ کو نہ صرف پڑھا بلکہ اس کو اپنے اندر جذب کیا اُن کی غزل سے ان کے برسوں کا مطالعہ اور محنت شاقہ صاف جھلکتی ہے اُن کے یہاں حسن و عشق کے لازوال تذکرے بھی ہیں اور محبت کی زخم خوردگی کاا حساس بھی۔

پھر تڑپوں گا اوڑھ کے چادر یادوں کی
سلوٹ سلوٹ پھر بستر ہو جائے گا

سورج ایک کھرا شاعر ہے اُن کے ہاں مصلحت ہے نہ مصالحت ۔ وہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ آپ کی شاعری تقریباً نصف صدی پر محیط ہے آپ نے ہر عہد کا ظلم دیکھا لیکن ہر عہد مین قلم سرخرو رہا۔ آپ مظلوم اور پسے ہوئےطبقے کے ترجمان ہیں باالفاظ احتجاج اور مزاحمت کا میلان آپ کی شاعری مین اپنے عام معاصرین کی نسبت زیادہ ہے۔

سچی محبت کی اجرت پر ، دھیان نہیں دیتا
میرا حق کیوں نگری کا سلطان نہیں دیتا

یقینا رنگ لائیں گی ہاری محنتیں سورج
ملے گی دست و پا کو ایک دن اجرت تھکاوٹ کی

سورج کا قلم حالاتِ حاضرہ کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ آج کا حکمران بے حس ہے ۔ مہنگائی ، چور بازار ی ، لوٹ کھسوٹ عروج پر ہے سورج کاقلم یہاں بھی رکھتا نہیں کیوں کہ یہ اس کے ضمیر کے خلاف ہے۔

کیوں نکل آئے ہیں سورج آج سڑکوں پر عوام
بڑھ گئے ہیں اور شاید سربراہوں کے فریب

غزل اور تغزل لازم و ملزوم ہیں ۔ غزل جسم اور تغزل اس کی روح ہے اگر غزل تغزل سے عاری ہو تو یہ زندگی کے حدود سے نکل جاتا ہے آپ کا تغزل آپ کے رومانوی طرز فکر کا ترجمان ہے ۔ جب سورج اپنے دھیمے لہجے کی نزاکت و لطافت ، رمزو اشاریت اور موسقیت کی مدھر لے اس میں شامل کر تے ہیں تو تغزل کا رنگ مزید نکھر جاتا ہے۔

محبت کے نصبیوں پر قیامت ٹوٹتی دیکھی
کہ تجھ کو غیر کی محل میں محوِ گفتگو دیکھا

میں تیری راہ میں بیٹھا ہوا گزارش بن کر
زندگی بھول کے کرلے کبھی منظور مجھے

آنکھوں سے بول بول کے اب تھک چکا ہوں میں
ظالم مری زباں کا تکلم بحال کر

سورج کے کلام میں انسانی نفسیات کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے ایک جھلک ملاحظہ ہو:

وہ بات بات پہ کرتا ہے گفتگو اپنی
میں بات بات پہ اپنی مثال دیتا ہوں

سورج کے کلام میں احساسِ محرومی ایک طاقتور حوالہ ہے یہ احساس صرف ذاتی حوالے سے نہیں ہے بلکہ من حیث القوم ہے۔

یہ کیا کہ ہر مقام پر احساس کمتری
سورج مری بساط کا کچھ تو خیال کر

سورج کے اس احسا س کے بارے میں غلام محمد قاصر لکھتے ہیں:

نامہ بر ہمجولیوں میں اُس کی یہ پہچان ہے
خط اُس دینا تُو جس کے کان میں بالی نہ ہو

یہ شعر بندہ سخن سورج نرائن کا ہے جو بلاغت کا ایک جہان معنی اپنے اندر رکھتا ہے ۔ میری دانست میں سورج کی فکری ترجیحات میں آزادی کی طلب اور غلامی سے نفرت سرفہرست ہیں۔

اک اُدھر وہ ہیں کہ اس کو دھوپ بھی راس آگئی
اک اِدھر میں ہوں کہ جلتا جا رہا ہوں چھاؤں میں

وطن کی محبت ایمان کا لازمی جزو ہے یہ انسان کی سرشت میں شامل ہے اور بقول افتخار عارف۔

خاک سے شوکت پندار انا ملتی ہے
اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

سورج کی شاعری میں وطن سے محبت کے گیت جابجا بکھرے نظرآتے ہیں۔ 65ءکی پاک بھارت جنگ کے موقع پر آپ کا یہ خوبصورت شعر آپ کے جذبہ حب الوطنی کی بہترین مثال ہے۔

جب بھی آیا ہے کوئی زخم تیرے سینے پر
اے وطن تیری قسم میرا بدن ٹوٹا ہے

سورج کی مستعمل تراکیب کی جدت کے باوجود کہیں بھی ابلاغ متاثر نہیں ہوتا اور شاعر جو بات کہنا چاہتا ہے وہ پوری حسیت کے ساتھ قاری تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی شاعری کے ہر پہلو کو اگر انفرادی طور پر بیان کیا جائے تو بات کچھ بنتی ہوئی نظرنہیں آئے گی ہاں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نرائن کی غزل میں اُس کا عہد سانس لیتا ہے۔اور غزل بھی وہ جسے جدید تر غزل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کرب میں ڈوبی ہوئی یہ آواز بہت موثر اور فعال ہے۔

بڑی بڑی دیواریں کیسے توڑوں گا
چھوٹے چھوٹے ہاتھ لیے پھرتا ہوں میں

کل تک بڑے کمال سے گم تھے عذاب میں
اب تو خدا بھی بھول گیا اضطراب میں

اسی طرح غلام محمد قاصر سورج نرائن کی شاعری کے مستقبل کے حوالے سے پیشن گوئی کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

”سورج ۔ کار تخلیق کو عبادت گردانتا ہے اگرچہ اُس کی شہرت کا گرافابھی اس درجے سے نیچے ہے جہاں اُسے ہونا چاہیے اوراس کی وجہ بقول آتش۔
طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
یہاں تک کہ وہ کسی اخبار سے بھی وابستہ نہیں۔ سورج رائن کا ایک شعر ہے۔

کتنا بے ڈھنگ تناسب ہے محاذ غم پر
اتنے لشکر سے لڑے ایک سپاہی کیسے

سورج ۔ مستقبل کا شاعر ہے وہ اکیلا ضرور ہے لیکن نہتانہیں کیوں کہ اُس کے ساتھ اُس کی طاقت ور غزل ہے جو اُس کی کامرانیوں کی داستانیں لکھ رہی ہے اور یہ داستانیں اس وقت تک باقی رہیں گی جب تک اس کے معاصرین جھوٹی شہرتوں کے انبار تلے دب نہ جائیں۔“

سستی شہرت اس لیے مطلوب نہیں
گھٹ جائے تو نام پہ گالی لگتی ہے

تحریر: عرفان خٹک لیکچررڈگری کالج نمبر 2 بنوں

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی
  • اپنے کتبے بنا رہے ہیں ہم
  • اِک خلش ایک تشنگی سی ہے
  • چاند کے ساتھ جب وہ چلتا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

پچھلی پوسٹ
ذوق کی قصیدہ نگاری

متعلقہ پوسٹس

مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

طلاق اور خلع کی عدت میں فرق

جنوری 24, 2022

مجید کا ماضی

جنوری 12, 2020

انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا

جنوری 15, 2026

سفر میں رکھے نئے منظروں کی چاہ مجھے

جون 13, 2020

 لالہ جی​

دسمبر 12, 2019

قرةالعین حیدر – احوال وکوائف

جنوری 5, 2017

وحید احمد

مارچ 30, 2020

سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں

جنوری 23, 2020

جب سامنے والا کباڑیا ہو

دسمبر 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رومانوی خیالات کی دنیا

اپریل 1, 2023

تری مٹی میں مل سکتے ہیں

اکتوبر 24, 2020

تپسیّا

نومبر 7, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں