خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااردو غزل کا سورج – سورج نرائن
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

اردو غزل کا سورج – سورج نرائن

عرفان خٹک کا اردو مضمون

از سائیٹ ایڈمن اپریل 24, 2011
از سائیٹ ایڈمن اپریل 24, 2011 0 تبصرے 445 مناظر
446

اردو غزل کا سورج – سورج نرائن

لوگ کہتے ہیں کہ مضمونِ غزل میں سورج
ایک رنگین سا اندازِ بیاں رکھتا ہے

سورج نرائن نے شاعری کا آغاز 60ءکی دہائی میں کوہاٹ سے کیا یہ وہ دور تھا جب اردو شاعری میں تخلیقی مزاج ، شعری جمالیات اور طرز احساس کے حوالے سے متنوع تجربات ہو رہے تھے یہی وہ وقت ہے جب ترقی پسند ی اور جدیدیت کی ہم آہنگی سے ایسے تجربات ہوئے کہ اردو شاعری دنیا کی بڑی زبانوں کی شاعری کے ہمرکاب آگئی یہ نظم کا دور تھا اور ظفر اقبال جیسے باغی شعراءنے مسلسل غزل لکھ کر نئے دور کا آغاز کیا ۔ مقامی زبانوں کے الفاظ حقیر غزل بنے اور متروک تراکیب کا دوبارہ احیاءہوا۔ تب جب فیض ، ساحر لدھیانوی، ناصر کاظمی ، منیر نیازی ، شہزاد احمد جیسے شعراءاپنے اپنے موسموں کی گونج پیدا کررہے تھے ۔ سورج کی پہلی کتاب ”پیاسا چاند “ منظر عام پر آئی اورغزل کی دنیا میں ایک طوفان برپا کردیا ۔ بعض لوگوں نے ان کا کلام کو سن کر ناک بھون چڑھائی لیکن یہ تو تب بھی ہوا تھا جب فراز جیسی شخصیت جلوہ گر ہوئی تھی۔

تیغ بکف جب لوگ تھے ایسے عالم میں
میرے ہاتھ سے صرف قلم وابستہ تھا

تاحال سورج نرائن کے18مجموعے زیور طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ سورج نرائن مسلسل محنت اور پیہم تخلیق عمل کی روشن علامت ہے جس طرح سورج اپنی بیکراں توانائی سے نہ صرف خود روشن ہے بلکہ ہزاروں لاکھوں سالوں سے نہ جانے کہاں کہاں تک اپنی ضیاءبکھیر رہا ہے بالکل اسی طرح سورج نے بھی ایک طویل عرصے سے اپنی تخلیق حرارت اور روشنائی سے شعر و اب کی محفلوں اور چہرہ قرطاس کو روشن رکھا ہے آج اُس کی یہ حرارت کوہاٹ سے کراچی ، پاکستان سے بھارت او ر متحدہ عرب امارات سے یورپ و امریکہ تک پہنچ رہی ہے۔

غزل کے روپ میں لایا ہوں آج محفل میں
وہ دردِ عشق کہ اِس قلبِ داغدار میں تھا

سورج نرائن کی شاعری ، سخنوری کی تمام تر رایات کی پاسداری ، تازہ احساس کی پیشکش ، نئے لہجہ کی دریافت ، رواں سبک الفاظ کے ذریعے گہری معنویت پیش کرتی ہے یہاں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ سورج نرائن کی غزل محض ایک موضوع یا واقعات کے کسی ایک سلسلہ تک محددود نہیں رکھا بلکہ اس کے ہاں بیک وقت سوچ کے کئی سلسلے کارفرما نظرآتے ہیں۔ وہ شاعرانہ بصیرت سے زندگی اور زندگی کی مختلف النوع حقیقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے ۔ روایات کی پاسداری سے انحراف اگرچہ اُس وقت کا مشن تھا لیکن آپ روایت کے امین بن کرسامنے آئے ۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:

نہ میرے بال بکھرے ہیں نہ میرے ہاتھ میں پتھر
زمانے کو دکھاؤں گا میں اندازِ جنوں کیسے

شمع کی سانسیں ڈوب گئیں ہیں رو رو کر
کون خبر پہنچائے گا پروانے تک

سورج ایک ذہین فنکار ہے اُن کی فنی ہنر مندی اُن کی غزل کے ایک ایک لفظ سے واضح ہے اُن کا شمار اُن ایک مفید شعراءمیں کیا جاسکتا ہے جو غزل سے اپنی بات کہلوا سکتے ہیں ورنہ ننانوے فیصد شاعر تو بس غزل کی ہاں میں ہاں ملانے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔

دائرہ آپ کی بانہوں کا بھنور لگتا ہے
اب تو بے ساختہ چاہت سے بھی ڈر لگتا ہے

ان کی شاعری میں رومانوی رنگ جابجا جھلکتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ آپ کی انگریزی ادب سے واقفیت ہے آپ نے مغربی رومانوی شعراءولیم بلیک ، کولرج ، ورڈزورتھ ، بائرن اور کیٹس وغیرہ کو نہ صرف پڑھا بلکہ اس کو اپنے اندر جذب کیا اُن کی غزل سے ان کے برسوں کا مطالعہ اور محنت شاقہ صاف جھلکتی ہے اُن کے یہاں حسن و عشق کے لازوال تذکرے بھی ہیں اور محبت کی زخم خوردگی کاا حساس بھی۔

پھر تڑپوں گا اوڑھ کے چادر یادوں کی
سلوٹ سلوٹ پھر بستر ہو جائے گا

سورج ایک کھرا شاعر ہے اُن کے ہاں مصلحت ہے نہ مصالحت ۔ وہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ آپ کی شاعری تقریباً نصف صدی پر محیط ہے آپ نے ہر عہد کا ظلم دیکھا لیکن ہر عہد مین قلم سرخرو رہا۔ آپ مظلوم اور پسے ہوئےطبقے کے ترجمان ہیں باالفاظ احتجاج اور مزاحمت کا میلان آپ کی شاعری مین اپنے عام معاصرین کی نسبت زیادہ ہے۔

سچی محبت کی اجرت پر ، دھیان نہیں دیتا
میرا حق کیوں نگری کا سلطان نہیں دیتا

یقینا رنگ لائیں گی ہاری محنتیں سورج
ملے گی دست و پا کو ایک دن اجرت تھکاوٹ کی

سورج کا قلم حالاتِ حاضرہ کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ آج کا حکمران بے حس ہے ۔ مہنگائی ، چور بازار ی ، لوٹ کھسوٹ عروج پر ہے سورج کاقلم یہاں بھی رکھتا نہیں کیوں کہ یہ اس کے ضمیر کے خلاف ہے۔

کیوں نکل آئے ہیں سورج آج سڑکوں پر عوام
بڑھ گئے ہیں اور شاید سربراہوں کے فریب

غزل اور تغزل لازم و ملزوم ہیں ۔ غزل جسم اور تغزل اس کی روح ہے اگر غزل تغزل سے عاری ہو تو یہ زندگی کے حدود سے نکل جاتا ہے آپ کا تغزل آپ کے رومانوی طرز فکر کا ترجمان ہے ۔ جب سورج اپنے دھیمے لہجے کی نزاکت و لطافت ، رمزو اشاریت اور موسقیت کی مدھر لے اس میں شامل کر تے ہیں تو تغزل کا رنگ مزید نکھر جاتا ہے۔

محبت کے نصبیوں پر قیامت ٹوٹتی دیکھی
کہ تجھ کو غیر کی محل میں محوِ گفتگو دیکھا

میں تیری راہ میں بیٹھا ہوا گزارش بن کر
زندگی بھول کے کرلے کبھی منظور مجھے

آنکھوں سے بول بول کے اب تھک چکا ہوں میں
ظالم مری زباں کا تکلم بحال کر

سورج کے کلام میں انسانی نفسیات کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے ایک جھلک ملاحظہ ہو:

وہ بات بات پہ کرتا ہے گفتگو اپنی
میں بات بات پہ اپنی مثال دیتا ہوں

سورج کے کلام میں احساسِ محرومی ایک طاقتور حوالہ ہے یہ احساس صرف ذاتی حوالے سے نہیں ہے بلکہ من حیث القوم ہے۔

یہ کیا کہ ہر مقام پر احساس کمتری
سورج مری بساط کا کچھ تو خیال کر

سورج کے اس احسا س کے بارے میں غلام محمد قاصر لکھتے ہیں:

نامہ بر ہمجولیوں میں اُس کی یہ پہچان ہے
خط اُس دینا تُو جس کے کان میں بالی نہ ہو

یہ شعر بندہ سخن سورج نرائن کا ہے جو بلاغت کا ایک جہان معنی اپنے اندر رکھتا ہے ۔ میری دانست میں سورج کی فکری ترجیحات میں آزادی کی طلب اور غلامی سے نفرت سرفہرست ہیں۔

اک اُدھر وہ ہیں کہ اس کو دھوپ بھی راس آگئی
اک اِدھر میں ہوں کہ جلتا جا رہا ہوں چھاؤں میں

وطن کی محبت ایمان کا لازمی جزو ہے یہ انسان کی سرشت میں شامل ہے اور بقول افتخار عارف۔

خاک سے شوکت پندار انا ملتی ہے
اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

سورج کی شاعری میں وطن سے محبت کے گیت جابجا بکھرے نظرآتے ہیں۔ 65ءکی پاک بھارت جنگ کے موقع پر آپ کا یہ خوبصورت شعر آپ کے جذبہ حب الوطنی کی بہترین مثال ہے۔

جب بھی آیا ہے کوئی زخم تیرے سینے پر
اے وطن تیری قسم میرا بدن ٹوٹا ہے

سورج کی مستعمل تراکیب کی جدت کے باوجود کہیں بھی ابلاغ متاثر نہیں ہوتا اور شاعر جو بات کہنا چاہتا ہے وہ پوری حسیت کے ساتھ قاری تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کی شاعری کے ہر پہلو کو اگر انفرادی طور پر بیان کیا جائے تو بات کچھ بنتی ہوئی نظرنہیں آئے گی ہاں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نرائن کی غزل میں اُس کا عہد سانس لیتا ہے۔اور غزل بھی وہ جسے جدید تر غزل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کرب میں ڈوبی ہوئی یہ آواز بہت موثر اور فعال ہے۔

بڑی بڑی دیواریں کیسے توڑوں گا
چھوٹے چھوٹے ہاتھ لیے پھرتا ہوں میں

کل تک بڑے کمال سے گم تھے عذاب میں
اب تو خدا بھی بھول گیا اضطراب میں

اسی طرح غلام محمد قاصر سورج نرائن کی شاعری کے مستقبل کے حوالے سے پیشن گوئی کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

”سورج ۔ کار تخلیق کو عبادت گردانتا ہے اگرچہ اُس کی شہرت کا گرافابھی اس درجے سے نیچے ہے جہاں اُسے ہونا چاہیے اوراس کی وجہ بقول آتش۔
طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
یہاں تک کہ وہ کسی اخبار سے بھی وابستہ نہیں۔ سورج رائن کا ایک شعر ہے۔

کتنا بے ڈھنگ تناسب ہے محاذ غم پر
اتنے لشکر سے لڑے ایک سپاہی کیسے

سورج ۔ مستقبل کا شاعر ہے وہ اکیلا ضرور ہے لیکن نہتانہیں کیوں کہ اُس کے ساتھ اُس کی طاقت ور غزل ہے جو اُس کی کامرانیوں کی داستانیں لکھ رہی ہے اور یہ داستانیں اس وقت تک باقی رہیں گی جب تک اس کے معاصرین جھوٹی شہرتوں کے انبار تلے دب نہ جائیں۔“

سستی شہرت اس لیے مطلوب نہیں
گھٹ جائے تو نام پہ گالی لگتی ہے

تحریر: عرفان خٹک لیکچررڈگری کالج نمبر 2 بنوں

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سندھو کی صدا : پانی پر حق کی پکار
  • قربتوں کے فاصلے
  • بحرِ بے کنار تُو
  • ممانعت کا قانون
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

پچھلی پوسٹ
ذوق کی قصیدہ نگاری

متعلقہ پوسٹس

”ترا خیال اور میں“ ۔ ایک تجزیاتی مطالعہ

جنوری 15, 2021

ڈی این اے کیا ہے

جون 15, 2025

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے

مئی 15, 2020

سرکس کے شیر

ستمبر 20, 2020

بسترِ گُل

مئی 27, 2025

روح دیکھی ہے کبھی؟

جنوری 2, 2022

فراقِ یار میاں ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے

مئی 14, 2020

الگ رکھ کے ادب آداب تیرے

دسمبر 31, 2021

میری ڈائری کا بوجھ

مئی 9, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کبھی سنی ہے بھڑکتے الاؤ کی...

جنوری 29, 2020

عشق میں وہ مقام آنے لگے

دسمبر 17, 2021

بھرا پڑا ہے یہاں پر نصاب...

مئی 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں