یہ بات تلخ ضرور ہے مگر ہمارے روزمرہ مشاہدے سے پوری طرح جڑی ہوئی ہے کہ جب سامنے والا کباڑیا ذہن رکھتا ہو تو تحقیق، مطالعہ، تجربہ، دلیل اور تحریر سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہاں کباڑیا کسی خاص پیشے کا حوالہ نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا نام ہے جو ہر چیز کو صرف فائدے اور نقصان کے زاویے سے دیکھتی ہے۔
ہم سب نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کتاب کو پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ بیچنے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے کتاب میں درج خیال اہم نہیں ہوتا، اہم یہ ہوتا ہے کہ اس کاغذ سے کتنے پیسے
نکل سکتے ہیں۔ جب آپ ایسے شخص سے علم کی بات کریں تو وہ آپ کو حیرت سے دیکھتا ہے، جیسے آپ کسی غیر ضروری شے پر وقت ضائع کر رہے ہوں۔
یہی ذہنیت تحقیق کو فضول مشقت سمجھتی ہے۔ اس کے نزدیک سوال اٹھانا دانائی نہیں بلکہ وقت کا ضیاع ہے۔ وہ یہ نہیں جاننا چاہتا کہ بات کیوں اور کیسے درست ہے، اسے بس یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اس سے اس کا کام نکل رہا ہے یا نہیں۔ اسی لیے فلسفہ اسے بے کار لگتا ہے کیونکہ فلسفہ فوری فائدہ نہیں دیتا بلکہ انسان کو سوچنے کی عادت ڈالتا ہے۔
زندگی کے تجربات بعض اوقات انسان کو خاموشی سے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ مگر کباڑیا ذہن تجربے کو بھی بوجھ سمجھتا ہے۔ وہ ان غلطیوں سے سبق لینے کے بجائے انہیں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے لیے کامیابی کا معیار کردار نہیں بلکہ چالاکی ہوتا ہے۔
دلیل اس جگہ کارگر ہوتی ہے جہاں سننے کا حوصلہ موجود ہو۔ کباڑیا ذہن دلیل سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔ آپ جتنی بات کریں، جتنا سمجھائیں، وہ آخر میں اسی نکتے پر آ کر رکے گا کہ اس میں میرا فائدہ کیا ہے۔ وہاں مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور گفتگو سودے میں بدل جاتی ہے۔
الفاظ بھی اپنی ایک حرمت رکھتے ہیں۔ نرم لہجہ، شائستہ گفتگو اور نپا تلا اظہار انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ مگر کباڑیا ذہن کو نہ لہجے کی فکر ہوتی ہے نہ لفظ کی قدر۔ اس کے نزدیک سخت بولنا ذہانت اور بدتمیزی ہوشیاری کی علامت بن چکی ہوتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو جتنا کڑوا بولتا ہے وہ اتنا ہی مضبوط ہے۔
تحریر کا مقصد صرف لکھ دینا نہیں بلکہ سوچ کو حرکت دینا ہوتا ہے۔ مگر بعض ذہن ایسے ہوتے ہیں جو سوچنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ وہ پڑھتے اس لیے نہیں کہ سمجھیں بلکہ اس لیے کہ رد کر سکیں۔ ان کے سامنے تحریر کی حیثیت کاغذ سے زیادہ نہیں رہتی۔
جب معاشرے میں اس قسم کی سوچ پھیلنے لگے تو استاد غیر اہم اور قلم غیر ضروری سمجھا جانے لگتا ہے۔ اہلِ علم خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں اور اہلِ مفاد نمایاں ہو جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ تعلقات بھی وزن میں تولے جانے لگتے ہیں اور انسان ایک شخصیت کے بجائے ایک شے بن جاتا ہے۔
ایسے حالات میں لکھنے والا اکثر یہ سوال کرتا ہے کہ کیا لکھنا بے فائدہ ہو گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تحریر کا اصل مخاطب ہمیشہ موجود وقت نہیں ہوتا۔ بعض تحریریں آنے والے دنوں کے لیے گواہی ہوتی ہیں۔ کباڑیا ذہن شاید آج نہ سمجھے، مگر وقت یہ ضرور دکھا دیتا ہے کہ ہر چیز تولی نہیں جا سکتی۔ جو صرف تولنا جانتا ہے وہ آخرکار خود بھی اسی ڈھیر میں شامل ہو جاتا ہے جسے وہ کباڑ کہتا رہا۔
یوسف صدیقی
