خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتجھے لکھتے جان جاں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزڈاکٹر نعمان رفیع

تجھے لکھتے جان جاں

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 8, 2021
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 8, 2021 0 تبصرے 58 مناظر
59

کچھ عرصہ قبل اپنے ایک محترم سینئر دوست ڈاکٹر اسد امتیاز صاحب کی تحریر نظر سے گزری انہو ں نے اپنے کیرئیر کا ایک واقعہ سنایا کہتے ہیں نئی نئی ہاؤس جاب شروع کی تھی وارڈ میں ایک ستر سالہ بزرگ کو پیشاب میں روکاوٹ کی وجہ سے داخل کیا گیا تھا اور نالی لگانے کا آرڈر ہوا تو وہ بزرگ بڑے مشفقانہ انداز میں بولے "پتر جے توں سکولے جا کہ چار جماعتاں پڑھ لیندا تے ایہوجے کم تے نہ کرنے پیندے "(اگر تم سکول جا کر چار جماعتیں پڑھ لیتے تو ایسے کام تو نہ کرنے پڑتے )یہ تحریر پڑھتے ہوئے جہاں ان بزرگ کی معصومیت اور شفقت پر ہنسی آئی وہیں اس تحریر نے میرے ذہن کی بہت سی کھڑکیاں کھول دیں کہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے ہونے کا معیار کیاہے ؟مریض کو خوراک کی نالی پاس کرنا ایک مشکل کام ہے جبکہ پیشاب کی نالی پاس کرنا ایک مشکل ترین اور پچیدہ کام ہے مگران بزرگ کی نظر میں یہ ایک پڑھے لکھے شخص کی بجائے ایک جاہل آدمی کا کام ہے ۔

مطلب اگر ہم میٹرک یا ایف اے کر کے کسی دفتر میں کلرک یا بابوبن کے بیٹھ جائیں تو یہ ڈاکٹر بن کر لوگوں کی خدمت کرنے سے بہتر ہے۔ ڈاکٹروں کو تو پوری زندگی بیمار اور بے بس لوگوں میں گزارنی پڑتی ہے۔ کسی کو قہہ آ رہی ہے ،کسی کا پیٹ خراب ہے، کسی کا خون بہہ رہا ہے ،کسی کا زخم خراب ہوکر پیپ پڑ چکی ہے ،کسی کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ دل کا آپریشن کرتے ہوئے 12گھنٹے حفاظتی لباس پہن کر منہ پر ماسک لگا کر کھڑے رہنا پڑتا ہے ایسے ہی انجینئر وغیرہ حفاظتی لباس پہن کر سڑکوں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر عبدالقدیر اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ایٹم بم بنایا ہے وہ یہ کام آفس میں کرسی پر بیٹھ کر کرتے رہے ۔وہ گندھک اورایسے ہی بے شمار بدبودار کیمیکل کے ساتھ کام کرتے رہے ۔وہ ان کا ہنر ہے۔ ان بزرگ کے خیالات کا جائزہ لیتے ہوئے جب میں اپنے ملک کی پسماندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو وہی خیالات وجوہات نظر آتے ہیں۔ ہم لوگ بابو بننا چاہتے ہیں ہنر مند نہیں اوراسی بابوبننے کے شوق نے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی سے دور کر رکھا ہے ۔
آج اگر میں اور آپ پاکستان کے کسی چھوٹے سے چھوٹے بازار سے لیکر بہت بڑے شاپنگ مال میں چلے جائیں تو آپ کو چولہا جلانے والا لائٹر بھی پاکستانی نظر نہیں آئے گا اوردکان دار بڑے فخر سے کہے گا کہ یہ چائنہ کاہے ۔ایک وقت تھا باٹا اور سروس کا جوتا اعتماد کا دوسرا نام تھا ۔لوگ بڑے بچے کیلئے جوتا خریدتے تھے تو باری باری سب بہن بھائی وہی جوتا پہنتے تھے۔
اس میں شک نہیں کہ ان برینڈ کے جوتوں میں استعمال ہونے والا لیدرآج بھی اسی کوالٹی کا ہے مگر جو سول (تلا )استعمال کیا جاتا ہے وہ چائنہ کا ہے اور چند دن بعد ٹکرے ٹکرے ہو جاتا ہے ۔اور اس پر ستم یہ کہ ماحول کو گندا کرنے میں بھی بھر پور کردار ادا کررہا ہے۔ایک وقت تھا جب ہم اپنے جوتے گلی میں ٹین ڈبہ لینے والے کو فروخت کر دیا کرتے تھے مگر اب ان چائنہ کے جوتوں کو ری سائیکل بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اگر آگ لگا کر انکو جلایا جائے تو ایک جوتے سے اتنا دھواں برآمد ہوتا ہے جتناایک فیکٹری کی چمنی سے نکلتا ہے ۔کیا اب ہم اسقدر نااہل ہو چکے ہیں کہ اپنے لیے جوتے تک تیار نہیں کر سکتے یاپھر ہم موچی بننے کی بجائے بابو بننا پسند کرتے ہیں۔ پاکستان میں ہر گلی محلے میں انگریزی سیکھانے کیلئے تو سکول موجود ہیں مگر ٹیکنیکل ایجوکیشن کیلئے پورے پاکستان میں 22کروڑ عوام کیلئے صرف 4یا 5ادارے ہیں اور اسکی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم بابوبنناچاہتے ہیں ۔
ہمارے سیاستدان ہم عوام سے بہت بہتر ہیں۔ میٹرو بس ،اورنج لائن ٹرین اور بی -آر-ٹی بس جیسے منصوبے بنا کر اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کر رہے ہیں جبکہ ہم عوام اپنا حال اچھا بنانے کی کوشش میں ہیں ۔آج تک 22کروڑ افراد کے ہجوم میں سے کسی نے سیاستدانوں سے یہ کہا ہے کہ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو میٹرو،اورنج لائن اور بی-آر-ٹی پر نہیں ان کو بنانے والے کارخانوں پر سیاست کریں۔
ہم ان آرام دہ سفری سہولیات کے بغیر گزارہ کر لیں گے مگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ان سہولیات سے استفادہ حاصل کریں ۔ان سہولیات کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو دینا چاہتے ہیں ۔ان منصوبوں سے میں تو استفادہ کر سکتا ہوں مگر میری بیٹی رائحہ کے جوان ہونے تک یہ تمام منصوبے کھٹارہ بن چکے ہوں گے۔ رہی بات ان کو دوبارہ بنانے کی تو یہ منصوبے پہلے ہی قرض بلکہ سود ے پر قرض لے کر بنائے گئے ہیں اگر پاکستان کا نام گرے سے بلیک لسٹ ہو گیا تو پھر کیا ہو گا یہ وقت بتا ہی دے گا میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔

بقول شاعر
مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

ڈاکٹر نعمان رفیع راجپوت

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جب میں ہنستی ہوں تو میرا قہقہہ باتیں کرے
  • سرودِعشق
  • زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا
  • پاکستان کا مطلب کیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سوچوں تو خیال اور بھی ہیں
پچھلی پوسٹ
موجودہ صدی: نسل انسانی کے مٹ جانے کاخدشہ؟

متعلقہ پوسٹس

ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست

اپریل 13, 2019

تاریخ کیا کہتی ہے

جولائی 10, 2020

بُرقعے

ستمبر 24, 2013

نشّۂ غم ہے اور ہم ہیں بس

جون 13, 2020

ایک تصویر کہ اوّل نہیں دیکھی جاتی

اپریل 23, 2020

ایک باپ بکاؤ ہے

مارچ 29, 2020

کماکے جو بھی لاتا ہے

جولائی 18, 2021

حوصلہ ہے نڈھال مفلس کا

اکتوبر 10, 2025

آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں

نومبر 18, 2020

آئیے کوئٹہ چلیں

فروری 9, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پھر یہ کیوں مستعار لی جائے

مئی 20, 2020

چچا چھکّن نے جھگڑا چکایا

اگست 22, 2022

یکم اپریل:جھوٹ کا عالمی دِن!

اپریل 1, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں