107
سوچوں تو خیال اور بھی ہیں
فی الحال سوال اور بھی ہیں
سینے میں دبا رکھا ہے جن کو
کچھ ایسے ملال اور بھی ہیں
دیتے جو نہیں تمھیں دکھائی
ٹوٹے پروبال اور بھی ہیں
ہونا ہے ہنوز جن کا قیدی
آواز کے جال اور بھی ہیں
پروا ہی نہیں ہے زندگی کی
جیسے مہ و سال اور بھی ہیں
اک بار ملے تو ہم نے جانا
آثارِ وصال اور بھی ہیں
ہر موج میں دیکھا ہے اتر کے
امواج ِ جمال اور بھی ہیں
تھا راحتِ جاں تصور اس کا
ہم مل کے نہال اور بھی ہیں
ہے شاذیہ جو مرا مسیحا
اس لب کے کمال اور بھی ہیں
شازیہ اکبر
