خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباEPA کا مضحکہ خیز حکم نامہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

EPA کا مضحکہ خیز حکم نامہ

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 2, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 2, 2025 0 تبصرے 68 مناظر
69

shahid naseem chaudhry

 

*ڈی جی پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کا مضحکہ خیز حکم نامہ*

*کچرے کے ڈبے، تعلیمی ادارے اور پانچ لاکھ جرمانہ*
ڈاکٹر عمران حمید شیخ ڈی جی پنجاب انوائرمنٹل ایجنسی کے دستخط سے جاری یہ حکم نامہ نمبری 341/PA مورخہ 22 ستمبر 2025 اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ سکولوں کو ماحولیاتی تحفظ کے نام پر قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ بھاری جرمانے، روزانہ جرمانہ اور غیر حقیقی تقاضے تعلیم دشمنی ہیں۔ پالیسی اصلاح کے بجائے دھونس دکھائی دیتی ہے۔
اس حکومتی پالیسی کو تعلیمی اداروں کے تناظر میں پرکھا جائے گا، اور یہ دکھایا جائے گا کہ حکم عدولی پر بھاری جرمانے عائد کرنا تعلیمی اداروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ساتھ ہی دلائل دیے جائیں گے کہ کس طرح یہ پالیسی غیر متوازن اور غیر حقیقت پسندانہ قانون سازی کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ پالیسی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے ریاست اپنے عوام کو سہولت دیتی ہے، ان کے مسائل حل کرتی ہے، اور ایک ایسا ماحول فراہم کرتی ہے جس میں تعلیم، صحت اور معیشت کے شعبے ترقی کر سکیں۔ لیکن جب پالیسی سازی میں زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیا جائے، تو وہی پالیسی سہولت کے بجائے سزا بن جاتی ہے۔ بالکل یہی معاملہ حالیہ دنوں پنجاب انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کے جاری کردہ حکم نامے کا ہے جس میں تمام تعلیمی اداروں کو یکم اکتوبر 2025 تک رنگین کچرے کے ڈبے (waste segregation bins) رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔
یہ حکم نامہ صرف ڈبے رکھنے کی حد تک ہوتا تو شاید قابل قبول ہوتا، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں خلاف ورزی پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ اور روزانہ تین ہزار روپے اضافی جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر ماحولیاتی تحفظ کے نام پر ہے لیکن درحقیقت یہ تعلیمی اداروں کے لیے ایک نیا عذاب ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں پالیسی اسی طرح بنائی جاتی ہے؟
تعلیم اور ماحولیاتی شعور ,یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ طلبہ میں ماحولیاتی شعور اجاگر ہونا چاہیے۔ کچرے کو علیحدہ کرنے، ری سائیکلنگ کو فروغ دینے اور صاف ستھرا ماحول قائم رکھنے کی تربیت لازمی ہے۔ لیکن اس شعور کو بیدار کرنے کا طریقہ جرمانوں اور دھمکیوں کے ذریعے نہیں بلکہ نصاب، آگاہی مہمات اور عملی سہولتوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔کیا کبھی کسی نے سوچا کہ پاکستان کے بیشتر اسکول، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، ابھی تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں؟ جہاں پینے کا صاف پانی، واش روم، بجلی اور فرنیچر تک میسر نہیں۔ ایسے میں حکومت ان اداروں پر "کلر کوڈڈ ڈسٹ بنز” کے نہ رکھنے پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ ٹھونکنے کو تیاری کھڑی ہے۔ یہ انصاف نہیں بلکہ ایک مذاق ہے۔
ہسپتالوں کے معیار کو اسکولوں پر کیوں لاگو کیا جا رہا ہے؟
یہ حکم نامہ پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے اسکولز اور کالجز ہسپتال ہیں۔ ہسپتالوں میں واقعی مختلف قسم کے کچرے کے لیے علیحدہ ڈبے ہونا ضروری ہے تاکہ مریضوں کے استعمال شدہ انجیکشن، آلودہ کپڑے اور خطرناک فضلہ عام کچرے میں شامل نہ ہو۔ لیکن اسکولوں کا کچرا کیا ہے؟ چند کاپیاں، پرانی کتابیں، پلاسٹک کی بوتلیں، ریپرز اور عام گھریلو کچرا۔ کیا اس کے لیے بھی سرخ، سبز اور پیلے ڈبے خریدنا لازم ہیں؟یہاں سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومت نے واقعی "اسمارٹ ویسٹ مینجمنٹ” کا نظام رائج کرنا ہے تو سب سے پہلے ہسپتالوں، کارخانوں اور کارپوریٹ اداروں میں اسے یقینی بنائے جہاں کچرے کی نوعیت خطرناک ہے۔ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا آسان ہے کیونکہ وہ سرکاری نوٹسز اور معائنہ کرنے والوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
مالی بوجھ اور جرمانے کا ظلم
پانچ لاکھ روپے کا جرمانہ ایک اسکول کے لیے کتنا بڑا بوجھ ہے؟ ذرا تصور کیجیے:
گاؤں کے پرائمری اسکول کا کل سالانہ بجٹ اکثر پانچ لاکھ سے بھی کم ہوتا ہے۔
چھوٹے پرائیویٹ اسکولز جو پانچ سو روپے فیس پر چل رہے ہیں، ان کے لیے یہ جرمانہ "موت کا پروانہ” ہوگا۔
بڑے شہروں کے مشہور اسکولز تو شاید یہ ڈبے خرید لیں، لیکن پاکستان کے 80 فیصد اسکولز چھوٹے اور متوسط درجے کے ہیں۔
یہی نہیں، روزانہ تین ہزار روپے کا اضافی جرمانہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نے اسکول مالکان کو "جرمانہ مشین” بنانے کا ارادہ کر لیا ہے۔ آخر یہ جرمانے کہاں جائیں گے؟ کیا یہ طلبہ کے تعلیمی معیار کو بہتر کرنے پر لگیں گے یا صرف سرکاری خزانے میں جمع ہو کر ضائع ہو جائیں گے؟
اصلاح احوال کے بجائے دھونس
ایک معقول پالیسی ہوتی تو اس میں یہ درج ہوتا کہ:
حکومت پہلے مرحلے میں تمام تعلیمی اداروں کو مفت یا سبسڈی پر ڈسٹ بنز فراہم کرے۔
ایک سال تک صرف آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ طلبہ اور اساتذہ اس نظام کے عادی ہو سکیں۔
اس کے بعد بتدریج تعلیمی اداروں سے نتائج مانگے جائیں۔
لیکن یہاں تو سیدھا چھری گردن پر رکھ دی گئی ہے کہ اگر 30 ستمبر تک ڈبے نہ رکھے تو پانچ لاکھ جرمانہ۔ یہ طرز عمل ریاستی پالیسی سے زیادہ …. گردی لگتا ہے۔
طلبہ پر اثرات
کیا کبھی کسی نے سوچا کہ یہ حکم نامہ کس پر اثر انداز ہوگا؟ ظاہر ہے، اسکول مالکان یہ جرمانے اور اخراجات فیسوں میں ڈالیں گے۔ یعنی والدین پر بوجھ بڑھے گا اور طلبہ کی تعلیم مزید مہنگی ہو جائے گی۔ جس ملک میں پہلے ہی تعلیم تک رسائی ایک چیلنج ہے، وہاں مزید رکاوٹیں کھڑی کرنا کس دانشمندی کا ثبوت ہے؟
عالمی تناظر.دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ویسٹ مینجمنٹ کو تعلیم کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، مگر طریقہ مختلف ہے۔ وہاں حکومتیں اسکولز کو ریسائیکلنگ کے لیے انعامات دیتی ہیں، فنڈز مہیا کرتی ہیں، اور مقامی حکومتیں کچرا اکٹھا کرنے کا انتظام کرتی ہیں۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ حکومت خود تو تعلیمی اداروں کو بنیادی سہولتیں نہیں دے سکتی، مگر ڈبے نہ رکھنے پر پانچ لاکھ جرمانہ لگانے میں پیش پیش ہے۔سوالات جن کا جواب حکومت کو دینا ہوگا.کیا حکومت نے اسکولوں کو ان ڈبوں کی قیمت اور خریداری کے حوالے سے کوئی مالی سہولت فراہم کی؟
کیا سرکاری اسکولوں کو ان کے سالانہ بجٹ میں یہ اضافی اخراجات شامل کرنے کی گنجائش ہے؟
کیا واقعی اسکولوں کے کچرے سے ماحولیاتی آلودگی اتنی زیادہ ہے جتنی صنعتوں، کارخانوں اور ہسپتالوں سے؟
کیا حکومت نے پہلے خود اپنے دفاتر اور اداروں میں یہ نظام مکمل طور پر نافذ کیا ہے؟
ماحولیات کی حفاظت یقیناً ضروری ہے، لیکن اس کے نام پر تعلیمی اداروں پر جرمانے لگانا اور انہیں سزا دینا ایک ظالمانہ پالیسی ہے۔ تعلیم دشمنی کی بدترین مثال یہی ہے کہ جس ملک میں بچے کتابوں، بستوں اور کرسیوں سے محروم ہیں، وہاں انہیں "کلر کوڈڈ ڈسٹ بنز” نہ رکھنے پر جرمانے دیے جا رہے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حکم نامے پر نظر ثانی کرے۔ تعلیمی اداروں کو شراکت دار سمجھ کر پالیسیاں بنائے، نہ کہ مجرم سمجھ کر۔ ورنہ یہ پالیسی صرف اسکولز کے لیے نہیں بلکہ طلبہ، والدین اور پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک نیا بحران بن کر ابھرے گی۔
ای پی اے کا کام ماحول کو صاف رکھنا ہے، لیکن طریقہ کار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ بچوں کو کچرے کی علیحدگی، ری سائیکلنگ اور ماحول دوستی کی تعلیم دینا اصل حل ہے، نہ کہ بے چارے سکول مالکان کو بھاری جرمانوں اور دھمکیوں میں جکڑنا۔ جن اداروں میں بجلی، پانی اور فرنیچر نہیں، وہاں کلر کوڈڈ ڈبوں کی شرط مضحکہ خیز ہے۔ ای پی اے کو چاہیے کہ پہلے اپنے افسران اور عملے کی ٹریننگ کرے، شعور اجاگر کرے اور سہولتیں فراہم کرے، تبھی پالیسی کامیاب ہوگی۔ بصورت دیگر یہ اقدامات صرف تعلیم دشمن رویوں اور اعتماد کے بحران کو جنم دیں گے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا
  • جسم اور رُوح
  • نوجوان نسل اور معاشرتی ذمہ داریاں
  • تم جان اگر ہو تو رگ جاں بھی تم ہی ہو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
عالمی فلوٹیلا
پچھلی پوسٹ
بے روزگاری کا چیلنج

متعلقہ پوسٹس

دیباچہ بانگِ درا

فروری 2, 2020

حساب

نومبر 14, 2021

نقظہ نواز

جنوری 1, 2026

کسی دن آؤ

نومبر 15, 2025

کھوٹى قسمت ہوئى کھرى میرى

دسمبر 5, 2021

فلک کے رنگ زمیں پر اتارتا ہوا میں

مئی 23, 2020

میں دل کے ہاتھوں گرفتار ہو کے نکلی تھی

مارچ 9, 2020

یوں ہی نہیں ہے

مارچ 22, 2025

ان دیوتا

جون 14, 2020

میں جب اس کےلئے بیتاب ہوا کرتا تھا

جولائی 31, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تمہیں گلا ہی سہی ہم تماشہ...

جون 6, 2020

ہمراہی

نومبر 7, 2020

ٹک ٹاک کالم

جنوری 20, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں