112
ہم بے وفا ہیں اتنی وفاوں کے باوجود
وہ با وفا ہیں ساری خطاوں کے باوجود
جنکی جڑیں زمین میں گہری ہیں وہ درخت
گرت نہیں ہیں تیز ہواوں کے باوجود
بکھری ہے زلف چاند سے چہرے کے آس پاس
روشن ہے رات کالی کھٹاوں کے باوجود
ہم حق کے راستے پہ ہیں اپنے خدا کے ساتھ
وہ در بہ در ہیں اتنے خداوں کے باوجود
توبہ کے در پہ آیا ہوں میں اس یقیں کے ساتھ
وہ بخش دیگا مجھ کو جظاوں کے باوجود
شاید اسے لگی کسی دکھیاری ماں کی ہائے
برباد ہو گیا وہ دعاوں کے باوجود
کہتے ہیں اس کو ذہن کی بے پردگی حسن
جو بے درا ہیں سر پہ دراوں کے باوجود
حسن فتحپوری
