خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈاکٹر علیم ؔعثمانی۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک
آپکا اردو بابااردو تحاریرمقالات و مضامین

ڈاکٹر علیم ؔعثمانی۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک

از سائیٹ ایڈمن مئی 13, 2021
از سائیٹ ایڈمن مئی 13, 2021 0 تبصرے 64 مناظر
65

10مئی یومِ وفات کے موقع پر……
ڈاکٹر علیم ؔعثمانی۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک

ڈاکٹر محمد عبدالعلیم عثمانی جوادبی وشعری دنیا میں علیمؔ عثمانی کے نام سے مشہور تھے، نہ صرف طبیب حاذق، کامیاب ہومیوپیتھ معالج،بلکہ معروف ومقبول کہنہ مشق شاعر تھے۔ ان کی شخصیت باغ وبہار،طبیعت مرنجان مرنج،آواز سامعہ نواز اورانداز دلنواز تھا۔بارگاہ ایزدی سے اگرانھیں ایک طرف جمال ظاہر سے سرفراز کیاگیا تھا تودوسری طرف دست قدرت نے انھیں بڑی فیاضی سے حسن باطن سے نواز اتھا،اس طرح وہ حسنِ صَوت وصورت اورخوبیئ سیرت سے مالامال تھے۔
ان کی طبیعت میں بلا کی موزونیت تھی،اس لئے شعرو شاعری سے انھیں فطری مناسبت اورقلبی لگاؤ تھا،کم عمری اورزمانہ طالب علمی ہی سے انہوں نے شعرگوئی کے میدان میں قدم رکھ دیاتھا اورگیسوئے سخن کوسنوارنا شروع کردیا تھا۔اس طرح وہ آغاز شباب ہی سے اہل سخن سے داد تحسین حاصل کرنے لگے تھے۔
موصوف اپنے بارے میں رقم طراز ہیں:
”مجھے اوائل عمری سے شعر سننے،شعر پڑھنے اورشعر کہنے کا شوق رہا اورمیں اپنے اشعار اپنے کرم فرماؤں اورمخلصوں کے درمیان سناتارہا۔ لوگ میری حوصلہ افزائی کرتے رہے“۔
شعروشاعری نے انھیں آداب شاعری سکھائے تھے اوراس کے اسرار ورموز سے آگاہ کردیاتھا۔یہی وجہ ہے کہ ایک ”استاذ شاعر“ ہونے کے باوجود انہوں نے شعروشاعری میں کسی استاذ سے اصلاح نہیں لی۔
ان کی شاعری میں تجدد اورتنوع تھا، ہرصنف سخن میں انہوں نے طبع آزمائی کی۔روایتی غزل گوئی میں فردوطاق ہونے کے ساتھ نعت گوئی میں بڑے ماہر ومشاق تھے۔
ان کی شاعری میں غم دوراں وغم جاناں کاحسین امتزاج ہے۔ جناب محمد اصغر صاحب عثمانی نے بزم عزیز کے تعزیتی جلسہ کے موقع پر اپنے خطبہئ صدارت میںaleem usmani ان کی غزلیہ شاعری کوان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ ”مرحوم نے روایتی غزل میں تغزل کابھرپور استعمال کیا، وہ غزل جومیرؔ وغالبؔ سے ہوتے ہوئے جگرؔ اورخمارؔ تک پہنچی اس کوامانت کی طرح آخری دم تک سنبھالے رہے“۔
ڈاکٹرصاحب اپنے کلام کی پختگی،مضامین کی آمد اوراسلوب کی سلاست کی بدولت ہربزم میں ”مزکرتوجہ“ بن جاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اپنے ہم عصر مشہور شعراء سے گہرے مراسم تھے۔جونہ صرف ان کی شعری محاسن کے معترف بلکہ ان کے فنی کمالات کے مدّاح بھی رہے ہیں۔ جانشین حضرت افقرؔ موہانی جناب عزیزؔ ؔبارہ بنکوی ان کی شاعری کوان الفاظ میں داد تحسین دیتے ہیں۔“ ان کی مشق سخن کافی ہے،اشعار تمام نقائض سے پاک وصاف ہوتے ہیں“۔ نیز ان کی شعر نوازی اور شعراء پروری کویوں سندِ توصیف عطا کرتے ہیں:-
”ان کی وجہ سے مجھے بڑی تقویت حاصل ہے، قرب وجوار میں اپنی محنت سے شاعری کوزندہ کئے ہوئے ہیں۔“
ان کی غزلوں کاایک مجموعہ ”دیوار“ 1995 میں زیور طبع سے آراستہ ہوکر مقبول اہل نظر ہوچکاہے۔ان کے نعتیہ کلام کا مجموعہ”متاع مغفرت“ کے نام سے 2016 میں شائع ہوا تھا ، اور دستیاب غزلوں قطعات اور نظموں پر مشتمل تین مجموے ’بام و د‘ر ’، نقش اول‘ ا و’ر حرفِ آخر‘ کے نام سے حال ہی میں شایع ہوئے ہیں۔ یہ سارے مجموعے ریختہ ڈاٹ کام اور دیگر درجنوں ویب سائیٹوں پر ای بک اور پی ڈی ایف کی شکل میں بھی دستیاب ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ”بزم بہار سخن“ کے نام سے ایک ادبی انجمن قائم کی تھی جس سے اودھ کے لکھنؤ وبارہ بنکی اضلاع اوران کے اطراف سے تعلق رکھنے والے نامور شعراء وابستہ تھے جس کی ماہانہ نشستوں میں جس طرح کہنہ مشق شعراء اپنے کلام سے سامعین کومحظوظ کرتے تھے،اُسی طرح نوآموز شعراء ان کی رہنمائی وسرپرستی میں مشق سخن کیاکرتے تھے،اس طرح نہ جانے کتنے تازہ وارِ دانِ بساط سخن ان کی اصلاح وتصحیح نیز تشجیع وتحریک سے سخنوران غزل اورشہنشاہانِ اقلیم سخن بن گئے۔
ان کے کلام بلاغت نظام کے چند اشعار بطور نمونہ نذرقارئین کئے جارہے ہیں۔
گذرنا میرا جس رستے سے دنیا کو گراں گذرا
اسی رستے سے آخر ایک دن سارا جہاں گذرا
====
ان سے تعلقات نہ پیدا کریں گے ہم
یہ اور بات ہے انہیں چاہا کریں گے ہم
تم آئینوں کی رائے سے کیوں فکر مند ہو
تم کو اسی نگاہ سے دیکھا کریں گے ہم
====
جو جی میں آئے وہ یہ صاحب شباب کریں
یہ لوگ وہ ہیں فرشتوں کو جو خراب کریں
====
ہے صاف بات ہمیں گنتیاں نہیں آتیں
کرم جو آپ کو کرنا ہے بے حساب کریں
====
بغیر تیغ اٹھائے گزر نہیں ہوگا
یہ دور وہ ہے قلم کارگر نہیں ہوگا
====
بڑے چرچے ہیں ہم نے زندگی وقفِ بتاں کردی
ہم اپنی چیز کے مالک تھے ہم نے رائیگاں کردی
مقفل اس نے جس کے واسطے سب کی زباں کردی
وہی بات اس کے ماتھے کے پسینے نے بیاں کردی
جناب علیمؔ عثمانی کی پیدائش قصبہ کرسی ضلع بارہ بنکی یوپی میں مورخہ8/نومبر 1931کوہوئی،ان کے والد ماجد جناب محمد نسیم صاحب اپنے ایک نامور حکیم تھے جن کی شفقت پدری کاسایہ ان کے سر سے صرف 4سال ہی کی عمر میں اٹھ گیا تھا، انہوں نے مادرمشفق ہی کی آغوش محبت میں تعلیم وتربیت پائی، ان ہی کی خدمت اورراحت رسانی کی خاطر وہ مزید اعلیٰ تعلیم کے لئے اورملازمت کی غرض سے کبھی قصبہئ کرسی سے باہر نہیں نکلے۔ ماں کی دعاؤں کاثمرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نورنظر اورلختِ جگر کوشہرت ومقبولیت کے بام عروج پرپہنچادیا۔
ڈاکٹر صاحب کی ذات مرجع خلائق تھی۔ لوگ دوردرازمقامات سے طبی مشورے کے علاوہ دیگر دینی،علمی اورادبی امور میں تبادلہ خیال کے لئے ان سے رابطہ کرتے تھے اوروہ ان کی اپنے طویل تجربات،وسیع مشاہدات ومطالعات کی روشنی میں رہنمائی کیاکرتے تھے۔
ایک کہنہ مشق شاعر، بلند پایہ ادیب اورباکمال سخن شناس ہونے کے ساتھ وہ نہایت شگفتہ مزاج،بذلہ سنج،ذہین وطبّاع نیز حاضر دماغ وحاضر جواب تھے۔
ڈاکٹر صاحب اپنی خوش اخلاقی،خندہ جبینی اورکشادہ روئی کی وجہ سے ہردلعزیز تھے،اسی لئے ہرمجلس میں ”جان محفل“بنے رہتے تھے،ان کی مجلسیں بڑی پُرلطف اورامن وسکون سے معمور ہواکرتی تھیں۔اگرایک طرف ان کی ظرافت اورطنز ومزاح سے محفلیں قہقہہ زار بن جاتی تھیں تودوسری طرف ان کی آنکھیں یادالہی میں اشکبار ہوجاتی تھیں۔کیونکہ وہ بڑے ذاکر وشاغل اورپابندِ معمولات تھے،ان کی زندگی ذوق عبادت،فکر آخرت اوراندیشہئ عاقبت سے عبارت تھی۔
اور اب کچھ ان کی نعت گوئی کے متعلق، نعت نبیؐ یا مدح رسولؐ ایک مؤمن شاعر کا سرمایہئ آخرت اور ”متاع مغفرت“ ہے نیز حب نبیؐ کا بین ثبوت اور عشق رسولؐ کی روشن دلیل ہے، ہر دور میں باذوق اہل سخن بارگاہ رسالت مآب میں نذرانہ ئ عقیدت پیش کرتے رہے ہیں، اس زریں سلسلہ کا آغاز دور نبوی ہی سے حضرت حسان بن ثابت، عبد اللہ بن رواحہ، اور کعب بن مالک جیسے شعراء صحابہ کے ذریعہ ہوگیا تھا جن کے کلام بلاغت نظام کو دربار نبوۃ سے سند توصیف و تائید بھی حاصل ہوئی، پیغمبر اسلام کے دفاع اور اس پیغام رسانی نیز شرح و ترجمانی کے صلہ میں زبان نبوت سے جن کے حق میں دعائیہ کلمات نکلے جس کی بدولت یہ ”شعرائے رسول“کے معزز لقب سے سرفراز ہوئے، یہ مبارک سلسلہ بلا انقطاع تا ہنوز جاری ہے۔
آپ محبوبیت نعت کا اندازہ کریں:
گرم اس دور میں ہے محفل حسانؓ رسول (علیمؔ عثمانی)
ایک مسلم کو کمال ایمان اسی وقت عطا ہوتا ہے جب وہ عشق نبیؐ سے سرشار ہوجاتا ہے، دل و جان سے آپؐ پر نثار ہونے کے لئے بے قرار اور آپؐ کا ہر حکم بجالانے کے لئے تیار ہوجاتا ہے، اسی لئے وہ ہم دم سے تابع فرماں، منتظر اشارہئ چشم رہتا ہے، فیصلہئ نبوی کے سامنے سپر اندازی، اپنی ہر خواہش نیز عفا و آرزو سے دست برداری اختیار کرلیتا ہے، اس کی ہر ادا آپؐ کی فرماں برداری اور تابعداری کی عکاسی نیز آپؐ سے پختہ ارادت اور گہری عقیدت کی غمازی کرتی ہے، خدا وند قدوس کا ارشاد ہے:”فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فی ما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی أنفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما“ آ پ کے پروردگار کی قسم یہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہونگے جب تک یہ اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو حکم وثالث نہ بنالیں اور آپؐ کے فیصلہ سے اپنے دل میں ذرا بھی تنگی محسوس نہ کریں اور مکمل طور پر اسے تسلیم نہ کرلیں۔
نعت گوئی ایک نہایت نازک اور بے حد حساس موضوع ہے، جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے، یہ وہ ”پر پیچ“ راہ ہے جس میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے اور ہر لحظہ توازن واعتدل ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مقام مسرت ہے کہ ہمارے محسن وکرم فرما مخدوم معظم جناب ڈاکٹر علیمؔ عثمانیؒ جو نہ صرف روایتی غزل کے معروف و مقبول شاعر تھے بلکہ نعتیہ شاعری میں اپنے ہم عصروں کے درمیان ایک منفرد مقام رکھتے تھے، خود موصوف اپنے بارے میں فرماتے ہیں ؎
اے علیمؔ اس میں گنجائش شک نہیں، یہ ہے سب رحمت رحمۃ للعالمیں
آپ جیسے اسیران زلف غزل نعت کی صنف میں طاق فن ہوگئے۔
====
نعت گوئی میں شہرت نہ پائیں علیم ؔ
اپنے فن کی مگر آبر و ہم بھی ہیں۔

لکھتا تھا جو توصیف بتاں میں وہ علیمؔ اب
کچھ دن سے ادھر شاعر دربار نبیؐ ہے
بلاشبہ ڈاکٹر صاحب اس راہ سے نہایت کامیابی سے گذرے ہیں اور بے حد خوش اسلوبی کے ساتھ اس موضوع کے حق کی ادائیگی سے عہدہ برآں ہوئے ہیں، انہوں نے بجا طور پر کہا ہے:
بیش کہئے تو لگے ماتھے پہ داغ تشریک
مطمئن دل نہیں ہوتا ہے اگر کم کہئے۔
ڈاکٹر صاحب کے نعتیہ کلام کے مطالعہ سے ان کی شریعت کے بنیادی مآخذ: قرآن و حدیث سے گہری واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے جس کا ثبوت ان کے وہ معنی خیز اشعار ہیں جنہیں بطور نمونہ درج ذیل کیا جارہا ہے۔
اس دور میں ثواب وہ پا ئے گاسو شہید کا
جس میں بھی پائی جائے گی آپؐ کی اک ادا فقط
حد کن فکاں میں کوئی بھی نہیں جو
ہمارے نبی کی طرح دلربا ہو
بالاتفاق سب سے حسیں دو جہاں میں ہیں
وہ آمنہ کے چاند و ہی عائشہ کے پھول
اور انکی یہ نعت بھی جو بہت مشہور ہوئی اور ہند و پاک کے بہت سے نعت خواں حضرات دینی جلسوں اور محفلوں میں پڑھ کر داد و تحسیں حاصل کرتے ہیں۔ درج ذیل ہے۔

سارے عالم کی مٹی میں جلوہ فگن جتنے ذرے ہیں اتنے درود آپؐ پر
باغ کونین کے سارے اشجار میں جتنے پتے ہیں اتنے درودآپ ؐپر
چشم انساں سے اشکوں کی ٹپکے ہوئے جتنے قطرے ہیں اتنے درود آپؐ پر
آسماں کے دوشالے میں ٹانکے ہوئے جتنے تارے ہیں اتنے درود آپ ؐپر
ساری تقریر وتحریر انسان میں رب کونین کے سارے قرآن میں
جس قدر حرف ہیں اور ہر حرف کے جتنے نقطے ہیں اتنے درودآپ ؐپر
ذرہ وآفتاب ومہ وکہکشاں رنگ رخسار گل حسن روئے بتاں
میرے کہنے کا مطلب ہے اللہ کے جتنے جلوے ہیں اتنے درود آپؐ پر
اے علیمؔ اب خدا سے یہ فریاد ہے اس کو معلوم عصیاں کی تعداد ہے
میرے اعمال نامے کے صفحات پر جتنے دھبے ہیں اتنے درود آپؐ پر

جناب ڈاکٹر علیمؔ عثمانی صاحب کی حیات مستعار ہی میں ان کے ایماء، ومشورہ سے ان کے نعتیہ کلام کا ایک مجموعہ مرتب ہوگیا تھا جس پر حضرت عنبرؔ شاہ واثی نے عارفانہ انداز میں اور جناب مولانا سید سلمان حسینی ندوی مد ظلہ العالی نے اپنے ادیبانہ قلم سے میری فرمائش پر تقریظ لکھی تھی، یہ مجموعہ باقاعدہ کتابت و طباعت کے مراحل سے گذرنے بھی نہ پایا تھا کہ جس”بارگاہ فن“ میں یہ شعری سرمایہ محفوظ تھا وہ ایک شب طوفان باد و باراں میں زمین بوس ہو گئی، جس کے ملبے تلے یہ سرمایہ نذر خاک دآب ہوگیا، اس طرح ان کے نعتیہ کلام کا یہ مجموعہ زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آنے سے رہ گیا جس کے نتیجہ میں تشنہ کامان عشق رسولؐ ان گلہائے عقیدت سے مشام جاں معطر کرنے سے محروم رہ گئے، جو انہوں نے بارگاہ نبوت میں پیش کئے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کی وفات حسرت آیات کے بعد کافی جد وجہد اور تلاش بسیار کے بعد ان کے اس نعتیہ کلام کو یکجا کیا جو کہ گردش دوراں اور دست برد زمانہ سے محفوظ رہ گیا تھا، اس کی ترتیب و تسوید میں کافی عرق ریزی کے بعد اس شعری ورثہ کی حفاظت کی صو رت نظر آئی ایک مختصر نعتیہ مجمو عہ متاع مغفرت کی شکل میں شائع ہو کر منظر عام پر آیا۔
صبرو توکل اورقناعت واستغناء ان کاوطیرہ نیز تواضع وسادگی ان کاطرہئ امتیاز تھا۔شاعری میں بے حد مقبولیت اورمیڈیکل پریکٹس میں بے پناہ کامیابی کے باوجود انہوں نے آمدنی میں اضافہ کے امکانات پرتوجہ نہیں دی ان کی زندگی جہد مسلسل،عمل پیہم،یقین محکم کی آئینہ دار تھی۔ جہادِ زندگانی میں انہوں نے انہی شمشیروں سے کام لیاتھا،حیات مستعار کے آخری چند ماہ بعض عوارض وامراض کی نذرہوئے جن سے وہ جانبرنہ ہوسکے،بالآخر ان کا آفتاب زندگی مورخہ10مئی 2012 بروز پنج شنبہ بوقت سہ پہر غروب ہوگیا اورفضل وکمال کایہ مجموعہ پیوند خاک ہوگیا۔

ڈاکٹر نذیر احمد ندوی
شعبہئ عر بی ندوۃ العلماء،لکھنؤ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جِنکے لفظوں میں ہیں کنکر، مزاج پتھر ہیں
  • عشق کیا ہے؟
  •  جنگل کا قانون​
  • سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
امر جلیل یا امر۔۔۔۔۔؟؟
پچھلی پوسٹ
وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب!

متعلقہ پوسٹس

میں سوکھا پیڑ اور اس کی ہری بھری باتیں

جون 6, 2020

وہی منزل، وہی ساتھی

مارچ 22, 2025

بدن سے باطن تک

مئی 26, 2025

مکانِ دل میں کوئی بھی مکیں نہیں مرے دوست

مئی 14, 2020

جو مرے خون سے رنگے ہیں دوست

نومبر 4, 2020

راہِ آشوب

دسمبر 17, 2021

اپنے محور سے ہٹ رہا ہوں میں

جون 27, 2025

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

مئی 28, 2024

الوداع ماہ رمضاں

مارچ 30, 2025

تاریکی میں ڈوبتی دنیا

مئی 2, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کوششیں کر کے دل برا کیا...

مئی 11, 2020

شہرِ سکوں میں باعثِ افتاد کون...

نومبر 8, 2025

کوئی فرق نہیں پڑتا

فروری 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں