خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب!

از سائیٹ ایڈمن مئی 13, 2021
از سائیٹ ایڈمن مئی 13, 2021 0 تبصرے 76 مناظر
77

وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب!

گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو لیکر مختلف قسم کی خبریں گردش کر تی رہی ہیں اور لگ یہ رہا ہے کہ ایسا ماحول بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ سعودی عرب پاکستان سے دیرنہ تعلقات ختم ہی نا کردے یا پھر قطر یا ایران کی جیسی نوبت نا آجائے۔ جہاں اسکی ایک وجہ مسلم دنیا پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے بڑھتا ہوا دباؤ سمجھا جاسکتا تھاجیسا کہ دیگر کئی عرب ریاستوں نے ایسا کیا جبکہ پاکستان واضح طور پر بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور بار بار ”بین الاقوامی سطح پر متفق پیرامیٹرز” پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کے ساتھ 1967 سے قبل کی سرحدوں کو اپنا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کرتا رہا ہے،یہ واحد قابل قبول حل ہے جو مغربی ایشیاء میں پائیدار امن کی ضمانت دے گا۔ سعودی عرب نے پاکستان کے معاشی حالات کی بہتری میں اپنا کردار ہمیشہ ادا کیا ہے اورپاکستان کی افواج نے سعودیہ کی پہلی دفاعی لکیر کیلئے ہمیشہ اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ حالیہ دورے سے قبل آرمی چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سعودیہ کے دورے پر موجود تھے اور حالات کی سازگاری کی مرہون منت وزیر اعظم بھی وہا ں پہنچ گئے۔

موجودہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کے منصب سنبھالنے پر بھی بھرپور مالی تعاون کی ناصرف یقین دہانی کروائی بلکہ عملی تعاون بھی کیا۔ لیکن اس دفعہ اس مالی تعاون کے بدلے پاکستان سے کچھ مختلف کرنے کی توقع کی جارہی تھی جس پر سے پردہ اسوقت اٹھا جب وزیراعظم صاحب نے سعودی عرب کے مالی تعاون کے لئے دی گئی رقم انہیں بہت ہی قلیل وقت میں تقریباً لوٹا دی تھی۔ امریکہ میں اقتدار کی منتقلی کا وقت تھا اور یہ تبدیلی امریکہ میں نئے دن کا آغاز سمجھی جا رہی تھی اور تقریباً ایسا ہواجس کی وجہ سے پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا وہ دباؤ جس کی توقع کی جارہی تھی نہیں ڈالا گیا۔ یہاں ایک سوا لاور بھی پیدا ہوتا ہے کے کیا عمران خان صاحب کی شخصیت کا سحر سر چڑھ کا بول رہا ہے جس کی وجہ سے دباؤ کی نوعیت کوئی خاص دیکھائی نہیں دے رہی ہاں البتہ اندرونی سازشی ٹولے کا دباؤ بیرونی دباؤ سے کہیں زیادہ محسوس کیا جارہا ہے کیونکہ گھر کے لوگوں سے دشمنوں کی طرح برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہمیں یاد ہوکہ محمدبن سلمان اور عمران خان صاحبان کی آخری ملاقات میں ہونے والی گفتگو میں محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ میں سعودیہ میں پاکستان کا سفیر بن کر کردار نبہاؤنگاجو کہ سفارتی تعلقات کی پائداری اور استحکام کیلئے کافی سمجھا جارہا تھا لیکن درپردہ حقائق وقت کے گزرنے کے بعد سامنے آنا شروع ہوئے۔

وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی بصیرت کو ہمیشہ سے ہی تنقید کا سامنا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ انکا صاف گوئی رویہ سمجھا جاتا ہے وہ عمومی سیاست دانوں کی طرح لگی لپٹی کرنے کے عادی نہیں دیکھائی دے رہے ساتھ ہی ایک بہترین پیشہ ور کے طور پر وزیر اعظم کے دفتر کی ذمہ داریاں نبہا رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کے سعودی اور پاکستانی تعلقات میں بڑھتی خلیج کو پاٹنے کا جیسے ہی موقع میسر آیا تو وزیر اعظم نے آگے بڑھتے ہوئے خیر سگالی کے طور پر سعودی عرب کا دورہ کر لیا ہے۔ اس دورے کے دوران ہی سانحہ مسجد اقصی رونما ہوگیا۔ جب مسجد اقصی میں دورانِ تراویح یہودی فوجیوں نے جوتوں سمیت داخل ہوکر آنسوگیس اور دستی بم نہتے نمازیوں پر پھینکے اور مسجد کو میدان جنگ بنانے کی کوشش کی، اس سانحہ کی طرف ذرائع ابلاغ نے تو توجہ دلائی ہوگی لیکن یقین ہے کہ عمران خان صاحب نے بھی سعودی ارباب اختیار کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروانے کی کوشش کی ہوگی کے ہم کس طرح سے اپنے بھائیوں کے خون کا سودا کرلیں۔ اسرائیل کا یہ اشتعال انگیز اقدام دیکھانا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کیلئے کیا پیغام ہے؟۔ یہ دورہ حسب معمول ایک بار پھر معاشی بہتری کیلئے کچھ نا کچھ ضرور ساتھ لائے گا۔لیکن کیا یہ دورہ پاکستان خطے میں اپنی خودی اور حقیقت کو تسلیم کروانے میں کامیاب ثابت ہوا ہے یا نہیں اس کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔

اس دورے کہ دوسرے پہلوپر بھی نظر ڈالتے ہیں،رمضان میں حرمین کی زیارت تقریباً ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے، ہر مسلمان چاہتا ہے کہ رمضان کا مہینہ ہو اور وہ حرمین میں سحر و افطار کر تا رہے سونے پر سوہاگا طاق راتیں یعنی لیلا التقدربھی میسر آجائیں۔ یہ دورہ کسی بھی طور سے یک طرفہ مفاد کیلئے نہیں ہوسکتا، بہت ممکن ہے کہ اگر رمضان نہیں ہوتے تو ولی عہد محمد بن سلمان خود دورے پر تشریف لے آتے۔ غالب گمان ہے کہ سعودی عرب کے سوچ بچار کرنے والوں حکمت عملی مرتب کرنے والوں نے پاکستان کی موجودہ اہمیت کو صاحب اقتدار کے سامنے رکھا ہوگا جس پر تعلقات کو ازسر نو تشکیل دینے کی کوشش کی گئی ہوگی۔ معاشی طور پر پاکستان کو ہمیشہ سعودی عرب کی ضرورت رہتی ہے لیکن دیگر حفاظتی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان سعودی عرب کا بہتری ساتھی رہاہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان اپنے پاکستانی موقف کی بنیاد پر اور قیادت میں بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے کی موجودگی دنیا میں مثبت تاثر کا باعث بن رہا ہے۔ کوئی تو اور وجہ ہوگی کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والے کو محلوں میں کیوں بلایا جارہا ہے کیا انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ ریاست مدینہ کا قیام انکے لئے کسی بھی طرح سے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکے گی۔ ہم بات کر رہے تھے وزیر اعظم عمران خان صاحب اور انکی اہلیہ کی جن کے لئے یہ سیاسی دورے سے کہیں بڑھ کر ایک روحانی دورہ تھا، ستائیس ویں شب کا حصول بھی ہوا، بیت اللہ میں نوافل کی ادائیگی بھی کی گئی اور نبی آخری الزماں ﷺ کے شہر میں حسب عادت بطور عقیدت و احترام بغیر جوتوں کے وقت گزارا سرکارِ دوعالم ﷺ کے روضہ پر دل کھول کر حاضری بھی دی اور نوافل کی عدائیگی کے اہتمام کیساتھ ساتھ ملک و قوم کی سلامتی کیلئے بھرپور دعائیں بھی کیں۔ ایک حلقہ ایسا بھی ہے جسے یہ دورہ کسی بھی طرح سے ہضم نہیں ہورہا ہوگا۔

عشق ِ رسول ﷺ سے عمران خان صاحب کی محبت فقط عقیدت اور احترام اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے نہیں ہے بلکہ ننگے پیر مدینے کی گلیوں میں گھومنا ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہونے کی دلیل ہے اور یہ دلیل اللہ سے مدد مانگنے والوں کی نشانی ہے۔ ترکی کے ڈرامے دیکھانے پر بھی دباؤ رہا ہوگا لیکن اسلام کی سربلندی کا وقت یاد دلانے کیلئے یہ ضروری تھا کہ بس اب کسی کے رحم وکرم پر نہیں بلکہ اس کے رحم و کرم پر چلتے ہیں جو اس کا حقیقی حقدار ہے۔ ارطغرل کی جدو جہد اس بات کی عکاسی ہے کہ اللہ پر سچے دل سے توکل مشکل سے مشکل حالات سے بھی نکال کر لے جاتے ہیں۔سفر میں ثابت قدمی رکھیں انشاء اللہ پاکستان بھی بہت جلد ہر قسم کی بندشوں سے آزاد ہونے والا ہے۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نعتِ رسولِ محتشم ﷺ
  • حضرت یسع علیہ السلام
  • جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا سمجھتا ہوں
  •  یہ جو آنکھوں پہ عینک لگاتی ھوں میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈاکٹر علیم ؔعثمانی۔ توصیفِ بتاں سے دربارِ نبی تک
پچھلی پوسٹ
کورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!

متعلقہ پوسٹس

جی میں پہلے سی تب وتاب نہیں

جنوری 14, 2021

خوب، روپ اور بہروپ

جنوری 6, 2023

بیوہ کا راز

مئی 20, 2020

شامِ تنہا کس طرح سحر ہوتی ہے!

مارچ 5, 2023

مس چڑیا کی کہانی

دسمبر 29, 2019

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

نومبر 23, 2019

شاداں

فروری 16, 2020

کر کے رہوں گی خیر کی تدبیر دیکھنا

اکتوبر 10, 2025

ماں

نومبر 6, 2020

یہ کس نے کہا خواب سہانے نہیں آتے

نومبر 4, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زندگی سفر میں ہے اور اس...

اپریل 4, 2020

دھول چہرے پر تھی اور صاف...

ستمبر 7, 2025

چھڑکتا ہے صبوحی، گُل بدن ایجاد...

اپریل 25, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں