خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

کورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!

از سائیٹ ایڈمن مئی 13, 2021
از سائیٹ ایڈمن مئی 13, 2021 0 تبصرے 59 مناظر
60

کورونا ڈوبتی انسانیت کے نام کھلاخط!

سماوی آفات جن پر انسان کوکوئی اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی ان پر کوئی بس چلتا ہے۔ اِن آفات کے نزول کے سامنے سارے سائنسی اور انتظامی اقدامات اور حربے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جب انسان ان آفات کے سامنے بے بس ہوجائے تو پھر دعا‘ التجااور استغفار کے علاوہ اور کوئی طریقہ کار گر باقی نہیں رہتا کیونکہ آسمانی آفات اوپر سے ہی آتی ہیں اور اوپر والے کے حکم سے ہی ٹلتی ہیں۔ 2019ء میں نمودار ہونے والے مہلک وائرس کورونا‘ جو بظاہر نظر سے بھی اوجھل ہے‘ انسانی جدید ترین ٹیکنالوجی‘ساری جہت‘ انسانی غرور‘ اجیادات کو زمین بوس کر گیا‘ اور انسانی سارے تجربات‘ انسانیت بے بس ہو کر رہ گئی‘ اس چھوٹے سے وائرس نے پوری دُنیا منجمند کر دی‘ معاشی اعتبار سے دُنیا زوال کا شکار ہو رہی‘تو وہاں ہی یہ وائرس لاکھوں انسانی جانیں بھی نگل گیا‘بھارت میں کورونا کا ریکارڈ اضافہ‘پوری دُنیا کورونا کے خوف میں مبتلا ہو چکی ہے۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود کہ یہ ایک قدرتی آفات ہے۔ سائنس اور Technologiesجیسے آلات کے باوجود کورونا انسانی بساط سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ جب قدرتی طور پر کوئی آفات آتی ہے تو اُس وقت نہ تو سائنسی دلیل اور نہ ہی کوئی Technologies کام آتی ہے۔ اگر کوئی چیز کام آتی ہے۔اس آفت کو آنے سے کوئی انسان روک نہیں سکتا۔ اس پر کسی کو عبور حاصل ہے تو وہ ہے خدا کی قدرت‘ جو پوری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اللہ رب العزت اپنے بندوں سے اتنا محبت کرتے ہیں جتنا کہ اس کے والدین نہیں کر سکتے۔ اللہ کے ربوبیت کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ آخر وہ اپنی تخلیق کردہ کائنات اور اپنے بندے کو اس طرح فنا کرنا کیوں چاہتا ہے؟ جب ہم قرآن وسنت کی روشنی میں تلاش کریں گے تو پتہ چلے گا کہ ہمارے اعمال درست نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے مختلف شکلوں میں آفات آتے ہیں۔ جب زمین پر ظلم وبربریت‘حرام وحلال میں تیزی آتی ہے تو اللہ رب العزت کو جاہ وجلال آتا ہے۔ پھر وہ انسانوں کی عبرت کے طور پر عذاب نازل کرتا ہے‘یا پھر انسان اقتدار پاکر اس کے نشے میں چور ہو کر حد بندگی سے نکل جاتا ہے‘ تو پھر عذاب الٰہی نازل ہوتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ زمین‘آسمان‘ سورج‘ چاند‘ ستارے ساری کائنات اللہ رب العزت کی ہی تخلیق کردہ ہیں۔ وہی اس کائنات کا خالق ومالک ہے۔ انسان کو قوت واقتدار اسی کی عطا کردہ ہے جسے امن وسکون برقرار رکھنے کے لیے دیا گیا ہے‘تاکہ بندگان خدا خوش رہ سکیں‘ ان کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔ ظلم وبربریت‘ لاقانونیت کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف قائم کیا جا سکے۔ لیکن جب انسان اللہ کی عطا کردہ چیزوں کو اپنی ملکیت سمجھنے لگتا ہے‘اپنے اقتدار کے نشے میں مدمست ہو کر بندگانِ خدا پر ظلم وستم کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ عذاب نازل کر کے ظالموں سے انتقام لیتا ہے۔ قدرتی آفات کو ٹالنا کسی کے دائرے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن اس کے بعد جو بھی تباہی ہوتی ہے‘ اس کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی تقریباً ہر سال کسی نہ کسی صورت میں کسی نہ کسی علاقے میں وہاں کے لوگوں کو زلزلہ‘سیلاب‘قحط‘ ٹڈی دل‘لینڈ سلائنڈنگ اور سمندری طوفان جیسے آفات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جب بھارتی بھی مسلمانوں سے اللہ کریم کے آگے دُعا کرنے کی درخواست کر رہے‘ ریلی نکال کر کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے‘ تو ایسے میں ہم کورونا سے لڑنے کی سوچ ہی کیوں رہے‘کورونا انسانی تمام تدابیر کو ناکام کر کے کوئی پیغام دینا چاہتا ہے‘ ایسی وبائیں‘ آفات سماوی پہلے بھی ہوتی رہی ہیں‘ ان سے کیسے نجات ملی؛خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دُنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔
ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘ ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امرائاور تاجروں کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا‘لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید پریشانی میں تھا‘ اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالدمسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی‘ یہ داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگراجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“ بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا ”یا استاد فوراً فرمائیے۔ میری جان حلق میں اٹک رہی ہے“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ”کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“ یحییٰ خالدرکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔ شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاو گے“ شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘ اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“۔
یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“۔ دُنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘ آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاوکیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا‘ آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللہ کے حضور گر جائیے‘ اس سے توبہ کیجئے‘ اس سے مدد مانگیے“۔ دُنیا کے تمام مسائل کا حل ہمارے پاس م،وجود ہے‘ لیکن ہماری روایتی بے حسی‘ ایس او پیز سے لے کر کورونا وباء سے نجات کی اصل غذا تک میں کہیں ہمیں کسی بڑے امتحان میں نہ ڈال دے۔ کوشش‘حیلہ اور دُنیاوی اقدامات نہایت ضروری بلکہ ناگزیر ہیں کیونکہ اسلام میں عمل پر جتنا زوردیا گیا ہے اتنا شاید دوسرے مذاہب میں نہیں۔آج بھی کورونا سے نجات چاہیے تو لڑنا نہیں‘ فقیر بننا ہوگا‘ یہ کورونا کا انسانوں کے نام کھلا خط ہے‘ جو پڑھ کر عمل کا متقاضی ہے‘ اس سے پہلے کہ کہیں دیر ہو جائے!

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سیّد نذیر نیازی – بیاضِ یادداشت اور علامہ اقبالؒ!
  • شامت اعمال ہیں
  • سانس لیتا وہ سمندر موت کا تھا
  • بھارتی توپیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب!
پچھلی پوسٹ
کرونا: کہیں عید کا سماں کہیں شام ِغریباں!

متعلقہ پوسٹس

آنٹی کا تجزیہ

اپریل 1, 2023

عالم تمام حلقۂ دامِ فراڈ ہے

جون 3, 2020

ایک قبر کی فریاد

جنوری 20, 2020

مجھ کو ہی نہیں اسکو بھی

نومبر 8, 2025

خَلق کی ابتدا محمدؐﷺ ہیں

اکتوبر 12, 2025

غزنوی میزائل

جنوری 27, 2026

طمانچہ

نومبر 29, 2019

گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

جولائی 11, 2021

دن ہی ڈھلتا نہ شب گزرتی ہے

اپریل 25, 2020

ادبی تخلیق اور ادبی تنقید

مئی 27, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خوشبو سے وادیوں کو مہک جانا...

اکتوبر 12, 2025

اسلوبِ بد دُعا نہ دُھائی کا...

اپریل 25, 2020

قیامت کی نشانیاں

اپریل 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں