خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانہر کنارے
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

نہر کنارے

از سائیٹ ایڈمن فروری 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن فروری 12, 2025 0 تبصرے 61 مناظر
62

موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں کی یہ گھنیری شام اور اس کی یاد، پانی میں کھڑی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میرے بچپن کی دوست، میری سہیلی سمرا، جو اسی نہر کنارے مجھے ملا کرتی تھی۔ جس نے کہا تھا، ’جب سب ختم ہو جائے تو اسی نہر پر دوبارہ اکٹھے ہوں گے : موت کے بعد بھی تم مجھے اسی نہر کنارے کھڑی پاؤ گی۔‘

ماضی کی حسین یادیں مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔ بچپن جوانی کی بہاریں مجھے واپس بلا رہی تھیں۔ میں ریت کنارے چلتی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ پانی خوشی خوشی میرے پاؤں سے بغل گیر ہوتا اور پھر دکھ بھرے انداز میں جدا ہو کر واپس لوٹ جاتا۔

سال ہا سال بیت گئے، کل کی بات ہی لگتی تھی جب سمرا اور میں جوانی کی پیڑھی پر قدم رکھ رہے تھے۔ روزانہ شام اس نہر کنارے ملتے۔ سردیوں کی دھوپ اور گرمیوں میں درختوں کی چھاؤں تلے یہیں پلے بڑھے۔ والدین کھیتوں میں کام کر رہے ہوتے، ہم ادھر بھاگ آتے۔

آج میرے پاؤں ریت میں دھنسے جا رہے تھے اور پانی غل مچاتا میری پنڈلیوں کو چھو رہا تھا۔ نہر کے اس کنارے پر پانی کی روانی کچھ ٹھہری ہوئی تھی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں ہم گہرے پانی سے نکل کر لیٹ جایا کرتے تھے۔ بھل کی سوندھی سوندھی خوشبو آج بھی وہی تھی۔ نہر بھی کیا عجیب چیز ہے۔ ہر جگہ سے ایک جیسی گہری لیکن وقت اور پانی کا دھارا کسی نہ کسی کنارے کو کھانے لگتا ہے اور کسی دوسری جگہ ریت اور بھل اٹھا کر باہر پھینکتا جاتا ہے۔ نہر کا یہ رویہ بالکل میرے اور اس کے پیار جیسا تھا۔ گہرا پیار جسے عمر کی دھارا ریت کنارے لے آئی تھی۔

جوانی کی گھٹائیں اس پر ٹوٹ کے برسیں۔ اس کا بدن حیرت کی سرا؛ جھال سے گرتے پر شور پانی میں چھلانگ لگاتی تو اسے چھو کر دنگ رہ جاتا۔ اس کے ایکشن بھی غیر متوقع ہوتے، پل میں تولہ پل میں ماشہ، کبھی ہواؤں میں اڑنے والی اور کبھی پانی کی گہرائیوں سے سیپی ڈھونڈ لانے والی۔ پل بھر کا سکون حرام تھا۔

ایک دن وہ اپنے بھائی کا سگریٹ چرا لائی۔ کہنے لگی، ’پکا ہے، سوٹا لگاؤ گی؟‘

پہلی بار کش لیا تو میں بھی اس کے ساتھ ہواؤں میں اڑنے لگی۔ پورا دن نہر میں نہاتے اور ریت میں کھیلتے رہے۔ سگریٹ کا نشہ اور پیار کا نشہ؛ شام کا سہانا وقت اور خوشگوار ہوا کے جھونکے ؛ دل فریب سماں اور نہر کنارے کی بہار کیفیت فردوس بریں کو رشک کا داغ دے رہی تھی۔ بھیگی بھیگی ریت میں اٹی سمرا اس دن بہت پیاری لگ رہی تھی، حسن کامل کا مجسمہ۔ موٹے موٹے گلابی ہونٹ، چاندی چمکتی پیشانی، تیکھا ناک، گلاب کو شرمانے والے عارض قیامت ڈھاتے تھے۔

آنکھیں گل نرگس کو شرمندہ کر رہی تھیں۔ جوانی کا عالم ستم ڈھاتا تھا۔ سرو قد کھڑی سمرا کے گیسووں سے ڈھلکتے پانی کے قطرے نہر میں آگ لگا رہے تھے۔ لمبی لمبی کالی سیاہ زلفوں میں ریت کے ذرات موتیوں کی طرح دمک رہے تھے۔ سورج کی کیا مجال کہ حور شمائل سمرا کے حسن کی تاب لا سکے سو درختوں کے پیچھے چھپ گیا۔ اس دن جدا ہوتے وقت پہلی بار میرا ہاتھ پکڑ کر کہا،

’ایمان! ہم یہ دوستی ہمیشہ نبھائیں گے۔ مرنے کے بعد بھی میں تمہیں اسی ریتلے کنارے پر ملوں گی۔ وعدہ کرو ملنے آؤ گی۔‘

***

’یہ لڑکی ایک مصیبت ہے۔ ‘ میری ماں اس کی حرکتیں دیکھ کر ڈر جاتی۔ میرا جواب ہوتا، ’وہ مصیبت ہے مسئلہ نہیں۔ ‘

بہت سے لڑکوں کے لیے مصیبت تھی۔ ان کے ساتھ گھل مل جاتی، ٹھٹھا مذاق کرتی پھر جھڑک دیتی۔ ایک دن نمبردار کا لڑکا اس کے لیے پکی سگریٹ لایا۔ بہت خوش ہوئی۔ کش لیتے دھوئیں کے مرغولے بنا کر اس کے منہ پر پھینکتی رہی۔ سگریٹ کب کا ختم ہو چکا تھا اور لڑکا ابھی بھی پاس بیٹھا تھا۔ میری سڑن محسوس کر کے اسے دھتکار دیا، ’سگریٹ اک تے ٹھرک سارے دن دا، چل بھونڈا دفع ہو۔‘

ماں اس کے خلاف تھی اور پسند بھی بہت کرتی تھی۔ ہمیشہ کہتی، ’تمہیں دیکھ کر مجھے اپنی جوانی کا ہپی کلچر یاد آتا ہے۔ ‘ ہرے کرشنا تحریک ’بھیگی بھیگی راتوں میں دیوانوں کا مستی میں جھومنا یا‘ دم مارو دم ’کانوں میں سر بجانے لگتا ہے۔ یہ وہ لڑکی ہے جو مست رہ کر اپنے اندر کے مطالبات کو خود سے چھپانے کا بہانہ کرتی ہے۔ اس کی پیشانی چاند کو آب آب کرتی ہے اور موٹی آنکھیں آہوان دشت کو لیکن اس کا حال دل جاننا چاہو تو آنکھیں ملانے کی بجائے چوکڑیاں بھرتی ہرن ہو جاتی ہے۔ ‘

ہائی سکول کے آخری دو سال میری اور اس کی دوستی مزید بڑھ گئی۔ ماں کو پکا یقین تھا کہ ہم دونوں چرس پیتے ہیں۔ اس کا باپ نشئی تھا اور بھائی بھی۔ سارا خاندان شمالی علاقے سے ادھر آیا تھا۔ میری امی اسی وجہ سے ان سے خوفزدہ رہتی۔ شاید یہی سمرا کی شخصیت کا منفی پہلو تھا جسے وہ سب سے چھپاتی، خود اپنے سے بھی۔ وہ کھیل کود اور ہنسی مذاق میں اپنے اندر کی کشمکش کو دبا لیتی۔ کئی بار میں نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اٹھا کر اس کشمکش کے بارے میں جاننا چاہا تو وہ بات کو گھما دیتی، ’ایمان، تم مجھے اس دنیا میں سب سے پیاری ہو۔ تمہارا پیار مجھے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ ‘ یہ کہ کر چرس کا سگریٹ سلگا کر میری ہونٹوں سے لگا دیتی۔ میں ایک دو کش لیتی لیکن مجھے یہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس نے ایک دن چرس سپلائی کرنے والے لڑکے کی دھلائی کر دی اور سگریٹ پینے سے توبہ۔

’ایمان! میرے دل میں تمہاری تصویر کھد چکی ہے اب اس کا مٹنا محال ہے۔ ہم جگری یار ہیں۔ ہماری روحیں اکٹھی زمیں پر آئیں۔ ہم دوست ہیں اور بعد میں بھی دوست رہیں گے، جب ہم غائب ہو چکے ہوں گے اور صرف ہماری روحیں باقی رہیں گے۔ ‘

اتنی گہری دوستی کے باوجود کبھی کبھی بالکل انجان لگتی تھی۔ یونیورسٹی پہنچے تو لڑکپن کی کلیلیں اور شرارتیں بھی کم ہو گئیں۔ گم سم بیٹھی ہوتی تو میں وجہ پوچھ لیتی۔ ”ایمان میں ایک دھوکا ہوں، میں وہ نہیں جو دکھائی دیتی ہوں۔ تمہارا وہم ہے کہ میں بہت خوش ہوں۔ ’

پھر قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی اور بولی، ’سب فکر و غم بھلا کر چلو مزے اڑائیں۔ ‘
’کس چیز کے؟ ‘
’دیکھو شام کا سہانا سورج کیا کہہ رہا ہے؟‘
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہنے لگی، ’آئی ایم ان لو ودھ اے بوائے آف مائی کلاس۔‘
وہ اس لڑکے کے ساتھ ڈیٹنگ کرنے لگی تو پھر بھی میرا پیار حاوی تھا۔

عرصہ ہوا وہ بچھڑ گئی تھی۔ لڑکیوں کا ساتھ کب ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ باپ چرس سمگلنگ میں پکڑا گیا تو وہ شہر چھوڑ گئے لیکن جب بھی آتی ہم اسی نہر کنارے اکٹھے ہوتے۔ اسی ریت پر لیٹتے۔ پانی میں کھیلتے۔

***

ریت میرے پاؤں کے نیچے سے پھسل رہی تھی۔ میں آنکھیں بند کیے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ پانی گھٹنوں تک پہنچ چکا تھا۔ ٹھنڈا ٹھنڈا پانی جو اب پر سکون تھا۔ یادیں بھیس بدل بدل کر سامنے آ رہی تھیں۔ ماضی کی یادیں تھیں یا وہ آج بھی میرے ساتھ تھی؟ کانوں میں اس کی آواز رس گھول رہی تھی یا سمعی دھوکا؟ وہ آنکھوں کے سامنے تھی یا بصری دھوکا؟ جان و دل، ہوش و خرد سب ششدر تھے۔ آخری بار رخصت ہوتے وقت اس نے کہا تھا، ’ایمان! جب بھی موقع ملا میں یہاں ضرور پہنچوں گی۔‘

اس وعدہ کو ساری عمر نبھایا تھا۔ شادی کے بعد آئی۔ بچے کو اسی نہر میں تیرنا سکھایا۔ طلاق کے بعد اسی ریت پر میرے زانو پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی۔

آج بھی وعدے کے عین مطابق وہ یہاں موجود تھی، ’مرنے کے بعد بھی میں تمہیں اسی ریتلے کنارے پر ملوں گی۔‘

میں نے سر جھٹک کر ادھر ادھر دیکھا۔ وہ گہرے پانی میں کھڑی تھی دونوں ہاتھ پھیلائے مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی۔ موٹی موٹی مخمور آنکھیں، بھیگا بھیگا گدرایا بدن، پوجا کے صندل کی طرح کا چمکدار، کہر سے نکلے چیت کے چاند جیسا منزہ و مطہر، روحانی پاکیزگی کا حامل۔ آج بھی وہ جوان تھی سال ہا سال کے بعد ؛ شادی، بچے، طلاق کے بعد بھی: ڈپریشن، ذہنی خلفشار، بڑھاپا اور موت کے بعد بھی، وہ جوان تھی۔

وہ بھاگتے ہوئے آئی اور امربیل کی طرح مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کے چھوتے ہی میری جسم میں بھی جوانی واپس آ گئی۔ ہاتھ، چہرے اور جسم کی جھریاں تن کر مٹ گئیں۔ کمزور جسم طاقتور ہو گیا۔

ہم دونوں نے نہر میں ڈبکی لگا دی،
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پھرتے ہو جو تنہا تنہا
  • توبۃ النصوح – فصل ہفتم
  • وہ بڈھا
  • ستلج پھر بپھرا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بچھڑ کے مجھ سے جانے کی
پچھلی پوسٹ
باغِ ہم بستگی

متعلقہ پوسٹس

ڈیجیٹل دُنیا میں ہمارا کاغذی قافلہ

اگست 18, 2025

یہ جنگ فیصلہ کن موڑ پر ہے اس سے کہو

ستمبر 17, 2025

نرم دل ایک نعمت

ستمبر 6, 2020

عشق کرنا میرے ہمدم

اگست 5, 2025

ماٶں کی عالمی دن پر چند سطریں

جون 18, 2021

شاخوں میں کوئی اُس کی پرنده نہیں رہتا

مئی 20, 2020

فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا

جون 10, 2024

سکندر کی خود کشی کی کوشش

جنوری 4, 2022

میں خواب لکھتا ہوں

جون 21, 2020

زندگی کا دائرہ محدود ہے

مئی 5, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وبا کی آفت اور شیخ حرم...

مارچ 30, 2020

جذبات کے اظہار

اپریل 1, 2023

قرةالعین حیدر – احوال وکوائف

جنوری 5, 2017
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں