107
بچھڑ کے مجھ سے جانے کی کہانی تو سناؤ گے
مجھے جھوٹے بہانوں سے یقین کیسے دلاؤ گے
بھلے تم جتنے مخلص ہو مگر فطرت کے قیدی ہو
تمہیں ہم جتنا چاہیں گے تم اتنا دور جاؤ گے
محبت ساری دنیا کی اگر حاصل بھی کر لو تم
مرا پھر بھی یہ دعویٰ ہے مجھے نہ بھول پاؤ گے
ضرورت جب پڑی تم کو خزاؤں میں بہاروں کی
کہاں پہ مجھ کو ڈھونڈو گے کہاں سے مجھ سا لاؤ گے
وفا کی جنگ میں خالدؔ بچا کے کچھ بھی مت رکھنا
وگرنہ جیت بھی جاؤ تو بازی ہار جاؤ گے
اویس خالؔد
