34
بچھڑ کے مجھ سے جانے کی کہانی تو سناؤ گے
مجھے جھوٹے بہانوں سے یقین کیسے دلاؤ گے
بھلے تم جتنے مخلص ہو مگر فطرت کے قیدی ہو
تمہیں ہم جتنا چاہیں گے تم اتنا دور جاؤ گے
محبت ساری دنیا کی اگر حاصل بھی کر لو تم
مرا پھر بھی یہ دعویٰ ہے مجھے نہ بھول پاؤ گے
ضرورت جب پڑی تم کو خزاؤں میں بہاروں کی
کہاں پہ مجھ کو ڈھونڈو گے کہاں سے مجھ سا لاؤ گے
وفا کی جنگ میں خالدؔ بچا کے کچھ بھی مت رکھنا
وگرنہ جیت بھی جاؤ تو بازی ہار جاؤ گے
اویس خالؔد
