خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابایہ جنگ فیصلہ کن موڑ پر ہے اس سے کہو
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

یہ جنگ فیصلہ کن موڑ پر ہے اس سے کہو

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 17, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 17, 2025 0 تبصرے 58 مناظر
59

MA Doshi Column logo

آزاد جموں و کشمیر کی فضائوں میں ایک بار پھر احتجاج کی گونج ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے 29 ستمبر کو ایک بڑے احتجاج کی کال دی ہے اور اس سے پہلے ہی حکومتِ آزاد کشمیر نے وفاق سے پولیس طلب کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے آنے والے دنوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک احتجاجی تحریک ہے، مگر اس کے دل میں برسوں کی محرومیوں کا بوجھ اور آئندہ نسل کی امیدیں چھپی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک عوام کو کہاں لے جائے گی؟ اور کیا یہ ایک مثبت اصلاحی کوشش بنے گی یا خدانخواستہ بغاوت کی چنگاری کو ہوا دے گی؟یہ احتجاج کسی وقتی مسئلے کا ردِ عمل نہیں۔ اس کا پس منظر دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے دس نکاتی ایجنڈا دیا ہے، مگر ان میں سے پانچ مطالبات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ مطالبات صرف سیاسی نعرے نہیں بلکہ کشمیری عوام اور پاکستان کے نوجوانوں کی اجتماعی امنگوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ زور جس مطالبے پر دیا جا رہا ہے وہ اسمبلی میں مہاجرینِ مقیم پاکستان کے لیے مخصوص نشستوں کا خاتمہ ہے۔ دلیل یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی اپنی نمائندگی کمزور ہو جاتی ہے جب بیرونِ خطہ ووٹ ڈالنے والے اسمبلی کے فیصلوں میں اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ نشستیں تاریخی پس منظر میں اپنی جگہ پر تھیں، مگر اب وقت آگیا ہے کہ مقامی آبادی کو براہِ راست اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے کا حق دیا جائے۔ دنیا کی ہر جمہوریت میں نمائندگی کا اصول "ایک فرد، ایک ووٹ” پر استوار ہے، اور کشمیری عوام بھی اسی اصول کو اپنا حق مانگ رہے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں یکساں نظامِ تعلیم کا مطالبہ اس تحریک کا سب سے روشن پہلو ہے۔ یہ مطالبہ صرف کشمیری نہیں، پاکستان بھر کے نوجوانوں کی آواز ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی ماڈل دنیا بھر میں مثالی مانا جاتا ہے جہاں سرکاری اور نجی اداروں میں نصاب کا فرق نہیں۔ برطانیہ، جرمنی اور جاپان میں بھی یکساں تعلیمی ڈھانچہ طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کرتا ہے۔ جب ایک ملک کے اندر مختلف نصاب ہوں تو معاشرتی طبقات میں تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر کے نوجوان یہ تقسیم مٹانا چاہتے ہیں تاکہ ہر طالب علم اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکے، نہ کہ نصاب کی تفریق کے باعث پیچھے رہ جائے۔

سرکاری اداروں میں میرٹ پر بھرتیوں کے مطالبے کی اگر بات کی جائے تو یہ سب سے بنیادی مطالبہ اس حوالے سے بھی ہے کہ سفارش اور اقربا پروری نے نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ میں سرکاری ملازمتوں کا نظام سخت امتحانات اور شفافیت پر مبنی ہے، جس کے باعث وہاں کے نوجوانوں کو یقین ہوتا ہے کہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ اگر آزاد کشمیر میں بھی میرٹ کو اولین حیثیت دی جائے تو نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا بلکہ نوجوانوں میں امید کی کرن بھی روشن ہوگی۔دیکھا جائے تو عوامی مسائل کے حل کے لیے سب سے موثر پلیٹ فارم مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان اور آزاد کشمیر میں بلدیاتی ادارے اکثر کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھتے۔ ترکی، بھارت اور یہاں تک کہ نیپال جیسے ممالک میں بھی مقامی حکومتوں کو بھرپور اختیارات دیے گئے ہیں۔ کشمیری عوام یہ چاہتے ہیں کہ ترقیاتی بجٹ براہِ راست عوامی نمائندوں کے ذریعے خرچ ہو تاکہ گلی محلوں کے مسائل وہیں حل ہوں جہاں وہ جنم لیتے ہیں۔

پاکستان ہو یا آزاد کشمیر، ایک عجیب سا ڈالا کلچر ہمارے معاشرے پر مسلط ہے۔ بڑے بڑے افسران، وزرا اور بااثر افراد جب گزرتے ہیں تو ان کے آگے پیچھے ڈالیوں کے قافلے چلتے ہیں۔ عام شہری تو ایک طرف، سڑک پر کھڑا معمولی سا سیکیورٹی گارڈ بھی ان کے شور اور رعونت سے تنگ آ جاتا ہے۔ یہ ڈالا کلچر اس قوم کے مزاج پر ایک ایسا بوجھ ہے جو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو اور بڑھا دیتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تویہ بھی ایک بڑا نکتہ ہے جس پر عوام متفق ہیں۔ جب حکمران طبقہ لگژری گاڑیوں، بھاری تنخواہوں اور غیر ضروری پروٹوکول سے لطف اندوز ہو اور عوام بجلی کے بل اور روزمرہ اشیا کے بحران میں پس رہے ہوں تو یہ ہم سب کیلئے ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں سادگی اپنانے والے رہنما زیادہ مقبول اور موثر ثابت ہوئے ہیں۔

کشمیری عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ وسائل پر صرف اشرافیہ کا قبضہ نہ ہو بلکہ وہ عوامی فلاح پر خرچ ہوں۔یہ تحریک براہِ راست نوجوانوں کے دلوں کو چھو رہی ہے۔ اگر یہ مطالبات پورے ہوئے تو نوجوانوں کو یقین ہوگا کہ ان کی آواز سنی جا سکتی ہے، ان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں، اور وہ پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے تبدیلی لا سکتے ہیں۔لیکن اگر یہ آواز دبائی گئی یا طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کی گئی تو یہ مایوسی ایک ایسی سمت لے جا سکتی ہے جو معاشرے کو غیر مستحکم کرے۔

پاکستان ہمیشہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر یہ موقف رکھتا آیا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنی قسمت کے فیصلے کا حق دیا جائے۔ اگر آزاد کشمیر میں ہی عوامی آواز کو نظرانداز کیا گیا یا ریاستی مشینری کے ذریعے طاقت آزمائی کی گئی تو یہ موقف کمزور ہو جائے گا۔ عالمی سطح پر مخالف قوتیں یہی کہیں گی کہ جب آپ اپنے حصے کے کشمیر میں عوامی مطالبات کو برداشت نہیں کرتے تو مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟ اس پہلو کو نظرانداز کرنا پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر نقصان دہ ہوگا۔

اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اندر کچھ عناصر ایسے ہیں جنہوں نے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے۔ ان کے لہجے میں بغاوت کی بو محسوس ہوتی ہے جس نے ایک مثبت تحریک کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ اگر ان عناصر کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عوامی امنگوں کا یہ سفر بداعتمادی اور انتشار کی نذر ہو سکتا ہے۔آزاد کشمیر کی یہ تحریک محض احتجاج نہیں بلکہ ایک سوال ہے۔ یہ سوال نوجوانوں کی آنکھوں میں جھلکتا ہے، یہ سوال مائوں کی دعائوں میں سنائی دیتا ہے، یہ سوال پاکستان کی گلیوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ حکومت کے پاس دو راستے ہیں؟یا تو وہ اس آواز کو دبائے اور آنے والے کل کو مزید اندھیروں میں دھکیل دے، یا پھر دانشمندی سے ان جائز مطالبات کو تسلیم کرے اور عوام کو وہ یقین دلائے جس کی وہ برسوں سے منتظر ہیں۔بقول احمد فرہاد

یہ جنگ فیصلہ کن موڑ پر ہے اس سے کہو

ہوا کی صف میں چلا جائے یا چراغ بنے

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کو نہیں، مکالمے کو راستہ دیا جائے۔ یہ تحریک اگر انصاف کے دروازے کھولے تو یہی

نوجوان مستقبل کے معمار ہوں گے، اور اگر اسے کچلا گیا تو یہی نوجوان بغاوت کے استعارے بن جائیں گے۔۔

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • محسن ِ پاکستان کا ناقابلِ تسخیر پاکستان!
  • ہم تو سجدے بھی کیا کرتے تھے
  • یہ پربتوں کا عکس ہے
  • مُخنّث
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
شوگر سے آگاہی، راز اور مکمل چھٹکارا
پچھلی پوسٹ
الجھن کا حل نہیں مل رہا

متعلقہ پوسٹس

خواب شرمندہ ء تعبیر نہیں ہو سکتا

نومبر 18, 2020

مکھیاں

نومبر 27, 2022

میرے مولا! میری لاج رکھنا

اپریل 11, 2020

کیا عورت سائیکو ہے؟

اپریل 28, 2026

زمانے پہ اپنا نشاں چھوڑ دوں گا

مئی 16, 2020

تانگے والا

جون 14, 2020

مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

مئی 23, 2020

رسمِ الفت کی پیار کی باتیں

جولائی 24, 2020

سچی حکایات

اگست 11, 2024

نفسِ نازک کی راہِ فقر

مئی 27, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روشنی کا راستہ

اپریل 16, 2025

خود کی پہچان

جنوری 24, 2020

کوششیں کر کے دل برا کیا...

مئی 11, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں