شوگر سے متعلق تحقیق کی بنیاد پر یہ مضمون شائع کر رہے ہیں۔ مفید معلومات کے ساتھ شوگر سے چھٹکارے کے نسخہ جات اور غذائی منصوبہ بندی کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے۔ تا کہ اس پر عمل درآمد کر کہ شوگر سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔مذید بیماریوں سے بچا جا سکے۔
شوگر کیا ہے؟
کوئی بھی مرض یا بیماری ہو۔ جسم میں مختلف کیمیائی ردو بدل سے پیدا ہوتی ہیں۔جسم کا ایک اہم عضو( Pancreas) لبلبہ جب خاص ہارمون بنانا کم کر دیتا ہے۔ جسے انسولین کہتے ہیں۔ تو گلوکوز ہضم ہونے کی بجائے خون میں چلی جاتی ہے۔ جس سے مختلف قسم کے عوارض ظاہر ہوتے ہیں۔ تو موجودہ جدید طریقہ کار میں شوگر کوبرقرار (maintain)تو کیا جاتا ہے۔ علاج نہیں کیا جاتا۔ کہتے ہیں ساری زندگی دوائی کھانی پڑے گی۔ اگر صحیح طریقے سے لبلبہ کا علاج کیا جائے تو یہ بیماری واپس تو کیا ختم بھی ہو جاتی ہے۔ شوگر کھانے پینے کی بے قاعدگی، زیادتی اور سستی و کاہلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یعنی جو لوگ کھانے کے بعد بیٹھے رہتے ہیں۔ ورزش وغیرہ بھی نہیں کرتے۔ شوگر کھانے پینے کی وجہ سے ہوتی ہے اس کا علاج بھی کھانے پینے سے اور رہن سہن بدلنے سے ہی کیا جانا چاہیئے۔
جسم میں لبلبہ سے خارج ہونے والی انسولین ناکافی مقدار میں ہوتی ہے۔یا جسم کے خلیے انسولین کے لئے مزاحم ہو جاتے ہیں اس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز کی سطح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اسے شوگر کہا جاتا ہے۔ انسولین اہم ہارمون ہے۔جسم میں لبلبہ کا کام جسم کو درکار انسولین بنانا ہے۔ انسولین کا بنیادی کام ہمارے جسم میں بلڈ شوگر کو منظم یا ریگولیٹ کرنا ہے۔ہمارا جسم توانائی کے ذریعے کے طور پر انسولین کو سٹور کرتا ہے۔
According to Dr Michael and Mary Eades, The root cause of all the metabolic disorders like Obesity, Diabetes and hypertension is chronically elevated insulin and insulin resistence. There are no medication yet to treat this disorder – THE RIGHT DIET IS THE ONLY REMEDY, BUT IT WORKS EXTREMELY WELL. IR (insulin resistance) is a dietry disese so it should be cured with healthy diet
شوگر کی علامات: شوگرکی علامات درج ذیل ہیں
1۔ شوگر کی علامات میں بہت ذیادہ پیاس لگنا۔ 2۔ معمول سے زیادہ پیشاب آنا۔خصوصاً رات کے وقت 3۔ تھکاوٹ محسوس کرنا۔ 4۔ وزن کم ہونا۔ 5۔ دھندلی نظر 6۔ زخموں کا نہ بھرنا 7 ۔ چڑچڑا پن 8۔ پیروں میں جھنجھلاہٹ
شوگر کے تاریخی راز: امریکن کا لج آف فزیشن امریکہ میں سب سے بڑا اسپیشلسٹ کا ادارہ ہے۔ 145ملکوں میں اس کی
برانچیں ہیں۔ 152000اس کے ممبر ہیں۔ سارے اسپیشلسٹ اور سائنٹسٹ ہیں۔ NDG نیشنل ڈائیابیٹک گروپ (1979-1997)کی سفارش (recommendation) تھی کہ 200mg/dlسے نیچے جسکی شوگر ہے۔ وہ شوگر کا مریض نہیں۔ADA امریکن ڈائیابیٹک ایسوسی ایشن بہت بعدمیں بنی۔ انہوں نے کہا جسکی شوگر 126mg/dl ہے وہ ڈائیابیٹک ہو گا۔ 1999میں WHOنے اسے سٹیمپ کر دیا۔ پھر دوبارہADAنے2003 میں اس پر نظر ثانی کی۔ اور کہا کہ فاسٹنگ شوگر 100سے نیچے ہونی چاہیے۔اس کے اثرات یہ ہوئے۔ جب شوگر کا درجہ 200سے100پر آتا ہے تو ایک دن میں 42کروڑ لوگ شوگر کے مریض بن جاتے ہیں۔ یہ ساری گیم مارکیٹ کرنے والوں نے کی۔ جان بوجھ کر لوگوں کو مصیبت میں ڈالا گیا۔ادارے اور ایسوسی ایشنز راتوں رات لیول نیچے کرنے کی سفارشات کرتے ہیں۔ اور کروڑوں مریض مل جاتے ہیں۔ اس کے بعد 2010میں ADAنے نئی گائیڈ لائن دی۔ابھی تک سب اسی پر چل رہے ہیں۔ کھانے کے دو گھنٹے بعد اگر شوگر لیول 140سے اوپر ہے تو آپ ڈائیابیٹک ہیں۔ فاسٹنگ 100سے نیچے ہونی چاہیے۔ اور HbA1C 5.6 % ہو۔اس سے اوپر ہو گی تو آپ ڈائیابیٹک ہیں۔ 1960سے ڈاکٹر جیرالڈ کہہ رہے تھے کہ ڈائیابیٹک 1میں انسولین کم ہوتی ہے اور ڈائیابیٹک 2میں انسولین زیادہ ہو تی ہے۔اس لئے انہیں انسولین زیادہ کرنے والے دوائیاں نہ دیں۔ 1998میں انہوں نے انسولینresistance کی ایک بڑی سٹڈی پیش کی۔ ہزاروں لوگوں کا فاسٹنگ ٹیسٹ کروایا۔ آپ کہتے ہیں انسولین کم ہے یہ کہہ رہے ہیں انسولین زیادہ ہے۔ مریض کا فاسٹنگ ٹیسٹ کروا لو۔ وہ زیادہ آیا۔ اس لئے ٹائپ 2میں انسولین نہ دیں۔ اس سے بڑے بڑے ادارے سوچنے پر مجبور ہوئے۔
مثلاً 2- Advance (2008) 3- UKPDS (1998) 4- VADT (2015) 1- Accord 2008 ایکارڈ نے کہا تھاہم HbA1C، 6سے نیچے رکھیں گے۔ اور بلڈ شوگر150سے نیچے رکھیں گے۔انہوں نے انسولیں اور مختلف دوائییاں دیں۔ دوسرے گروپ نے کچھ نہیں دیا۔ صرف گلوکوفیز کے۔ جن کو انسولین دی گئی ان میں 22%موت زیادہ ہو گئی۔ 36%دل سے متعلق بیماریاں اور دس کلو گرام وزن بھی بڑھ گیا۔ اس کے بعد پھر کالج آف فزیشن سر جوڑ کر بیٹھا۔ 5-6سال تک ساری سٹڈی ریویوکرتا رہا۔ 2018میں انہوں نے یہ گائیڈ لائن دی۔60-50سال سے اوپر کے مریضوں کو اگر شوگر 250سے نیچے ہوتو دوائی نہیں دینی۔۔اور HbA1Cسات سے آٹھ رکھیں۔ طرز زندگی (Life Style)بدل دیں۔ اس کا مطلب تھا اگر کسی بھی دوائی کے بغیر آپ کی شوگر 250سے کم ہے تو آپ کو ذیا بیطس نہیں۔اس رپورٹ کے مطابق 70%لوگ زیابیطس کے مریض نہیں تھے۔ اگر یہ مان لیا جاتا۔تو دوا ساز کمپنیوں کی سیلز70%فی صد کم ہو جانی تھی۔ اس لئے کسی نے بھی اس کو نہیں مانا۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے فزیشن اور میڈیسن کے پروفیسرز نے بھی اپنی ذمہ داری نہ نبھائی انہوں نے اس بات پر کوئی اعتراض ہی نہیں کیا۔ نہ جانے کیوں۔ وہ اس رپورٹ کو مان لیتے یا انکار کر دیتے۔اس پر اعتراض یہ تھا کہ انسولین بڑھانے والی دوائیوں کی وجہ سے 40فی صد لوگو ں کو دل (Cardiovascular Problem)کے امراض، بلڈ پریشر کا زیادہ ہو نا، یہی اثرات ڈائیابیٹک 2میں بھی نظر آئے۔ پیچیدگیاں بہت زیادہ آ رہی تھیں۔تب Met Forminمخفوظ دوا (Safe Drug) کلئیر ہوئی۔ جب کسی ٹائپ 2کے مریض کو انسولین والی دوائی دیں گے تو 5-6سال بعد ٹائپ 2بھی ٹائپ1میں بد ل جاتا ہے۔ تب اس کے لئے بھی انسولین لازمی ہو جاتی ہے۔ اسی دوران دل کے ماہرین نے بھی بلڈ پریشر پر نظرثانی کی۔ 1997سے پہلے تک 160/100پر کوئی دوائی نہیں دیتے تھے۔ سٹڈی کے مطابق لائف سٹائل بدلو۔ ورزش، روزہ (ٖFasting)، کیٹو ڈائٹ۔1997میں بلڈ پریشر کا درجہ 140/90کر دیا گیا۔ یہ سب دوائی مافیا کا کام تھا۔ 2017میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (AHA) نے BPکا درجہ 120/80کر دیا۔ آئندہ چند سالوں میں BPکا درجہ کم کرنے کے بارے سوچا جا رہا ہے۔ آئندہ معیار 115/75 پر غور ہو رہا ہے۔ بلڈ پریشر کم کرنے کے لئے بہت زیادہ دوائیوں کا استعمال کروانا پڑتا ہے۔ زہریلی دوائیاں استعمال کرنے کے باعث لوگوں میں اندھا پن۔ دل کے امراض۔ گردوں کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔ 1958-1997 امریکہ میں 40سال کے دوران شوگر کے مریضوں کی تعداد7ملین تھی۔ دوائیوں کے استعمال کے بعد 1997-2015 ۔ 18سال میں مریضوں کی تعداد 24Mہو گئی۔ یعنی مریضوں کی تعداد کم ہونے کی بجائے تین گنا زیادہ ہو گئی۔
Time line of sugar diseaseڈاکٹر ٹی کولن کیمپ بل ((Dr T Collin Campbell جو کہ غذائیت کے ماہر تحقیقی سائینسدان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بیماریوں سے بچنا ہے تو غذا کو میڈیسن بناؤ۔اس سے پہلے لوگ کہتے تھے فاسٹنگ شوگر اچھی ہوتی ہے۔ قدرت کا نظام ہے۔ ((Dawn Phenomenon صبح 5سے6بجے لیور گلوکوجن سٹوریج خارج ہوتا ہے جس سے شوگر 20-25mgبڑھ جاتی ہے۔ ہمیشہ ایوریج شوگر لیول چیک کریں۔ صبح فاسٹنگ اور رات سونے سے پہلے۔ اگر ایوریج 200سے نیچے ہے۔تو کسی دوائی کی ضرورت نہیں بلکہ لائف سٹائل بدل لو۔ فاسٹنگ اور سیر اپنا لو۔ چاول، گندم، چینی دودھ،اور کاربوہائیڈریٹ وغیرہ چھوڑ دو۔ ڈاکٹر صاحبان کو چاہیئے کہ نمبر کو دیکھے بغیر مریض کی علامات کا علاج کریں۔ یعنی مریض کتنی بار رات کو پیشاب کے لئے اٹھتا ہے۔ کمزوری ہے یاداشت میں فرق آیا ہے۔ امریکن کالج آف فزیشن کی رپورٹ کے مطابق 60سال سے اوپر مریض کو کوئی دوا نہیں دینی۔ چاہے شوگر 300mgبھی آئے۔ لائف سٹائل بدل لو۔ امریکی 60سال کے لحاظ سے پاکستان میں عمر کی حد 48سال بنتی ہے۔بڑی بحث کے بعد دوسرا اہم پیغام کہ انسولین لیول کو کم کریں۔جس کی وجہ سے کینسر، موٹاپا اور دل کی تکالیف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2018میں 15سال کی سٹڈی کے بعدایک نظر ثانی رپورٹ شائع کی گئی۔ کہ اگر شوگر200-250 ہے تو بھی کچھ نہیں ہو گا۔ غذا میں گائے کا دودھ ، دیسی گھی ، گوشت قدرتی سبزیاں اور پھل کھائیں۔ولائیتی انڈہ کھانے کی بجائے دیسی مرغی کے انڈے کا استعمال کریں۔بازار میں بکنے والا ہر قسم کا تیل بند کر دیں۔ مثلاً Fast Food, Pizza, Burger, Canula Oil, Corn Oil, Vegitable Oil Sunflower Oil,
بچاؤ کی تدابیر:
کافی سالوں کی تحقیق کے بعد یہ ایک آزمودہ طریقہ ہے۔ روزانہ گھاس پر ننگے پاؤں چلنا ہے۔ کھانے کے طریقے یکسر بدل لو۔ یعنی ناشتے میں مختلف قسم کے حاظر فروٹ یعنی سیب، سنگترہ،مالٹا۔ امرود، آلو بحارہ، انار۔ کیلا وغیرہ جو بھی موسم کے لحاظ سے دستیاب ہو۔ اپنے وزن کی نسبت سے کھانا ہیں۔ اگر آپ کا وزن 60کلو ہے تو 5گنا کے لحاظ سے 60×5=300 gms کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے فوراً بعد جو ناشتہ درکار ہو۔ یا جو آپ کھانا چاہیں۔ اسی طرح دوپہر کا کھانا۔ پہلے سلاد کی ایک پلیٹ 300گرام کے حساب سے بعد میں جو دستیاب ہو۔ اس حساب سے رات کو بھی کھانے سے پہلے سلاد کی پلیٹ اور بعد میں کھانا۔ سلاد میں پودینہ۔ دھنیہ۔ٹماٹر۔ گاجر۔ مولی۔ گوبھی۔چقندر۔لیموں وغیرہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ کا شوگر لیول اور بلڈپریشر بھی نارمل ہو جائے گا۔
شوگر نارمل کرنے کے چند سنہری اصو ل درج ذیل ہیں۔
1۔ انسولین کو کم کریں اور اپنا فیٹ استعمال کریں۔کم کاربوہائیڈریٹیڈ فوڈ کھائیں۔
2۔ اٹھانوے فی صد وزن کم کرنے والے ہارمون رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک نیند میں آتے ہیں۔ اس وقت ضرور سو جانا چاہیئے۔ تا کہ وزن کم کرنے والے ہارمون اچھی طرح کام کر سکیں۔ نیند میں دماغ کی constipation ہوتی ہے۔
it removes all the end released waste products دماغ سے فضولیات ختم ہو جاتی ہیں۔ تازہ ہو جاتا ہے۔سوچنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے
3۔ کھانا کم نہیں کرنا۔ بلکہ دن میں دو دفعہ کھائیں۔ بار بار نہ کھائیں۔(Intermitent Fasting) یعنی وقفہ رکھ کہ کھائیں۔
4۔ اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈال لیں۔ اور پیدل ضرور چلیں۔
5۔ فیکٹریوں سے بنی ہوئی چیزیں مت کھائیں۔ میدہ۔ چینی۔ چاول۔بیکری جوسز وغیرہ بالکل بند کر دیں۔
شوگر والے مریضوں کے لئے چند اہم ہدایات۔ دوائیوں کی نسبت آپ درج ذیل پرہیز کر لیں جو آپ کے لئے تحفہ ہے۔ شوگر کی دوائیوں کے ثانوی اثرات میں جب آپ انسولین رزٹنس ہو جاتے ہیں تو مختلف بیماریا ں لاحق ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ پروفیسر جیسن جے فنگ کے مطابق۔۔۔۔۔۔ مثلاً Heart Diseas, Cancer, Arthritis, stroke,Dementia, Fatty Liver, PCOS, Migraine, Body Fat, اس لئے علاج بذریعہ غذا کو ترجیع دی گئی ہے۔ ہمارے ہاں ڈاکٹر مافیہ اور دوائی مافیہ مل کر لوگوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ہمارے مسیحا مال و دولت کی حاطر صحیح مشورہ نہیں دیتے۔ گاڑیاں۔بنگلے۔ بیرون ملک سیر و تفریح ختم ہو جاتی ہے۔ درج ذیل چند چیزوں پر عمل درآمد کر لیا جائے تو آپ محفوظ زندگی گذار سکتے ہیں۔ اس میں سب سے پہلے خود کو قائل کر لیں کے دوائی سے کیسے بچنا ہے۔ 1۔ (VegetableOil) سبزیوں سے بنے ہوئے تیل۔ حالانکہ جتنا بھی تیل مارکیٹ میں آ رہا ہے ۔زہریلا اور سوزش پیدا کرنے والا(Toxic and inflamatory)ہے۔ اور لیور کو بھی(fatty) فربہ کر دیتا ہے
انہیں محفوظ کرنے کے لئے مختلف قسم کے زہر ملائے جاتے ہیں۔ جو جسم کے سیل کونقصان پہنچاتے ہیں۔آپ ان کے بدلے سرسوں کا تیل۔زیتوں کا تیل۔ مکھن اور دیسی گھی استعمال کر سکتے ہیں۔
2۔ تما م اناج۔(All Grains) جن میں کابو ہائیڈریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً ڈبل روٹی۔ سفید چاول۔ کریکر۔ آلو کے چپس وغیرہ۔لبلبے یعنی (Pancrease) کو نقصان دیتے ہیں۔ اگر آپ محنت کش ہیں تو یہ غذا آپ کھا سکتے ہیں۔ ورنہ آپ جو۔ جوار۔مکئی اور رائی کا استعمال کریں۔
3۔ میدہ۔سفید روٹی۔مٹھائیاں۔بیکری آئٹم۔ سوڈا ڈرنک۔ جتنی بھی بوتلیں ہیں۔نقصان دہ ہیں حتی کہ ڈائٹ اور جوسز وغیرہ بھی کیوں کہ ان کو محفوظ کرنے کے لئے زہریلے کیمیکل استعمال ہوتے ہیں۔ جو تندرست آدمی کے لئے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ یہ صرف نام ہیں ان میں کوئی وٹامن یا منرل نہیں ہوتا۔
4۔ بے وقت کھانا مت کھائیں۔ دو بار کھائیں تو بہت بہتر ہے یا آپ تین بار بھی کھائیں۔کم از کم چھ گھنٹے کے وقفے سے کھائیں۔ بار بار مت کھائیں۔
5۔ پریشان(stress) ہونے کی وجہ سے high cartisol leads to high insulin resistance۔ پھر شوگر کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا فضول پریشانیوں سے بچیں۔ اللہ اللہ کریں۔
6۔نیند نہ آنا۔ یا نیند میں خلل ہونا۔ رات دیر سے سونا۔ نیند کا وقت مقرر ہونا چاہیئے۔ کم از کم 7سے9گھنٹے سونا چاہیئے۔ رات 9-10بجے سے صبح 4-5بجے تک ضرور سو جانا چاہیئے۔بر وقت نہ سونے سے بھی کارٹی سول ہارمون آئے گا۔ جس سے مسائل جنم لیں گے۔ پھر شوگر اور موٹاپاپریشان کرے گا۔
7۔ بغیر ورزش کے زندگی گذارنا۔sedentry life style جو لوگ ورزش نہیں کرتے۔یا بیٹھے رہنے والے کام کرتے ہیں۔ تمام ڈاکٹر حضرات کا ماننا ہے کہ اگرآپ نے صحت مند رہنا ہے تو 10000قدم یا 6کلومیٹر روزانہ پیدل چلیں۔
طب نبوی میں مندرجہ بالا پرہیز کے علاوہ چندنسخہ جات ہیں جو درج ذیل ہیں۔
1۔ نہار منہ اور عصر کے وقت بڑا چمچہ شہدایک گلاس ابلے پانی میں
2۔ ہر کھانے کے بعد تین دانے خشک انجیر
3۔ کلونجی 55گرام
برگ کاسنی 15گرام
تخم حلبہ 10گرام
قسط البحری 10گرام
حب الرشاد 10گرام مکس کر کہ چھوٹا چمچ صبح شام استعمال کریں۔ انشاء اللہ تعالی آفاقہ ہو گا۔
آیوردیدک
ایک بڑی پرات میں کریلے اور نیم برابر مقدار میں کاٹ کر ملا لیں۔ 10سے15منٹ تک اس کے اوپر چلیں۔ حتی کہ ان کا ذائقہ منہ میں آ جائے عمل کرنے سے پہلے شوگر چیک کر لیں اور ومل کے بعد دوبارہ چیک کر لیں۔آپ کو بڑا فرق نظر آئے گا۔
ڈاکٹرBMHکے مطابق گندم میں موجود گلوٹین beta cellکو(Toxin)کرتی ہے۔ اور 15/20سال بعد اسے damageکر دیتی ہے۔ڈاکٹر ولیم ڈیوس کہتے ہیں بیماریوں کی جڑ گندم ہے۔ جو Inflamation, glucotoxicity اور Lipotoxicity جس سے لیور چربی ذدہ (Fatty) ہو جاتا ہے جو لبلبے پر بھی اثر انداز ہو تا ہے۔ fatختم کرنے کے بعد اگر لبلبہ 20%بھی کام کرنا شروع کر دے۔ ساری زندگی دوائی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
لبلبے کو نئی زندگی دینے والی غذائیں
1۔ گائے۔بکری مرغ کے مختلف حصے کلیجی، مغز، دل،گردے، ہفتہ میں دو دفعہ 50/100گرام کھانا ہے۔ کم وزن والے 50 گرام ا ور زیادہ وزن والے 100گرام۔ سب سے بہتر بیف اس کے بعد مٹن اور چکن۔ گوشت چربی والا کھانا ہے۔ اس کے علاوہ دیسی چکن اور دریائی مچھلی کھانی ہے۔
2۔ دیسی انڈے روزانہ 2سے 4فرائی یا آملیٹ۔کم وزن والے دو انڈے اور زیادہ وزن والے چار انڈے۔فرائی کرنے کے لئے ناریل کا تیل۔ سرسوں کا تیل۔ اور دیسی گھی استعمال کریں۔ کیونکہ کاربوہائیڈریٹ کم کرنا ہے اور Fatبڑھانہ ہے۔ صحت مند چربی روزانہ 50سے130گرام دیسی گھی یا مکھن۔ ناریل کا تیل۔سرسوں کا تیل۔ زیتون کا تیل
3۔ ٹماٹر۔ بینگن۔شملہ مرچ ساری اور آلو سے پرہیز کرنی ہے۔ کھانے کے لئے گرین پتوں والی سبزیاں استعمال کرنی ہیں۔ سلاد۔پالک۔ پھول گوبھی۔ بند گوبھی۔پودینہ۔میتھی۔ کیل۔اجوائن (cellery)۔دھینہ(parsley)۔پھول گوبھی (brocolli)
4۔ اچار ہر قسم کا غذا کا حصہ بنا لیں۔ prebioticہونے کی وجہ سے قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔
ہر روز 5000ملی گرام(پانچ گرام) پوٹاشیم لینا ہے۔ چقندر، پالک اور گوبھی میں پوٹاشیم خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے۔
