111
بدلتے موسم
بدلتے لہجے
ستم جو ڈھاتےہیں
حساس دل پھر
کہاں سہہ پاتے ہیں
پھول کی پتیاں
جو اک بار بکھر جاتی ہیں
سحابِ بہار سے
کہاں پھر وہ نکھر پاتی ہیں
صبر کا پیمانہ
جو چھلک جاتا ھے
ہنگام اس کا پھر
بامِ فلک جاتا ھے
محبت ،احساس اور مروت
صرف قلم کے فسانے ہیں
ورنہ تو ہر جا
دولت کےنذرانے ہیں
ستم ڈھانا عادت ھے
زمانے کی
اور
ستم سہہ کر عادت ھے اپنی
مسکرانےکی
اسماء بتول
22 جون 2025
8 بجے صبح
