450
لوگوں کے درد اپنی پشیمانیاں ملیں
ہم شاہ غم تھے ہم کو یہی رانیاں ملیں
صحراؤں میں بھی جا کے نظر آئے سیل آب
دریا سے دور بھی ہمیں طغیانیاں ملیں
آیا نہ پھر وہ دور کہ جی بھر کے کھیلئے
بچپن کے بعد پھر نہ وہ نادانیاں ملیں
رہ کر الگ بھی ساتھ رہا ہے کوئی خیال
تنہائی میں بھی خود پہ نگہبانیاں ملیں
پانی کے ساتھ عکس بھی بہہ کر چلے گئے
سوکھی ندی تو پھر وہی ویرانیاں ملیں
اپنی ہی آنکھ پر گئے لمحوں کا بوجھ تھا
اس کی نظر میں تو وہی جولانیاں ملیں
بیٹھا رہا ہمائے ستم سر پہ ہی عدیمؔ
ہر دشت کرب کی ہمیں سلطانیاں ملیں
عدیم ہاشمی
