609
دائروں کا سفر
ہم لوگ
دائروں میں چلتے ہیں
دائروں میں چلنے سے
دائرے تو بڑھتے ہیں
فاصلے نہیں گھٹتے
آرزوئیں چلتی ہیں
جس طرف کو جاتے ہیں
منزلیں تمنّا کی
ساتھ ساتھ چلتی ہیں
گرد اُڑتی رہتی ہے
درد بڑھتا جاتا ہے
راستے نہیں گھٹتے
امجد اسلام امجد
