خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباآخر ہونے کیا جا رہا ہے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

آخر ہونے کیا جا رہا ہے؟

از شیخ خالد زاہد مارچ 25, 2025
از شیخ خالد زاہد مارچ 25, 2025 0 تبصرے 81 مناظر
82

وقت کو بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا، اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو وقت اسے روندتا ہوا گزرجاتا ہے۔ وقت کی نرالی ادا ہے کہ کوئی حالات کے کیسے بھی چنگل میں پھنسا ہو کوئی کتنی ہی سختی جھیل رہا ہو، کسی پر اذیتوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں مجال ہے کہ وقت ایک لمحہ کا توقف کرے اور ٹہر کر پوچھ لے کہ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے۔ ہمیں اس بات کی سمجھ آجانا آسان نہیں تھا لیکن آج جب فسلطین کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کی جارہی ہے، معصوم نونہالوں کو انتہائی سفاکی اور بیدردی سے شہید کیا جارہا ہے اور جو بچ رہے ہیں ان کے حالات نا قابل بیان ہیں۔ شہر کے شہر ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں اور ملبے میں دبے لوگ جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں اپنی بے بسی کی منہ بولتی تصویر بنے کیمرے کو دیکھ رہے ہیں ان کی اعلی ظرفی دیکھئے وہ کسی سے مدد کی بھی درخواست نہیں کر رہے لیکن انکی آنکھوں سے درد اور تکلیف سے بہتے آنسو لاتعداد سوال بن کر ہمارے سامنے گر رہے ہیں۔تو دوسری طرف باقی دنیا خصوصی طور پر مسلم دنیا بے حسی اور لاپرواہی کی تاریخ رقم کررہی ہے اور وقت ہے کہ گزرے ہی جار ہا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہے برکتوں اور رحمتوں کا ہر ہر پل نزول ہے طرح طرح کی نعمتیں سحری و افطاری کے اوقات میں ہمارے دسترخوانوں پر سج رہی ہیں، ہم انتہائی لاڈ پیار سے اپنے جگر گوشوں کو دن بھرکے روزے کی وجہ سے کھانے اور پینے کیلئے آگے پیچھے ہورہے ہیں۔ یہ ماہ رمضان وہاں بھی گزر رہا ہے جہاں گولیوں کی گھن گرج ہے جہاں فضائی بمباری کے نتیجے میں ہر طرف دھول مٹی ہے اور ملبے میں دبے کچھ لاشے ہیں اور کچھ جو بچ گئے ہیں خدائی معجزے کے منتظر ہیں۔

آمریکہ کو دنیا میں نیوکیلیس کی حیثیت حاصل ہے دنیا میں کہیں بھی کچھ ہورہا ہے اس کا کسی نا کسی طرح سے تانا بانا آمریکہ سے جا کر ضرور ملتا ہے۔یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ دنیا کے اکثر ممالک خصوصی طور تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک اپنے داخلی امور پر بھی امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی ساری دنیا میں بھونچال جیسے کسی بھونچال کا شکار ہوگئی ہے اور اس بھونچال کی سب سے بڑی وجہ آمریکہ کی مرکزی حیثیت ہے جو اس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر قائم کر رکھی ہے۔مسلۂ یوکرین ہو یا پھر فلسطین امریکہ اپنا ایک مخصوص بیانیہ قائم کئے ہوئے ہے۔ جو اس بات سے قطع نظر ہے کہ یوکرین کے لوگ کیا چاہتے ہیں اور فلسطین کے لوگو کی کیا ترجیح ہے۔ امریکہ اپنے نقطہ نظر پر کارفرما رہتا ہے اور اس نقطہ نظر کو صحیح ثابت کر کے بھی دیکھاتا ہے جو اس کی بات کو نہیں مانتا وہ اسے اس کے ہی دام میں الجھا دیتا ہے اور دنیا میں عبرت کا نشان بنا دیتا ہے، اب عبرت کے نشان کرہ عرض پر کہاں کہاں ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

اسرائیل نے دنیا کو دنیاوی ترقی میں لگایا، آسائشوں کے حصول کی جستجو دے دی اور دنیا کی دولت پراپنی ذہانت اور بہترین حکمت عملی کی بدولت قابض ہوگیا۔ بظاہر تو آمریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ سمجھ نہیں آتا لیکن خطے میں اپنا اثر ورسوخ جمانے کیلئے آمریکہ نے ایسا کر رکھا ہے دوسری جانب روس کیساتھ بھی اب امریکہ کی جانب سے برف پگھلتی محسوس کی جارہی ہے جس کی وجہ یوکرین ہے جہاں آمریکہ کے مفاد روس سے زیادہ ہیں۔آمریکی صدر بہت جلد سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری لے جائیں گے اور آمریکہ کی معیشت کو مزید بہتر و مستحکم بنانے کیلئے کام کرینگے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ سعودی حکومت کو اپنی ہر قسم کے تعاون کی بجائے ان سے ہر قسم کی تعاون کو بھی یقینی بنائیں گے۔آمریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک نئے آمریکہ کی بنیاد کھودتے محسوس ہورہے ہیں کیونکہ صدر صاحب کسی سول ڈکٹیٹر کی طرح ایگزیکٹو حکم ناموں پر حکم نامے دستخط کئے جا رہے ہیں اور محدودوقت میں ان فیصلوں پر عمل درآمد بھی کروا رہے ہیں۔ اب یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ان اقدامات کی بدولت آمریکہ کس نئی سمت کی جانب پیش قدمی کرے گا۔ اس پیشتر آمریکہ نے پچھلی دو دہائیوں سے اپنے آ پ کو دنیا جہان میں فسادات کروانے میں مصروف رکھا ہوا تھااور ساتھ ہی ثالثی بھی کراتا دیکھائی دیتا تھا اور امن و امان کے اقدامات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا گوکہ کہیں بھی تاحال امن قائم نہیں ہوسکا ہے لیکن موجودہ دور میں بین الاقوامی دروازے ایک طرفہ آمد و رفت کیلئے کھولنے کی تیاری ہوتی دیکھائی دے رہی ہے، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آمریکہ کے فیصلہ ساز اور حکمت عملی تیار کرنے والوں میں ایک قسم کا تناؤ محسوس کیا جاسکتا ہے یعنی آمریکہ اپنی خارجہ حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیتا محسوس کیا جا سکتا ہے۔ آمریکہ کے منظم حکمت عملی بنانے والوں کو آمریکہ کے صدر کے ایکزیکٹیو حکم ناموں نے کسی حد تک پریشان تو کیا ہوگا۔ اب مخالف جماعت بھی ان کی حکمت عملیوں سے کوئی خوش یا مطمئن نہیں دیکھائی دے رہے ہیں۔ شائد آمریکہ کی تاریخ میں پہلی بار تعلمی نظام کو چلانے والے سرکاری ادارے کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ آمریکہ کا نظام تعلیم انتہائی مخدوش حالت میں ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کا از سر نو جائزہ لیا جائے، اس عمل سے آمریکیوں کو تو شائد کوئی خاص فرق نا پڑے لیکن بین الاقوامی سطح پر یہ بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک اپنے نوجوانوں کو آمریکہ ناصرف پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں بلکہ ان کا بنیادی مقصد امریکہ میں باقاعدہ سکونت اختیار کرنا ہوتا ہے، جس کیلئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بلکل بھی خوش نہیں ہیں۔

ایک طرف تو امت مسلمہ فلسطین کے مسلئے کو لے کر اس پریشانی میں قطعی مبتلہ نہیں دیکھائی دے رہی جیسا کہ دیکھائی دینا چاہئے، مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک بھائی دوسرے بھائی کو مشکل میں نہیں دیکھ سکتا لیکن یہاں تو اس کے برعکس ہوتا دیکھائی دے رہا ہے۔ فلسطین سے ہجرت کرنے والوں کو جن کی تعداد شائد اتنی کثیر نہیں ہے کیوں کہ وہ عظیم لوگ اپنی زمین کے دفاع کیلئے شھادت کو فوقیت دے رہے ہیں نا کہ منہ پھیر کر بھاگ رہے ہیں۔ آس پڑوس کے ممالک جہاں کچھ پناہ گزین پہنچ رہے ہیں انہیں بھر پور طریقے سے خوش آمدید کہا جا رہا ہے لیکن اس سے بظاہر کچھ بھی ہوتا نہیں دیکھائی دے رہا۔ کھانے پینے کی اشیاء اور اس طرح کی دیگر ضروریات زندگی فلسطینیوں کو بھیجی جا رہی ہیں جو کہ ان تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔امت کیا اپنے مفلوک الحال بھائی بہنوں بچوں اور بزرگوں کیلئے اسرائیل پر اتنا زور بھی نہیں ڈال سکتی کہ وہ یہ اجناس یہ بنیادی ضروریات ہی ان تک پہنچانے کو یقینی بنائے۔تقریباً مسلم ممالک میں مذہبی جماعتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں لیکن وہ بھی بظاہر فلسطین کے مسلئے کو لے کر کسی غم و غصے کا اظہار کرتی دیکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ آج رمضان کا تیسرا جمعہ ہے اور جماعت اسلامی پاکستان نے ملک گیر احتجاج کی کال دی ہوئی ہے جو کم از کم انتہائی ضروری اقدام ہے، اس اقدام کو چار چاند لگ جاتے اگر حکومت وقت بھی اس احتجاج کا حصہ بنتی اور دنیا کو واشگاف لفظوں میں یہ پیغام دیتی کہ ہم اندورونی طور پر کیسے بھی مسائل سے دوچار ہوں لیکن امت کے مسلئے پر اور خصوصی طور پر فلسطین کے مسلئے پر متفق ہیں۔ یہاں یہ واضح کرنا لازمی ہے کہ جماعت اسلامی نے گاؤں دیہاتوں یا شہروں کے چھوٹے سے چھوٹے مسائل پر آواز اٹھائی ہے اور امت کے بڑے سے بڑے مسائل کی طرف بھی حکومت وقت کی توجہ دلائی ہے۔ فلسطین جہاں تاریخ کی بدترین نسل کشی کی جارہی، ساری دنیا میں ظلم و بربریت کی تصویریں اور فلمیں دیکھی جا رہی ہیں بلکہ ان اسرائیلی فوجیوں کی شہید بچوں کے کھلونوں کیساتھ سفاکیت پر مبنی تصویریں بھی شائع کی جارہی ہیں اس بے حسی یقینا ناتوتاریخ میں کوئی مثال ملتی ہے اور نا ہی مستقبل میں ملے گی (ان شاء اللہ)۔ دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کس رخ کی طرف مڑنے والی ہے کیونکہ ابھی تو ایک بھونچال ہے اوراس بھونچال کی وجہ سے ہر طرف گرد آلود موسم ہے کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا کہ آخر ہونے کیا جا رہا ہے۔ رمضان کا مہینہ اپنے آخری عشرے میں داخل ہوچکا ہے ہمیں چاہئے کہ کم از کم اپنے فلسطینی بھائیوں بہنوں بزرگوں اور خصوصی طور پر بچوں کیلئے اللہ رب العزت کے حضور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔اللہ ہماری مقدس انبیاء کی سرزمین فلسطین کو دشمن کی سازشوں اور ناپاک عزائم سے محفوظ فرمائیں۔آمین یا رب العالمین۔ دیکھتے ہیں دنیا اس تذبذب سے کب نکلتی ہے یا پھر اس تذبذب کا ہی شکار ہوکر رہ جاتی ہے(خاکم بدہن)۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زندگی زندہ دلی کا نام ہے
  • ہیں درمیاں میں فاصلے بھی رابطے کے بعد
  • گھوگا
  • تیرے دل میں اگر نہیں رہتے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
آسمان، چاند، ستارے اور انسان کی تلاش
پچھلی پوسٹ
رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا

متعلقہ پوسٹس

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا

مئی 11, 2020

موتیوں کا دیس قطر

جنوری 29, 2021

پاک افغان تعلقات

ستمبر 25, 2025

شعر وشاعری کیا ہے

جون 26, 2021

فرشتہ بھی نہیں آیا

نومبر 29, 2017

وہ کہنے کو تو ہے میرا مسیحا

دسمبر 29, 2021

منٹو پر فحاشی کا الزام

اکتوبر 21, 2019

ایک عجیب وحشت

جنوری 5, 2022

نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے

مئی 9, 2020

واسطہ اس سے جو پرانا ہے

مئی 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل کو کہیں سکوں نہیں

جون 27, 2025

جشن کا سماں

ستمبر 5, 2025

اب تک ہیں تخیل میں اتاری...

دسمبر 17, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں