293
تین اور تین سو
عورتیں
رقص کرتی ہوئی عورتیں
رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی
تیز سازوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے
دم بہ دم، خم بہ خم
محوِ نغمہ سماعت لرزتی ہوئی
گھومتے، جھومتے، زاویے، دائرے ، قوس بنتے بدن
رقص کے ایک اک بھاءو کا
دردِ تخلیق سہتی ہوئی عورتیں !
آدمی
تین جسموں کو تکتے ہوئے
تین سو زر بکف آدمی
ساری آنکھیں اُن آنکھوں میں ہیں
جو فقط زر کے منظر میں ہیں
رقص دو رُخ پہ چلنے لگا
تال بٹنے لگی
کوئی دل کے، کوئی زر کے ٹھیکے پہ تھا
ناچتے، مست ہوتے ہوئے آدمی!
منتظر عورتیں
رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی
ہجر بستر پہ پہلو بدلتے ہوئے
کربِ تنہائی سہتی ہوئی عورتیں
تین سو عورتیں !
شہزاد نیّرؔ
