482
ہجر موجود ہے فسانے میں
سانپ ہوتا ہے ہر خزانے میں
رات بکھری ہوئی تھی بستر پر
کٹ گئی سلوٹیں اٹھانے میں
رزق نے گھر سنبھال رکھا ہے
عشق رکھا ہے سرد خانے میں
رات بھی ہو گئی ہے دن جیسی
گھر جلانے کے شاخسانے میں
روز آسیب آتے جاتے ہیں
ایسا کیا ہے غریب خانے میں
ہو رہی ہے ملازمت فیصل
رائگانی کے کارخانے میں
فیصل عجمی
