636
اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں
بجلی وہاں گری ہے جہاں آشیاں نہیں
صیاد میں اسیر کہوں کس سے حالِ دل
صرف ایک تو ہے وہ بھی مرا ہم زباں نہیں
تم نے دیا ہماری وفاؤں کا کیا جواب
یہ ہم وہاں بتائیں گے تم کو یہاں نہیں
سجدے جو بت کدے میں کیے میری کیا خطا
تم نے کبھی کہا یہ مرا آستاں نہیں؟
گم کردہ راہ کی کہیں مٹی نہ ہو خراب
گرد اس طرف اڑی ہے جدھر کارواں نہیں
کیوں شمع انتظار بجھاتے ہو اے قمرؔ
نالے ہیں یہ کسی کے سحر کی اذاں نہیں
قمر جلال آبادی
