529
وہ آنکھ جس کو گہر کی تلاش رہتی ہے
مجھے اس آنکھ سے زر کی تلاش رہتی ہے
ترے بدن کی قرابت میں یہ کھلا مجھ پر
مری تھکن کو شجر کی تلاش رہتی ہے
تو ایسی راہ گزر ہے میں جس کا راہی ہوں
مجھے بس اذنِ سفر کی تلاش رہتی ہے
اِدھر سے کٹ کے اُدھر ڈھونڈ نے کو جاؤں تو
مرے اُدھر کو اِدھر کی تلاش رہتی ہے
یہ عشق سوکھی ہوئی شاخ ہے عتیق اس پر
مجھے ہمیشہ ثمر کی تلاش رہتی ہے
ملک عتیق
