406
گردش کے انتخاب کی حالت میں مرگیا
گرداب اضطراب کی حالت میں مرگیا
سورج کی خودکشی نے نظارے بجھا دیے
اور آسماں سراب کی حالت میں مرگیا
اس خوابناک شہر میں دیکھا کسی نے کب
اک شخص ماہ تاب کی حالت میں مر گیا
جو راستہ تمہاری محبت کا فیض تھا
اک روز وہ شباب کی حالت میں مر گیا
پھر ڈھونڈتی رہی اسے تعبیر کوبکو
جو ایک خواب خواب کی حالت میں مر گیا
خوشبو کے ساتھ میری نہیں بن سکی عتیق
میں باغ میں عتاب کی حالت میں مرگیا
ملک عتیق
