20
اٹھا کے کاسۂ کون و مکاں سوال کیا
اس ایک بات پہ تو نے سب اشتعال کیا
قریب تھا کہ کوئی آئنوں میں گھر جاتا
کہیں سے ریت اڑی اور عجب کمال کیا
بہار آ کے رہی غنچۂ تمنا میں
پھر ایک آنکھ نے رنگ ہنر مثال کیا
کہیں پہ کوئی دعا طاقچوں میں ڈوب گئی
تو شام شہر سفر نے بہت ملال کیا
کوئی نگاہ تھی مانع وگرنہ کار جہاں
گہے گہے نہ ہوا اور خال خال کیا
یہ کیسا پھول اترتا ہے سطح دریا پر
یہ کس طلب نے نگاہوں کا رنگ لال کیا
کوئی تمنا بھٹکتی تھی دل کی گلیوں میں
پھر ایک روز اسے بھی ادھر نکال کیا
عثمان علوی
